زمانہ جاہلیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مدائن صالح

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کا زمانہ جب اہل عرب شرک اور بت پرستی میں مبتلا تھے۔ اس وقت عرب میں کوئی مرکزی حکومت نہ تھی ۔ مختلف قبائل کے اپنے اپنے سردار تھے جو اکثر کسی بادشاہ کے تابع ہوتے تھے۔ مگر وہ اپنی داخلی آزادی ہر حالت میں برقرار رکھتے تھے۔ قبیلے کا سردار وہی ہو سکتا تھا جس کے حامی افراد زیادہ ہوں اوراہل عرب کی قومی خصوصیات بہادری ، مہمان نوازی اورفیاضی میں بھی ممتاز ہو۔

اہل عرب بالعموم اور قریش بالخصوص تجارت پیشہ تھے۔ صنعت و حرفت میں پسماندہ تھے۔ صرف یمن میں اون کاتنے اور چادر اور کمبل بنانے کی صنعت موجود تھی یا بعض جگہوں پر جنگی ہتھیار بنانے کا رواج تھا۔ یہ لوگ اپنے قومی اخلاق ، مہمان نوازی ، ایفائے عہد ، بہادری اور فیاضی کے ساتھ بعض برائیوں میں بھی مبتلا تھے۔ مثلاً شراب خوری ، قمار بازی ، دختر کشی اور معمولی جھگڑے پر مسلسل لڑائی جیسی عادات موجود تھیں۔

خانہ کعبہ عرب کا دینی مرکز تھا مگر اہل عرب میں بت پرستی اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ کعبے میں بھی بت رکھے ہوئے تھے چاند ، سورج اور ستاروں کی پرستش ہوتی تھی۔ نصرانیت ، یہودیت اور مجوسیت کے پیرو بھی تھے مگر ان مذاہب کی صورت بدل چکی تھی۔ ایرانی یزداں اور اہرمن دو قسم کے خداؤں کے قائل تھے ۔ ہندوستان میں بت پرستی کا دور دورہ تھا۔ گویا اس زمانے میں صرف عرب ہی نہیں ساری دنیا جہالت اور گمراہی میں غرق تھی ۔ 8 ہجری میں فتح مکہ کے بعد اس دور کا خاتمہ ہوا۔