ٹیپو سلطان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ٹیپو سلطان
Tipu Sultan
نواب ٹیپو سلطان بہادر
عہد حکومت 29 دسمبر 1782 – 4 مئی 1799
تاج پوشی 29 دسمبر 1782
القابات پادشاہ, نصیب الدولہ ، فتح علی خان بہادر
پیشرو حیدر علی
شاہی گھرانہ سلطنت خداداد میسور
والد حیدر علی
والدہ فاطمہ فخر النساء
مذہب اسلام
برطانوی عجائب گھر (برٹش میوزیم لندن) میں رکھی ہوئی ٹیپو سلطان کی تلوار پر شیر کا عکس اور نیچے ان کی انگوٹھی
جنگ میسور
جنگ میسور

ٹیپو سلطان (10 نومبر 1750 ~ 4 مئی 1799) ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنے والے آخری حکمران تھے۔ آپ کا پورا نام فتح علی ٹیپو تھا۔ آپ نے اور آپ کے والد سلطان حیدر علی نے جنوبی ہند میں 50 سال تک انگریزوں کو روکے رکھا اور کئی بار انگریزی افواج کو شکست فاش دی۔ آپ کا قول تھا

شیر کی ایک دن کی زندگی ، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔


آپ نے برطانوی سامراج کے خلاف ایک مضبوط مزاحمت فراہم کی اور برصغیر کے لوگوں کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کرنے کیلیے سنجیدہ و عملی اقدامات کئے ۔سلطان نے انتہائی دوررس اثرات کی حامل فوجی اصلاحات نافذ کیں صنعت و تجارت کو فروغ دیا اور انتظامیہ کو ازسرنو منظم کیا سلطان کو اس بات سے اتفاق تھا کہ برصغیر کے لوگوں کا پہلا مسئلہ برطانوی اخراج ہے۔ نظام حیدرآباد دکن اور مرہٹوں نے ٹیپو کی طاقت کو اپنی بقا کیلیے خطرہ سمجھا اور انگریزوں سے اتحاد کرلیا۔

ٹیپو سلطان کی انگوٹھی سے مشابہ

ٹیپو سلطان نے ترکی، ایران، افغانستان اور فرانس سے مدد حاصل کرنے کی کوششیں کیں مگر کا میاب نہ ہوسکے۔ میسور کی آخری جنگ کے دوران جب سرنگاپٹم کی شکست یقینی ہوچکی تھی ٹیپو نے محاصرہ کرنے والے انگریزوں کے خلاف بھرپور مزاحمت کی اور قلعے کو بند کروادیا غدار ساتھیوں نے دشمن کیلیے قلعے کا دروازہ کھول دیا اور قلعے کے میدان میں زبردست جنگ چھڑ گئی۔بارُود کے ذخیرے میں آگ لگ جانے کے باعث مزاحمت کمزور ہوگئی اس موقع پر فرانسیسی افسر نے ٹیپو کو Chitaldrug بھاگ جانے اور اپنی جان بچانے کا مشورہ دیا مگر ٹیپو راضی نہ ہوئے اور 1799ء میں دوران جنگ سر پر گولی لگنے سےشہید ہو گئے۔

انداز حکمرانی[ترمیم]

ٹیپو سلطان کی زندگی ایک سچے مسلمان کی زندگی تھی مذہبی تعصب سے پاک تھے یہی وجہ تھی کہ غیر مسلم ان کی فوج اور ریاست میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ ٹیپو سلطان نے اپنی مملکت کو مملکت خداداد کا نام دیا ۔حکمران ہونے کے باوجود خود کو عام آدمی سمجھتے ۔باوضو رہنا اور تلاوت قرآن آپ کے معمولات میں سے تھے ۔ ظاہری نمودونمائش سے اجتناب برتتے ۔ ہر شاہی فرمان کا آ‏غاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کیا کرتے تھے۔ زمین پر کھدر بچھا کر سویا کرتے تھے۔

علم دوست حکمران[ترمیم]

ٹیپو سلطان ہفت زبان حکمران کہے جاتے ہیں آپ کو عربی ، فارسی ، اردو ، فرانسیسی ، انگریزی سمیت کئی زبانوں پر دسترس حاصل تھی۔ آپ مطالعے کے بہت شوقین تھے اور زاتی کتب خانے کے مالک تھے جس میں کتابوں کی تعداد کم و بیش 2000 بیان کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ آپ سائنسی علوم میں خاصی دلچسپی رکھتے تھے۔ آپ کو برصغیر میں راکٹ سازی کا موجد کہا جاتا ہے۔

عظیم سپہ سالار[ترمیم]

ہر جنگ میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ رہنے والے ٹیپو سلطان اپنے زمانے کے تمام فنون سپہ گری سے واقف تھے۔ اپنی افواج کو پیادہ فوج کے بجائے سواروں اور توپ خانے کی شکل میں زیادہ منظّم کیا ۔ اسلحہ سازی ، فوجی نظم و نسق اور فوجی اصلاحات میں تاریخ ساز کام کیا۔


