ماریہ قبطیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مؤمنین کی والدہ
امہات المؤمنین - (ازواج مطہرات)

امہات المومنین

ام المؤمنین ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا (عربی زبان: مارية القبطية) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج میں سے ایک تھیں۔ وہ پہلے عیسائی تھیں اور بازنطینی شاہ مقوقس نے 628ء میں انہیں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بطور ہدیہ بھیجا تھا۔


تفصیل

سال 6ھ (627ء) میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مشرق وسطیٰ کے مختلف اکابرین اور بادشاہوں کو خطوط ارسال کیے جن میں اسلام کی حقانیت بیان کی گئی تھی اور ایک اللہ کی عبادت کرنے کا پیغام شامل ہوتا تھا۔ ان خطوط کی تفصیل ابن جریر طبری کی تصنیف تاریخ طبری میں موجود ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نکاح

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد نبوی سے ملحق اپنی ازواج کے حجروں میں رہتے تھے۔ بعض مؤرخین کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا سے شادی نہیں کی تھی لیکن بعض کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ماریہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تھی۔

اولاد

حضرت ماریہ، حضرت خدیجہ کے بعد دوسری زوجہ محترمہ ہیں جن سے حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اولاد ہوئی۔ حضرت ماریہ حضور پاک کے بیٹے ابراہیم بن محمد کی ماں ہیں۔ ابراہیم کا نام حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جد امجد ابراہیم علیہ السلام کے نام پر رکھا گیا۔ ابراہیم سولہ مہینے کی عمر میں ہی انتقال کر گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے بیٹے کی جدائی کا بہت غم تھا۔

انتقال

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے پانچ سال کے بعد محرم 16 ہجری میں حضرت ماریہ بھی انتقال کرگئیں۔ اُن کی تاریخ پیدائش نامعلوم ہے۔

وضاحت

ام المومنین سیدہ ماریہ قبنطیہ رضی اللہ عنہا پر مولانا سید حسن مثنی ندوی کی مستقل کتاب ہے ۔ اس پر محمد تنزیل الصدیقی الحسینی کا فاضلانہ مقدمہ بھی ہے ۔ افسوس کہ زیادہ تر مصنفین ان کا شمار بحیثیت لونڈی کرتے ہیں جو مناسب نہیں ۔ مولانا حسن مثنیٰ نے اس کی تردید کی ہے اور تاریخی حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ سیدہ ماریہ ازواج مطہرات میں سے تھیں ۔