یزید بن معاویہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Padlock.svg اس صفحہ کو ترامیم کیلیے نیم محفوظ کر دیا گیا ہے اور صارف کو اندراج کر کے داخل نوشتہ ہونا لازم ہے؛ (اندراج کریں یا کھاتہ بنائیں)
یزید بن معاویہ / یزید اول
خلیفہ خلافت امویہ
دوسرا خلیفہ of خلافت امویہ
خلافت امویہ خلافت میں دمشق
عہد حکومت 680–683
پورا نام یزید بن معاویہ بن ابو سفیان
پیشرو معاویہ بن ابو سفیان
جانشین معاویہ بن یزید
اولاد معاویہ بن یزید
Khaled
Atikah
خاندان خلافت امویہ
والد معاویہ بن ابو سفیان
والدہ Maysun bint Bajdal al-Kulaibi al-Nasrania (The Christian)[1]

یزید بن معاویہ (مکمل نام: یزید بن معاویہ بن ابوسفیان بن حرب بن امیہ الاموی الدمشقی) خلافت امویہ کا دوسرا خلیفہ تھا۔ اس کی ولادت 23 جولائی 645ء کوعثمان رضي اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت میں ہوئی۔ اس کی ماں کا نام میسون تھا اور وہ شام کی کلبیہ قبیلہ کی عیسائی تھی[2] ،اُس نے حضرت امیر معاویہ کے بعد 680ء سے 683ء تک مسند خلافت سنبھالا۔ اس کے دور میں سانحۂ کربلا میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور جگر گوشہ بتول سیدنا حسین RAZI.PNG شہید کئے گئے۔حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک یزید کے دربار میں لے جایا گیا تو اس نے سر دیکھ کر اشعار پڑھے کہ آج ہم نے بدر اور احد کا بدلہ لے لیا۔[3]۔ جبکہ دیگر روایات کے مطابق اسی نے ان کی شہادت کا حکم دیا اور عبداللہ ابن زیاد کو خصوصی طور پر یہ ذمہ داری دی اور جب حضرت حسین کا سر اس کے سامنے آیا تو اس نے خوشی کا اظہار کیا اور ان کے اہل خانہ کو قید میں رکھا۔اسی دور میں حضرت عبد اللہ ابن حنظلہ کی تحریک کو کچلنے کے لیے مدینہ میں قتل عام ہوا اور حضرت عبد اللہ ابن زبیر کے خلاف لڑائی میں خانہ کعبہ پر سنگ باری کی گئی۔ یزید بن معاویہ نے امیر معاویہ کی وفات کے بعد 30 برس کی عمر میں رجب 60ھ میں مسند خلافت سنبھالی۔( اس کے عھد حکومت میں عقبہ بن نافع کے ہاتھوں مغرب اقصی فتح ہوا اور مسلم بن زیاد نے بخارا اور خوارزم فتح کیا،کہاجاتاہے کہ دمشق میں ایک چھوٹی سی نہر تھی جس کی توسیع یزید نے کی تھی اس لیے اس نہر کو اسکی طرف منسوب کرکے نہر یزید کہا جاتاہے، کہاجاتاہے کہ اسی نے سب سے پہلے کعبۃ اللہ کو ریشمی غلاف پہنایا)۔[4]

یزید کے متعلق مختلف مکتبہ ہائے فکر کی آراء

یزید بحیثیت شخصیت اور بحیثیت کردار ہمیشہ سے مسلمانوں کے مختلف مکاتبِ فکر میں متنازعہ رہا ہے۔ یہ اختلاف شیعہ اور سُنی مکتبہ فکر میں تو ہے ہی لیکن خود سنی مکتبہ فکر کے مختلف سوچ رکھنے والے طبقات اس بارے میں اختلاف رکھتے ہیں۔

اہلسنت و دیگر غیر شیعی مکتبہ ہائے فکر

دیوبندی بنیادی طور پر حنفی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا عقیدہ سلفی حضرات سے مختلف ہے۔ جمہور علماء دیوبند کا نقطۂ نظر یزید کے بالکل مخالف ہیں۔ ان کے مطابق یزید ایک برا شخص تھا۔

