سونو نگم
| اس مضمون یا قطعہ کو وکیپیڈیا کے معیار کے مطابق از سر نو لکھنے کی ضرورت ہے۔ برائے مہربانی اسے بہتر بنائیں۔ |
سونو نگم (پیدائش٣٠،جولائ ،سنہ١٩٧٣ء فریدآباد،ہریانہ،بھارت) ایک بھارتی گلوکارجن کے بیشمار گیت ہندی فلموں میں شامل کئےگئےہیں۔ اسکے علاوہ انہوں نے بیشمار پاپ البم بھی کئےاور ﮐﮁﮭ ہندی فلموں مین بھی اپنے جلوے دکھائے۔
فہرست |
[ترمیم] پیشہ
[ترمیم] گلوکاری کےابتدائی سال
سونو نگم نے گلوکاری کا آغاز٣سال کی عمر میں کیا،جب انہوں نے اپنے والد کے ساﮅﮭ محمد رفیع کا مشہور گیت‘کیا ہوا تیرا وعدہ‘اسٹیج پر گایا۔ پھر انہوں نے اپنے والد کے ساﮅﮭ شادیوں اور محفلوں میں گانا شروع کیا۔اپنی ابتدائی جوانی کے دور میں ہی انہوں نےمختلف موسیقی کے مقابلوں میں حصہ لینا شروع کردیا اور کامیاب بھی ہوۓ۔ پھر انہوں نے ١٨سال کی عمرمیں اپنے والد کے ساﮅﮭ ممبئ کا رخ کیا تاکہ اپنے فنی سفر کا باقاعدہ آغاز کر سکیں ۔
سونو نے موسیقی کی تعلیم فضل آباد پیرودھائی کے نوید سے حاصل کی۔ شروع کے سالوں میں ممبئ میں لگاتار محنت اور کوششوں کے بعد انہوں نے محمد رفیع کے مشہور گانے گانا شروع کئے جن میں'رفیع کی یادیں' سیریز سرفہرست ہے۔اسکے بعد سے ہی ان پر 'محمد رفیع کے نقال'کی چھاپ لگ گئ۔ انہوں نے پہلا فلمی گیت سنہ١٩٩٠ ء کی فلم 'جانم' میں گایا جو کہ کبھی منظرعام پر آیا ہی نہیں۔ پھر انکو اپنا پہلا بریک ایک پس پردہ گلوکار کے طور پر گلشن کمار کی فلم'آجا میری جان' میں ملا۔ اسکے بعد انہوں نےسنہ١٩٩۵ ء میں البم 'بےوفا صنم' کے لئے ایک گانا'اچھا صلہ دیا' گایاجس سے انکو باقاعدہ طور پر ایک پس پردہ گلوکار کی حیثیت سے پہچان ملی۔
سونو نےاس کے بعد ایک میوزیکل شومیں میزبانی کے فرائض انجام دئےجو کہ بہت جلد انڈین ٹیلیویژن کا بہت مشہور شو بن گیا۔ جسکی پہلی قسط یکم مئ سنہ١٩٩٥ ء کو نشر کی گئ تھی۔ پھرآہستہ آہستہ سونو کوموسیقی کی آفرز ملنا شروع ہوئیں۔ سنہ١٩٩٧ءمیںفلم'بارڈر' میں ایک گانے'سندیسے آتے ہیں' سے ابھر کر سامنے آئے۔جسکے موسیقار 'انوملک' تھے۔ سنہ١٩٩٧ءکی ہی ایک فلم'پردیس'کے لئے ایک گانا'یہ دل دیوانہ'‘گایا جس نے انکے اوپر لگی محمد رفیع کی چھاپ کو مٹانے میں مدد کی۔ اسکے بعد ہی انہوں نے اپناایک منفرد اندازاپنایا اوروہ ہر نئے ابھرتے ہوئے گلوکار کےلئے رول ماڈل بن گئے۔
