پاکستان

وکیپیڈیا سے

(پاکستانی سے رجوع مکرر)
Jump to: navigation, search
اس صفحہ کو فی الحال ترامیم کیلیۓ نـیـم محفوظ کر دیا گیا ہے، اب اس میں ترمیم کیلیۓ صارف کو اندراج (registration) کر کے داخل نوشتہ (log in) ہونا لازم ہے۔ اس فیصلے کی وجوہات میں احتمالِ تخریب کاری و جانبداری، حذف شدگی سے قبل انتباہ، مضمون کی بہتری، اور یا پھر اسکی دائرہ المعارف میں شمولیت سے نااہلیت شامل ہوسکتی ہیں۔ تبدیلیوں پر بحث یا صفحہ کو غیرمحفوظ کرنے کے بارے میں گفتگو تبادلۂ خیال کے صفحہ پر کیجیۓ۔


یہ مضمون منتخب مقالہ بنائے جانے کے لیے امیدوار ہے۔ اس لیے اس مضمون کو خاص توجہ کی ضرورت ہے۔
اسلامی جمہوریۂ پاکستان
پاکستان کا پرچم پاکستان کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: ایمان، اتحاد، تنظیم
ترانہ: قومی ترانہ
پاکستان کا محل وقوع
دارالحکومت اسلام آباد
عظیم ترین شہر کراچی
دفتری زبان(یں) اردو، انگریزی
نظامِ حکومت
صدر
وزیرِ اعظم
وفاقی اسلامی جمہوریہ (نیم صدارتی نظام)
پرویز مشرف
سیدیوسف رضا گیلانی
آزادی
- - بنو امیہ و بنو عباس
-سلطنت غزنویہ
-سلطنت غوریہ
-سلطنت دہلی
-سلطنت مغلیہ
-درانی سلطنت
- اعلان آزادی
- جمہوریہ
برطانیہ سے
711ء تا 962ء
962ء تا 1187ء
1187ء تا 1206ء
1210ء تا 1526ء
1526ء تا 1707ء
1747ء تا 1823ء
14 اگست 1947
23 مارچ 1956
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
880254  مربع کلومیٹر (36)
339868 مربع میل
3.1
آبادی
 - تخمینہ:2008ء
 - 1998 مردم شماری
 - کثافتِ آبادی
 
162,635,500 (6)
132352279
198 فی مربع کلومیٹر(57)
513 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ء

446.1 ارب بین الاقوامی ڈالر (26 واں)
2600 بین الاقوامی ڈالر (133 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ء)
0.551
(136) – متوسط
سکہ رائج الوقت پاکستانی روپیہ (PKR)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)
پاکستان کا معیاری وقت
(یو۔ٹی۔سی۔ 5)
غیر مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 5)
ملکی اسمِ ساحہ
    (انٹرنیٹ)
.pk
رمزِ بعید تکلم
  (کالنگ کوڈ)
+92

اسلامی جمہوریۂ پاکستان جنوبی ايشيا ميں واقع ہے۔ پاکستان کے مشرق ميں بھارت، شمال مشرق ميں چین اور مغرب ميں افغانستان اور ايران اور جنوب ميں بحيرہ عرب واقع ہيں۔ پاکستان کا مطلب ہے پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ اور يہ نام چودھری رحمت علی نے تجويز کيا تھا۔


فہرست

تاريخ

711 میں اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں محمد بن قاسم پاکستان کے خاصے حصے کو فتح کرتا ہے اور یوں پاکستان دنیا کی سب سے بڑی عرب ریاست کا ایک حصہ بن جاتا ہے جس کا دارالحکومت دمشق، زبان عربی اور مذہب اسلام تھا۔ پاکستان سیاسی، مزہبی اور ثقافتی طور پر عرب دنیا سے جڑ جاتا ہے۔ اس واقع نے پاکستان اور جنوبی ایشیاء کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

سن 1947 سے پہلے بھارت، پاکستان اور بنگلہ ديش برطانوى كالونى تھےاور برصغیر کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کی آزادی (انگريزوںسے) کی تحريک کے دوران ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنے لیے ايک عليحدہ ملک کا مطالبہ کيا۔ اس مطالبے کے تحت تحريک پاکستان وجود ميں آئ۔ اس تحريک کی قيادت محمد علی جناح نے کی۔ 14 اگست 1947 کو پاکستان وجود ميں آيا۔

