سلیم سوم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سلیم سوم

سلطنت عثمانیہ کے زوال کو روکنے اور اس کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے جن عثمانی سلاطین نے قابل قدر کوششیں کی ان میں سلطان سلیم سوم (1789ء تا 1807ء) کا نام سرفہرست ہے۔ سلطان سلیم میسور کے ٹیپو سلطان کا ہمعصر تھا۔ اس نے تعلیم عام کرنے اور جدید علوم کی اشاعت کی کوشش کی۔ اس کے دور میں فنِ جنگ سے متعلق کتابوں کا فرانسیسی زبان سے ترکی زبان میں ترجمہ کیا گیا۔ بری اور بحری فوجوں کو نئے سرے سے منظم کیا گیا اور اس نئی تنظیم کو "نظام جدید" کا نام دیا گیا۔ فرانسیسی انجینئروں اور توپچیوں کی مدد سے توپ ڈھالنے کے جدید طرز کے کارخانے قائم کیے گئے۔ جاگیرداری نظام اصلاحات کی راہ میں بڑی رکاوٹ تھا۔ اس کے لیے سلیم نے جاگیرداری بھی ختم کردی۔

لیکن سلیم ان اصلاحات میں زیادہ کامیاب نہ ہوسکا۔ سلطان ٹیپو کی طرح مفاد پرست عناصر اور تنگ نظر لوگ سلیم کے خلاف ہوگئے۔ سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ ینی چری جو کسی زمانے میں ترکی کی سب سے منظم اور طاقتور فوج تھی، نظام جدید کے خلاف تھی اور وہ اپنی اجارہ داری قائم رکھنا چاہتی تھی۔ ینی چری کے سپاہیوں نے جدید یورپی اسلحے اور جنگی طریقوں کو اختیار کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ الاسلام اسعد آفندی اصلاحات کے حامی تھے، لیکن 1807ء میں ان کا انتقال ہوگیا۔ نئے شیخ الاسلام عطاء اللہ آفندی ینی چری کے زیر اثر تھے۔ جاہل صوفیوں اور تنگ نظر علماء نے جو دین کے علم اور اس کی روح سے قطعاً ناواقف تھے، مذہب کے نام پر اصلاحات کی مخالفت کی۔ یورپی طرز پر فوجوں کی تنظیم کو بے دینی سے تعبیر کیا، جدید فوجی وردیوں کو تشبہ بالنصاریٰ قرار دیا، سنگین تک کے استعمال کی اس لیے مخالفت کی گئی کہ کافروں کے اسلحے استعمال کرنا ان کے نزدیک گناہ تھا۔ سلیم کے خلاف یہ کہہ کر نفرت پھیلائی گئی کہ وہ کفار کے طریقے رائج کرکے اسلام کو خراب کررہا ہے۔ عطاء اللہ آفندی نے فتویٰ دیا کہ ایسا بادشاہ جو قرآن کے خلاف عمل کرتا ہو بادشاہی کے لائق نہیں آخر کار 1807ء میں سلیم کو معزول کرکے قتل کردیا گیا۔ "یہ پہلا موقع تھا کہ مذہبی پیشواؤں نے اپنی جہالت اورتاریک خیالی سے اسلام کے مانع ترقی ہونے کا غلط تخیل پیدا کیا"۔ [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ تنقیحات از سید ابو الاعلیٰ مودودی، اسلامک پبلیکیشنز لمیٹڈ لاہور