دلیپ کمار

وکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

یوسف خان

دلیپ کمار

پیدائش: 11 دسمبر 1922ء

بالی وڈ کے مشہور اداکار۔

فہرست

[ترمیم] ابتدائی زندگی

پشاور کے محلہ خداداد میں لالہ غلام سرور کے ہاں پیدا ہوئے۔وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ انیس سو پینتیس میں ممبئی ( جو ان دنوں بمبئی تھا) کاروبار کے سلسلے میں منتقل ہوئے ۔اداکاری سے قبل یوسف خان پھلوں کے سوداگر تھے اور انہوں نے پونا کی فوجی کینٹین میں پھلوں کا ایک سٹال لگا رکھا تھا۔ 1966 ء میں انہوں نے اداکارہ سائرہ بانو سے شادی کی.

[ترمیم] فلم

اس زمانے کی معروف اداکارہ اور فلمساز دیوکا رانی کی جوہر شناس نگاہوں نے بیس سالہ یوسف خان میں چھپی اداکاری کی صلاحیت کو بھانپ لیا اور فلم ’جوار بھاٹا‘ میں دلیپ کمار کے نام سے ہیرو کے رول میں کاسٹ کیا۔اس کے بعد سے اس شخص نے بھارتی فلمی صعنت پر ایک طویل عرصے تک راج کیا۔اور آن ۔ انداز ۔ دیوداس ۔ کرما ۔ سوداگر جسی مشہور فلموں میں کام کیا۔

[ترمیم] شہنشاہ جذبات

سنگ دل، امر، اڑن کھٹولہ، آن، انداز، نیا دور، مدھومتی، یہودی اور مغل اعظم ایسی چند فلمیں ہیں جن میں کام کرنے کے دوران انہیں شہنشاہ جذبات کا خطاب دیا گیا۔ لیکن انہوں نے فلم کوہ نور، آزاد، گنگا جمنا اور رام اور شیام میں ایک کامیڈین کی اداکاری کر کے یہ ثابت کیا کہ وہ لوگوں کو ہنسا نے کا فن بھی جانتے ہیں۔

[ترمیم] فن

دلیپ کمار کی اداکاری میں ایک ہمہ جہت فنکار دیکھا جاسکتا ہے جو کبھی جذباتی بن جاتا ہے تو کبھی سنجیدہ اور روتے روتے آپ کو ہنسانے کا گر بھی جانتا ہو۔انڈین فلم انڈسٹری انہیں آج بھی بہترین اداکار مانتی ہے اور اس کا لوگ اعتراف بھی کرتے ہیں۔دلیپ کمار اپنے دور کے فلم انڈسٹری کے ایسے اداکار تھے جن کے سٹائل کی نقل لڑکے کرتے تھے اور ان کی ساتھی ہیروئینوں کے ساتھ ساتھ عام لڑکیاں ان پر مرتی تھیں۔ہیروئین مدھوبالا سے ان کے عشق کے چرچے رہے لیکن کسی وجہ سے ان کی یہ محبت دم توڑ گئی اور زندگی میں ہی دونوں علیحدہ ہوگئے۔

[ترمیم] ہالی وڈ

ان کی وجیہہ شخصیت کو دیکھ کر برطانوی اداکار ڈیوڈ لین نے انہیں فلم ’لارنس آف عریبیہ ‘ میں ایک رول کی پیشکش کی لیکن دلیپ کمار نے اسے ٹھکرا دیا۔

[ترمیم] کنارہ کشی

انیس سو اٹھانوے میں فلم ' قلعہ ' میں کام کرنے کے بعد فلمی دنیا سے کنارہ کشی کر لی تھی ۔دلیپ کمار آج کل صرف فلمی پارٹیوں میں اپنی بیوی سائرہ بانو کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ پارٹی میں آنے والے اداکار آج بھی ان کے پیر چھونا نہیں بھولتے۔

[ترمیم] اعزازات

جہاں انھیں بے شمار اعزازات سے نوازا گیا وہاں انھیں انڈین فلم کا سب سے بڑا اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ بھی دیا گیا۔ پاکستان حکومت کی طرف سے 1998ء میں ان کو پاکستان کے سب سے بڑے سیویلین اعزاز نشان پاکستان سے بھی نوازا گیا.

ذاتی اوزار

متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
ساتھی منصوبے
آلات
دیگر زبانیں