معرکۂ استالن گراد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
معرکۂ استالن گراد
بسلسلۂ دوسری جنگ عظیم
German pows stalingrad 1943.jpg
سوویت فوجی جرمن جنگی قیدیوں کو لے جا رہے ہیں۔ فروری 1943ء
تاریخ 17 جولائی 1942ء - 2 فروری 1943ء
مقام استالن گراد، سوویت اتحاد
نتیجہ سوویت اتحاد کی فیصلہ کن فتح
متحارب
Flag of German Reich (1935–1945).svg نازی جرمنی
Flag of Romania.svg رومانیہ
Flag of Italy.svg اطالیہ
Flag of Hungary.svg مجارستان
Flag of Croatia.svg کروشیا
Flag of the Soviet Union.svg سوویت اتحاد
قائدین
نازی جرمنی کا پرچم ایڈولف ہٹلر
نازی جرمنی کا پرچم فریڈرک پالاس
سوویت اتحاد کا پرچم جوزف استالن
سوویت اتحاد کا پرچم ویزیلی چویکوف
قوت
ابتدائی:
2 لاکھ 70 ہزار
500 ٹینک
600 طیارے، وسط ستمبر تک 1600
سوویت جوابی کاروائی کے وقت:
10 لاکھ 11 ہزار
675 ٹینک 732 طیارے (402 قابل پرواز)
ابتدائی: ایک لاکھ 87 ہزار
400 ٹینک
300 طیارے سوویت جوابی کاروائی کے وقت:
11 لاکھ 3 ہزار
1463 ٹینک
1115 طیارے
نقصانات
7 لاکھ 50 ہزار ہلاک و زخمی
91 ہزار گرفتار
طیارے: 900
4 لاکھ 78 ہزار 741 ہلاک و لاپتہ
6 لاکھ 50 ہزار 878 زخمی و بیمار
40 ہزار سے زائد شہری ہلاک
4341 ٹینک
2769 لڑاکا طیارے


معرکۂ استالن گراد دوسری جنگ عظیم کا سب سے اہم موڑ تھا اور اسے انسانی تاریخ کی خونی ترین جنگ سمجھا جاتا ہے، جس میں تاریخ کی سب سے زیادہ دو طرفہ ہلاکتیں ہوئیں۔ یہ جنگ عسکری و شہری پر دونوں سطح پر فریقین کی جانب سے ظلم و سفاکیت کی مثال ہے۔ اس معرکے میں نازی جرمنی کی جانب سے استالن گراد شہر (جو اب وولگو گراد کہلاتا ہے) کا محاصرہ، شہر کے اندر لڑائی اور سوویت اتحاد کا جوابی حملہ شامل ہیں جن کے نتیجے میں شہر کے گرد جرمنی کی چھٹی افواج اور محوری قوتیں (Axis Powers) مکمل تباہی کا شکار ہوئیں۔ دونوں جانب کی کل ہلاکتوں کی تعداد کا اندازہ تقریباً 20 لاکھ لگایا گیا ہے۔ اس معرکے کے نتیجے میں محوری قوتوں کو تقریباً 8 لاکھ 50 ہزار جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا، جو مشرقی محاذ پر ان کی کل افرادی قوت کا ایک چوتھائی تھا۔ علاوہ ازیں رسد و ساز و سامان کا بھی بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔ محوری قوتیں اس زبردست نقصان سے کبھی باہر نہ آ سکیں اور بالآخر انہیں مشرقی یورپ سے طویل پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ سوویت اتحاد کے لیے، جسے جنگ میں زبردست شکستوں اور جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا تھا، استالن گراد میں فتح انتہائی اہمیت کی حامل تھی۔ یہ اسی شکست کا نتیجہ تھا کہ 1945ء میں نازی جرمنی کو دوسری جنگ عظیم میں مکمل شکست ہو گئی۔

گو کہ یہ معرکہ جنگ عظیم کا ایک اہم موڑ سمجھا جاتا ہے لیکن اسے جرمن اور سوویت افواج کے نظم و ضبط کے باعث بھی یاد رکھا جاتا ہے۔ سوویت جنہوں نے جرمن جارحیت کے خلاف پہلے استالن گراد کا دفاع کیا، کے لیے جنگ میں ایک ایسا موقع بھی آیا ہے کہ محاذ پر آنے والے نئے فوجیوں کی متوقع عمر ایک دن سے بھی کم ہوگئی لیکن اس کے باوجود انہوں نے پسپائی کے بجائے مزاحمت کی راہ اختیار کی۔ دوسری جانب انتہائی خراب موسمی حالات اور چاروں طرف سے گھرنے کے باوجود جرمن سپاہیوں نے زبردست نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا اور بالآخر ایڈولف ہٹلر کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہتھیار ڈال دیے۔