خشونت سنگھ
| خشونت سنگھ | |
|---|---|
![]() خشونت سنگھ نئی دہلی میں |
|
| پیدائش | Khushal Singh 2 فروری 1915 ہدالی,موجودہ ضلع خوشاب, برطانوی راج |
| قومیت | بھارتی |
| مادر علمی | سینٹ رافل کالج دہلی کنگز کالج لندن |
| پیشہ | صحافی, مصنف, تاریخ دان |
| شریک حیات | کاول ملک |
| Signature | |
خشونت سنگھ (ہندی: ਖ਼ੁਸ਼ਵੰਤ ਸਿੰਘ) (پیدائش: 2 فروری 1915ء) ہندوستان کے مشہور مصنف، تاریخ دان اور نقاد۔
فہرست |
[ترمیم] تعلیم
پاکستانی پنجاب کے ضلع خوشاب کے قریب گاؤں ہڈالی میں پیدا ہوئے جہاں انہوں نے سکول تک کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد وہ گورنمنٹ کالج لاہور چلے گئے۔
برطانیہ میں کیمبرج یونیورسٹی اور انر ٹیمپل میں پڑھنے کے بعد انہوں نے واپس لاہور جا کر وکالت شروع کر دی تاہم تقسیم ہند کے بعد وہ اپنے خاندان سمیت دلی میں بس گئے۔ وہ کچھ عرصہ وزارت خارجہ میں سفارتی عہدوں پر بھی تعینات رہے لیکن جلد ہی سرکاری نوکری کو خیرآباد کہہ دیا۔
[ترمیم] صحافتی زندگی
انیس سو اکیاون میں صحافی کی حیثیت سے آل انڈیا ریڈیو میں نوکری اختیار کر لی جہاں سے ان کے تابناک کیریر کا آغاز ہوا۔ وہ بھارت کے مشہور جریدے السٹریٹڈ ویکلی کے ایڈیٹر رہے اور ان کے دور میں یہ جریدہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گیا۔ خوشونت سنگھ ہندوستان ٹائمز کے ایڈیٹر بھی رہے۔
خوشونت سنگھ نے تقریبًا تمام مشہور ملکی اور غیر ملکی اخبارات کے لیئے کالم لکھے۔ ان کی کتاب ’ہسٹری آف سکھ‘ یعنی سکھوں کی تاریخ اب تک اس سلسے میں ہونے والا سب سے منجمد کام سمجھا جاتا ہے۔
[ترمیم] ادبی خدمات
انہوں نے کئئ ناول بھی لکھے اور ان کی کتابوں کی کل تعداد 80 ہے۔ ان کے ناول ’ٹرین ٹو پاکستان‘ کو انیس سو چون میں عالمی شہرت یافتہ گروو پریس ایوارڈ دیا گیا۔ان کے دو کالم بھارت کی چالیس انگریزی اخباروں میں چھپتے ہیں۔ ap ki kitab Truth Love And A little Malice jis ka tarjama Nagarshat kar Sach Muhabbat Or Zara Sa keena kay naam say kya hal pernay say taluk rakhti hai ap ki mshoor kitabon main Delhi,Death at my doorstep kafi shorat ki hamil hain
[ترمیم] اعزازات
خوشونت سنگھ کو انیس سو چوہتر میں پدم بھوشن ایورارڈ دیا گیا ۔خوشونت سنگھ کو پنجاب رتن ایوارڈ سے نوازا گیا۔اور انیس سو اسی سے لے کر انیس سو چھیاسی تک وہ راجیہ سبھا کے ممبر بھی رہے۔