مشہور دیوبندی عالم محمد قاسم نانوتوی نے یزید کو پلید کا خطاب دیا۔[5]۔ یہی لفظ رشید احمد گنگوہی نے استعمال کیا۔[6]۔ اشرف علی تھانوی نے یزید کی مخالفت کی اور اسے فاسق کہا۔[7] مفتی محمد شفیع نے یزید کی بیعت کو ایک حادثہ قرار دیا۔[8] انہوں نے حوالہ جات کے ساتھ لکھا کہ یزید نے تخت نشین ہوتے ہی کچھ اصحاب رسول سے زبردستی بیعت لینے کا حکم جاری کیا۔ [9] انہوں نے یہ بھی لکھا کہ جب حضرت حسین ابن علی کا سر یزید کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے ان کے دانتوں کو چھڑی سے چھیڑتے ہوئے اشعار پڑھے جس پر ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ابو ہرزہ اسلمی ، جو موقع پر موجود تھے انہوں نے کہا کہ اے یزید تو ان دانتوں کو چھیڑتا ہے جن کو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بوسہ دیا کرتے تھے۔ تو جب قیامت کو آئے گا تو تیری شفاعت ابن زیاد کرے گا اور حسین آئیں گے تو ان کی شفاعت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کریں گے۔ یہ کہہ کر ابو ہرزہ مجلس سے نکل گئے۔ [10] یزید نے حضرت حسین ابن علی کے ایک بچے عمرو بن حسین کو کہا کہ سانپ کا بچہ سانپ ہوتا ہے یعنی حضرت حسین ابن علی کو سانپ سے تشبیہ دی۔ [11] مفتی محمد شفیع کے مطابق اگرچہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یزید شہادت حسین کے بعد پشیمان ہوا مگر اس پشیمانی کو نہیں مانا جاسکتا کیونکہ اس واقعہ کے بعد بھی یزید سیاہ کار رہا اور اس کی موت بھی ایسے ہوئی کہ مرتے مرتے اس نے مکہ پر چڑھائی کرنے کے لیے ایک لشکر بھیجا۔ یزید کو اس واقعہ کے بعد چین نصیب نہ ہوا اور اس کو دنیا میں بھی اللہ نے ذلیل کیا اور اسی ذلت کے ساتھ وہ ہلاک ہو گیا۔[12]

بریلوی مکتبہ فکر کے علماء کے نزدیک یزید کے بارے میں جو یہ مشہور ہے کہ اس نے قسطنطنیہ پر حملہ کرنے والے لشکر میں شمولیت کی اور وہ شاید جنت کی بشارت کا حقدار ہے، یہ مغالطہ پر مبنی ہے۔ صحیح بخاری کی حدیث میں بلادِ روم یعنی قیصر کے شہر (مدینۃ قیصر) پر حملہ آور پہلے لشکر کے بارے میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بشارت دی تھی:

اول جیش من امتی یغزون مدینۃ قیصر مغفور لھم [13]
"میری امت کا وہ پہلا لشکر جو قیصر کے شہر پر حملہ کرے گا (اللہ نے) اس کی مغفرت کردی"

بریلوی مکتبہ فکر کے نزدیک درحقیقت بلادِ روم، قیصر کے شہر (مدینۃ قیصر) یا بالخصوص قسطنطنیہ پر حملہ کرنے والے پہلے لشکر میں یزید شامل نہیں ہوا۔ تاریخ اسلام کی مستند اور مقبول ترین کتب جن میں البدایہ والنھایہ، الكامل فی التاريخ، تاریخ ابن خلدون، تاريخ بغداد اور تاريخ دمشق وغیرہ میں منقول ہے کہ بلاد روم یعنی قیصر روم کے شہر (مدینۃ قیصر) پر پہلا حملہ 42ھ میں ہوا اور دوسرا حملہ 43ھ ہوا اور اسلامی لشکر قسطنطنیہ پر بھی حملہ آور ہوا۔ الغرض یکے بعد دیگرے بلادِ روم یعنی قیصر کے شہر (مدینۃ قیصر) پر چھ حملے کئے گئے اور بالاآخر ساتواں لشکر 49ھ میں امیر معاویہ کے دور خلافت میں، روانہ کیا گیا جس میں یزید کی شمولیت ہوئی۔ یزید نے پہلے پہل اس لشکر میں شامل ہونے سے انکار کیا، بعد ازاں لشکر کو پیش آنے والی مشکلات کی خبریں آنے پر خوشی کا اظہار کیا اور قطعہ پڑھا جو کہ تاریخ کی کتب میں منقول ہے۔ جب امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہَ کو یزید کی اس نازیبا حرکت کا علم ہوا تو آپ نے اسے لشکر کی روانگی کے بعد بطور سزا 50ھ میں قسطنطنیہ بھجوایا۔ [1]

