اریتریا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


دولة إرتريا
State of Eritrea
ریاست اریتریا
اریتریا کا پرچم اریتریا کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: ندارد
ترانہ: ارتریا، ارتریا، ارتریا
اریتریا کا محل وقوع
دارالحکومت اسمارا
عظیم ترین شہر اسمارا
دفتری زبان(یں) عربی
نظامِ حکومت
صدر
جمہوریہ
اسیاس افورقی
آزادی
- عملی آزادی
قانونی آزادی
ایتھوپیا سے
24 مئی 1991ء
24 مئی 1993ء
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
117600  مربع کلومیٹر (100)
45406 مربع میل
برائے نام
آبادی
 - تخمینہ:2007ء
 - 2002 مردم شماری
 - کثافتِ آبادی
 
4,851,000 (113)
4298269
37 فی مربع کلومیٹر(172)
96 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ء

4.751 ارب بین الاقوامی ڈالر (156 واں)
1000 بین الاقوامی ڈالر (170 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ء)
0.483
(157) – پست
سکہ رائج الوقت نکفا (ERN)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)
مشرقی افریقی وقت (EAT)
(یو۔ٹی۔سی۔ 3)
غیر مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 3)
ملکی اسمِ ساحہ
    (انٹرنیٹ)
.er
رمزِ بعید تکلم
  (کالنگ کوڈ)
+291

اریتریا براعظم افریقہ کا ایک ملک ہے۔ اس کا دارلحکومت اسمارا ہے۔ اس کے مغرب میں سوڈان، جنوب میں ایتھوپیا اور جنوب مشرق میں جبوتی واقع ہیں۔ شمال مشرقی اور مشرقی طرف بحرِ احمر کے ساحل ہیں جس کی دوسری طرف سعودی عرب اور یمن ہیں۔ اریتریا کا کل رقبہ 1٫17٫600 مربع کلومیٹر ہے اور کل آبادی کا تخمینہ 50 لاکھ ہے۔

تعریف اور تاریخ[ترمیم]

شمالی صومالیہ، جبوتی اور بحیرہ احمر کے سوڈان والے کنارے کے ساتھ اریتریا پرانے دور کی پُنت سرزمین کا حصہ تھا۔ اس سرزمین کا تذکرہ ہمیں 25صدی ق م میں ملتا ہے۔ قدیم پُنت قوم کے مصر کے فرعونوں کے ساتھ گہرے تعلقات تھے۔

دمت نامی سلطنت اریتریا اور شمالی ایتھوپیا میں 8ویں اور 7ویں صدی ق م میں آباد تھی۔ اس کا دارلحکومت یِحا تھا۔ اس سلطنت نے آبپاشی کے لئے منصوبے بنائے، ہل کا استعمال، باجرے کی کاشتکاری اور لوہے کے اوزار اور ہتھیار بنانے شروع کیے۔ 5ویں صدی میں دمت قوم کے زوال کے بعد اس علاقے میں کئی چھوٹی اقوام آباد رہیں۔

اریتریا کی تاریخ اس کی بحیرہ احمر کی ہمسائیگی سے جڑی ہوئی ہے۔ اس کے ساحل کی لمبائی 1,000 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔کئی سائنس دانوں کے خیال میں اسی علاقے سے ہی موجودہ انسان افریقہ کے براعظم سے نکل کر دنیا کے دیگر حصوں کو پھیلے تھے۔ سمندر پار سے آنے والے قابضوں اور نو آبادیاتی اقوام جیسا کہ یمن کے علاقے سے، عثمانی ترک، گوا سے پرتگالی، مصری، انگریز اور 19ویں صدی میں اطالوی وغیرہ یہاں آتے رہے۔ صدیوں تک یہ حملہ آور ہمسائیہ ممالک سے بھی آتے رہے تھے جو مشرقی افریقہ میں ہیں۔ تاہم موجودہ اریتریا 19ویں صدی کے اطالوی حملہ آوروں سے ثقافتی طور پر زیادہ متائثر ہے۔

