تاتارستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
تاتارستان کا میپ۔
Tatar03.png

تاتارستان وفاق روس کی ایک وفاقی اکائی (جمہوریہ) ہے ۔ اس کا رقبہ 68 ہزار مربع کلومیٹر اور آبادی 38 لاکھ ہے ۔ تاتارستان کا دارالحکومت مشہور تاریخی شہر قازان ہے ۔


محل وقوع[ترمیم]

تاتارستان مشرقی یورپی میدانی علاقے کے مرکز میں ماسکو سے 8 سو کلومیٹر دور مشرق میں واقع ہے ۔ ہی دریائے وولگا اور دریائے کاما کے درمیان اور مشرق میں کوہ یورال پہاڑی سلسلے تک پھیلا ہوا ہے ۔


لوگ[ترمیم]

تاتارستان کے زیادہ تر لوگ تاتاری قومیت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور ان کی آبادی 20 لاکھ سے زیادہ ہے اور یہ کل آبادی کا 53 فیصد ہیں ۔ تقریبا 39 فیصد آبادی یعنی 10 لاکھ لوگ روسی قومیت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ساڑھے 3 فیصد چواش ،0.5 فیصد ماری اور 0.64فیصد ادمرت بھی تاتارستاں میں رہتے ہیں اور تاتاری زبان بولتے ہیں ۔ اس کے علاوہ قازاق ، ازبک ، باشکیر ، لزگین ، یوکرینی اور آذربائيجانی (آذری) بھی آباد ہیں ۔


مذہب[ترمیم]

تاتارستان کی تاتاری آبادی کا مذہب اسلام ہے اور زیادہ تر لوگ سنی ہیں لیکن شیعہ بھی خاصی تعداد میں آباد ہیں اور ایک چھوٹی سی اقلیت کیراشین تاتار آرتھوڈکس عیسائی ہیں ۔ روسی زیادہ تر آرتھوڈکس عیسائی ہیں جب کہ ان میں کچھ تعداد میں مسلمان بھی ہیں ۔




تاریخ[ترمیم]

آج کے تاتارسان کی سرحدوں میں سب سے پہلی معلوم ریاست وولگا بلغاریہ تھی ، جو 700ء سے 1238ء تک قائم رہی ۔ وولگا بلغاروں کی ریاست ایک ترقی یافتہ تاجر ریاست تھی ۔ جس کے تجارتی تعلقات اندرونی یوریشیا ۔ مشرق وسطی اور بحیرہ بالٹک کے علاقوں سے تھے ۔ اس ریاست نے اپنی آزادی کو کیویائی روس ، قبچاق اور خزاری سلطنت دے دباؤ کے باوجود برقرار رکھا ۔ تاتارستان میں اسلام ابن فضلان کے اس علاقے میں 922ء میں سفر کے دوران بغداد کے مبلغین کے ذریعے پہنچا ۔ وولگا بلغاریہ کو منگول فوجوں نے 1230ء کی دہائی کے آخر میں فتح کیا ۔ وولگا بلغاریہ کے باشندے منگول فاتح باتوخان کی قائم کی ہوئی ریاست " اردوئے طلائی " کے ترک منگول سپاہیوں اور آبادکاروں کے ساتھ گل مل گئے ، جو قبچاق زبان بولتے تھے اور ولگا بلغار بھی قبچآق تاتار زبان بولنے لگے اور وولگا تاتار کے نام سے پکارے جانے لگے ۔ ایک دوسرے نظریئے کے مطابق اس عرصے میں کوئی نسلی تبدیلی نہیں ہوئی بلکہ بلغار صرف قبچاقی تاتار زبان بولنے لگے ۔ 1430ء میں یہ علاقہ دوبارہ " خانان قازان" کی شکل میں آزاد ریاست بن گیا اور اس کا صدرمقام قازان دریائے وولگا کے کنارے بلغاروں کے پرانے دارالحکومت بلغار شہر کے کھنڈرات سے 170 کلومیٹر شمال میں بنایا گیا ۔

تاتارستان کو 1550ء میں زار روس ایوان چہارم ( روسی میں ایوان گروزنی یعنی ایوان خوفناک) کی فوجوں نے فتح کیا اور 1552ء میں قازان کا سقوط عمل میں آیا ۔ اس کے ساتھ ہی روسیوں نے مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ دیے ، تاتاری مسلمانوں کی آبادی کے تیسرے حصے کو تہ تیغ کر دیا ، کچھ کو بزور شمشیر عیسائی بنا لیا گیا ۔ قازان شہر میں گڑجے بنا ديے گئے اور اس علاقے کی تمام مساجد کو گرا دیا گیا اور روسی حکومت نے مساجد کی تعمیر پر پابندی لگا دی ۔ زار روس ایوان چہارم نے تاتار مسلمانوں کے نشان ہلال کو گرجا گھروں میں صلیب کے نیچے یا پیروں میں لگانے کا حکم دیا اور اس کو مسلمانوں پر عیسائیوں کی فتح کا نشان قرار دیا ۔ آج بھی روس کے تمام پرانے اور بہت سے نئے گرجا گھروں میں صلیب کے نیچے چاند دیکھا جاسکتا ہے ۔ اور یہاں کے رہنے والے اکثر تاتاری مسلمانوں کو صلیب کے نیچے چاند لگانے کی وجہ معلوم نہیں کیونکہ روسیوں نے تاریخ کو مسخ کر کے پیش کیا ہے ۔ تاتارستان کے علاقے اور سائبیریا میں 15ویں صدی کے وسط سے 20 ویں صدی کے وسط تک دسیوں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا ، لیکن تاریخ اس کے بارے میں خاموش ہے اور مقامی مسلمان بھی اے نے بے حبر ہیں کیونکہ روسی سلطنت اور سویت اتحاد نے ان حقا‏ق کو دنیا کی نظروں سے چھپا کے رکھا ہے ۔ اب اس بارے میں یہاں کے مقامی مسلمانوں میں شعور بے دار ہو رہا ہے اور یہاں سے چھپنے والے ان کے چند ایک اخبارات مین ان اس بارے میں حقائق شائع ہو رہے ہیں ۔ تاتارسان کے کریملن میں قائم مسجد شہید کر کے یہاں گرجا قائم کر دیا گیا اور تاتارستان میں مساجد تعمیر کرنے پر پابندی 18ویں صدی تک رہی اور اس پابندی کو ملکہ کیتھرائن دوم نے ختم کیا اور پہلی مسجد 1770ء -1766ء میں کیتھرائن دوم کی سرپرستی میں بنائی گئی ۔ سویت اتحاد کے خاتمے کے بعد تاتارستان اک نیم خودمختار جمہوریہ بنا تو قازان شہر کی کریملن میں قل شریف مسجد دوبارہ تعمیر کر دی گئی ۔