پس مذکورہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں لفظ " اول جیش" یزید کو اس بشارت میں شامل کرنے میں مانع ہے۔ یزید کی شمولیت بترتیب ساتویں لشکر میں ہوئی جبکہ پہلا لشکر کم و بیش آٹھ سال قبل حملہ آور ہوچکا تھا۔ اسی طرح دوسرا لشکر سات برس قبل مدینۃ قیصر کی طرف جنگ کیلیے روانہ ہوا اور قسطنطنیہ پر بھی حملہ آور ہوا۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہنا چاہے کہ مذکورہ بالا حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف قسطنطنیہ کے لیے مخصوص نہیں بلکہ اس میں مدینۃ قیصر یعنی پورے بلادِ روم کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس لحاظ سے پھلا لشکر جو 42ھ میں حملہ آور ہوا وہ ہی اس بشارت کا مستوجب ہے۔ یہ حدیث کتبِ حدیث بشمول صحیح بخاری میں لفظ مدینۃ قیصر کے ساتھہ آئی ہے۔ مذکورہ بالا یا کوئی اور مغفرت کی بشارت پر مبنی حدیث لفظ قسطنطنیہ کے ساتھہ وارد نہیں ہوئی۔

بعد ازاں یزید اسلامی تعلیمات کے خلاف اقتدار پر قابض ہوا بلادِ اسلام میں ملوکیت کے آغاز کا موجب بنا۔ امام حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فتح الباری میں اس ذیل میں لکھتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے کہ ’’اے اللہ میں سن ساٹھ ہجری اور تخت سلطنت پر نوعمر لونڈوں کے حکمران بن کر بیٹھنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور سن ساٹھ ہجری کا سورج طلوع ہونے سے پہلے مجھے دنیا سے اٹھالینا‘‘۔[14] اسی طرح مروان بن حکم جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یزید کی خلافت کیلئے بیت لینے آیا تو آپ نے مسجد نبوی میں مروان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : اے مروان! میں نے صادق نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ’’قریش کے خاندان میں سے ایک گھرانہ کے نادان، بیوقوف لونڈوں کے ہاتھوں میری امت برباد ہوجائے گی‘‘۔[14] یعنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ذریت کے قتال کو اپنی امت کی بربادی پر محمول فرمایا۔

یزید نے امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عبداللہ بن ذبیر سمیت دیگر صحابہ اکرام سے زبردستی اپنی بیت لینے کیلیے کہا جو بالآخر سانحہ کربلا کا موجب بنا۔ کربلا میں یزیدی لشکر امام حسین علیہ سلام سمیت دیگر اہلبیت اور آپ کے رفقھا کو شھید کرنے کا مرتکب ہوا۔ معرکہ کربلا اسلامی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ اور یزید کے اقتدار پر یقیناّ بہت بڑا دھبہ ہے۔ اسی طرح سانحہ کربلا کے بعد زریتِ رسول کے ساتھ یزیدی فوج کا رویہ اور شام کے دربار میں اہلیت اطہار کے ساتھ سلوک اسکے کردار پر بہت بڑا داغ ہے- بعد ازاں جب سانحہ کربلا کے نتیجہ میں اہل حجاز نے یزید کی بیت توڑدی تو وہ مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ پر حملے کا مرتکب ہوا اور واقعہ حرہ کے دوراں اپنی افواج کے ذریعےمکہ معظمہ پر پتھروں کی بارش کی اور خانہ کعبہ کی چھت کو جلا دیا، مقدس مقامات کی بے حرمتی کی اور ہزارہا افراد کو شھید کیا جن میں بہت سے صحابہ اکرام بھی شامل تھے۔ [1]

بنو امیہ
Umay-futh.PNG
خلفائے بنو امیہ
معاویہ بن ابو سفیان، 661-680
یزید بن معاویہ، 680-683
معاویہ بن یزید، 683-684
مروان بن حکم، 684-685
عبدالملک بن مروان، 685-705
ولید بن عبدالملک، 705-715
سلیمان بن عبدالملک، 715-717
عمر بن عبدالعزیز، 717-720
یزید بن عبدالملک، 720-724
ہشام بن عبدالملک، 724-743
ولید بن یزید، 743-744
یزید بن ولید، 744
ابراہیم بن ولید، 744
مروان بن محمد، 744-750

