زہرہ سہگل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ہندوستانی فلمی اور اسٹیج اداکارہ۔پیدائش سہارن پور کے ایک بڑے زمیندار گھرانہ میں 27 اپریل سنہ 1912 کو ہوئی۔ اس گھرانے کا تعلق روہیلہ پٹھان نسل سے تھا۔ابتدائی تعلیم دہرا دون کے قریب چکراتا سے حاصل کی۔بعد میں وہ کوئن میری گرلس کالج لاہور گئیں اس کے بعد انہوں نے لندن، جرمنی ، مصر اور یوروپ کے کئی ممالک کا سفر کیا۔

رقص[ترمیم]

چپن سے ہی رقص اور اداکاری سے تھی ۔ وہ مشہور رقاص ادئے شنکر سے بہت متاثر تھیں ۔ انہوں نے ادئے شنکر کے ساتھ 8 برس کام کیا ۔ بعد میں انگریزی اور ہندی فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے ۔ وہ انڈین پپلز تھیٹر ایسو سی ایشن ( ایپٹا ) اور پرتھوی راج کپور تھیٹر سے بھی وابستہ رہیں ۔ انہوں نے سنہ 1942 میں کامیشو ر سہگل سے شادی کی تھی اور ان کی شادی کی تقریب میں جواہر لال نہرو بھی شریک ہوئے تھے ۔ کامیشور بنیادی طور پر سائنسداں تھے ۔ لیکن اس کے علاوہ ان کا مصوری اور رقص سے بھی تعلق تھا ۔ ان کے خاندان کا تعلق لاہور سے تھا ۔

فلم اور ڈرامے[ترمیم]

زہرہ سہگل نے تین درجن سے بھی زائد فلموں اور ڈراموں میں کام کیا۔ان کے جو ڈرامے اور فلمیں بہت مشہور ہوئیں ان میں دھرتی کے لال، نیچا نگر ، افسر ، چلو عشق لڑائیں ، سایہ ، کل ہونہ ہو ، ویر زارا ، چینی کم اور سانوریا بہت مقبول ہوئے اور ان کی اداکاری نے داد و تحسین حاصل کی ۔

اعزازات[ترمیم]

زہرہ سہگل کو فلم اور ڈرامے کی خدمات کے لئے متعدد انعامات و اعزازات سے نوازا گیا جن میں پدم شری، کالی داس سمان، سنگیت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ اور سنگیت ناٹک فیلو شپ شامل ہےں ۔ 2010 میں بھارت کے دوسرے سب سے بڑے شہری اعزاز پدم ویبھوشن سے انہیں نوازا گیا۔


آہ۔۔۔۔۔۔ ہندوستانی فلموں کی کلاسیکی اداکارہ  اور  رقاصہ زہرہ سہگل  اس دینا سے روٹھ گیں۔ اداکار امیتابھ بچن ان کو ان کی معصومیت"، چلبلے پن ، اور ان کی توانا  متحرک زندگی کو دیکھ کر انھین(100) سال کی بچی کہا کرتے تھے۔متعدد ٹیلی ویژن سیریلز اور کئی کامیاب ترین فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھانے والی بھارت کی سینئر اداکارہ زہرہ سہگل جمعرات کی شام نئی دہلی میں انتقال کرگئیں۔ 