1947 سے لے کر 1948 تک پاکستان کو بڑی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کئ اندورنی اور بيرونی مشکلات نے پاکستان کو گھيرے رکھا۔ 1948 ميں جناح صاحب کی وفات ہو گئی۔ ان کے بعد حکومت لياقت علی خان کے ہاتھ ميں آ گئ۔ 1951 ميں لياقت علی خان کو شہید کر ديا گيا۔ 1951 سے 1958 تک کئ حکومتيں آئيں اور ختم ہو گئيں۔ 1956 ميں پاکستان ميں پہلا آئين نافذ ہوا۔ اس کے با وجود سياسی بحران کا نتيجہ يہ ہوا کہ 1958 ميں پاکستان ميں مارشل لاء لگ گيا۔

ایوب دور میں پاکستان میں ترقی تو ہوئی لیکن مشرقی پاکستان دور ہوتا گیا۔ 1963 میں پاکستان کے دوسرے آئین کا نفاذ ہوا۔

1965میں جنرل ایوب نے آپریشن جبرالٹر کے نام سے کشمیر میں ایک فوجی مہم انڈیا کےخلاف شروع کی جس کے جواب میں انڈیا نے جنگ کو بین الاقوامی سرحدوں تک پهلا دیا یه جنگ ستره دن جاری رهی ـ

پاکستان ميں اس جنگ کو انڈیا کی جارحیت کے طور پر پڑهایا جاتاہے اور بتایا جاتا ہے که انڈیا کو اس جنگ میں شکست کا سامناکرنا پڑاتھا ـ اس جنگ کے اثرات میں سنده طاس معاهده هوا جس میں پاکستان کے کچھ دریاؤں کا پانی انڈیا کو دے دیا گيا ـ

سنده طاس معاہدے کا نتیجه ہے که دریائے راوی اب ایک گندے نالے کا منظر پیش کرتا ہے ـ

مشرقی پاکستان کے حالات آہستہ آہستہ بگڑتے گۓ عوامی لیگ کی انتخابات میں واضع کامیابی کے باوجود فوجی حکمران یحیی خان نے اقتدار کی منتقلی کی بجائے مشرقی پاکستان میں فوجی اپریشن کو ترجیع دی جس کے جواب میں مشرقی پاکستان میں فوج کے خلاف مزاحمت شروع هوئی جس کے نتیجے میں ۔ آخرکار1971 میں ہندوستان کے ایماء پر مشرقی پاکستان نے ایک علیحدہ ملک بنگلہ دیش بنا لیا۔

1972 سے لے کر 1977 تک پاکستان میں پی پی پی کی حکومت تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو ّپاکستان کے وزیر اعظم تھے۔ اس دور میں سوشلسٹ اور پین اسلامک عنصر بڑھا۔ اس دور میں پاکستان میں نيشنلائيزيشن ہوئ۔ اس دور کے آخر ميں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درميان کشيدگی بڑھ گئ اور اس کے نتيجے ميں 1977 ميں دوبارہ مارشل لاء لگ گيا۔

اگلا دور 1977 تا 1988 مارشل لاء کا تھا۔ اس دور ميں پاکستان کے حکمران جنرل ضیا الحق تھے۔ افغانستان ميں جنگ کی وجہ سے پاکستان کو بہت امداد ملی۔ اسی دور ميں 1985 کے غیر جماعتی انتخابات ہوۓ اور جونيجو حکومت بنی۔ جسے 1988 میں ضیاء الحق نے برطرف کر ديا- 1988 ميں صدر مملکت کا طيارہ گر گيا اور پاکستان ميں پھر سے جمہوريت کا آغاز ہو گيا۔

اس کے بعد 1988 ميں انتخابات ہوۓ اور بينظير بھٹو کی قيادت ميں پی پی پی اور اس کی حليف جماعتيں اقتدار ميں آئيں۔ صدر غلام اسحاق خان نے حکومت کو باطرف کر ديا۔ 1990 ميں نواز شريف کی قيادت ميں آئ جے آئ اور اس کی حليف جماعتيں اقتدار ميں آئيں۔ 1993 ميں يہ حکومت بھی برطرف ہو گئ۔