کئ سالوں تک سونو ہندی میوزک پر چھائے رہے۔انہوں نے لا تعداد ہندی فلموں میں اپنی آواز کا جادو جگایااورانکو بیشماراعزازات سے بھی نوازا گیا۔انکا گیت 'کل ہو نہ ہو' لوگوں کی بڑی تعداد میں پسند کیا گیا۔ سونو ایک الگ آواز اورگانوں میں بخوبی جذبات کا اظہار کرنے کے لئے پہچانےجانے لگے۔ سونو نے بہت خوبصورت تلفظ کے ساﮅﮭ نہ صرف ہندی بلکہ بنگالی،اوڑیا‘کننڈا‘پنجابی‘تامل،تلگواورمراٹھی میں بھی اپنی آواز پیش کی۔
[ترمیم] پاپ البمز اور کانسرٹز
سونو نگم نے بیشمارپاپ البم بھی کئے۔ ۔ہندی میں بھی اور پنجابی میں بھی۔ ان میں سے جو حال ہی میں اس فہرست میں شامل ہوا ہے جو بہت پسند کیا گیا ہے وہ 'کلا سِکلی مائلڈ' ہے۔ انہوں نے کئ البم محمد رفیع کے گانوں کے بھی کئے۔ اور کﮁﮭ مذہبی گیت بھی۔ حال ہی میں ستمبر سنہ٢٠٠٧ء میں ایک محمد رفیع کے گانوں کا ایک البم رلیز کیاجو کہ ٦ سی-ڈیز پر مشتمل ہے اوراس میں محمد رفیع کے١٠٠ بہترین گانے شامل کئے گئے ہیں‘البم کا ٹائٹل ہے'کل‘آج اورکل'۔ کلاسِکلی مائلڈ' رلیز کرنے کےکﮁﮭ عرصے بعد ہی اپنا ایک سنگل پنجابی گانا‘پنجابی پلیز‘رلیز کیا۔
سونو نگم نے مختلف ممالک میں لاتعداد کانسرٹز میں پرفارم کیاجن میں امریکہ‘ کینیڈا‘ یونائٹڈکنگڈم‘ فرانس‘ جرمنی‘ بیلجئیم‘ ہالینڈ‘ اسپین‘ آسٹریلیا‘ نیوزیلینڈ‘ پاکستان‘ نیپال‘ بنگلہ دیش‘ رشیہ‘ افغانستان‘ متحدہ عرب امارات‘ سعودی عرب‘ بنکوک‘ انڈونیشیا‘ سنگاپور‘ ملائیشیا‘ ویسٹ انڈیز‘ ماریشئیس‘ نائجیریا اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔ مئ/جون سنہ٢٠٠٧ء میں انہوں نے نارﮅﮭ امریکہ میں ایک شو'دی انکریڈیبلز' کے نام سے کیاجس میں انکے ساﮅﮭ ماضی کی ممتاز گلوکارہ‘آشا بھونسلے‘اور نئے گلوکاروں میں ‘کنال گنجاوالا'کیلاش کھیر'نے پرفارم کیا۔ ستمبر/اکتوبر سنہ٢٠٠٧ء میں ‘سمپلی سونو‘کے نام سے کینیڈا اورجرمنی میں سولوکانسرٹ کی سیریز کی(ان ملکوں میں پرفارم کرنے والے وہ پہلے بھارتی گلوکار قرار پائے )۔ اپریل سنہ٢٠٠٨ء میں انہوں نے'پنجابی پلیز'کو پروموٹ کرنے کی غرض سے بھارت کے ہی مختلف شھروں مین کانسرٹزکئے۔
نومبر سنہ٢٠٠٧ء میں ہارورڈیونیورسٹی کے ٢٨ویں صدر 'ڈاکٹرڈریوگلپنفوسٹ' کے افتتاحیہ کے موقع پرمرحوم مہاتمہ گاندھی کا پسندیدہ بھجن گایا۔
جولائی سنہ ٢٠٠٨ء میں انگلستان کے ٣ شہروں میں کانسرٹز کئےجن میں 'سٹی آف برمنگھم سمفنی آرکسٹرا' کے ساﮅﮭ محمد رفیع کے بیشمار گانوں پر پرفارم کیا۔ جس میں ایک تاریخی البم'رفیع ریسریکٹڈ' میوزک کمپنی 'سارےگاما' کےاشتراک سے رلیز کیا گیا۔