وہ 27اپریل 1912ء کو پیدا ہوئی تھیں۔ رواں سال ہی انہوں نے اپنی 102ویں سالگرہ منائی تھی۔ ان کا پورا نام شہزادی زہرہ بیگم ممتاز اللہ خان تھا۔ انہوں نے ریاست اتر پردیش کے شہر سہارنپور کے ایک روایتی مسلم گھرانے میں آنکھ کھولی تھی۔ اس دور میں انہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے لاہور بھی بھیجا گیا تھا۔ انھون نے لاھور کے کوئیں میری گرلز میں تعلیم حاصل کی۔ لیکن کچھ ہی سال بعد انہیں واپس جانا پڑا۔ زہرہ سہگل نے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز بطور ڈانسر ساتھی فنکار اودے ناتھ شنکر کے ہمراہ 1935میں کیا تھا۔ انھوں نے 14 اگست 1942 میں انھی اودے شنکر جو سائنس دان، مصور، اداکار اور رقاص بھی تھے۔۔۔۔ ان سے زہرا سہگل نے شادی کی۔ جو ان سے عمر میں دس(10) سال چھوٹے تھے۔ ہندوستاں کے سابق وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو ان کی شادی مین شرکت کرنا چاہتے تھے مگر شاری سے چند دن قبل " ہندوستان چھوڈ دو" تحریک میں ان کو جیل جانا پڑّا۔ ان کے دو (2) بچے کرن اور پون ہیں۔ 1952 مین شادی کے دس (10) سال بعد ان کے شوہر کا انتقال ھوگیا۔ا وہ بالی ووڈ فلموں میں کام کرنے کے علاوہ کئی انگریزی زبان میں بننے والی فلموں میں بھی اداکاری کرچکی تھیں۔ ٹیلی ویژن کے کئی کامیاب سیریلز بھی ان کے کریڈیٹ پر ہیں۔زہرا سہگل نے فلموں سے زیادہ تھیئٹر میں کام کیا اور انہوں نے 60 کی دہائی میں بعض ہندی فلموں میں گانوں کی کوریوگرافی بھی کی۔ وہ جاپان، مصر، برطانیہ،جرمنی اور امریکہ میں اپنے فن کا مظاہرہ کرچکی ہیں۔ زہرہ سہگل نے لاھور میں مقیم اپنی بہن عذرا بٹ کے ساتھ ملکر اپنی زاتی زندگی اور تقسیم ہند کے واقعہ کو ڈرامائی شکل میں پیش کیا تھا۔ حفیظ جالندھری کی مشہور نظم ۔۔" ابھی تو میں جوان ھوں"۔۔ بڑے موثر انداز مین اسٹیج پر بھی پیش کیا۔ انکی صاحبزادی "کرن" نے2012 میں ان کی سوانح عمری انگریزی میں ZOHARA SEGAL:FATTY کے نام سے لکھی۔ ان کے صاحب زادے "پون " نے منشی پریم چند کی پوتی سیما رائے سے شادی کی۔ زہرا سہگل تا حیات ملحد رھی۔ زہراسہگل کی آخری ہندی فلم ’سانوریا‘ تھی جو سنہ 2007 میں ریلیز ہوئی تھی۔ زہرا سہگل کو بھارتی حکومت نے پدم شری، پدم بھوشن اور پدم وبھوشن جیسے اعلیٰ اعزازات سے نوازا گیا تھا۔ انہوں نے امیتابھ بچن کے ساتھ ’چینی کم‘ اور ’کبھی خوشی، کبھی غم‘ جیسی فلموں میں کام کیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ’ویر زارا‘ اور ’ہم دل دے چکے صنم‘ جیسی کامیاب فلموں میں بھی نظر آئیں۔ زہرہ سہگل نے بالی وڈ کی فلموں کے ساتھ ساتھ آف بیٹ فلمیں جیسے ’بھاجی آن دا بیچ‘ اور ’بینڈ اِٹ لائیک بیکم‘ فلموں میں کام کیا تھا۔ زہرہ سہگل نے ’چینی‘ کم میں امیتابھ بچن کی ماں کا کردار ادا کیا تھا۔ ان کی بذلہ سنجی بہت مشہور تھی۔ لطیفے سنانا، فہقہے لگانا، خوبصورت باتیں کرنا اور پرانی باتوں کو داستانی رنگ میں پیش کرنے کا فن شاید بہت کم لوگوں کو آتا ھو۔ سفید اور سیاہ تصویر میں وہ اپنے شوہر کے ساتھ رقص کرتی نظر آرہی ہیں۔ (احمد سھیل):::