عدل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

عدل سے مراد کسی شئے کو اس کے اصل مقام پر رکھ دینا ہے۔ عدل کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ حق دار کو اس کا حق دے دیا جائے۔ یعنی حق دار کو اس کا حق دینا عدل ہے، حق چھین لینا عدل نہیں ہے، ظلم ہے۔

خدا عادل اور انصاف کرنے والا ہے کیونکہ ظلم ایک قبیح فعل ہے اور خداوند متعال میں کوئی بھی عیب موجود نہیں ہوسکتا۔ پس کس طرح ممکن ہے کہ خداوند متعال برے کام کرنے والے کو جنت عطا کردے اور اچھے کام کرنے والے کو دوزخ میں بھیج دے۔ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خداوند متعال تمام مخلوقات سے انصاف کرے گا۔خدا کے تمام افعال حکمت اور مصلحت کے ساتھ ھوتے ھيں ۔ وہ کوئي بُرا کام نھيں کرتا اور نہ کسي ضروري کام کو ترک کرتا ہے ۔اُس ميں حسب ذيل نکات داخل ھيں : (۱) دنيا کے تمام افعال بجائے خود يا اچھے ھيں يا برے ۔ يہ اور بات ہے کہ کسي بات کي اچھائي ، برائي ھماري عقل پورے طور پر نہ سمجہ سکے ليکن اس کے معني يہ نھيں کہ حقيقةً بھي وہ اچھے يا برے نھيں ھيں ۔ خدا جو کام کرتا ہے وہ اچھا ھي ہوتا ہے ۔ برا کام وہ کبھي نھيں کرتا ۔ خدا ظلم اور نا انصافي سے بري ہے ، يہ نھيںھو سکتا کہ وہ بندوں کو غير ممکن باتوں کا حکم دے يا ايسے کام کرنے کا حکم دے جو بالکل فضول ھوں اور جن کا کوئي فائدہ نہ ھو ۔ اس لئے کہ يہ تمام باتيں نقص ھيں اور خدا ھر نقص سے بري ہے ۔(۲) خدا نے انسان کو اُس کے افعال ميں خود مختار بنايا ہے يعني وہ جو کچھ کام کرتا ہے اپنے ارادہ و اختيار سے کرتا ہے ۔ بے شک يہ قدرت خدا کي طرف سے عطا کي ھوئي ہے اور جب وہ چاھتا ہے تو اس قدرت کو سلب کر ليتا ہے ليکن جب وہ قدرت کو سلب کرلے تو انسان پر ذمہ داري باقي نھيں رہ سکتي يعني اُ س صورت ميں جو کچھ سرزد ھو اُس پر کوئي سزا نھيں دي جاسکتي جيسے پاگل آدمي ۔ خدا بندوں کو اچھي باتوں کا حکم ديتا ہے اور بري باتوں سے روکتا ہے ۔ اچھے کاموں پر وہ انعام عطا کرتا ہے اور برے کاموں پر سزا ديتا ہے ۔ اگر اُس نے انھيں مجبور پيدا کيا ھو يعني وہ خود ان کے ھاتھوں سب کچھ کام کراتا ھو تو احکام نافذ کرنا اور جزا و سزا دينا بالکل غلط اور بے بنياد ھو گا ۔ خدا کي ذات ايسے غلط اور بے جا طرز عمل سے بري ہے ۔ (۳) خدا کو بندوں کے تمام افعال کا علم ھميشہ سے ہے ليکن اُس کا علم ان لوگوں کے افعال کا باعث نھيں ہوتا بلکہ چونکہ يہ لوگ ان افعال کو اپنے اختيار سے کرنے والے ھيں اس لئے خدا کو ان کا علم ہے ۔ (۴) خدا کے لئے عدالت کو ضروري قرار دينے کے يہ معني نھيں ھيں کہ وہ ظلم،فعل شر يا فعل عبث پر قادر نھيں ہے بلکہ يہ معني ھيں کہ خدا کي کامل ذات اور اُس کے علم و قدرت کے لئے يہ مناسب نھيں ہے کہ وہ ظلم وفعل شر وغيرہ کا ارتکاب کرے ۔ اس لئے اُس سے ان افعال کا صادر ھونا بالکل غير ممکن ہے ۔خداوندِ متعال کی عدالت کو ثابت کرنے کے لئے متعدد دلائل هيں جن ميں سے هم بعض کاتذکرہ کريں گے:١۔هر انسان، چاهے کسی بهی دين ومذهب پر اعتقاد نہ رکهتاہو، اپنی فطرت کے مطابق عدل کی اچهائی و حسن اور ظلم کی بدی و برائی کو درک کر سکتا هے۔حتی اگر کسی ظالم کو ظلم سے نسبت ديں تو اس سے اظهار نفرت اور عادل کهيں تو خوشی کا اظهار کرتا هے۔شہوت وغضب کا تابع ظالم فرمانروا،جس کی ساری محنتوں کا نچوڑ نفسانی خواهشات کا حصول هے، اگر اس کا واسطہ محکمہ عدالت سے پڑ جائے اور قاضی اس کے زور و زر کی وجہ سے اس کے کسی دشمن کا حق پامال کر کے اس ظالم کےحق ميں فيصلہ دے دے، اگر چہ قاضی کا فيصلہ اس کے لئے باعث مسرت وخوشنودی هے ليکن اس کی عقل وفطرت حکم کی بدی اور حاکم کی پستی کو سمجه جائيں گے۔