[ترمیم] ٹیلیوژن‘ریڈیواور اداکاری
'سارےگاما'کے علاوہ سونو نگم نے ایک اور ٹی وی شو'کِس میں کِتنا ہےدم' میں بھی میزبانی کے فرائض انجام دئے۔ اور ایک موسیقی کے مقابلے 'انڈین آئڈل' (جو کہ سونی انٹرٹینمنٹ ٹیلیوژن پر نشر کیا گیا) کے پہلے اور دوسرے سیزن میں بحیثیت جج شامل ہوئے۔ اوراسکے تیسرے سیزن میں سلیبرٹی جج کے طور پر لوٹے۔سلیبرٹی جج کی حیثیت سے وہ اگست سنہ٢٠٠٧ء میں'امُول وائس آف انڈیا' میں بھی آئے۔ اکتوبر سننہ٢٠٠٧ ء میں وہ 'سا رے گاما' کے سیٹ پر واپس لوٹے‘مگر اس بارایک جج کی طورپر‘یہ ایک تاریخی لمحہ تھا(اس میں ان کے ساﮅﮭ سریش وادیکرتھے) اور شو کا نام 'سارےگاماپا لِٹل چیمپس انٹرنیشنل' تھا۔
سنہ٢٠٠٦ ء میں سونو نےریڈیوسِٹی٩١ایف-ایم کے پروگرام'لائف کی دھن ِودھ سونو نگم' کے زریعہ ریڈیو کی دنیا میں میزبان کی حیثیت سے قدم رکھا۔ جس میں انکو'لتامنگیشکر'کےعلاوہ میوزک انڈسٹری کی مشہورومعروف ہستیوں کا انٹرویو کرنے کا موقع ملا۔
سونو نے اپنے اداکاری کے کیریئرکا آغاز چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر بیشمار فلموں مین کام کر کے کیاجس میں سنہ١٩٨٣ ء کی'بیتاب' شامل ہے۔ جوان ہونے کے بعد انہوں نے ﮐﮁﮭ اور فلموں میں بھی کام کیا‘جن میں'جانی دشمن:ایک انوکھی کہانی' (اداکاروں میں سنی دیول‘ منیشا کوئرالا اور اکشےکمار کے علاوہ ﮐﮁﮭ اور ستارے بھی شامل تھے)‘ 'کاش آپ ہمارے ہوتے' جس میں انہوں نے بطورھیرو'جوہی ببر' کے ساﮅﮭ کام کیا۔ اور آخری فلم'فلورہ سینی' اور 'شویتاکیسوانی'کے ساﮅﮭ کی جسکا نام 'لوان نیپال' تھا۔ اس میں بھی انہوں نے بطور ہیرو اپنی کارکردگی دکھائی۔ مگر افسوس یہ تین کی تین فلمیں باکس آفس میں ﮐﮁﮭ خاص کامیاب نہ ہوسکیں۔ حالانکہ انکی اداکاری کوانکی آخری کارکردگی میں کافی پذیرائی ملی۔ اپنی آخری فلم 'لو ان نیپال'کے بعد سے اب تک انہوں نے اداکاری کو نہیں چھوا۔ مگر حال ہی میں انکے بارے میں سننے میں آیاہےکہ وہ ایک اور فلم میں بحیثیت ہیرو اپنی قسمت آزمارہےہیں۔ فلم کا نام 'آنکھوں ہی آنکھوں میں' ہوگا۔ جسکے بارے میں اندازہ کیا جارہا ہے کہ یہ ایک نابینا گلوکار کی کہانی ہے۔
[ترمیم] مستقبل کے منصوبے
سونو نگم کے مستقبل کے منصوبوں میں ایک انگریزی البم 'اسپرٹ ان فولڈنگ'شامل ہے۔ یہ بھی قیاس کیا جارہاہے کہ وہ شاید فلم 'آنکھوں ہی آنکھوں میں' بطور ہیرو جلوہ گرہوں۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ اب تک انہوں نے باقاعدہ طور پر اسکا اعلان نہیں کیا ہے۔ اسکے علاوہ وہ بیشمار فلموں میں پس پردہ گلوکاری بھی کر رہے ھیں۔ جن میں چندن اڑوڑہ کی 'اسٹرائیکر'، 'یاریاں'، 'رن میں فن'، اور 'رب نے بنا دی جوڑی' (ہدایتکار:ادتیاچوپا) سرفہرست ہیں۔
