دریائے راوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
دریائے راوی

دریائے راوی ، چمبہ کے نزدیک
منبع چمبہ ، ہماچل پردیش ، بھارت
دہانہ پاک بھارت سرحد سے ہوتے ہوئے دریائے چناب میں
طاس ممالک بھارت ، پاکستان
لمبائی 720 کلومیٹر
طاس رقبہ بھارت ، پاکستان اور افغانستان
نظام دریا دریائے سندھ کا نظام
بائیں معاون بیاس اور ستلج
دائیں معاون چناب اور سندھ

صوبہ پنجاب میں دریائے سندھ اوراس کے معان دریائے جہلم ، دریائے چناب ، دریائے راوی اور دریائے ستلج بہتے ہیں۔ دریائے راوی ضلع کانگڑہ میں درہ روتنگ سے نکلتا ہے اور ساڑھے چار سو میل لمبا ہے۔ پاک پنجاب کا درالحکومت لاہور اسی دریا کے کنارے واقع ہے۔ دریائے راوی اور دریائے چناب کا درمیانہ علاقہ دوآبہ رچنا کہلاتا ہے۔ دریائے راوی کی بڑی بری نہریں یہ ہیں۔ اپر باری دواب مادھو پور بھارت سے نکلتی ہے۔ اس کی قصور برانچ پاکستان کو سیراب کرتی ہے۔ نہر لوئر باری دوآب کے ہیڈورکس بلوکی میں ہیں۔ یہ نہر اضلاع ملتان اور منٹگمری کو سیراب کرتی ہے۔ انہار ثلاثہ ان میں دریائے راوی ، چناب اور جہلم کی تین نہریں اپر جہلم ، اپر چناب اور لوئر باری دواب شامل ہیں۔ گنجی یار منٹگمری اور ملتان کو سیراب کرنے کے لیے راونی کا پانی کافی نہ تھا۔ چنانچہ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے چناب کا پانی بلوکی کے مقام پر بذریعہ نہر اپرچناب دریائے راوی میں ڈالا گیا۔ اس سے نہر لوئر چناب کا پانی کم ہوگیا ۔اور گوجرانولہ شیخوپورہ ، لائلپور اور جھنگ کے اضلاع کے لیے پانی ناکافی ثابت ہونے لگا۔ چنانچہ منگلا کو نہر اپر جہلم کا پانی خانکی کے مقام پر دریائے چناب میں ڈال دیاگیا۔ اضلاع لائل پور ، گوجرانولہ ، ساہیوال اور ملتان کی نہری آبادیاں انہار ثلاثہ کی بدولت ہی سیراب ہوتی ہیں ان میں اعلیٰ قسم کی گندم اور امریکن کپاس پیدا ہوتی ہے۔