اسکے علاوہ معاصریں اور مورخیں نے یزید کو اعلانیہ گناہِ کبیرہ کے ارتکاب (زنا، شراب نوشی، ترکِ نماز وغیرہ) اورعامۃ الناس کو اسکی طرف مائل کرنے کی وجہ سے اسے فاسق و فاجر قرار دیا۔ جیسا کہ امام ابن کثیر، البدايہ و النہايہ میں نقل کرتے ہیں۔

ذکروا عن يزيد ما کان يقع منہ من القبائح في شربۃ الخمر وما يتبع ذلک من الفواحش التي من اکبرھا ترک الصلوۃ عن وقتھا بسبب السکر فاجتمعوا علي خلعہ فخلعوہ. عند المنبر النبوي [15]
ترجمہ: یزید کے کردار میں جو برائیاں تھیں ان کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ شراب پیتا تھا، فواحش کی اتباع کرتا تھا اور نشے میں غرق ہونے کی وجہ سے وقت پر نماز نہ پڑھتا تھا۔ اسی وجہ سے اہل مدینہ نے اس کی بیعت سے انکار پر اتفاق کر لیا اور منبر نبوی کے قریب اس کی بیعت توڑ دی۔

اسی طرح حضرت عمر بن عبدالعزیز، یزید کو امیرالمومنین کہنے سے سختی سے منع کرتےاور آپ نے ایک شخص کو اس بنا پر بیس کوڑوں کی سزا دی کیونکہ اس نے یزید کو امیرالمومنین کے لفظ سے یاد کیا۔ [16]

سلفی(اہل حدیث) مکتبہ فکر میں یزید کو تحسین کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اور واقعہ کربلا کو امام حسین کی سیاست کا پیش خیمہ قرار دیا جاتا ہے۔ مجدد الف ثانی خواجه‌ معين‌الدين‌ چشتي‌ اجمیری امام حسین اور یزید کو حق و باطل کی دو قوتیں قرار دیتے ہوئے کہا

شاه است حسین و پادشاه است حسین
دین است حسین و دین پناه است حسین
سر داد نداد دست در دست یزید
حقا که بنای لا اله است حسین

اہلِ تشیع کا موقف

اامام حسن علیہ السلام اور معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان صلح کی ایک بنیادی شرط یہ تھی کہ ان کے بعد کوئی جانشین مقرر نہیں ہوگا مگر امیر شام نے اپنے بیٹے یزید کو جانشین مقرر کیا اور اس کے لیے بیعت لینا شروع کر دی۔ کچھ اصحاب رسول رضی اللہ تعالٰی عنہم نے اس بیعت سے انکار کر دیا جیسے حضرت عبداللہ بن زبیر۔ امام حسین علیہ السلام نے بھی بیعت سے انکار کر دیا کیونکہ یزید کا کردار اسلامی اصولوں کے مطابق نہیں تھا۔ یزید کی تخت نشینی کے بعد اس نے امام حسین سے بیعت لینے کی تگ و دو شروع کر دی۔ یزید نے مدینہ کے گورنر اور بعد میں کوفہ کے گورنر کو سخت احکامات بھیجے کہ امام حسین سے بیعت لی جائے۔ یزید نے جب محسوس کیا کہ کوفہ کا گورنر نرمی سے کام لے رہا ہے تو اس نے گورنر کو معزول کر کے ابن زیاد کو گورنر بنا کر بھیجا جو نہایت شقی القلب تھا۔ مورخین نےلکھا ہے کہ ابن زیاد نے یزید کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے خاندان رسالت کو قتل کیااور قیدیوں کو اونٹوں پر شہیدوں کے سروں کے ساتھ دمشق بھیج دیا ۔ دمشق میں بھی ان کے ساتھ کچھ اچھا سلوک نہ ہوا۔ یزید نے حسین علیہ السلام کے سر کو اپنے سامنے طشت پر رکھ کر ان کے دندان مبارک کو چھڑی سے چھیڑتے ہوے اپنے کچھ اشعار پڑھے جن سے اس کا نقطۂ نظر معلوم ہوتا ہے جن کا ترجمہ کچھ یوں ہے

'کاش آج اس مجلس میں بدر میں مرنے والے میرے بزرگ اور قبیلہ خزرج کی مصیبتوں کے شاہد ہوتے تو خوشی سے اچھل پڑتے اور کہتے : شاباش اے یزید تیرا ہاتھ شل نہ ہو ، ہم نے ان کے بزرگوں کو قتل کیا اور بدر کاانتقام لے لیا ، بنی ہاشم سلطنت سے کھیل رہے تھے اور نہ آسمان سے کوئی وحی نازل ہوئي نہ کوئي فرشتہ آیا ہے[3]

