عرفان خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

بالی ووڈ ورسٹائل اداکار عرفان خان ، کا اصل نام صاحب زادہ عرفان علی خان ہے۔ اب وہ فلموں میں اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔ نواب ہونے کے باوجود عرفان بہت کم نوابی لباس پہنے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کے اندر نوابوں والا غرور بھی نہیں ہے‘ البتہ ان کی شخصیت میں ایک تمکنت اوروقار ہے ‘جو سامنے والے کو ان کے اسپیشل ہونے کا احساس دلاتا ہے ! وہ نہیں چاہتے کہ لوگ انہیں ان کے بیک گراؤنڈ کی وجہ سے پہچانیں‘ اسی لئے انہوں نے اپنے نام کے ساتھ صاحب زادہ کا خاندانی لقب ہٹا دیا ہے ، عرفان’’ دا وiریئر‘ مقبول‘ حاصل ‘ دا نیم سیک ‘ اے مائٹی ہرٹ‘ سلم ڈاگ ملینیئر‘ بلو‘ نیو یارک اور’’نیو یارک: آئی لو یو‘‘ جیسی فلموں میں کام کر چکے ہیں ، مختلف کمرشلز میں بھی عرفان خان نے اپنا جادو جگایا ہے ، وہ فلم فیئر ایوارڈز اور ایک اسکرین ایکٹرگلڈ ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں۔

ذاتى زندگى[ترمیم]

عرفان خان ، جے پور کی مسلم نواب فیملی میں پیدا ہوئے ‘ان کی والدہ سیدہ بیگم کا تعلق بھی ایک جاگیردار فیملی سے تھا ،عرفان خان نے رائٹر ستاپا سکدر سے شادی کی ہے‘ جو ’’این ایس ڈی‘‘ میں عرفان کی کلاس فیلو تھیں جہاں سے عرفان نے گریجویشن کیا ہے‘ عرفان کے دو بچے بابل اور آیاس ہیں۔ عرفان خان کے دو بھائی عمران خان اور سلمان خان اور بہن رخسانہ بیگم جے پور میں ہی رہتے ہیں‘ جہاں وہ اپنے بزنس کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔

فنى سفر كا آغاز[ترمیم]

1987ء میں عرفان ممبئی آئے تو انہوں نے یہاں پر لاتعداد ٹی وی سیریلز میں کام کیا‘ جن میں ’’چانکیا‘ سارا جہاں ہمارا‘ بنے گی اپنی بات‘ چندر کانتا‘ اسٹار بیسٹ سیلر‘ اور’’ اسپرش‘‘ جیسی سیریلز شامل ہیں ، سٹار پلس کی ایک ڈرامہ سیریز’’ ڈر‘‘ میں عرفان خان نے ایک نفسیاتی سیریل کلر کا رول ادا کیا تھا جس نے بعد میں انہیں فلمی دنیا میں مضبوط ولن کے رولز دلوانے میں اہم کردار ادا کیا ، اس کے علاوہ ٹی وی پر دوسرا مشہور رول ڈرامہ سیریل’’ کہکشاں‘‘ میں انقلابی اردو شاعر اور مارکشسٹ سیاسی راهنما مخدوم محی الدین کا تھا‘ اس كردار کو بھی عرفان خان نے بہ خوبی نبھایا اور اپنی اداکاری کا لوہا منوایا‘ ایک ڈرامہ سیریل میں عرفان نے شاپ کیپر کا کردار ادا کیا تھا اور انہیں اپنی بیوی کے بارے میں غلط فہمی ہوگئی تھی کہ وہ انہیں دھوكه دينى کی کوشش کر رہی ہے اور ایک دوسرے کردار میں عرفان نے ایک آفس اکاؤنٹنٹ کا کردار ادا کیا۔ جس میں ان کے باس نے ان کی بے عزتی کر دی تھی اور انہوں نے اس کا بدلہ یوں لیا کہ انہیں پاگل ہونے پر مجبور کر دیا تھا‘ ڈرامہ سیریل’’ بھنور‘‘ کی دو اقساط میں بھی عرفان کا کردار قابل ذکر رہا‘ ایک میں انہوں نے دھوكے باز کا کردار ادا کیا جو زمینوں پر قبضہ کرتا ہے اور اپنے آپ کو بعض موقعوں پر وکیل کی صورت میں پیش کرتا ہے۔

فلمى دور[ترمیم]

