جمیلہ بنت سعد
|
|
اس مضمون یا قطعہ کو ویکیپیڈیا کے معیار کے مطابق از سر نو لکھنے کی ضرورت ہے۔ برائے مہربانی اسے بہتر بنائیں۔ |
سیدنا حضرت ابوبکر صدیق بہت رحیم و شفیق ، سخی دل اور وسیع الظرف مرد خدا تھے ۔ غلاموں اور کنیزوں سے ہمیشہ محبت و شفقت سے پیش آتے، ان کی سرپرستی فرماتے اور انہیں کافروں کے مظالم سے نجات دلانے کے لیے بے دریغ اپنی دولت خرچ کر کے خریدتے، پھر اللہ کی خاطر ان کو آزاد کر دیتے۔ یتیم بچوں اور بچیوں سے ان کو خصوصی محبت تھی ۔ بیوگان اور یتامیٰ کی کفالت اس خاموشی سے کرتے تھے کہ بسا اوقات ان کو معلوم بھی نہیں ہوتا تھا کہ ان کا محسن کون ہے۔ سیدنا ابو بکر صدیق کی اسی صفت کی وجہ اللہ نے ان کی تعریف میں سورة اللیل میں فرمایا ہے کہ وہ اپنا مال اللہ کی رضا کی خاطر خرچ کرتاہے اور اللہ اس سے ضرور خوش ہو گا ۔ سید نا ابو بکر صدیق کے گھر میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی یتیم پرورش پاتا تھا۔ یوں حدیث کی روشنی میں آپ کا گھر دنیا کا بہترین گھر شمار ہوتاہے ۔ ایک دن ان کے گھر میں یہ منظر تھاکہ وہ لیٹے ہوئے تھے اور ان کے سینے پر ایک کمسن بچی بیٹھی کھیل رہی تھی ۔ وہ اسے بار بار چومتے اور پیار کرتے تھے۔ اس وقت آپ سے ملنے کے لیے ایک صحابی وہاں تشریف لائے۔ انہوں نے دیکھا تو محسوس کیا کہ بچی حضرت ابو بکر کی اپنی صاحبزادی یا پوتی نواسی تو نہیں ۔ انہیں تجسس ہوا کہ یہ بچی آخر ہے کون ؟ پوچھا تو آپ نے جواب دیا ” یہ اس شخص کی بیٹی ہے جس کو اللہ نے خصوصی مقام عطا فرمایا ۔ وہ زندگی میں آنحضور کا نقیب تھا ۔ اس نے اپنی جان آنحضور کے لیے قربان کی ۔ قیامت کے روز اسے آنحضور کا تقرب حاصل ہو گا ۔ “ یہ خوش بخت صحابی جن کا تذکرہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ان الفاظ میں کر رہے تھے حضرت سعد بن ربیع انصاری تھے ۔ان کے یہ الفاظ آج بھی تاریخ میں جگمگارہے ہیں جو احد کے میدان میں موت کو رقصاں دیکھ کر انہوں نے فرمائے تھے اور پھر آگے بڑھ کر موت کو گلے سے لگا لیا تھا ۔ انہوں نے فرمایا ” اے گروہ انصار، اگر آج اللہ کے رسول کو کوئی گزند پہنچا اور تم میں سے کوئی ایک شخص بھی زندہ رہا تو اللہ کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہو گے۔ ایسی صورت میں تمہاری کوئی معذرت بھی قبول نہ ہو گی۔ یاد رکھنا ہم نے بیعت عقبہ میں حلف اٹھایا تھا کہ رسول اللہ پر اپنی جانیں قربان کر دیں گے ۔ “ یہ یتیم بچی جو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سینے پر بیٹھی کھیل رہی تھی اسی عظیم المرتبت صحابی کی بیٹی تھی۔ ان کا نام جمیلہ تھا اور وہ شکل و صورت اور اخلاق و کردار کے لحاظ سے اسم بامسمیٰ تھیں۔ اپنے والد کی شہادت کے وقت ان کی عمر بہت کم تھی۔ حضرت ابو بکر صدیق کی ازواج میں سے ایک زوجہ محترمہ انصار میں سے تھیں۔ وہ حضرت سعدبن ربیع کی چچا زاد تھیں۔ یعنی یتیم بچی حضرت جمیلہ کی پھوپھی ہوتی تھیں۔ یوں حضرت ابوبکر صدیق اس لڑکی کے پھوپھا بھی لگتے تھے۔ یہ رشتے داری کا تعلق بھی بہت اہمیت کا حامل ہے مگر سیدنا ابو بکر صدیق کی محبت سیدہ جمیلہ کے والد حضر ت سعد کے دینی مقا م و مرتبہ اور اسلام کے لیے ایثار و قربانی کی مرہون منت تھی ۔ حضرت جمیلہ ایک مرتبہ حضرت ابو بکر صدیق کے دور خلافت میں ان کے ہاں حاضر ہوئیں۔ اب وہ بڑی ہو چکی تھیں، مگر ابھی نو عمر ہی تھیں ۔ سیدنا ابو بکر صدیق نے ان کا استقبال کیا اور نہایت محبت کے ساتھ ان کے لیے اپنی چادر بچھا دی۔ حضرت عمر بن خطاب بھی اس وقت وہاں موجود تھے۔ انہوں نے پوچھا ” اے خلیفہ رسول یہ لڑکی کون ہے ؟ “ خلیفہ اول نے فرمایا ” یہ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہے جو ہم دونوں سے بہتر تھے۔“ حضرت عمر نے پوچھا ” وہ کیسے ؟ “ابو بکر صدیق نے جواب دیا ” اے عمر ہم اور تم ابھی تک اس دنیا میں بیٹھے ہیں جبکہ اس کے باپ نے اللہ کے رسول کے سامنے جام شہادت نوش کیا اور جنت کا مستحق قرار پایا۔“ حضرت جمیلہ رضی اللہ عنہا ام سعد کی کنیت سے معروف تھیں۔ وہ بہت بڑی عالمہ فاضلہ تھیں۔ صحابیات کے علاوہ کئی صحابہ نے بھی ان سے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی۔ بعض روایات کے مطابق تو وہ حافظہ قرآن بھی تھیں۔ حضرت جمیلہ بنت سعد کی شادی آنحضور کے عظیم المرتبت صحابی حضرت زید بن ثابت سے ہوئی۔ حضرت زید کے فہم قرآن کی تعریف خود آنحضور نے بھی فرمائی تھی۔ انہیں یہ اعزاز حاصل ہوا کہ انہوں نے حضرت ابیؓبن کعب کے ساتھ مل کر خلیفہ رسول سیدنا ابو بکر صدیق کے حکم پر قرآن مجید کو یکجا کر کے مدون کیا اور کتاب اللہ ایک مصحف کی صورت میں محفوظ ہو گئی۔ حضرت زید کے بیٹے خارجہ بن زید بن ثابت مشہور تابعی ہیں جو حضرت جمیلہ کے بطن سے تھے۔ وہ مدینہ کے مشہور محدث اور فقیہہ تھے۔ تمام بلاد اسلامیہ سے طالبان علم حصول علم کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے ۔ یوں حضرت جمیلہ کو کئی اعزاز حاصل ہیں۔ ان کے والد کی نسبت سے ان کا مقام متعین کیا جائے تو بہت بلند ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق کی شفقت و محبت کا حوالہ آئے تو ان کی قسمت پر رشک آتا ہے۔ حضرت زید بن ثابت سے ان کے عقد کو دیکھیں تو یہ ان کی بہت بڑی فضیلت معلوم ہوتی ہے اور پھر حضرت خارجہ بن زید کی والدہ ہونے کے ناتے ان کی شان اور بھی دوبالا ہو جاتی ہے کہ ان کی گود میں اتنا بڑا عالم دین پروان چڑھا جو علم و عرفان کے اس سنہری دور میں مدینہ کے سات فقہا میں اعلیٰ مرتبے کا حامل تھا ۔ اسلامی معاشرہ ایثار و قربانی ، جود و سخا اور باہمی محبت و مودت کا حسین منظر پیش کرتاہے۔ کسی زندہ اور قابل قدر معاشرے کی بنیادی صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ قابل قدر افراد کار کی قدر افزائی کرتاہے۔ ان کے اٹھ جانے کے بعد بھی ان کے احسانات کا صلہ دیتا ہے اور ان کے پسماندگان ان کے بعد حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ دیے جاتے ۔ ایک زندہ اور ارتقا کی راہ پر گامزن معاشرہ علم و عرفان کے چراغوں سے روشن اور اخلاق و کردار کے جوہر سے مزین ہوتاہے ۔ صحابہ کرام واقعی انسانیت کی معراج اور اعلیٰ اقدار کے امین تھے ۔ انہوں نے تاریخ کا دھارا موڑ دیا تھا۔ ان کے گھروں میں خوف خدا، خدمت خلق اورعالی ظرفی کی خوشبو رچی بسی تھی اور ان کے گلی کوچے امن و امان،خوشحالی اورباہمی تعاون کی زندہ تصویر تھے۔ چونکہ گھر مضبوط تھا اس وجہ سے ان کے قدم اپنے دشمنوں کے مقابلے میں مضبوط، ان کی ضرب کاری اور ان کا عزم بلند ہوا کرتا تھا۔ کامیابی ان کے قدم چومتی تھی اور عزت ان کا مقدر ٹھہرتی تھی۔ آج ہم ادبار و تنزل کا شکار ہیں تو اس کی بنیادی وجہ ہی ہماری معاشرت کی تباہی و زبوں حالی ہے۔ اخلاقی گراوٹ، نفس پرستی اور اپنی زریں تاریخ سے لاتعلقی ہماری بیماری بن چکی ہے۔ ہم سربلند اور سرخرو ہونے کی خواہش رکھتے ہیں مگر اس کے تقاضوں سے ناآشنا ہیں۔ ہم خواب دیکھنے کے عادی ہیں مگر ان کی تعبیر ہمارے بس میں نہیں ۔ ہمارا المیہ آج یہ ہے کہ ہمارے پاس آب حیات ہے اور ہم سرابوں میں کھو گئے ہیں۔ ہم ستاروں کو راستہ دکھا سکتے ہیں مگر کسی مرد راہ داں کا رستہ تک رہے ہیں۔ ہمارے درمیان مسیحا موجود ہوتا ہے مگر ہم سامری کے سحر میں گرفتار رہتے ہیں۔ آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی اصل کی طرف لوٹ چلیں، اپنا رشتہ اللہ سے جوڑلیں اور اپنے خیرو شر کے پیمانے اللہ اور اس کے رسول کے ارشادات میں تلاش کریں۔ تشخیص سے قبل مرض کا احساس ضروری ہوتاہے اور تشخیص کے بعد اس کے علاج کی سنجیدہ کوشش سلامتی کا راستہ کھولتی ہے !
وہی دیرینہ بیماری ، وہی نامحکمی دل کی علاج اس کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی