نماز جمعہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
نماز جمعہ

جمعہ کی نماز فرضِ عین ہے اور اس کی فرضیت ظہر سے زیادہ موکد ہے۔ یعنی ظہر کی نماز سے اس کی تاکید زیادہ ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جو تین جمعے سستی کی وجہ سے چھوڑے اللہ تعالٰیٰ اس کے دل پر مہر کر دے گا اور ایک روایت میں ہے وہ منافق ہے اور اللہ سے بے علاقہ۔ اور چونکہ اس کی فرضیت کا ثبوت دلیل قطعی سے ہے لہٰذا اس کا منکر کافر ہے ۔

جمعہ کے دن کی فضیلت[ترمیم]

جمعہ کے دن کی فضلیت یہ ہے کہ یہ دن ہفتے کے سارے دنوں کا سردار ہے، ایک حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر دن جس پر آفتاب طلوع ہوتا ہے، جمعہ کا دن ہے۔ اس دن حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی، اسی دن ان کو جنت میں داخل کیا گیا، اسی دن ان کو جنت سے نکالا (اور دُنیا میں) بھیجا گیا۔ اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی، اور اسی دن ان کی وفات ہوئی۔ بہت سی احادیث میں یہ مضمون ہے کہ جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس پر بندہٴ موٴمن جو دُعا کرے وہ قبول ہوتی ہے، جمعہ کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود پڑھنے کا حکم آیا ہے۔ یہ تمام احادیث مشکوٰة شریف میں ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سی احادیث میں جمعہ کی فضیلت آئی ہے۔

نماز جمعہ کی رکعات[ترمیم]

نماز جمعہ میں چودہ رکعت پڑھی جاتی ہیں۔

نماز جمعہ کی شرائط[ترمیم]

جمعہ پڑھنے کے چھ شرطیں ہیں، کہ ان میں سے ایک شرط بھی مفقود ہو (نہ پائی جائے ) تو جمعہ ہوگا ہی نہیں:

  1. شہر یا شہر کے قائم مقام بڑے گاؤں یا قصبہ میںہونا یعنی وہ جگہ جہاں متعدد کوچے اور بازار ہوں اوروہ ضلع یا پرگنہ ہو اور وہاں کوئی حاکم ہو کہ مظلوم کا انصاف ظالم سے لے سکے۔ یونہی شہر کے آس پاس جو جگہ شہر کی مصلحتوں کے لیے ہو جسے فنائے مصر کہتے ہیں جیسے قبرستان، فوج کے رہنے کی جگہ، کچہریاں اسٹیشن وہاں بھی جمعہ جائز ہے اور چھوٹے گاؤں میںجمعہ جائز نہیں توجو لوگ شہر کے قریب گاؤں میں رہتے ہیں انھیں چاہیے کہ شہر میں آکر جمعہ پڑھیں۔
  2. سلطان اسلام یا اس کا نائب جس نے جمعہ قائم کرنے کا حکم دیا اور جہاں اسلامی سلطنت نہ ہو وہاں جو سب سے بڑا فقیہ سُنی صحیح العقید ہ ہو، احکامِ شرعیہ جاری کرنے میں سلطان اسلام کے قائم مقام ہوتا ہے لہٰذا وہی جمعہ قائم کرے اور یہ بھی نہ ہو تو عام لوگ جس کو امام بنائیں۔ وہ جمعہ قائم کرے ۔عالم کے ہوتے ہوئے عوام بطورِ خود کسی کو امام نہیں بنا سکتے۔ نہ یہ ہو سکتا ہے کہ دو چار شخص کسی کو امام مقرر کر لیں ۔ ایسا جمعہ کہیں سے ثابت نہیں ۔
  3. وقت ظہر یعنی وقت ظہر میں نماز پوری ہو جائے تو اگر اثنائے نماز میں اگر چہ تشہد کے بعد عصر کا وقت آگیا تو جمعہ باطل ہو گیا ظہر کی قضا پڑھیں۔
  4. خطبہ جمعہ ، اور اس میں شرط یہ ہے کہ وقت میں ہو اور نماز سے پہلے اور ایسی جماعت کے سامنے جو جمعہ کے لیے شرط ہے اور اتنی آواز سے ہو کہ پاس والے سن سکیں، اگر کوئی امر مانع نہ ہو اور خطبہ و نماز میں اگر زیادہ فاصلہ ہو جائے تو وہ خطبہ کافی نہیں۔
  5. جماعت، یعنی امام کے علاوہ کم سے کم تین مرد۔
  6. اذنِ عام، یعنی مسجد کا دروازہ کھول دیا جائے کہ جس مسلمان کا جی چاہے آئے کسی کی روک ٹوک نہ ہو۔

جمعہ کی دوسری اذان[ترمیم]

خطیب جب منبر پر بیٹھے تو اس کے سامنے دوبارہ اذان کہی جائے اور سامنے سے مراد یہ نہیں کہ مسجد کے اندر منبر سے متصل ہو کہ مسجد کے اندر اذان کہنے کو فقہائے کرام منع کرتے اور مکروہ فرماتے ہیں اور اذانِ ثانی بھی بلند آواز سے کہیں کہ اس سے بھی اعلان مقصود ہے کہ جس نے پہلی نہ سنی اسے سن کر حاضر ہو اور خطبہ ختم ہو جائے تو فوراً اقامت کہی جائے ۔ خطبہ و اقامت کے درمیان دنیا کی بات کرنا مکروہ ہے۔

وجوب جمعہ کی شرائط[ترمیم]

جمعہ واجب ہونے کے لیے گیارہ شرطیں ہیں، ان میں سے ایک بھی معدوم ہو تو فرض نہیں پھر بھی اگر پڑھے گا تو ہو جائے گا۔

  1. شہر میں مقیم ہو
  2. صحت ،لہٰذا ایسے مریض پر کہ مسجد جمعہ تک نہ جاسکتا ہو یا چلے جانے میں مرض بڑھنے یا دیر میں اچھا ہونے کا قوی اندیشہ ہو، جمعہ فرض نہیں
  3. آزاد ہونا
  4. مردہو نا
  5. بالغ ہونا
  6. ۔عاقل ہونا اور یہ دونوں شرطیں خاص جمعہ کے لیے نہیں بلکہ ہر عبادت کے وجوب میں عقل و بلوغ شرط ہے
  7. انکھیارا ہونا، لہٰذا نابینا پر جمعہ فرض نہیں، ہاں جو اندھا مسجد میں اذان کے وقت باوضو ہو اس پر جمعہ فرض ہے ۔یونہی جونابینا بلاتکلیف بغیر کسی کی مدد کے بازاروں ، راستوں میںچلتے پھرتے ہیں ان پر بھی جمعہ نماز فرض ہے
  8. چلنے پر قادر ہونا، لہٰذا اپاہج پر جمعہ فرض نہیں
  9. قید میں ہونا
  10. بادشاہ یا چور وغیرہ کسی ظالم کا خوف نہ ہونا ۱۱۔مینہ یا آندھی یا اولے یا سردی کا نہ ہونا یعنی اس قدر کہ ان سے نقصان کا خوفِ صحیح ہو۔