شاہ رخ تیموری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
وسط ایشیا کے مغل حکمران
Genghis Khan.jpg
چنگیز خان
چنگیز خان 
جوجی خان 
تولی خان 
اوکتائی خان 
چغتائی خان 
ہلاکو خان
قراچار نوئیاں
امیر تیمور
امیر تیمور 
امیر جلال الدین میراں شاہ 
امیر زادہ عمر شیخ 
شاہ رخ تیموری 
پیر محمد بن جہانگیر بن امیر تیمور 
خلیل سلطان 
الغ بیگ 
مرزا ابو سعید بن سلطان محمد بن میران شاہ بن امیر تیمور 

شاہ رخ مرزا یا شاہ رخ تیموری (پیدائش 20 اگست 1377ء ۔ وفات: 12 مارچ 1447ء) تیموری سلطنت کے حکمران تھا۔ وہ امیر تیمور کا چوتھا اور سب سے چھوٹا بیٹا تھا۔

خانہ جنگی[ترمیم]

تیمور نے اپنی سلطنت کو اس زمانے کی رسم کے مطابق اولاد میں تقسیم لیا۔ نصف فتوحات سے دستبردار ہوجانے کی وجہ سے تیموری سلطنت پہلے سے نصف ہوگئی تھی۔ اب اس تقسیم نے اس کے مزید ٹکڑے کردیئے۔ آذربائجان، عراق اور ملحقہ علاقے میران شاہ کو ملے اور خراسان اس کے سب سے چھوٹے بیٹے شاہ رخ کو، سمرقند اور ماوراء النہر خلیل کو ملا جسے امراء نے تیمور کا جانشیں مقرر کیا تھا لیکن تیمور کی وفات کے بعد اس کی اولاد میں جو خانہ جنگی ہوئی اس میں کامیابی شاہ رخ کو حاصل ہوئی۔

شاہ رخ نے 1406ء میں ماژندران، اس کے اگلے سال سیستان اور 1409ء میں ماوراء النہر پر قبضہ کرلیا۔ 1414ء میں شاہ رخ نے فارس اور 1416ء میں کرمان بھی فتح کرلیا۔ میران شاہ نے پہلے ہی یعنی 1405ء میں شاہ رخ کی اطاعت کرلی تھی۔ اس طرح شاہ رخ نے اپنے باپ کی وفات کے 12 سال بعد تیموری سلطنت کی حدود کو پھر بحال کردیا۔

وسط ایشیا کے نئے دور کا آغاز[ترمیم]

شاہ رخ سے وسط ایشیا کے ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے یہ دور لشکر کشی کا نہیں بلکہ امن و خوشحالی، تعمیر و ترقی اور علوم و فنون کے فروغ کا دور ہے۔ شاہ رخ اپنے باپ سے بالکل مختلف طبیعت کا حامل تھا وہ ظلم و جبر کے بجائے رحم، مجبت، عدل اور نیکی کو پسند کرتا تھا۔ وہ متقی اور عبادت گذار حکمران تھا۔ شاہ رخ اپنی فطرت کی نیکی اور شرافت کے باوجود کمزور حکمران نہ تھا۔ اس نے سلطنت کی وحدت اور سالمیت کی پوری قوت سے حفاظۃ کی اور بغاوتوں کو پوری قوت سے کچل دیا۔ اس کے لئے اسے تین مرتبہ تبریز اور تین مرتبہ شیراز تک جانا پڑا۔

علم و ادب کی سرپرستی[ترمیم]

شاہ رخ نے علم و ادب اور فنون لطیفہ کی دل کھول کر سرپرستی کی۔ اس کے عہد میں فارسی میں کئی یادگار کتابیں لکھی گئیں۔ صرف اس کے دربار میں فنون لطیفہ یعنی عمارت سازی، مصوری اور موسیقی کے 400 باکمال لوگ موجود رہتے تھے۔ اس کو عمارتیں اور باغات بنانے سے خاص دلچسپی تھی۔ اس کے عہد میں کثرت سے مسجدیں، مدرسے، خانقاہیں اور مسافر خانے تعمیر ہوئے اور ان کے اخراجات کے لئے اوقاف قائم کئے گئے۔ اس کے علم دوست بیٹے الغ بیگ نے جو سمرقند کا گورنر تھا شہر میں ایک عالیشان مدرسہ اور خانقاہ تعمیر کی۔ سمرقند کی مشہور رصد گاہ بھی اسی دور میں تعمیر ہوئی جہاں فلکیاتی تجربات کئے جاتے تھے۔

شاہ رخ کا دوسرا بیٹا بائے سنفر (1393ء تا 1433ء) مصوری اور کتابوں کی تزئین وآرائش کاماہر اور بہترین خطاط تھا۔ اس کے کتب خانے میں چالیس خطاط کتابوں کی نقلیں کرنے پر مقرر تھے۔

قوام الدین شیرازی اپنے دور کا سب سے بڑا ماہر فن تعمیر تھا۔ ہرات اور مشہد کی شانادر عمارت کی اس مہارت فن کو ثابت کرنے کے لئے آج بھی موجود ہیں۔ شاہ رخ کے وزیروں میں خواجہ غیاث الدین کا کام قابل ذکر ہے جس نے تیس سال وزارت کی اور خراسان اور عراق میں رفاہ عامہ کی بکثرت عمارات تعمیر کی۔

شاہ رخ نے ہرات میں ایک بڑا کتب خانہ بھی قائم کیا۔

وہ فارس میں ایک سفر کے دوران وفات پاگیا۔ اس کے بیٹے الغ بیگ نے اس کی جگہ تخت سنبھالا۔

حوالہ جات[ترمیم]

قاضی محمد اقبال چغتائ : وسط ایشیا کے مغل حکمران۔ چغتائ ادبی ادارہ، لاہور۔ 1983ء۔ صفحہ 63-64۔