1869 میں نہر سوئیز کے کلھنے کے بعد جب یورپی اقوام نے افریقی سرزمین پر قبضے کر کے وہاں اڈے بنانے شروع کیے تو اریتریا پر اٹلی نے حملہ کر کے قبضہ کیا۔ یکم جنوری 1890 کو اریتریا باقاعدہ طور پر اٹلی کی نوآبادی بن گیا۔ 1941 میں یہاں کی کل آبادی 7,60,000 تھی جن میں اطالوی باشندے 70,000 تھے۔ اتحادی افواج نے 1941 میں اطالویوں کو نکال باہر کر دیا اور خود یہاں قبضہ جما لیا۔ اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت 1951 تک برطانیہ یہاں کا نظم و نسق سنبھالتا رہا۔ اس کے بعد اریتریا ایتھوپا سے مل گیا۔

بحیرہ احمر کے ساحل اور معدنیات کی وجہ سے اریتریا بہت اہم ہے۔ اسی وجہ سے اسے ایتھوپیا سے ملا دیا گیا تھا۔ 1952 میں اریتریا کو ایتھوپیا کا 14واں صوبہ بنا دیا گیا۔ ایتھوپیا نے اپنا قبضہ جمائے رکھنے کے لئے اپنی زبان کو زبردستی اریتریا کے سکولوں میں لاگو کر دیا۔ اس وجہ سے اریتریا میں 1960 کی دہائی میں آزادی کی تحریک چلی۔ اس تحریک کی وجہ سے 30 سال تک اریتریا اور ایتھوپیا کی حکومتوں کے درمیان مسلح لڑائی جاری رہی۔ یہ جنگ 1991 میں ختم ہوئی۔ اقوامِ متحدہ کی زیرِ نگرانی ہونے والے ریفرنڈم میں اریتریا کے لوگوں نے واضح اکثریت سے آزادی کا فیصلہ کیا اور اریتریا نے آزادی کا اعلان کر دیا۔ 1993 میں اسے بین الاقوامی طور پر تسلیم کر لیا گیا۔

تگرینا اور عربی کو بڑی زبانیں مانا جاتا ہے۔ حکومت کی طرف سے بین الاقوامی معاملات میں انگریزی زبان استعمال ہوتی ہے اور 5ویں سے آگے ہر جماعت میں اسے تدریسی زبان کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اریتریا میں ایک ہی سیاسی جماعت ہے۔ 1997 کے آئین کے مطابق صدارتی جمہوریہ ہے اور یک ایوانی پارلیمانی جمہوریہ کا درجہ ملا ہوا ہے تاہم ابھی اس پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔ 1998 میں ایتھوپیا کے ساتھ سرحدی تنازعے پر دونوں ملکوں کے مابین جنگ ہوئی جس میں 1,35,000 ایتھوپیائی جبکہ 19,000 اریتریائی فوجی ہلاک ہوئے۔

سیاست اور حکومت[ترمیم]

اریتریا کا نظام پیپلز فرنٹ فار ڈیمو کریسی اینڈ جسٹس نامی پارٹی چلاتی ہے۔ دیگر سیاسی جماعتوں کو اکٹھا ہونے کی اجازت نہیں حالانکہ آئین ایک سے زیادہ سیاسی جماعتوں کو اجازت دیتا ہے۔ قومی اسمبلی میں کل 150 نشستیں ہیں جن میں سے 75 پر متذکرہ بالا جماعت کے اراکین ہیں۔ قومی انتخابات کا اعلان اور ان کی منسوخی مسلسل ہوتی رہی ہے اور ملک میں ابھی تک عام انتخابات نہیں ہو سکے۔ ملک میں قومی سیاست کے بارے آزاد ذرائع موجود نہیں۔ ستمبر 2001 میں حکومت نے تمام نجی پرنٹ میڈیا پر پابندی عائد کر دی اور حکومت پر تنقید کرنے والے افراد کو گرفتار کر کے بغیر مقدمے کے قید رکھا جا رہا ہے۔ 2004 میں امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک کی وجہ سے اریتریا کو خصوصی فہرست میں شامل کیا ہے۔

