کشور کمار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
کشور کمار

ہندوستان کے مشہور فلمی گلوکار .

ابتدائی زندگی[ترمیم]

ابہاس کمار گنگولی یعنی کشور کمار 4 اگست 1929ء کو مدھیا پردیش میں ایک بنگالی خاندان میں پیدا ہوئے۔ان کے والد ایک وکیل تھے اور کشور اپنے 4 بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔وہ ابھی چھوٹے ہی تھے کہ کے بھائی اشوک کمار نے بمبئی جاکر اداکاری کا پیشہ اختیار کیا ان کے ایک دوسرے بھائی انوپ کمار بھی فلموں سے وابستہ تھے۔اس طرح انہوں نے بھی اپنے بھائی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فلموں میں کام کرنے کے لیے بمبئی آئے۔ کیرئیر 1948ء میں بمبئی ٹاکیز کی فلم ضدی میں پہلا گانا گانے کا موقع ملا۔ بطور اداکار ان کی پہلی فلم اندھولن تھی جو 1951ء میں ریلز ہوئی۔ 1954ء میں انہوں نے بمل رائے کی نوکر میں ایک بے روزگار نوجوان کا کردار ادا کیا

مشہور فلمیں[ترمیم]

نیو دہلی ، آشا ، جھمرو ، ہاف ٹکٹ ، چلتی کا نام گاڑی ، ان کی کچھ اہم فلمیں رہیں۔ لیکن فلمیں میں پڑوسن میں نبھائے گئے ایک کردار کو کافی شہرت حاصل ہوئی۔ انہوں نے لگ بھگ 81 فلموں میں بطور اداکار کام کیا۔ان کی اداکاری کا ہر کوئی مداح تھا

گلوکاری[ترمیم]

ایس ڈی برمن نے پہلی مرتبہ انہیں فلموں میں گانے کا موقع دیا۔ کشور نے تقریباً 574 فلموں کے لیے گانے گائے ۔ برمن دا نے ان کی عمدہ گائیکی کو پہچان کر فلم منیم جی ، ٹیکسی ڈرائیور ، فنڈوش ، نو دو گیارہ ، گائیڈ ، جیول تیف ، پریم پجاری ، تیرے میرے سپنے میں کبھی نہ بھولنے والے گیت کشور کے ذریعے گوائے۔فلم ڈون میں کھی کے پان بنارس والا نے تو کشور دا کو ہمیشہ کے لیے امر کرنے میں اہم کردارادا کیا۔

ہندی کے علاوہ تامل ، مراہٹی ، آسامی ، گجراتی ، بوجھپوری ، جیسی زبانوں میں بھی گیت گائے۔ کندن لال سہگل کو گائیکی میں اپنا استاد ماننے والے کشور کمارنے لتا منگشکر اور آشا بھوسلے کے ساتھ کافی ہٹ گیت گائے۔ لتا جی کو انہوں نے بہن مان رکھا تھا۔

اعزازات[ترمیم]

آج کے دور میں ہندوستانی فلموں کے کئی مشہور گلوکار کشور کمار کو ہی اپنا استاد مانتے ہیں۔ کشور کمار کو 1969ء میں فلم ارادھنا کے لیے بہترین گلوکار کا فلم فیر ایورڈ ملا ۔ ان کے گائیکی کے لیے ان کو آٹھ مرتبہ یہ اعزاز ملا۔

فلمسازی[ترمیم]

گائیکی کے ساتھ ساتھ کشور دا نے فلمسازی میں بھی قدم رکھا اور 70 کے بعد تقریبا بارہ فلمیں بنائیں جن کو کامیابی حاصل نہ ہو سکیں۔ اداکارہ مدھو بالا سے کافی عشق رہا ان کی بیماری کے دور میں مدھو بالا سے شادی کی اور موت تک وہ ان کے خدمت کرتے رہے۔

13 اکتوبر 1987ء کو ان کا انتقال ہوا۔

بیرونی روابط[ترمیم]