پراگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Praha (پراگ)
 پراگ کا مشہور مقام
پراگ کا مشہور مقام
کی دفتری مہر Praha
مہر
 پراگ کا مشہور مقام
پراگ کا مشہور مقام
مجلس دستور ساز
مئیر
رقبہ  
 - شہر مربع کلومیٹر  (496 مربع میل)
آبادی  
 - شہر ()
 - شہری 1.200.000
منطقۂ وقت مرکزی یورپی وقت (یو۔ ٹی۔ سی۔0)

پراگ (Prague) چیک جمہوریہ کا دارالحکومت اور سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور تعلیمی مرکز ہے۔ یہچیک جمہوریہ کا سب سے بڑا شہر بھی ہے۔ وسطی بوہیمیا میں دریائے ولتواوا کے کنارے واقع یہ شہر تقریبا 12 لاکھ آبادی کا حامل ہے۔

پراگ دارالحکومت ہے اس لئے ملک کے دونوں اعلی ترین عہدیداران صدر اور وزیر اعظم کی رہائش گاہیں بھی یہیں واقع ہیں۔ چیک پارلیمان کے دونوں ایوان اور اعلی عدالت بھی یہیں قائم ہیں۔

شہر "سو میناروں کا شہر" اور "شہرِ زریں" کے نام سے بھی مشہور ہے۔ 1992ء سے پراگ کا تاریخی مرکز یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے مقامات میں شامل ہے۔ گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق پراگ کا قلعہ دنیا کے قدیم قلعوں میں سب سے بڑا ہے۔

تاریخچہ[ترمیم]

تاریخ کے صفحات میں پراگ کا پھلا ذکر ٩ صدی میں ملتا ہے جب چیک کے شہرزادے بوریووی ١/ ٨٥٣-٨٨٩ / م. نے پراگ میں اپنی قلعہ تعمیر کیا. ٩٢٠ کال میں شہرزادے وراتیسلاف ١/ بوریوووی ١ کا بیٹا/ نے اس کے قلعہ کے قریب مسیحی کلیسا تعمیر کیا جس جورج مقدس کے باسیلیک کے نام سے مشہور ہے اور اس وقت میں پراگ کا سب سے پرانا کلیسا ہے. یہ کلیسا رومان کی طرز تعمیر سے تعمیر ہوئی ہے. ٩٢٩ کال میں وراتیسلاف ١ کا بیٹا واتسلاف ١ نے جورج مقدس کے باسیلیک کے سامنے اپنی نمازوں کے لئے دوسرا کلیسا تعمیر کیا. یہ کلیسا ویت مقدس کا روتوندا کے نام سے معلوم ہے. ویت مقدس روتوندا رومان کی طرز تعمیر بھی تھی. ١٠٩٦ شہرزادے وراتیسلاف ٢ نے روتوندا کو نیے اندازے سے بنایا اور اس نے اس روتوندا سے ویت مقدس کا باسیلیک بنایا. / معنی کہ اس نے روتوندا کو نیی طرز تعمیر دیا. / ١۳۴۴ کال میں شاہ یان لوکسنبورگ نے ویت مقدس کے باسیلیک کو ڈھایا / تباہ کیا/ اور اس نے نیا کلیسا بنانے کی شروع کی. اس کلیسا ویت مقدس کے کاٹیڈرال کے نام سے مشہور ہے اور اس کی طرز تعمیر گوٹیک ہے. مقدس جورج باسیلیک اور مقدس ویٹوس کیتیڈرل کے علاوہ شاہی محل یہاں بہی ہے. شاہی محل یا پرانی شاہی محل پراگ کا سب سےمشہور عمارت ہے. یہ محل ١۳ صدی تک صرف قلعہ تھا اور ١۳ صدی میں چیک شاہوں نے قلعہ تباہ کیے اور نیا محل تعمیر کیے.

١۴ صدی[ترمیم]

١۴ صدی میں شاہ کارل ۴ / ١۳١۶-١٣٧٨ / نے ، جو سب سے مشہور چیک کا شاہ تھا، حکومت کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا. اس کی حکومت نے سیاسی، اقتصادی اور شہروں کی ترقی پر اچھا اثر ڈالا. اس نے پراگ توسیع کیا اور اس نے یہاں یونیورسیٹی کی تاسیس کی جس کارل کا یونیورسیٹی کے نام سے مشہور ہے.

١٦ صدی[ترمیم]

١٦ صدی میں المانی بادشاہ مکسملیان نے چیک بادشاہی میں حکومت کو اپنی ہاتوں میں لے لیا. اس کا بیٹا رودلف ٢ / ١٥٧٦-١٦١٢ / پراگ مین رہتا تھا. اس وقت میں پراگ سلطنت ہیبسبرگ دارالحکومت تھا اور مہمترین شہر تہا. رودولف کی حکومت نے ثقافت کی ترقی پر اچھا اثر ڈالا. اس نے پراگ میں خوبصورتی تصویروں اور مجسموں کو جمع کیا اوراس نے پراگ شاندارکی طرح سے تبدیل کیا لیکن ١٦١٨ کال میں جنگ کی شروع کی اور ١٦۴٨ کال میں سویڈن کے فوج نے پراگ پر قبضہ کیا اور رودولف کی مجموعوں کو چورا.

جڑواں شہر[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]