میڈیا[ترمیم]

2009 میں پریس کی آزادی کی فہرست میں اریتریا کو 175 ممالک میں آخری درجہ دیا گیا ہے۔ شمالی کوریا اس فہرست میں اریتریا سے ایک درجہ بہتر ہے۔ بی بی سی کے مطابق اریتریا واحد افریقی ملک ہے جہاں نجی اخباری میڈیا موجود نہیں۔

قومی انتخابات[ترمیم]

2001 میں اریتریا میں انتخابات ہونے تھے لیکن کہا گیا کہ چونکہ اریتریا کا 20 فیصد رقبہ ایتھوپیا کے قبضے میں ہے جس کی آزادی تک انتخابات معطل رہیں گے۔

علاقے اور اضلاع[ترمیم]

اریتریا کو چھ علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو آگے مزید اضلاع میں منقسم ہیں۔ آبی خصوصیات کی بناء پر علاقوں کو تقسیم کیا گیا ہے۔ اس طرح ہر ضلع کو اپنی زراعت پر پورا قابو رہتا ہے۔

خارجہ تعلقات[ترمیم]

اریتریا افریقن یونین کا حصہ ہے۔ تاہم ایتھوپیا اور اریتریا کے جھگڑوں میں یونین کے غیر عملی کردار کی وجہ سے اریتریا نے اپنا نمائندہ واپس بلا لیا ہے۔

مغرب سے تعلقات[ترمیم]

ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ اریتریا کے تعلقات کافی پیچیدہ نوعیت کے ہیں۔ اگرچہ دونوں ملکوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون جاری ہے تاہم دیگر معاملات میں خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ اکتوبر 2008 سے تعلقات خراب ہونا شروع ہوئے جب اسسٹنٹ سیکریٹری آف سٹیٹ جندیائی فریزر نے اریتریا کو "دہشت گردی کی حامی قوم" قرار دیا اور کہا کہ عین ممکن ہے کہ امریکہ ایران اور سوڈان کے ساتھ ساتھ اریتریا کو بھی بدمعاش ریاست قرار دے دے۔ اس واقعے کی وجہ ایک صومالی اسلامی انتہا پسند رہنما کا اریتریا میں پناہ لینا ہے۔

اریتریا کے تعلقات اٹلی اور یورپی یونین کے ساتھ امریکہ کی نسبت زیادہ بہتر ہیں۔

2 اگست 2009 کو امریکی [[وزیر خارجہ|وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے الزام عائد کیا کہ اریتریا صومالی مسلح گروہ الشباب کو ہتھیار مہیا کر رہا ہے۔ اگلے ہی دن اریتریا نے اس الزام کی تردید جاری کر دی لیکن اقوام متحدہ اور افریقن یونین نے مل کر اریتریا پر مختلف پابندیاں لگا دیں۔

ہمسائیہ ملکوں سے تعلقات[ترمیم]

حالیہ جنگوں اور اختلافات کی وجہ سے اریتریا کے تعلقات ہمسائیہ ممالک سے کشیدہ ہیں۔ 1994 میں سوڈان سے سفارتی تعلقات ختم کرنا، یمن کے ساتھ جنگ اور ایتھوپیا کے ساتھ 1997-2000 تک سرحدی تنازعہ اہم ہیں۔ اریتریا اور ایتھوپیا کے بارڈر کمیشن نے اگرچہ سرحد کا تعین کر دیا ہے تاہم ایتھوپیا اسے ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

