شاہ سلطان حسینی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
شاہ سلطان حسینی
Shahanshah of Persia
Coat of arms of Persia (16th century - 1907).png
Sultan Husayn by Bruyn.jpg
عہد حکومت 1694-1722
تاج پوشی 1694
القابات شہنشاہ, صاحب قرن, سلطان بار سلاطین [1]
پیدائش 1668
وفات 1726
جائے وفات اصفہان
پیشرو سلیمان اول فارسی
جانشین محمود ہوتکی
شاہی گھرانہ صفویدی
والد سلیمان اول فارسی

شاہ سلطان حسینی، صفویدی عہد میں شاہ فارس یا حالیہ ایران تھے۔ شاہ سلطان حسینی کا دور حکومت 1694ء سے 1722ء تک جاری رہا اور اس دور کا خاتمہ شاہ محمود ہوتکی کی شورش پر ہوا، شاہ محمود ہوتکی افغانستان کے قبیلے غلزئی سے تعلق رکھنے والے پشتون جنگجو تھے۔[2] شاہ سلطان حسینی کا دور حکومت صفویدی عہد سلطنت کا آخری دور شمار کیا جاتا ہے، صفویدی خاندان سولہویں صدی سے فارس پر حکمرانی کرتے آ رہے تھے۔

زندگی[ترمیم]

ابتدائی دور حکومت[ترمیم]

جب شاہ سلطان حسینی کے والد شاہ سلیمان اول بستر مرگ پر تھے تو انھوں نے مجلس شوریٰ کو یہ اختیار دیا کہ ان کے بعد ان کے دونوں بیٹوں میں سے کسی کو اپنا شاہ منتخب کریں۔ شاہ سلیمان کی وصیت کے مطابق، اگر انھیں ریاست میں امن اور سلامتی درکار ہو تو شاہ سلطان حسینی جبکہ اگر مجلس شوریٰ ایک جنگجو اور ریاست کو قوت بخشنے والا حکمران چاہتے ہوں تو ان کے چھوٹے صاحبزادے عباس کو اپنا شاہ مقرر کریں۔ شاہ سلیمان کی مجلس شوریٰ نے متفقہ طور پر سلطان حسین شاہ کو فارس کا نیا حکمران منتخب کر لیا۔ شاہ سلطان اپنے دور میں نرم مزاجی اور سیاست میں عدم دلچسپی کے لیے مشہور تھے۔ شاہ سلطان بنیاد پرست مسلمان تھے، اسی لیے انھوں نے ریاست میں علماء، خصوصاً علامہ باقر مجلسی کا عمل دخل بڑھا دیا۔ صوفیانہ خیالات اور اہل تصوف کے خلاف کئی نئے قوانین واضع ہوئے اور اس کے علاوہ شراب نوشی اور خواتین کے سربازار نکلنے اور گفتار پر پابندی عائد کر دی گئی۔ صوبائی گورنروں کو سختی سے ہدایات جاری کی گئیں کہ صوبہ جات میں شرعی قوانین کو فی الفور لاگو کریں۔ [3]
گو شاہ سلطان نے محمد باقر مجلسی کو امور معاملات کا نگراں مقرر کیا، مگر جلد ہی یہ اختیارات سلطان حسین کی خالہ، مریم بیگم کو منتقل ہو گئے۔ مریم بیگم فارس کے شاہ صافی کی صاحبزادی تھیں۔ مریم بیگم نے حقیقتاً امور ریاست سنبھال لیے اور شاہ حسین اس دور میں شراب نوشی کی عادت میں مبتلا رہے، امور ریاست اور سیاست کی جانب ان کی توجہ برائے نام رہ گئی اور ان کا زیادہ تر وقت شراب نوشی، اپنے حرم اور باغبانی میں گزرنے لگا۔[4]

غدر[ترمیم]