میسور کی چوتھی جنگ[ترمیم]

میسور کی چوتھی جنگ جو سرنگاپٹم میں لڑی گئی جس میں سلطان نے کئی روز قلعم بند ہوکر مقابلہ کیا مگر سلطان کی فوج کے دو غدّار میر صادق اور پورنیا نے اندورن خانہ انگریزوں سے ساز باز کرلی تھی۔ میر صادق نے انگریزوں کو سرنگاپٹم کے قلعے کا نقشہ فراہم کیا اور پورنیا اپنے دستوں کو تنخواہ دینے کے بہانے پیجھے لے گيا۔ شیر میسور کہلانے والے ٹیپو سلطان نے داد شجاعت دیتے ہوئے کئی انگریزوں کو جہنم واصل کیا اور سرنگاپٹم کے قلعے کے دروازے پر جامِ شہادت نوش فرمایا

علامہ اقبال کی نظر میں[ترمیم]

شا‏عر مشرق علامہ اقبال کو ٹیپو سلطان شہید سے خصوصی محبت تھی 1929 میں آپ نے شہید سلطان کے مزار پر حاضری دی اور تین گھنٹے بعد باہر نکلے تو شدّت جذبات سے آنکھیں سرخ تھیں۔ آپ نے فرمایا

ٹیپو کی عظمت کو تاریخ کبھی فراموش نہ کرسکے گی وہ مذہب ملّت اور آزادی کے لیے آخری دم تک لڑتا رہا یہاں تک کے اس مقصد کی راہ میں شہید ہوگیا

[ترمیم]