اریتریا کے تعلقات سوڈان سے بہتر ہو چکے ہیں۔

یمن کے ساتھ کچھ جزائر کے تنازعے پر دونوں ممالک کے درمیان مختصر جنگ ہو چکی ہے تاہم دونوں ملکوں نے عالمی ثالثی عدالت کی مدد سے اپنے تنازعے کو حل کر لیا ہے۔

ایتھوپیا سے تعلقات[ترمیم]

ایتھوپیا کی طرف سے سرحدوں کو نہ ماننا اس وقت اریتریا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

جغرافیہ[ترمیم]

اریتریا افریقہ کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے اور اس کے شمال مشرق اور مشرق کی جانب بحیرہ احمر موجود ہیں۔ جنوب میں ایتھوپیا اور شمال مغرب میں سوڈان ہے۔

اریتریا کے عین وسط سے دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلوں میں سے ایک گذرتا ہے اور ملک کو دو حصوں میں تقسیم کرتا جاتا ہے۔ یہ پہاڑی سلسلہ عظیم وادئ شق سے پیدا ہوا تھا۔ ساری زرخیز زمینیں مغربی حصے میں اور صحرا مشرقی حصے میں واقع ہیں۔

ملک کا بلند ترین مقام ایمبا سوئرا ہے جو سطح سمندر سے 3٫018 میٹر بلند ہے۔

بڑے شہروں میں دارلحکومت اسمارا، بندرگاہ والا شہر اسیب، مساوا اور کیرین اہم ہیں۔

ماحول[ترمیم]

سرکاری طور پر اریتریا میں ہاتھیوں کی بہت بڑی تعداد کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ 1955 سے 2001 تک ہاتھیوں کے غول دکھائی نہیں دیتے تھے کیونکہ سارے ہاتھی جنگِ آزادی کا شکار ہو گئے تھے۔ دسمبر 2001 میں دس نو عمر ہاتھیوں پر مشتمل کل 30 ہاتھیوں کا ایک غول غش دریا کے پاس دیکھا گیا تھا۔ اندازہ ہے کہ پورے ملک میں تقریباً 100 ہاتھی باقی بچے ہیں۔ جنگلی کتے بھی اب ماضی کا قصہ بن گئے ہیں۔

2006 میں اریتریا نے اعلان کیا کہ وہ دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے اپنے سارے ساحل کو ماحولیاتی حوالے سے محفوظ علاقہ قرار دے دیا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر 350 جزائر کے ساحل بھی اسی فہرست میں حکومتی حفاظت میں آ گئے ہیں۔

معیشت[ترمیم]

دیگر افریقی اقوام کی طرح اریتریا کی معیشت کا بھی زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے اور آبادی کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ زراعت اور گلہ بانی سے وابستہ ہے۔ قحط سالی سے بہت مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ 2009 میں کل ملکی پیداوار 1.87 ارب ڈالر تھی۔

اریتریا اور ایتھوپیا کی جنگ سے معیشت کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ مئی 2000 میں ایتھوپیا کے حملوں کی وجہ سے 60 کروڑ ڈالر کا مالی نقصان ہوا ہے۔ اسی حملہ کی وجہ سے ملک کے زرخیز ترین حصے میں کاشتکاری نہیں ہو پائی۔

جنگ کے دوران بھی اریتریا نے اپنے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے پر توجہ دی ہے اور نئی سڑکیں بنیں جبکہ پرانی سڑکوں کی مرمت جبکہ بندرگاہوں کو بہتر بنایا گیا۔

معاشرہ[ترمیم]

آبادی[ترمیم]

اریتریا کا معاشرہ نسلی اعتبار سے ملا جلا ہے۔ ابھی تک آزادنہ مردم شماری نہیں ہوئی تاہم مقامی دو قبائل مل کر کل آبادی کا 80 فیصد حصہ بناتے ہیں۔