جدید دور[ترمیم]

تاتارستان 19ویں صدی عیسوی میں یہودیت اور صوفی اسلام کا مرکز بنا اور تاتاری مقامی مذہبی روایات کی وجہ سے پوری روسی سلطنت میں دوسرے لوگوں سے دوستانہ تعلقات کی وجہ جانے جاتے تھے ۔ لیکن 1917ء کے انقلاب روس یا کیمونسٹ انقلاب کے بعد مذہب پسندوں کو دبا دیا گیا ۔ 1918ء سے 1920ء کی روسی خانہ جنگی دے دوران تاتار قوم پرستوں نے " ادیل یورال " کے نام سے ایک آزاد ریاست قائم کرنے گی کوشش کی ۔ جس میں انہیں عارضی کامیابی ملی ، کیونکہ انقلاب میں کامیابی ملنے کے بعد بالشویکوں نے اس ریاست کو ختم کر دیا اور 27 مئی 1920 ء کو تاتار خودمختار سویت جمہوریہ کے قیام کا اعلان کیا ، جب کہ وولگا تاتاروں کی اکثریت اس ریاست کی حدود سے باہر تھی ۔


آج کا تاتارستان[ترمیم]

تاتارستان 1553ء سے ، روسی سلطنت کے اس پے قبضے سے 1917ء کے انقلاب روس تک روسی سلطنت میں شامل رہا اور 1917ء سے 1990ء تک سویت اتحاد میں روسی سویت وفاقی سوشلسٹ جمہوریہ میں ایک خودمحتار جمہوریہ کے طور پر شامل رہا ۔ 30 اگست 1990ء کو تاتارستان نے اپنی آزادی کا اعلان کیا اور 1992ء ميں وفاق روس سے آزادی کے لئے ریفرینڈم کروایا گیا ، جس میں 62 فیصد لوگوں نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا ۔ 15 فروری 1994ء میں تاتارستان کی حکومت او روسی وفاقی حکومت کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط ہوئے ، جس کی رو سے تاتارستان دوسرے ملکوں کے ساتھ اقتصادی تعلقات قائم کر سکتا ہے ۔ یہ معاہدہ وفاق روس کی طرف سے تاتارستان کی آزادی کو عارضی طور پر ماننے کے مترادف ہے ، کیونکہ اس معاہدے میں تاتارستان کے اقتدار اعلی کو تسلیم کیا گیا ہے ۔


قدرتی وسائل[ترمیم]

تاتارستان معدنی اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے ، اس کے قدرتی وسائل میں تیل ، قدرتی گیس ، جسپم اور کئی دوسرے معدنیات شامل ہیں ۔ ایک اندازے کے مطابق تاتارستان کے تیل کے ذخائر ایک ارب ٹن سف زیادہ ہیں ۔


معیشت[ترمیم]

تاتارستان وفاق روس کے امیر علاقوں میں سے ایک ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ اسکی تیل کی صنعت ہے ۔ 1960ء کی دہائی میں تاتارستان ،سویت اتحاد کا سب سے زیادہ تیل مہیا کرنے والاعلاقہ تھا ۔ صنعتی مصنوعات تاتارستان کی جی ڈی پی کا 45 فیصد پیدا کرتیں ہیں ۔ بہت زیادہ ترقی یافتہ صنعتو‍ں میں پیٹرو کیمیکل اور ہیوی ٹرک (کماز) بنانے کی صنعت ہے ۔ 2006ء میں تاتارستان کی جی ڈی پی 24 ارب امریکی ڈالر تھی ۔ ریاست کا آمد ورفت کا نظام بہت جدید ہے ، جس میں سڑکیں ، شاہراہیں ، ریلوے لائنیں ( راہ آہن) اور جہازرانی کے قابل دریا - دریائے وولگا (تاتاری زبان: ادیل) ، دریائے کاما(تاتاری:چلمان) ، دریائے ویئاتکا (تاتاری: نوفرت) اور دریائے بیلائیا ( تاتاری: آغ ادیل) اور تیل و گیس کی پائپ لائنیں شامل ہیں ۔ تاتارستان کے علاقوں سے گیس کی بڑی بڑی پائپ لائنیں گذرتی ہیں ، جن کے ذریعے گیس اورنگوئے اور یامبرگ سے مغربی روس اور یورپ کے بہت سے علاقوں کو پہنچائی جاتی ہے اور اس کے علاوہ بڑی بڑی پائپ لائنوں کے ذریعے تیل بھی روس کے علاقوں اور یورپ کو مہیا کیا جاتا ہے ۔