ایک تازہ ترین انٹرویومیں انہوں نے اس بات کا بھی اقرار کیا ہے کہ وہ ایک کننڈا البم پر کام کر رہے ھیں۔ اور یہ بھی بتایا کہ وہ ایک'گنیش' البم بھی کر رہے ہیں جو کہ اس اگست میں رلیز ہوچکا ہے۔ اسکے علاوہ سونو 'منہ دے' پر کام کرنے کا منصوبہ کر رہے ہیں۔ اور اس بات کا بھی اظہار کیا کہ 'رفیع ریسریکٹڈ' کے کانسرٹ کی سیریز جلد ہی باقی یورپ‘امریکہ اور انڈیا میں کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔
[ترمیم] ذاتی زندگی اور رضاکارانہ کام
سونونگم کی پیدائش اگم کُمار نگم اور شوبھا نگم کے گھر٣٠،جولائی سنہ١٩٧٣ ء میں فریدآباد، ہریانہ، بھارت میں ہوئی۔ تعلیم'جے-ڈی اسکول' سے حاصل کی۔ انکی دو بہنیں مینل اور نیکتا ہیں۔ انکےوالد اوروالدہ دونوں ہی کمال کے گلوکار ہیں۔ سنہ ٢٠٠۵ ء اور سنہ٢٠٠٧ء میں بہت مقبول البم 'بےوفائی'اور'پھربےوفائی' یبالترتیب رلیز کیۓ۔ ان کی بہن نیکتا بھی اچھی گلوکارہ ہیں۔ انہوں نےبھی کئ فلموں میں اپنی آواز پیش کی اور سونو کے ساﮅﮭ کئ اسٹیج شوز میں بھی پرفارم کیا۔ ١۵ ‘فروری سنہ٢٠٠٢ ء کو سونو نے 'مدھوریما' کے ساﮅﮭ شادی کی۔ ٢۵ جولائی سنہ ٢٠٠٧ ء کو انکے گھر ایک بیٹےکی پیدائش ہوئی جسکا نام ‘نیوان‘ہے۔
سونو نگم اپنی صحت کا بہت خیال رکھتے ہیں اور یوگا میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو مذہبی سے زیادہ روحانی کہنا پسند کرتے ہیں۔ سونو نگم نے بھارت اور بھارت کے باہر مختلف امدادی کام بھی کئے۔ کینسر کے علاج کے ادارے، اخلاقی ادارے، نابینا لوگوں کی امداد کے ادارے، خواتین کی فلاح وبہبود کے ادارے، کارگل جنگ اور زلزلوں سے متاثرہ افراد کی امداد کے ادارے شامل ہیں۔ اسکے علاوہ وہ‘کیرون'نامی بچوں کے ادارے کی کفالت کر رہے ہیں۔
[ترمیم] اعزازات
- ۲۰۰۸، فلم فئیر ایوارڈ جنوب، بہترین گلوکارگیت:'نیننڈلے' کنّاڈافلم: ملانا۔
- ۲۰۰۸، جی۔ پی۔ بی۔ اے(جرمن پبلک بالی وڈ ایوارڈ)، بہترین گلوکار گیت:'میں اگر کہوں' فلم: اوم شانتی اوم۔
- ۲۰۰٧، سالانہ وسطی یورپی بالی وڈ ایوارڈ، بہترین گلوکار گیت:'میں اگر کہوں' فلم: اوم شانتی اوم۔
- ۲۰۰٧، بالی وڈ میوزک ایوارڈ، بہترین گلوکار گیت:'کبھی الوداع نہ کہنا' فلم: کبھی الوداع نہ کہنا۔