بقیہ آبادی افریقی ایشیائی اور اطالوی النسل ہے۔

آبادی میں سب سے جدید اضافہ بنی رشید قبائل ہیں جو سعودی عرب سے آئے ہیں۔

زبانیں[ترمیم]

اریتریا میں بہت ساری زبانیں بولی جاتی ہیں۔ سرکاری زبان کا درجہ کسی کو حاصل نہیں بلکہ آئین کے مطابق اریتریا کی تمام زبانوں کو برابر کا درجہ دیا گیا ہے۔ تاہم عربی اور تگرینا زبان کو سرکاری کاموں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ انگریزی اور اطالوی بھی عام سمجھی جاتی ہے۔

تعلیم[ترمیم]

اریتریا میں سکول کے پانچ درجے ہوتے ہیں جو پری پرائمری، پرائمری، مڈل، سیکنڈری اور پوسٹ سیکنڈری ہیں۔ ان سکولوں میں تقریباً 2٫38٫000 طلباء و طالبات داخل ہیں۔ ملک میں کل 824 سکول ہیں۔ اریتریا میں کل دو یونیورسٹیاں اور کئی دیگر چھوٹے کالج اور ٹیکنیکل سکول ہیں۔

اریتریا کے نظام تعلیم کا اہم ترین مقصد ملک کی ہر زبان میں بنیادی تعلیم مہیا کرنا ہے۔

تاہم تعلیم کے سلسلے میں مقامی رسوم و رواج، سکول کی فیس وغیرہ اہم رکاوٹیں ہیں۔

مذہب[ترمیم]

اریتریا میں دو اہم مذاہب ہیں جو عیسیائیت اور اسلام ہیں۔ دونوں مذاہب کو پچاس پچاس فیصد آبادی مانتی ہے۔ اکثر مسلمان سنی العقیدہ ہیں جبکہ رومن کیتھولک عیسائی مذہب کے پیروکاروں کا اہم عقیدہ ہے۔

صحت[ترمیم]

اریتریا کی حکومت نے لڑکیوں کے ختنے پر پابندی لگا دی ہے اور کہا ہے کہ یہ تکلیف دہ عمل ہے اور اس سے بہت سارے خطرناک مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اولاد پیدا کرنے کی شرح فی خاتون 5 بچے ہے۔ شیر خوار بچے انفیکشن سے سب سے زیادہ ہلاک ہوتے ہیں۔ ملیریا اور تپ دق عام ہیں۔ ایڈز کی شرح 15 سے 49 سال کی عمر کے افراد میں 2 فیصد ہے۔ گذشتہ دہائی سے پیدائش کے وقت زچہ کی شرح اموات بہت گھٹی ہے۔

ثقافت[ترمیم]

اریتریا کا علاقہ تاریخی اعتبار سے دنیا میں تجارت کا مرکز ہے۔ اس وجہ سے بے شمار ثقافتیں ملک بھر میں دکھائی دیتی ہیں۔ دارلحکومت اسمارا پر سب سے گہرا اثر اٹلی کا پڑا ہے۔

شہروں میں ماضی قریب میں بالی وڈ کی فلموں کی برآمد عام بات تھی۔ سینماؤں میں امریکی اور اطالوی فلمیں عام دکھائی جاتی تھیں۔ 1980 کی دہائی اور پھر آزادی کے بعد امریکی فلمیں ہی باقی رہ گئی ہیں۔ لباس کسی خاص انداز تک محدود نہیں اور خواتین عموماً شوخ اور بھڑکیلے رنگ پہنتی ہیں۔ مسلم قبائل میں عربی یعنی بنو رشید ہی برقعے کی روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

فٹ بال اور سائیکل ریس مقبول کھیل ہیں۔ حالیہ برسوں میں اریتریا کے کھلاڑی بین الاقوامی سطح پر زیادہ کامیاب ہونے لگے ہیں۔


فہرست متعلقہ مضامین اریتریا[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حکومت