جب کہ اس کے برعکس اگر قاضی اس کے زور و زر کے اثر ميں نہ آئے اور حق وعدل کا خيال کرے، ظالم اس سے ناراض تو هو گا ليکن فطرتاً وہ قاضی اور اس کے فيصلے کو احترام کی نظر سے ديکهے گا۔ تو کس طرح ممکن هے کہ جس خدا نے فطرت انسانی ميں ظلم کو برا اور عدل کو اس لئے اچهاقرار ديا هو تاکہ اسے عدل کے زيور سے مزين اور ظلم کی آلودگی سے دور کرے اور جو <إِنَّ اللّٰہَ يَا مُْٔرُبِالْعَدْلِ وَاْلإِحْسَانِ> ٢، <قُلْ ا مََٔرَ رَبِّی بِالْقِسْطِ> ٣،<يَادَاودُ إِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِيْفَةً فِی اْلا رَْٔضِ فَاحْکُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلاَ تَتَّبِعِ الْهَوٰی> ٤جيسی آيات کے مطابق عدل کا حکم دے وہ خود اپنے ملک وحکم ميں ظالم هو؟! ٢۔ظلم کی بنياد يا تو ظلم کی برائی سے لاعلمی، يا مقصد و هدف تک پهنچنے ميں عجز يالغووعبث کام هے، جب کہ خداوندِمتعال کی ذات جهل، عجز اور سفا ہت سے پاک ومنزہ هے۔لہٰذا، علم، قدرت اور لا متناهی حکمت کا تقاضا يہ هے کہ خداوند متعال عادل هو اور هر ظلم وقبيح سے منزہ هو۔٣۔ ظلم نقص هے اور خداوندِمتعال کے ظالم هونے کا لازمہ يہ هے کہ اس کی ترکيب ميں کمال ونقصان اور وجود وفقدان بيک وقت شامل هوں، جب کہ اس بات سے قطع نظر کہ يہ ترکيب کی بدترين قسم هے، کمال ونقص سے مرکب هونے والا موجود محتاج اور محدود هوتا هے اور يہ دونوں صفات مخلوق ميں پائی جاتی هيں نہ کہ خالق ميں۔ لہٰذا نتيجہ يہ هوا کہ وہ تخليق کائنات <شَهِدَ اللّٰہُ ا نََّٔہ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ هُوَ وَالْمَلاَئِکَةُ وَ ا ؤُْلُوالْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَکِيْمُ> ٥،قوانين واحکام <لَقَدْ ا رَْٔسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَ ا نَْٔزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ> ٦ اور قيامت کے دن لوگوں کے حساب وکتاب <وَقُضِیَ بَيْنَہُمْ بِالْقِسْطِ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُوْنَ> ١ ميں عادل هے۔ --------------2 سورہ نحل، آيت ٩٠ ۔"باتحقيق خدا وند متعال عدل واحسان کا امر کرتا هے"۔ 3 سورہ اعراف، آيت ٢٩ ۔ "کہو ميرے رب نے انصاف کے ساته حکم کيا هے"۔ 4 سورہ ص، آيت ٢۶ ۔ "اے داو دٔ (ع)!هم نے تم کو روئے زمين پر خليفہ بنايا هے تو تم لوگوں کے درميان بالکل ٹهيک فيصلہ کرو اور هویٰ وہوس کی پيروی مت کرو"۔ 5 سورہ آل عمران ، آيت ١٨ ۔"خدا نے خود اس بات کی شهادت دی کہ سوائے اس کے کوئی معبود نهيں هے و کل فرشتوں نے اور صاحبان علم نے جو عدل پر قائم هيں (يهی شهادت دی) کہ سوائے اس زبردست حکمت والے کے اور کوئی معبود نهيں هے"۔ 6 سورہ حديد ، آيت ٢۵ ۔ "هم نے يقينا اپنے پيغمبروں کو واضح و روشن معجزے دے کر بهيجا هے اور ان کے ساته کتاب (انصاف کی)ترازو نازل کی تاکہ لوگ قسط وعدل پر قائم رهيں"۔ عن الصادق (ع) :((إنہ سا لٔہ رجل فقال لہ :إن ا سٔاس الدين التوحيد والعدل، وعلمہ کثير، ولا بد لعاقل منہ، فا ذٔکر ما يسهل الوقوف عليہ ويتهيا حفظہ، فقال: ا مٔا التوحيد فا نٔ لا تجوّز علی ربک ماجاز عليک، و ا مٔا العدل فا نٔ لا تنسب إلی خالقک ما لامک عليہ)) ٢ اور هشام بن حکم سے فرمايا: ((ا لٔا ا عٔطيک جملة في العدل والتوحيد ؟ قال: بلی، جعلت فداک، قال: من العدل ا نٔ لا تتّهمہ ومن التوحيد ا نٔ لا تتوهّمہ)) ٣ اور امير المومنين (ع) نے فرمايا:((کل ما استغفرت اللّٰہ منہ فهومنک،وکل ما حمدت اللّٰہ عليہ فهومنہ))

Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔
‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=عدل&oldid=1054745’’ مستعادہ منجانب