عبد الحفیظ کاردار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
عبد الحفیظ کاردار
ذاتی معلومات
مکمل نام عبد الحفیظ کاردار
پیدائش 17 جنوری 1925 (1925-01-17)
لاہور, پنجاب, برطانوی بھارت
وفات 21 اپریل 1996 (عمر 71 سال)
اسلام آباد, پنجاب, پاکستان
عرفیت عبدالحفیظ کے طور پر کھیلے (تک 1947)
بیٹنگ انداز بائیں ہاتھ
بولنگ انداز سست رفتار بائیں بازو کی قدامت پسند
کردار پاکستانی کپتان
تعلقات ذوالفقار احمد (بردار نسبتی),
فاروق کاردار (عم زاد),
سائرل ہیسٹیلو (خسر),
شاہد کاردار (بیٹا)
بین الاقوامی معلومات
قومی ٹیم بھارت
  پاکستان
اولین ٹیسٹ (cap 29/7) 22 جون 1946 
بھارت v انگلستان
آخری ٹیسٹ 26 مارچ 1958 
پاکستان v ویسٹ انڈیز
اندرون ملک ٹیم کی معلومات
سال ٹیم
1953–1954 پاکستان مشترکہ سروسز کرکٹ ٹیم
1948–1950 واروکشائر
1947–1949 جامعہ آکسفورڈ
1944 مسلم کرکٹ ٹیم
1943–1945 شمالی بھارت
کیریئر کے اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ کرکٹ فرسٹ کلاس کرکٹ
میچ 26[1] 174
رنز بنائے 927 6832
بیٹنگ اوسط 23.76 29.83
100/50 {{{100/501}}} {{{100/502}}}
بہترین سکور 93 173
گیندیں کرائیں 2712 24256
وکٹیں 21 344
بولنگ اوسط 45.42 24.55
اننگز میں 5 وکٹ 0 19
میچ میں 10 وکٹ 0 4
بہترین بولنگ 3/35 7/25
کیچ/سٹمپ 16/– 110/–
Source: CricketArchive, 3 دسمبر 2008

عبد الحفیظ کاردار (1996ء-1925ء)ایک بین الاقوامی کرکٹر تھے جو بھارت اور پاکستان دونوں ممالک کے لئے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے تین کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ دیگر دو کھلاڑی عامر الہی اور گل محمد ہیں۔

وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان تھے اور پاکستان میں کرکٹ کے حوالے سے انکی خدمات کی بہت اہمیت ہے۔ [2][3]

عبد الحفیظ کاردار نے اپنا پہلا ٹیسٹ بھارت کی جانب سے 1946ء کے دورۂ انگلستان میں کھیلا اور اس سیریز کے بعد آپ ہندوستان واپس آنے کے بجائے جامعہ آکسفرڈ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلستان ہی میں ٹھہر گئے اور اس دوران اپنی کرکٹ کو بھی جاری رکھا۔

اس دوران واروکشائر کاؤنٹی نے آپ سے معاہدہ کر لیا اور بعد ازاں اسی کلب کے چیئرمین کی صاحبزادی سے آپ کی شادی بھی ہوئی۔ تقسیم ہند کے بعد آپ نے بجائے بھارت کے پاکستان کو اپنا وطن منتخب کیا۔

آپ 1952ء میں بیرون ملک کا پہلا دورہ کرنے والے پاکستانی دستے کے قائد تھے۔ پاکستان نے اپنا پہلا دورہ بھارت کا کیا تھا جہاں لکھنؤ میں کھیلے گئے ٹیسٹ میں فضل محمود کی شاندار گیندبازی کی بدولت پاکستان نے تاریخی کامیابی سمیٹی۔

عبد الحفیظ کاردار کے کیریئرکی دوسری یادگار جیت 1954ء میں دورۂ انگلستان میں اوول ٹیسٹ کی فتح تھی۔ [4]

کاردار ہی کی زیر قیادت پاکستان نے 1955ء میں نیوزی لینڈ کو اپنے ہی میدانوں میں سیریز میں شکست دی اور پھر 1956ء میں آسٹریلیا کے خلاف واحد ٹیسٹ میں کامیابی سمیٹی۔

آپ کا آخری دورہ ویسٹ انڈیز کا تھا جو 1958ء میں کیا گیا اور آپ کے آخری ٹیسٹ میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز جیسے سخت حریف کو ایک باری اور ایک رن کے فرق سے شکست دی۔

26 ٹیسٹ مقابلوں پر محیط اپنے دور میں عبد الحفیظ نے 23 مقابلوں میں پاکستان اور 3 مقابلوں میں بھارت کی نمائندگی کی۔ آپ 1972ء میں پاکستان کرکٹ بورڈ سے وابستہ ہوئے اور یہاں تک کہ اس کے سربراہ بھی بن گئے۔ البتہ 1977ء میں آپ کو بے جا حکومتی مداخلت اور کھلاڑیوں کے احتجاج کے باعث مستعفی ہونا پڑا۔

آپ نے سیاست میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ایک مرتبہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر رکن پنجاب اسمبلی بھی منتخب ہوئے تھے اور صوبائی کابینہ میں وزیر بھی رہے۔ [5]

عبد الحفیظ کاردار کا انتقال 21 اپریل 1996ء کو لاہور میں ہوا۔

پیشرو
کوئی نہیں
پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان
1952–1958
جانشین
فضل محمود

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Kardar played 3 Test matches for India, scoring a total of 80 runs at an average of 16.00. He then became the inaugural captain of Pakistan.
  2. ^ Wilde, Simon (13 November 2005). "The top 10 Pakistan Test cricketers". The Sunday Times (London). http://www.timesonline.co.uk/tol/sport/article589595.ece. Retrieved 2010-01-25. 
  3. ^ "Player Profile: Abdul Kardar". ای ایس پی این کرک انفو. http://www.cricinfo.com/ci/content/player/41030.html. Retrieved 2010-01-25. 
  4. ^ 17 اگست، پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا یادگار ترین دن
  5. ^ پاکستان کا پہلا قائد