اس کے بعد پاکستان کے نۓ صدر فاروق لغاری تھے۔ اگلے انتخابات 1993 ميں ہوۓ اور ان ميں دوبارہ پی پی پی اور اس کی حليف جماعتيں اقتدار ميں آئيں۔ يہ حکومت بھی بر طرف ہو گئ۔ 1997 ميں انتخابات کے بعد دوبارہ نواز شريف کی قيادت ميں مسلم ليگ ن اور اس کی حليف جماعتيں اقتدار ميں آئيں۔ اس حکومت کے آخر ميں سياسی اور فوجی حلقوں ميں کشيدگی بڑھ گئ اور اس کا نطيجہ يہ نکلا کہ 1999 ميں دوبارہ فوجی حکومت آ گئ۔ صدر مملکت پرويز مشرف بنے اور 2001 ميں ہونے والے انتخابات کے بعد وزير اعظم ظفر اللہ خان جمالی بنے۔

2004ميں وقت كے جنرل مشرف نے شوکت عزیز كو وزير اعظم بنانے كا فيصله كيا . مختصر عرصہ کے لیے چوہدرى شجاعت حسين نے وزیراعظم کی ذمہ داریاں سرانجام دیں اور شوکت عزیز کے قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہونے کے بعد وزارت عظمہ سے مستعفی ہو گئے۔ شوكت عزیز صاحب قومی اسمبلی کی مدت 15 نومبر 2007 کو ختم ہونے کے بعد مستعفی ہو گئے۔ 16 نومبر 2007 کو سینٹ کے چیرمین جناب میاں محمد سمرو نے عبوری وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔ فروری 2008 میں الیکشن کے بعد پی پی پی پی نے جناب یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم نامزد کیا۔ مسلم لیگ (ن)، اے این پی کی حمایت سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔

سياست

پاکستان ايک وفاقی جمہوريت ہے۔

علاقائی تقسیم

پاکستان کا نقشہ
پاکستان کا نقشہ

پاکستان ميں 4 صوبے، 2 وفاقی علاقے اور پاکستانی کشمير کے 2 حصے ہيں۔

صوبہ جات

وفاقی علاقے

پاکستانی کشمير


جغرافيہ

پاکستان جنوبی ايشيا کے شمال مغربی حصے ميں واقع ہے۔

پاکستان کے مشرقی علاقے ميدانی ہيں اور مغربی اور شمالی علاقے پہاڑی ہيں۔ پاکستان کا سب سے بڑا دريا درياۓ سندھ ہے۔ يہ دريا پاکستان کے شمال سے شروع ہوتا ہے اور سرحد، پنجاب اور سندھ سے گزر کر سمندر ميں گرتا ہے۔ سرحد کے مشرقی علاقے، سندھ کے وسطی علاقے اور پنجاب کے شمالی، وسطی اور وسطی جنوبی علاقے ميدانی ہيں، نہری ہيں اور آباد يا زير کاشت ہيں۔ سندھ کے مشرقی اور پنجاب کے جنوب مشرقی علاقے ريتيلے سحرا ہيں۔ زيادہ تر بلوچستان پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے ليکن سبی کا علاقہ ميدانی اور سحرائ ہے۔ سرحد کے مغربی علاقوي ميں نيچے پہاڑ ہيں جبکہ شمالی سرحد اور شمالی علاقہ جات ميں دنيا کا سب سے اونچا پہاڑی سلسلہ واقع ہے۔

معيشت

پاکستان دوسری دنيا کا ايک ترفی پزير ملک ہے۔ پاکستان کے اندرونی معاملات ميں فوج كى بيجا مداخلت، کثیر اراضی پر قابض افراد (وڈیرے ، جاگیردار اور چوہدری وغیرہ) کی عام انسان کو تعلیم سے محروم رکھنے کی نفسیاتی اور خود غرضانہ فطرت (تاکہ بیگار اور سستے پڑاؤ (labor camp) قائم رکھے جاسکیں)، اعلٰی عہدوں پر فائز افراد کا اپنے مفاد میں بنایا ہوا دوغلا تعلیمی نظام (تاکہ کثیر اراضی پر قابض افراد کو خوش رکھا جاسکے اور ساتھ ساتھ اپنی اولاد کی [عموماً انگریزی اور/ یا ولایت میں تعلیم کے بعد] اجارہ داری کیلیۓ راہ کو کھلا رکھا جاسکے)، مذہبی علماؤں کا کم نظر اور اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کا رویہ اور بيرونی کشيدگی کی وجہ سے ملک کی معيشت زيادہ ترقی نہيں کر سکی۔ پہلے پاکستان کی معيشت کا زيادہ انحصار زراعت پر تھا۔ مگر اب پاکستان کی معيشت (جو کہ کافی کمزور سمجھی جاتی ہے) نے گیارہ ستمبر کے امریکی تجارتی مرکز پر حملے، عالمی معاشی پستی، افغانستان جنگ، پانک کی کمی اور بھارت کے ساتھ شديد کشيدگی کے با وجود کچھ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کيا [حـوالـہ درکار] ۔ ابھی پاکستان کی معيشت مستحکم ہے اور تيزی سے بڑھنا شروع ہو گئ ہے [حـوالـہ درکار] ۔ کراچی سٹاک ایکسچینج کے کے ايس سی انڈکس گزستہ دو سالوں سے دنيا بھر ميں سب سے بہترين کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے [حـوالـہ درکار] ۔

