سیف الدین قلاوون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مسجد قلاوون، قاہرہ

سیف الدین قلاوون جنہیں المنصور، الالفی، الصالحی کے لقبوں سے بھی پکارا جاتا رہا ہے، بحری مملوکوں کا ایک ممتاز حکمران تھا جو رکن الدین بیبرس کے انتقال کے دو سال بعد تخت نشین ہوا۔ وہ بھی بیبرس کی طرح ملک صالح ایوبی کا غلام تھا۔ اس کا تعلق دشت قپچاق سے تھا۔

قلاوون کے عہد میں ایل خانی حکمرانوں اباقا خان اور ارغون نے یورپ کے عیسائیوں کو مصر کے خلاف ایک نئی صلیبی جنگ شروع کرنے اور بیت المقدس کو فتح کرنے کی ترغیب دی۔ اباقا خان نے عیسائیوں کے تعاون سے شام پر حملہ بھی کیا لیکن قلاوون نے حمص کے پاس 1280ء میں اباقا خان کو شکست دے کر اس منصوبے کو ناکام بنادیا۔

بیبرس کی طرح قلاوون نے بھی سرزمین شام پر عیسائی نو آبادیوں کے خلاف مہم جاری رکھی اور اذقیہ اور طرابلس کو یورپی فوجوں سے چھین لیا۔ قلاوون کے بعد اس کے بیٹے الملك الأشرف صلاح الدين خليل بن قلاوون‎ نے عکہ، صور، صیدا، حیفا اور دیگر شہروں کو بھی فتح کرلیا اور اس طرح ساحل شام سے یورپی مسیحیوں کا اقتدار ہمیشہ کے لیے ختم کردیا۔