تھیٹر اور ٹی وی پر عرفان خان کی جدوجہد جاری تھی کہ اسی دوران میرا نائر نے عرفان کو اپنی فلم’’ سلام بومبے‘‘ میں ایک چھوٹا سا کردار دیا۔ عرفان نے کیرئیر کے ابتدا ء میں’’ ایک ڈاکٹر کی موت ‘‘اور’’ سچ اے لانگ جرنی ‘‘ جیسی فلموں کے علاوہ اور بھی کئی فلموں میں کام کیا لیکن وہ کسی بڑے فلمی هدايت كار کی نظر میں نہیں آئے متعدد ناکام اور ناقابل توجہ فلموں کے بعد بالآخر قسمت کی دیوی عرفان پر مہربان ہوئی اور انہیں لندن پلٹ ڈائریکٹر آصف کپاڈیا نے فلم ’’دا واریئر‘‘ میں کام دے دیا‘ ایک تاریخی فلم جو صرف گیارہ ہفتوں میں مکمل ہوئی۔ ہما چل پردیش اور راجستھان کی خوب صورت لوکیشنز پر اس کی فلم بندی کی گئی تھی۔ 2001 ء میں جب یہ فلم انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں نمائش کیلئے پیش کی گئی تو عرفان خان کو سب جاننے لگے۔ 2003ء میں عرفان نے رائٹر و ڈائریکٹر اسون کمار کی شارٹ فلم’’ روڈ ٹو لداخ‘ ‘ میں کام کیا اس فلم کو بھی انٹرنیشنل فیسٹیول میں پیش کیاگیا ‘بعد میں اس شارٹ فلم کو فل لینتھ فلم کی صورت میں بنایا گیا تو اس مرتبہ عرفان کا رول پہلے سے زیادہ مضبوط تھا‘ اسی سال عرفان نے ایک کامیاب فلم ’’مقبول‘‘ میں بھی کام کیا ‘اس فلم میں عرفان کا کردار مرکزی تھا اور یہ کردار شیکسپیئر کے ڈرامے میکبتھ کے مركزى کردار سے ماخوذ تھا۔ 2005ء میں فلم’’ روگ‘‘ ایسی فلم تھی جس نے بالی ووڈ میں عرفان کو ایک بار پھر نا قدین اور ناظرین کے سامنے امتحان کے لئے پیش کیا‘ اس کے بعد عرفان اور بھی کئی فلموں میں کام کرتے رہے ‘اگرچہ عرفان کو اپنے کیرئیر میں لیڈنگ رولز کم ملے ہیں‘ زیادہ تر ولن اور سپورٹنگ رولز ہی کرتے رہے ہیں لیکن انہوں نے مختصر ترین کرداروں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں اور اپنے آپ کو منوایا ہے۔

2004ء میں عرفان کو فلم’’ حاصل ‘‘کیلئے فلم فیئر بیسٹ ولن ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔ 2007ء میں عرفان نے ایک ہٹ فلم ’’میٹرو‘‘ کے لئے فلم فیئر بیسٹ سپورٹنگ ایکٹر کا ایوارڈ بھی حاصل کیا ‘اس کے علاوہ اسی دوران فلم’’ دانیم سیک ‘‘ بھی عرفان کی وجہ شہرت بنی۔ ان فلموں کے ذریعے انٹرنیشنل فلموں کیلئے عرفان خان کا راستہ ہموار ہوا اور انہیں ہالی ووڈ کی فلم’’ اے مائٹی ہرٹ‘ ‘ اور ایک امریکی کامیڈی ڈرامے’’ ڈار جیلنگ لمیٹڈ ‘‘میں کام کرنے کا موقع ملا۔ بالی ووڈ میں اپنی جگہ مضبوط کرنے کے باوجود عرفان خان نے ٹی وی سے ناطہ نہیں توڑا ، اسٹارون کے ایک ٹی وی شو’’مانو یا نہ مانو‘ ‘ میں اپنی فلمی مصروفیات کے باوجود بطور اینکر پرسن کام کیا‘ اس کے علاوہ بطور میزبان ایک اور پروگرام’’ کیا کہیں‘‘ میں بھی کام کیا ۔2008ء میں آرٹس الائنس پروڈکشن کے تحت ایک پروگرام’’ آئڈنٹیٹی آف دى سؤل‘‘ کے لئے انہوں نے بطور نریٹر کام کیا ‘ان کی پرفارمنس کو بین الاقوامی طور پر دیکھا گیا۔

2008ء میں ہی فلم’’ سلم ڈاگ ملین ایئر‘‘ میں ان کا رول ایک پولیس انسپکٹر کا تھا‘ اس فلم کیلئے انہوں نے اور فلم کی پوری کاسٹ نے آؤٹ اسٹینڈنگ پرفارمنس کا اسکرین گلڈا ایوارڈ جیتا ۔ یہ فلم بالی ووڈ کے معروف فلم ساز ادارے موشن پکچرز کے تحت بنائی گئی تھی۔ فلم’’ ایسڈ فیکٹری‘‘ میں بھی ان کے کردار کو بہت سراہا گیا‘ عرفان خان نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مستقبل میں زیادہ سے زیادہ ایکشن فلموں میں کام کریں‘ اس کی حالیہ مثالوں میں فلم’’ نیویارک‘‘هے جس میں انہوں نے ایک ایف بی آئی ایجنٹ کا کردار ادا کیا‘ ان کی آنے والی فلم ’’پان سنگھ تو مار‘‘ میں ان کا کردار حقیقی زندگی کے راجپوت پان سنگھ تو مارسے ملتا جلتا ہے ۔ 1