لاہور عجائب گھر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
لاہور عجائب گھر
Lahore Museum
Lahore Museum, Lahore.jpg
قائم 1865, بعد میں موجودہ مقام پر 1894 میں منتقل کر دیا گیا
محلِ وقوع مال روڈ, لاہور, پنجاب, پاکستان
متناسقات 31°34′06″N 74°18′29″E / 31.568226°N 74.308174°E / 31.568226; 74.308174
قِسم علم الآثار, آرٹ گیلری, ورثہ، جدید تاریخ، مذہبی
حجمِ مجموعات مہاتما بدھ کے مجسمے, پرانی پینٹنگز
زائرین 250,000 سن 2005
موقعِ حبالہ سرکاری موقع حبالہ
عجائب گھر کے سامنے سے لی گئی تصویر

لاہور میوزیم 1894ء میں تعمیر کیا گیا جو کہ جنوبی ایشیاء کے چند اہم ترین تاریخ کے مراکز میں سے ایک ہے۔ لاہور میوزیم کو مرکزی میوزیم بھی کہا جاتا ہے اور یہ لاہور کی معروف شاہراہ مال روڈ لاہور پر واقع ہے۔ رڈیارڈ کپلنگ کے والد جان لاک ووڈ کپلنگ اس میوزیم کے بڑے مداح تھے اور ان کا ناول کئم لاہور میوزیم کے گرد گھومتا ہے۔ 2005ء میں اس میوزیم میں تشریف لانے والے سیاحوں کی تعداد تقریباً 250،000 سے زیادہ تھی۔[1]
یہ میوزیم یونیورسٹی ہال کی قدیم عمارت کے بالمقابل واقع مغلیہ طرز تعمیر کا ایک شاہکار ہے۔ اس میوزیم میں مغل اور سکھوں کے دور کی نوادرات ہیں، جس میں لکڑی کا کام، مصوری کے فن پارے اور دوسرے نوادرات جو کہ مغل، سکھ اور برطانوی دور حکومت سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس میوزیم میں چند آلات موسیقی بھی رکھے گئے ہیں، اس کے علاوہ قدیم زیورات، کپڑا، برتن اور جنگ و جدل کا ساز و سامان شامل ہیں۔ یہاں قدیم ریاستوں کی یادگاریں بھی ہیں جو کہ سندھ طاس تہذیب کی یاد دلاتی ہیں۔ یہ بدھا دور کی یادگاریں بھی ہیں۔ بدھا کا ایک مجسمہ جس کو نریوان بدھا کا نام دیا جاتا ہے اس میوزیم کی سب سے مشہور یادگار تصور کی جاتی ہے۔ 2004ء میں نوبواکی تاناکا جو کہ پاکستان میں جاپانی سفیر تھے، انھوں نے پہلی بار جاپان کی جامعات کو یہاں اس مجسمے پر تحقیق کے لیے دعوت دی اور پاکستانی حکومت اور جامعات کے شعبہ جات تاریخ کو اس بارے مزید تحقیق سے روشنائی ہوئی، کیونکہ بدھا جاپان میں انتہائی قابل احترام تصور ہوتے تھے اور محققین کا کام قابل ستائش ہے۔[2]

لاہور میوزیم کے باہر زمزمہ توپ: اس کا ذکر رڈیارڈ کپلنگ کے ناول میں ملتا ہے

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]


بیرونی روابط[ترمیم]