لوئس ہفتم کے دربار میں شاہ سلطان کا سفارتی وفد - 1715ء

شاہ سلطان کی شہنشاہیت افغانستان میں غدر تک برقرار رہی، یہ علاقہ سلطنت کا مشرقی حصہ تھا۔ افغانستان میں دو بڑے قبیلے تھے، غزالی اور درانی۔ 1709ء میں قندھار کے غزالی یا غلزئی افغانوں نے میر وایس ہوتک کی سربراہی میں صفویدی سلطنت سے باغی ہونے کا اعلان کر دیا۔[5] 1716ء میں ہرات کے ابدالی افغانوں نے بھی غزالیوں کی پیروی میں صفویدی سلطنت سے شورش کی مگر وہ اپنے حملوں میں ناکام رہے۔ اس ناکامی کے بعد ابدالی قبیلے نے صفویدی سلطنت کی جانب سے غزالی قبیلے پر پے در پے کئی حملے کیے، مگر محمود ہوتکی کی سربراہی میں غزالی قبیلے نے انھیں شکست سے دوچار کیا۔ محمود ہوتکی، میر وایس ہوتک کے صاحبزادے تھے۔
اس دور میں سلطان حسین کو انتہائی سخت مذہبی رویہ کی وجہ سے اندرون ریاست کئی باغیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ محمد باقر مجلسی، ان کے پیشرو اور پوتے کی وجہ سے صفویدی سلطنت میں شیعہ اسلام کو تقویت دی گئی اور رفتہ رفتہ صفویدیوں کی سنی سلطنت، شیعہ سلطنت میں ڈھلتی گئی۔ اس دور میں کہا جاتا ہے کہ سنی مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کو شیعہ اسلام کی طرف راغب کرنے کی کوششیں تیز تر کی گئیں اور اس ضمن میں کئی مواقع پر سختی سے بھی کام لیا گیا۔ اسی طرح فارس میں موجود دہریہ نظریات رکھنے والے افراد کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور شاہ حسین نے ایسے تمام افراد پر بے پناہ سختی کا حکم جاری کیا۔ شاہ حسین کی سلطنت میں مذہبی رویہ کی وجہ سے 1717 - 20ء تک کردستان کے سنی مسلمانوں نے بھی یورش برپا کر دی۔ اس یورش میں کر دستان کے عوام کی حمایت سلطنت عثمانیہ اور لژگان قبیلہ نے کی۔ لژگان قبیلہ نے یورش کے دوران جب شماخائی شہر، جو کہ شیروان کا مرکزی قصبہ تھا، پر 1721ء قبضہ کیا تو وہاں شیعہ آبادی اور گورنر کو اجتماعی طور پر ذبح کر دیا گیا۔ سلطنت کے حالات اس وقت مزید وگر گوں ہو گئے جب عرب قزاقوں نے فارس کے ساحلوں پر قبضہ کیا اور تمام تر تجارتی مواصلات معطل کر دیں۔ اس کے علاوہ شمال مغربی صوبوں میں طاعون کی وبا پھوٹنے کی وجہ سے بھی ریاست کے امور بگڑتے چلے گئے۔ ان تمام حالات میں صفویدی سلطنت عملاً مقامی جنگجوؤں، افغان جنگجوؤں اور عرب قزاقوں کے رحم و کرم پر رہ گئی۔ شاہ سلطان برائے نام سلطنت کے سربراہ باقی رہ گئے۔[6]

اصفہان کا محاصرہ[ترمیم]

صفویدی سلطنت کو تمام تر خطرات میں بڑا خطرہ اس وقت لاحق ہوا جب غزالی افغان قبیلہ نے اصفہان کا محاصرہ کر لیا۔ 1722ء میں محمود ہوتکی نے اپنی فوج کے ہمراہ شاہ سلطان کی سلطنت کے دارالحکومت اصفہان کا مغربی جانب سے محاصرہ شروع کیا۔ بجائے اس کے کہ شاہ سلطان اپنی افواج کو فصیل شہر کے اندر رہنے دیتے، اور شہر کو بچانے کی حکمت عملی وضع کی جاتی، انھوں نے محمود ہوتکی کی افواج پر حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔ افغان افواج اگر محاصرہ جاری رکھتی تو کم تعداد کی وجہ سے اصفہان پر قبضہ آسان نہ ہوتا۔گولن آباد کے مقام پر 8 مارچ 1722ء کو افغان افواج نے صفویدی افواج کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا اور شاہی افواج شہر میں محصور کر دی گئیں۔ شاہ سلطان نے صوبوں کی جانب منتقل ہو کر مزید افواج جمع کرنے کی بجائے شہر میں ہی محصور رہنے کو ترجیح دی اور اصفہان شہر چند ہی دنوں میں مکمل طور پر افغان افواج کے محاصرے میں چلا گیا۔ اصفہان شہر کا یہ محاصرہ مارچ سے اکتوبر 1722ء تک جاری رہے۔ افغان افواج کو ابتدائی جھڑپوں کی وجہ سے گولہ باردو کی کمی کا سامنا تھا، اسی لیے محمود ہوتکی نے بجائے شہر پر حملہ کرنے کے محاصرہ جاری رکھنے کو ترجیح دی تا کہ اصفہان شہر کے باسی شاہ کے خلاف بھوک اور بیماری کی وجہ سے اٹھ کھڑے ہوں۔ شاہ سلطان کی سیاسی امور میں عدم دلچسپی اور صوبائی گورنروں پر عدم اعتماد کی وجہ سے حالات مزید بگڑ گئے اور چند ہی ماہ میں اصفہان کے گلی کوچوں میں شاہ سلطان حسینی کے خلاف خونریز مظاہرے شروع ہو گئے۔ ان مظاہروں کے نتیجے میں کئی ہلاکتوں کے بعد شاہ سلطان کے فرزند تہماثپ کو شریک شاہ فارس بنا دیا گیا۔ جون میں تہماثپ شہر سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، اس فرار کا مقصد شہر کے بچاؤ کے لیے صوبوں سے مزید کمک کا انتظام کرنا تھا، لیکن شاہ سلطان کے فرزند کو اس حکمت عملی میں بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوئی کیونکہ ان چند ماہ میں صوبائی حکومتیں اپنا اختیار کھو چکی تھیں۔ اصفہان میں بیماری اور بھوک کی وجہ سے مظاہرے مزید شدت اختیار کر گئے اور شاہ سلطان نے اصفہان شہر میں 23 اکتوبر کو ہتھیار ڈال دیے۔کہا جاتا ہے کہ اصفہان شہر کے محاصرے کے دوران قریباً 80000 شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ شاہ سلطان نے اسی روز محمود ہوتکی کو سلطنت کا نیا شاہ فارس تسلیم کر لیا اور یوں سولہویں صدی سے جاری صفویدی سلطنت کا خاتمہ ہوا۔[7]

