برج خلیفہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

برج خلیفہ، سابق نام برج دبئی، متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں واقع دنیا کی بلند ترین عمارت ہے جس نے 4 جنوری 2010ء کو تکمیل کے بعد تائیوان کی تائی پے 101 کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یہ انسان کی تعمیر کردہ تاریخ کی بلند ترین عمارت ہے۔ اس عمارت کو افتتاح کے موقع پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النہیان کے نام سے موسوم کیا گیا۔

برج خلیفہ کی تعمیر کا آغاز 21 ستمبر 2004ء کو برج دبئی کے نام سے ہوا۔ عمارت کے ماہر تعمیرات ایڈریان اسمتھ ہیں، جن کا تعلق اسکڈمور، اوونگز اینڈ میرل (SOM) سے ہے۔

بلندی[ترمیم]

برج خلیفہ اور دیگر بلند عمارات و تعمیرات کا تقابلی جائزہ

برج خلیفہ کی کل بلندی 828 میٹر ہے جبکہ اس کی کل منزلیں 160 ہیں۔ اس طرح یہ دنیا میں سب سے زیادہ منزلوں کی حامل عمارت بھی ہے۔

عمارت نے 21 جولائی 2007ء کو 141 منزلیں مکمل ہونے پر جب 512 میٹر (1680 فٹ) کی بلندی کو چھوا تو اس وقت کی دنیا کی سب سے بلند عمارت تائی پے 101 (509.2 میٹر) (1671 فٹ) کو پیچھے چھوڑ ا، لیکن بلند عمارتوں کے حوالے سے عالمی ادارے انجمن برائے بلند عمارات و شہری عادات (Council on Tall Buildings and Urban Habitat) نے اس کو تسلیم تو کیا لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ تب تک بلند ترین عمارت نہیں کہلائے گی جب تک مکمل نہیں ہو جائے گی بالکل اسی طرح جیسے شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں واقع ریونگ یونگ ہوٹل کو مکمل عمارت نہیں سمجھا جاتا۔ اس لیے باضابطہ طور پر بلند عمارت کا اعزاز 4 جنوری 2010ء کو حاصل کیا۔

اسی طرح برج خلیفہ نے فروری 2007ء میں شکاگو کے سیئرز ٹاور کو پیچھے چھوڑ کر دنیا میں سب سے زیادہ منزلوں کی حامل عمارت کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ واضح رہے کہ سیئرز ٹاور میں 108 منزلیں ہیں۔

خصوصیات[ترمیم]

برج خلیفہ میں دنیا کی تیز ترین لفٹ بھی نصب کی جائے گی جو 18 میٹر فی سیکنڈ (65 کلومیٹر فی گھنٹہ، 40 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے سفر کرے گی۔ اس وقت دنیا کی تیز ترین لفٹ تائی پے 101 میں نصب ہے جو 16.83 میٹر فی سیکنڈ (60.6 کلومیٹر فی گھنٹہ، 37.5 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے چلتی ہے ۔

عمارت میں 30ہزار رہائشی مکانات، 9 ہوٹل، 6 ایکڑ باغات،19 رہائشی ٹاور اور برج خلیفہ جھیل شامل ہوگی۔ اس کی تعمیر پر 8 ارب ڈالرز کی لاگت آئے گی۔ تکمیل کے بعد ٹاور 20 ملین مربع میٹر کے رقبے پر پھیلا ہوگا۔

علاوہ ازیں اس میں دنیا کی بلند ترین مسجد بھی واقع ہے جو 158 ویں منزل پر موجود ہے۔ اس سے قبل دنیا کی بلند ترین مسجد ریاض، سعودی عرب کے برج المملکہ میں واقع تھی۔


مشرق وسطی کا کھویا ہوا اعزاز[ترمیم]

برج خلیفہ کی تکمیل سے مشرق وسطی نے ایک مرتبہ پھر دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز حاصل کر لیا ہے جو 3 ہزار سال تک اہرام مصر کی صورت میں خطے کو حاصل تھا۔ 1300ء میں لنکن کیتھڈرل کی تعمیر کے بعد سے مشرق وسطی اس اعزاز سے محروم تھا۔

منزلوں کی منصوبہ بندی[ترمیم]

منزلیں استعمال
160 اور اس سے اوپر مکینیکل

156–159 مواصلات اور نشریات
155 مکینیکل
139–154 کارپوریٹ سوئٹ
136–138 مکینیکل
125–135 کارپوریٹ سوئٹ
124 رصدگاہ
123 اسکائی لابی
122 ریستوران
111–121 کارپوریٹ سوئٹ
109–110 مکینیکل
77–108 رہائشی
76 اسکائی لابی
73–75 مکینیکل
44–72 رہائشی
43 اسکائی لابی
40–42 مکینیکل
38–39 ارمانی ہوٹل سوئٹ
19–37 رہائشی
17–18 مکینیکل
9–16 ارمانی رہائش
1–8 ارمانی ہوٹل
اراضی ارمانی ہوٹل
اجتماع ارمانی ہوٹل
B1–B2 پارکنگ, مکینیکل

تعمیر، تصاویر کے آئینے میں[ترمیم]


متعلقہ مضامین[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]