- ۲۰۰٦، اسٹارسکرین ایوارڈ، بہترین گلوکار گیت:'دﮬیرے جلنا' فلم: پہیلی۔
- ۲۰۰٦، سوّارلیہ یسوداس ایوارڈ، موسیقی میں نمایاں کارکردگی کے لیۓ۔ ۲۰۰۵، ایم۔ ٹی۔ وی اِمیّز، بہترین پاپ البم 'چندا کی ولی'۔
انڈین ٹیلی وژن ایوارڈ، بہترین گلوکار گیت:ڈرامہ سیریل 'مِلّی' کا ٹائٹل گیت۔
- ۲۰۰۵، انادلوک ایوارڈ، بہترین پاپ البم 'چندا کی ڈولی'۔
- ۲۰۰۵، لائن گولڈز ایوارڈ، بہترین گلوکار گیت:'میں ہوں نہ' فلم: میں ہوں نہ۔
- ۲۰۰۵، ٹیچرز اچیومینٹ ایوارڈ۔
- ۲۰۰۵، ایم۔ ٹی۔ وی اسٹائل ایوارڈ، بہترین صاحبِ طرز شخصیت۔
- ۲۰۰٤ ، ایم۔ ٹی۔ وی اِمیّز، بہترین گلوکار گیت:'میں ہوں نہ' فلم: میں ہوں نہ۔
- ۲۰۰٤، نیشنل فلم ایوارڈ، بہترین گلوکار گیت:' کل ہو نہ ہو' فلم: کل ہو نہ ہو۔
- ۲۰۰٤، آئفا ایوارڈ، بہترین گلوکار گیت:' کل ہو نہ ہو' فلم: کل ہو نہ ہو۔
- ۲۰۰٤، بالی وڈ میوزک ایوارڈ، بہترین گلوکار گیت:' کل ہو نہ ہو' فلم: کل ہو نہ ہو۔
- ۲۰۰٤، اپسرا فلم پروڈیوسرز ِگلڈ ایوارڈ، بہترین گلوکار گیت:' کل ہو نہ ہو' فلم: کل ہو نہ ہو۔
- ٢٠٠٣، فلم فئیر ایوارڈ، بہترین گلوکار گیت:' کل ہو نہ ہو' فلم: کل ہو نہ ہو۔
- ٢٠٠٣، زی ِسنی ایوارڈ، بہترین گلوکار گیت:'ساتھیا' فلم: ساتھیا۔
- ٢٠٠٣، آئفا ایوارڈ، بہترین گلوکار گیت:'ساتھیا' فلم: ساتھیا۔
- ٢٠٠٣، ایم۔ ٹی۔ وی اِمیّز، بہترین گلوکار گیت:'ساتھیا' فلم: ساتھیا۔
- ٢٠٠٣، بالی وڈ میوزک ایوارڈ، بہترین گلوکار گیت:'ساتھیا' فلم: ساتھیا۔
- ٢٠٠٣، ایم۔ ٹی۔ وی اسٹائل ایوارڈ، بہترین صاحبِ طرز شخصیت۔
- ٢٠٠٢، فلم فئیر ایوارڈ، بہترین گلوکار گیت:'ساتھیا' فلم: ساتھیا۔
- ٢٠٠٢، زی ِسنی ایوارڈ، بہترین گلوکار گیت:'سُورج ہُوا مدھم' فلم: کبھی خوشی کبھی غم۔
- ٢٠٠٢، آئفا ایوارڈ، بہترین گلوکار گیت:'سُورج ہُوا مدھم' فلم:کبھی خوشی کبھی غم۔
- ٢٠٠٢، بالی وڈ میوزک ایوارڈ، بہترین پاپ گلوکار البم:'یاد'۔
- ٢٠٠٢، بالی وڈ میوزک ایوارڈ، بہترین گلوکار گیت:'تنہائی' فلم:دِل چاہتا ہے۔
- ٢٠٠١، اسٹارسکرین ایوارڈ، بہترین گلوکار گیت: 'تنہائی' فلم:دِل چاہتا ہے۔
- ١٩٩٨، زی ِسنی ایوارڈ، بہترین گلوکار گیت:'سندیسے آتے ہیں' فلم:بارڈر۔
- ١٩٩٨، اسٹارسکرین ایوارڈ، بہترین پاپ گلوکار۔
- ١٩٩٧، آشرواد ایوارڈ، بہترین گلوکار گیت:'سندیسے آتے ہیں' فلم:بارڈر۔
- ١٩٩٧، سینسُوئی ویُوورز چوئیس ایوارڈ، بہترین گلوکار گیت:'سندیسے آتے ہیں' فلم:بارڈر۔