گرفتاری و ہلاکت[ترمیم]

شاہ محمود نے اوائل دور میں شاہ سلطان سے رویہ نرم رکھا اور عام معافی عطا کی مگر رفتہ رفتہ شاہ محمود کے رویہ میں سختی آتی گئی اور جلد ہی سابق شاہ سلطان حسینی کو سلطنت کے لیے خطرہ محسوس کرنے لگا۔ فروری 1725ء میں اصفہان میں یہ افواہ گردش کرنے لگی کہ شاہ سلطان کے صاحبزادے صفی مرزا فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس افواہ نے اتنی شدت اختیار کی کہ شاہ محمود نے تمام سابقہ شاہی خاندان کے افراد، بالخصوص شہزادوں کے قتل کا حکم دے دیا۔ شاہ سلطان حسینی کو بہرحال امان عطا کی گئی۔ شاہ سلطان نے اپنے فرزندوں کو قتل سے بچانے کی کوشش کی اور جھڑپ میں زخمی ہو گئے۔ اس جھڑپ میں شاہ سلطان کے دو بیٹوں کی جان بچ گئی۔ اس جھڑپ کے فوراً بعد شاہ محمود کو بیماری نے آ لیا اور وہ 25 اپریل کو وفات پا گئے۔[8] شاہ محمود کے ولی عہد اشرف خان نے سابقہ شاہ کے ساتھ انتہائی نرمی کا سلوک کیا۔ اس نرمی کے نتیجے میں سابقہ شاہ نے اپنی ایک صاحبزادی کا عقد شاہ اشرف خان سے طے کر دیا، اس عمل کے نتیجے میں اشرف خان کی عزت فارسی حلقوں میں بڑھ گئی۔ اشرف خان چونکہ سلطنت عثمانیہ کے ساتھ جنگ میں مصروف رہے جس کی وجہ سے فارس میں ان کی شخصیت کا اثر رفتہ رفتہ زائل ہوتا گیا۔ 1726ء کے خزاں میں، بغداد کے عثمانیہ گورنر احمد پاشا نے اپنی افواج کو اصفہان کی جانب اس پیغام کے ساتھ روانہ کیا کہ وہ سابقہ شاہ کی سلطنت انھیں واپس لوٹانے کے لیے حملہ کریں گے۔ احمد پاشا کے وفد کے ہاتھ اشرف خان نے جواباً شاہ سلطان حسینی کا سر قلم کر کے روانہ کر دیا، اس کے ساتھ ہی سلطنت عثمانیہ کو یہ پیغام بھی روانہ کیا کہ “اس ریاست پر احمد پاشا کے حملہ کو انتہائی سختی کے ساتھ اپنی تلوار اور برچھی سے جواب دیا جائے گا“۔ مائیکل ایکس وردی کے الفاظ میں، “اس طرح، شاہ سلطان حسین کی موت نے وہ تند و تیز جواب دیا جو کہ ان کی زندگی میں کسی بھی سیاسی اور ریاستی امور میں دیکھنے کو نہیں ملتا“۔[9]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ The Royal Ark
  2. ^ ایڈورڈ گرینویل براوؤن، "گزشتہ دو صدیوں میں فارس کے تاریخی واقعات" (انگریزی میں)، پیک ورڈ ہیومینیٹیز انسٹی ٹیوٹ، http://persian.packhum.org/persian/pf?file=90001014&ct=30 
  3. ^ تاریخ فارس، ششم، ص: 29 
  4. ^ آکس وردی، ص: 30 
  5. ^ ایڈورڈ گرینولی براؤن، "تاریخ فارس"، http://persian.packhum.org/persian/pf?file=90001014&ct=29 
  6. ^ آکس وردی، ص: 75 
  7. ^ آکس وردی، ص: 47 
  8. ^ آکس وردی، ص: 67 
  9. ^ آکس وردی، ص: 88