سرسید اورنیس فورم کے ز یرِ اہتمام ٹیپو سلطان کے214 ویں یومِ شہادت پر علی گڑھ ٘میں 03 مئی کو ٹیپو سلطان کی حیات و خدمات “ پر منعقدہ سیمینار کے افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ( وظیفہ یاب ) ضمیر الدین شاہ نے کہا کہ اس ادارہ میں مجوزہ اسٹریٹیجک سینٹر کا نام ٹیپو سلطان کے نام پر رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فوجیوں کو تاریخ میں گہری دلچسپی ہوتی ہے اور ایک فوجی ہونے کے ناطے وہ ٹیپو سلطان سے کافی متاثر ہیں۔ ٹیپو سلطان اور ان کے والد حیدر علی ملک کے لئے لڑے۔ ٹیپو نے ملک کی حفاظت کے لئے اپنی جان تک قربان کردی۔ وائس چانسلر نے کہا کہ ٹیپو سلطان حقیقی معنوں میں سیکولر تھے اور انہوں نے بہت سے مندروں کو مالی تعاون دیا۔ انہوں نے کہا کہ سرسید بھی سیکولر تھے اور انہوں نے یہ ادارہ بنیادی طور پر مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے قائم کیا تھا۔ وائس چانسلر نے کہا کہ ملک کے دیگر علاقوں میں جو مراکز قائم کئے گئے ہیں وہ پسماندہ طبقات کی فلاح کے لئے کام کر رہے ہیں اور یہ مراکز جلد ہی یونیورسٹی کی شکل اختیار کرلیں گے۔ مہمانِ خصوصی ممتاز صحافی یوسف انصاری نے کہا کہ ٹیپو سلطان پر کچھ فرقہ پرست طاقتیں یہ الزام لگاتی ہیں کہ ٹیپو سلطان نے ہندووں کو زبردستی مسلمان بنایا لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا بلکہ اس بات کی مخالفت میں اس امر کے پختہ ثبوت موجود ہیں کہ وہ ایک انتہائی سیکولر بادشاہ تھا اور اس کی حکومت میں تقریباً 150 مندروں کو باقاعدہ سرکاری خزانے سے گرانٹ ملتی تھی۔ ٹیپو سلطان کی شہادت تاریخ کا وہ موڑ ہے جہاں سے انگریزوں کے خلاف باقاعدہ جنگ کا آغاز ہوتا ہے۔انہوں نے ا س بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ میڈیا نے ٹیپو سلطان کی شخصیت کو اس انداز سے اجاگر نہیں کیا جس انداز سے کیاجانا تھا۔ شعبہ تاریخ کے پروفیسر علی اطہر نے کہا کہ یہ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ ٹیپو سلطان نے جس ملک کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیا اسی ملک میں اس کے خاندان کے افراد فاقہ زدگی اور افلاس کا شکار ہیں جس کا ثبوت کولکاتا میں موجود ہے۔ ان کے خاندان کے افراد میں کوئی رکشہ پولر ہے ، کوئی ڈھابہ چلا رہا ہے تو کوئی در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال حکومت نے ٹیپو کے خاندان کو ملی ہوئی بہت ساری زمین پر قبضہ کر رکھا ہے اورا س کا معاوضہ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر محب اللہ ا ور پروفیسر بی شیخ علی نے ٹیپو سلطان پر کتابیں لکھیں۔ یو جی سی اکیڈمک اسٹاف کالج کے ڈائرکٹر پروفیسر اے آر قدوائی نے سرسید اورنیس فورم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ فورم نے ہندوستان کے بہت بڑے فریڈم فائٹر کو ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے جس کے لئے فورم کے عہدیداران مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیپو سلطان ہندوستانیوں کے لئے ایک رول ماڈل ہے کیونکہ انہوں نے ہندو اور مسلمان دونوں میں کوئی تفریق نہیں کی۔ ٹیپو سلطان نے ہندوستان کی آزادی کا راستہ دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ سرسید اورنیس فورم اور خاص طور پر ا س کے کثیر الجہات صدر ڈاکٹر شکیل صمدانی کے سر اس بات کا سہرا جانا چاہئے کہ انہوں نے جامعۂ علی گڑھ کے طلبا کو ٹیپو سلطان جیسی شخصیت سے روشناس کرایا تاکہ وہ زندگی میں ٹیپو سلطان کی طرح جدو جہد کے راستے پر چل سکیں۔ سرسید اورنیس فورم کے صدر ڈاکٹر شکیل صمدانی نے کہا کہ اے ایم یو کے لئے یہ بڑے فخر کا دن ہے کہ اس کی سر زمین پر ٹیپو سلطان شہید کی شخصیت پر جمعہ کے دن ع م ج کے و ائس چانسلر کی صدارت میں سیمینار ہو رہا ہے۔ ٹیپو کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے لیکن میڈیا کی بے رخی اور فرقہ پرست طاقتوں کی سازش کی وجہ سے ٹیپو سلطان کو لوگ فراموش کرتے جا رہے ہیں۔ نئی نسل ان کے کارناموں سے ناواقف ہے۔ ڈاکٹر صمدانی نے پر جوش انداز میں کہا کہ ٹیپو سلطان نہ صرف شیرِ میسور تھا بلکہ وہ شیرِ ہند اور شیرِ مشرق تھا۔ ٹیپو سلطان شہید کا مقابلہ نیپولین سے بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ نیپولین نے انگریزوں سے صلح کرلی تھی لیکن ٹیپو نے خوشی خوشی جامِ شہادت نوش کیا۔ انہوں نے وائس چانسلر سے گزارش کی کہ ٹیپو سلطان کے نام پر ایک تعلیمی مرکز قائم کیا جائے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹیپو کے نام پر میسور طیران گاہ کا نام رکھا جائے اور این سی ای آر ٹی کی کتابوں میں ایک چیپٹر ٹیپو سلطان کے نام پر ضرور شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اگر ٹیپو سلطان کی رفاہی منصوبے کو اپنا لے تو کایا پلٹ ہو سکتی ہے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شعبۂ دینیات کے صدر پروفیسر سعود عالم قاسمی نے کہا کہ ٹیپو سلطان شہید کی دو بنیادی خوبیاں تھیں۔ نمبر ایک کہ وہ محبِ وطن تھا دوسرے وہ محبِ اسلام تھا۔ محبِ وطن کی حیثیت سے ہندوستان میں تحریکِ آزادی چلائی۔ گاندھی جی نے 20 ویں صدی کے اختتام پر سودیشی تحریک چلائی اور ٹیپو سلطان نے” ہندوستان ہندوستانیوں کے لئے ہے“ کا نعرہ سو سال قبل 19 ویں صدی کے اختتام پر لگایا۔ ٹیپو کی زندگی کے تین اور اصول تھے آزادی، تعمیر و ترقی اور مذہبی رواداری۔ اس ہندوستانی سپوت سے انگریزوں کو اتنی دشمنی تھی کہ انگریزی حکومت نے ان کے سارے آثار مٹادئے اور ان کے بارے میں کچھ بھی لکھنے کو انگریز دشمنی خیال کیا اور ان کے تعلق سے غلط فہمیوں کا سلسلہ جاری کیا۔ اقبال نے پوری جرات اور جسارت کے ساتھ اس ہندوستانی مردِ مومن کا تعارف کرایا اور ہندوستانیوں کو اس کی جرات و شجاعت کو سلام کرنے پر آمادہ کیا۔ ابلاغاتِ عامہ کے پروفیسر این اے کے درانی نے کہا کہ ان کا تعلق ٹیپو سلطان کی سرزمین سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیپو سلطان پر کئی ناول بھی لکھے گئے ہیں اور محمود بینگلوری کی کتاب ” سلطنتِ خداداد“ سب سے اچھی کتاب ہے۔ پروگرام کا آغاز ڈاکٹر عبید اقبال کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ فواز شاہین نے حاضرین کا خیر مقدم کیا۔ نشرہ حیدر نے فورم کے مقاصد پر روشنی ڈالی اور مینا خاں نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

مزید دیکھئے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]