اعداد و شمار

پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنيا کا چھٹا سب سے بڑا ملک ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی آبادی بہت تيزی سے بڑھ رہی ہے۔

پاکستان کے 96.7 فيصد شہری مسلمان ہيں جن ميں سے تقريبا ٣٥ فيصد اہل تشیع ٦٠ فيصد اہل سنت اور پانچ فيصد ديگر فرقوں سے تعلق رکھتے ہيں۔ تقريبا ايكـ فيصد پاکستانی ہندو اور اتنے ہی پاکستانی عیسائی ہيں۔ ان کے علاوہ کراچی ميں پارسی، پنجاب و‌سرحد ميں سکھ اور شمالی علاقوں ميں قبائلی مذاہب کے پيرو کار بھی موجود ہيں۔

پاکستان کی قومی زبان اردو ہے۔ ليکن زيادہ تر دفتری کام انگريزی ميں کۓ جاتے ہيں۔ پاکستان کے خواص بھی بنيادی طور پر انگريزی کا استعمال کرتے ہيں۔ پاکستان ميں تمام تر اعلیٰ تعليم بھی انگريزی ميں ہی دی جاتی ہے۔ با وجود اس کے اردو پاکستان کی عوامی و قومی زبان ہے۔ اردو کے علاوہ پاکستان ميں کئ اور زبانيں بولی جاتی ہيں، ان ميں پنجابی، سرائکی، سندھی، گجراتی، بلوچی، براہوی، پشتو اور ہندکو زبانیں قابلِ ذکر ہيں۔

پاکستان ميں مختلف قوموں سے تعلّق رکھنے والے لوگ آباد ہيں، ان ميں زيادہ نماياں پنجابی، سندھی، پٹھان، بلوچی اور مہاجر ہيں۔ ليکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کے درميان فرق کم ہوتا جا رہا ہے۔

تہذیب

پاکستان کی بہت قديم اور رنگارنگ تہذيب ہے۔ پاکستان کا علاقہ ماضی ميں دراوڑ، آريا، ہن، ايرانی، يونانی، عرب، ترک اور منگول لوگوں کی رياستوں ميں شامل رہا ہے۔ ان تمام تہذيبون نے پاکستان کی موجودہ تہذيب پر بہت گہرا اثر چھوڑا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف صوبوں ميں لباس، کھانے، زبان اور تمدن کا فرق پايا جاتا ہے۔ اس ميں اس علاقوں کی تاريخی عليحدگی کے ساتھ ساتھ موسم اور آب و ہوا کا بھی بہت اثر ہے۔ ليکن ايک اسلامی تہذيب کا حصہ ہونے کی وجہ سے اس ميں کافی تہذيبی ہم آہنگی بھی موجود ہے۔

پاکستان ميں ٹی وی ڈرامہ ديکھنے کا بہت رواج ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی فلميں بھی بہت شوق سے ديکھی جاتی ہيں اور پاکستان کی اپنی فلموں سے کہيں زيادہ پسند کی جاتی ہيں۔

پاکستان ميں بہت مختلف قسم کی موسيقی ملتی ہے۔ کلاسيکی موسيقی، نيم کلاسيکی موسيقی، لوک موسيقی اور اس کے ساتھ ساتھ جديد پاپولر ميوزک سب ہی کے پاکستان ميں بلند پايہ موسيقار موجود ہيں۔ پاکستان دنيا بھر ميں قوالی کا مرکز ہے۔