اولاد و ازواج

یزید کے 14 لڑکے اور 5 لڑکیاں تھیں۔

  • معاويہ ابن يزيد جس کی كنیت ابو ليلى ہے۔ یزید کے مرنے کے بعد اسے خلیفہ بنایا جانے لگا تو خلافت سے کنارہ کشی کی اور تسلیم کیا کہ یہ اس کا حق نہیں۔ اس بنیاد پر اس کے رشتہ دار اس کے سخت خلاف ہو گئے۔
  • خالد بن يزيد جس کی كنیت ابوھاشم ہے، کہا جاتاہے کہ اس نے کیمیاء کا علم حاصل کیا تھا۔
  • ابو سفيان، ماں کا مکمل نام :ام ھاشم بنت ابوھاشم بن عتبہ بن ربيعہ بن عبدشمس ،جس سےمروان بن الحكم نے شادی کی تھی،وہی ہے جس کے بارے میں شاعر نے کہاہے:

أنعمي أم خالد ..... ربَّ ساعٍ كقاعد

  • عبدالعزيزابن يزيد اور اسے الاسوار کہاجاتاتھا،وہ ایک اچھا تیر انداز تھا،اس کی ماں ام كلثوم بنت عبداللہ عامر،عبد العزیز کے بارے میں کسی کا یہ شعر ہے:-

زعمَ الناسُ أنَّ خيرَ قريشٍ ..... كلھُم حين يذكرون الأساورُ اس کے علاوہ اس کی اولاد میں درج ذیل نام آتے ہیں: عبداللہ اصغر،ابو بكر، عتبہ، عبدالرحمن، ربيع، محمد، يزيد، حرب* عمر،عثمان، عاتكہ، رملہ، ام عبدالرحمن، ام يزيد،ام محمد [17]

یزید بن معاویہ
شاہی القاب
پیشرو
معاویہ بن ابو سفیان
خلافت امویہ
680 – 683
جانشین
معاویہ بن یزید


مزید دیکھیے


بیرونی روابط

حوالہ جات

  1. ^ 1.0 1.1 1.2 Ibn Hajar Al-Asqalani, Ahmad bin Ali. Lisan Al-Mizan: Yazid bin Mu'awiyah.
  2. ^ تاریخ الخلفاء جلال الدین سیوطی صحفہ 296
  3. ^ 3.0 3.1 دمع السجوم ص 252
  4. ^ روئے خط عربی شاعر یزید بن معاویہRAZI.PNG
  5. ^ عجوبہ اربعہ از مولانا قاسم نانوتوی صفحہ 85
  6. ^ ہدائتِ شیعہ از رشید احمد گنگوہی
  7. ^ امداد الفتاویٰ از مولانا اشرف علی تھانوی صفحہ 5
  8. ^ اسوہ حسینی یعنی شہید کربلا از مولانا مفتی محمد شفیع ۔ شائع کردہ صدیقیہ دارالکتب ملتان۔ صفحہ 13
  9. ^ اسوہ حسینی یعنی شہید کربلا از مولانا مفتی محمد شفیع ۔ شائع کردہ صدیقیہ دارالکتب ملتان۔ صفحہ 18
  10. ^ اسوہ حسینی یعنی شہید کربلا از مولانا مفتی محمد شفیع ۔ شائع کردہ صدیقیہ دارالکتب ملتان۔ صفحہ 95
  11. ^ اسوہ حسینی یعنی شہید کربلا از مولانا مفتی محمد شفیع ۔ شائع کردہ صدیقیہ دارالکتب ملتان۔ صفحہ 98
  12. ^ اسوہ حسینی یعنی شہید کربلا از مولانا مفتی محمد شفیع ۔ شائع کردہ صدیقیہ دارالکتب ملتان۔ صفحہ 100 و 110
  13. ^ (صحیح بخاری از امام بخاری ۔ کتاب الجہاد)
  14. ^ 14.0 14.1 فتح الباری شرح صحیح بخاری از امام حجر عسقلانی
  15. ^ (البدايہ و النہايہ از امام ابن کثیر)
  16. ^ صواعق المحرقہ از علامہ ابن حجر مکی
  17. ^ روئے خط عربی