کھیوڑہ نمک کی کان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
کھیوڑہ نمک کی کان
Khewra Salt Mine - Crystal Deposits on the mine walls.jpg
کھیوڑہ نمک کی کان کی سرنگ (کرسٹل وادی)
مقام
کھیوڑہ نمک کی کان is located in پاکستان
کھیوڑہ نمک کی کان

متناسقات: 32°38′52.58″N 73°00′30.22″E / 32.6479389°N 73.0083944°E / 32.6479389; 73.0083944

مقام کھیوڑہ
صوبہ پنجاب
ملک پاکستان
ملکیت
مرافقہ پاکستان منرل ڈیویلپمنٹ کارپوریشن
موقع حبالہ کھیوڑہ نمک کی کان
تاریخ
آغاز 1872 (1872)
فعال 140 سال

کھیوڑہ نمک کی کان ضلع جہلم پاکستان میں واقع ہے۔ یہ جگہ اسلام آباد سے 160 جبکہ لاہور سے قریبا 250 کلومیٹر فاصلہ پر ہے۔

کھیوڑہ نمک کان کا ایک اندرونی منظر

نمک کی دریافت[ترمیم]

کھیوڑہ مہں موجود نمک کی یہ کان جنوبی ایشیا میں قدیم ترین ہے اور دنیا میں دوسرا بڑا خوردنی نمک کا ذخیرہ ہے۔ اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جب سکندر اعظم 322 ق م میں اس علاقے میں آیا تو اس کے گھوڑے یہاں کے پتھر چاٹتے ہوئے دیکھے گئے۔ ایک فوجی نے پتھر کو چاٹ کر دیکھا تو اسے نمکین پایا۔ یوں اس علاقے میں نمک کی کان دیافت ہوئی۔ اس کے بعد یہ کان یہاں کے مقامی راجہ نے خرید لی اور قیام پاکستان تک یہ کان مقامی جنجوعہ راجوں کی ملکیت رہی۔

کان کا نظام[ترمیم]

کھیوڑہ کی نمک کی کان کا موجودہ نظام چوہدری نظام علی خان نامی انجینئیر کا بنایا ہوا ہے۔ یہ کان زیر زمین 110 مربع کیلومیٹر رقبہ پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس میں ۱۹ منزلیں بنائی گئی ہیں جن میں سے 11 منزلیں زیر زمین ہیں۔ نمک نکالتے وقت صرف 50 فی صد نمک نکالا جاتا ہے جبکہ باقی 50 فی صد بطور ستون اور دیوار کان میں باقی رکھا جاتا ہے۔ کان دھانے سے 750 میٹر دور تک پہاڑ میں چلی گئی ہے اور اس کے تمام حصوں کی مجموعی لمبائی 40 کیلومیٹر ہے۔ اس کان میں سے سالانہ 325000 ٹن نمک حاصل کیا جاتا ہے۔

کان میں موجود عمارات[ترمیم]

کان کے مختلف حصوں میں بعض عمارات بھی بنائی گئی ہیں۔ ان میں سب سے مشہور نمک کی اینٹوں سے بنائی گئی ایک مسجد ہے جس میں بجلی کے قمقمے بھی نصب کئے گئے ہیں

کھیوڑہ نمک کان میں نمک کی اینٹوں سے بنائی گئی مسجد

۔

کان میں پانی کی نکاسی کے لئے پرنالوں کا ایک نظام بھی موجود ہے۔ پہاڑ سے رسنے والے پانی اور بارش کے پانے کے جمع ہونے سے نمکین پانی کے بعض تالاب بھی ہیں جن پر نمک ہی کے بنے ہوئے پل بنائے گئے ہیں۔

برطانوی سامراج کے خلاف مزاحمت[ترمیم]

مارچ 1849 میں برطانیہ نے اس علاقے پر قبضہ کیا تو یہ کان بھی ان کے تصرف میں چلی گئی۔ 1829 سے 1862 تک برطانوی تسلط کے خلاف مزاحمت کی گئی۔ 1872 میں ایک نیا نظام رائج کیا گیا جس سے کام کا بوجح بہت بڑھ گیا۔ کان کنوں کو روزانہ کان میں بند کر دیا جاتا تھا اور اس وقت نکلنے دیا جاتا تھا جب وہ اپنی روزانہ کی مقررہ مقدار میں نمک کھود لیتے تھے۔ مرد اور عورتیں بلکہ بچے بھی کان میں کام کرتے ہیں۔ ان حالات میں بعض بچے کان ہی میں پیدا ہوئے۔ 1872 سے 1876 میں کان کنوں نے کئی مواقع پر اس سلوک کے خلاف کام روک دیا۔ کان کے چیف انجینئیر Warth نے دہلی سے Wright صاحب کی مدد سے فوج طلب کر لی اور بارہ کان کنوں کو کن کے سامنے کھڑا کر کے گولی مار دی گئی۔ ان میں سے دس کان کنوں کے نام یہ ہیں:

کھیوڑہ کے نمک سے بنائے گئے لیمپ
  1. عبداللہ
  2. محمد سردار
  3. محمد حسن
  4. نواب
  5. اللہ بخش
  6. خدا بخش
  7. محمد عبداللہ
  8. جاویہ
  9. پیرا
  10. محمد واحد

طبی استعمال[ترمیم]

کھیوڑا نمک کی کان کو بعض لوگ دمہ کے مرض میں مفید جانتے ہیں۔ چنانچہ یہاں ایک تجرباتی مطب قائم کیا گیا ہے جس میں دمہ کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے علاوہ بیرون از ملک مریض بھی یہاں آتے ہیں[1]