پاکستانی تہذيب ميں مغربی عناصر بڑھتے جا رہے ہيں۔ يہ امراء اور روساء ميں اور بڑے شہروں ميں زيادہ نماياں ہے کيونکہ مغربی اشياء، ميڈيا اور تہذيب تک ان کی زيادہ رسائ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ايک بڑھتی ہوئ تحريک ہے جو کہ مغربی اثرات کو کم ديکھنا چاہتی ہے۔ کچھ جکہوں ميں اس تحريک کا زيادہ جھکا‏ؤ اسلام اور کچھ ميں روايات کی طرف ہے۔

پاکستانيوں کی بڑی تعداد امريکہ، برطانيہ، آسٹريليا، کنيڈا اور مشرق وسطی ميں مقيم ہے- ان بيرون ملک پاکستانيوں کا پاکستان پر اور پاکستان کی بين الاقوامی تصوير پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ ان لوگوں نے ماضی ميں پاکستان ميں بہپ سرمايہ کاری بھی کی ہے۔

پاکستان کا سب سے پسندينہ کھيل کرکٹ ہے۔ پاکستان کی کرکٹ ٹيم دنيا کی اچھی ٹيموں ميں شمار ہوتی ہے۔ کرکٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان ميں ہاکی بھی بہت شوق سے کھيلی جاتی ہے۔ ہاکی جو كہ پاكستان كا قومى كھيل بھى ہےـ چوگان (پولو) پاکستان کے شمالی علاقہ جات كے لوگوں كا كھيل ہے اور اس كھيل كى پيدايش بھى يہيں ہوئى اور آج تک ان علاقوں ميں بہت شوق سے کھيلی جاتی ہے۔

صحت عامہ

دیگر انسانی بنیادی ضروریات کی ناپیدی اور انحطاط کے ساتھ ساتھ صحت عامہ کا شعبہ بھی پاکستان میں انتہائی تنزل کا شکار ہے۔ جہاں دنیا ڈی این اے ویکسین اور وراثی معالجات کی جانب سفر کر رہی ہے وہاں پاکستان میں بڑے ہی نہیں بچے تک ناقص غذا اور صفائی ستھرائی کی عدم دستیابی و غلاظت سے جنم لینے والے امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اچھا اور مناسب علاج صرف اعلٰی طبقے اور پیسے والے امیر افراد کے لیۓ مخصوص ہے جبکہ غریب سرکاری شفاخانوں میں طبیبوں اور ممرضات ہی کی نہیں چپراسیوں اور بھنگیوں تک کی باتیں اور دھتکار سے گذر دوا حاصل کر پاتے ہیں۔ سرکاری شفاخانے دنیا بھر کی تہذیب یافتہ اقوام میں اپنا ایک معیار رکھتے ہیں مگر پاکستان میں انکی حالت ایسی ہے کہ جسے دیکھنے کے بعد اس قوم کی تہذیبی اقدار کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔

تعطيلات

تعطيل نام وجہ
12 ربیع الاول جشن عید میلاد النبی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ کا دن
1 مئی يوم مزدور مزدوروں کا عالمی دن
14 اگست يوم آزادی اس دن 1947ء میں پاکستان وجود میں آیا ہوا
25 دسمبر ولادت قائد قائد اعظم کی ولادت کا دن
10 ذو الحج عيد الاضحى حضرت ابراہيم علیہ السلام کی قربانی کی ياد ميں
1 شوال عيد الفطر رمضان کے اختتام پر اللہ كى نعمتوں كى شكرگزارى كا دن
23 مارچ يوم پاکستان 1940میں اس روز منٹو پارک (موجودہ اقبال پارک) میں قراردادِ پاکستان منظور ہوئی

قومی چیزیں

پاکستان کے قومی نشانات
جھنڈا ہلالی پرچم
نغمہ "پاک سر زمین"
گیت ("دل دل پاکستان")
جانور مارخور
پرندہ چکور
پھول یاسمین
درخت نامعلوم
پھل آم
کھیل ہاکی
کیلنڈر عیسوی
  • قومی دن

یوم پاکستان، 23 مارچ کو منایا جاتا ہے۔ 23 مارچ 1940 کو قرار داد پاکستان منظور ہوئی اور اسی دن پاکستان پا پہلا آئین 1956 میں منظور ہوا۔

  • قومی شاعر

حکیم الامت حضرت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

  • قومی پرچم

اصل مضمون کے لیے دیکھیں قومی پرچم

گہرا سبز رنگ جس پر ہلال اور پانچ کونوں والا ستارہ بنا ہوا ہے۔ جھنڈے میں شامل سبز رنگ مسلمانوں کی، سفید رنگ کی بٹی پاکستان میں آباد مختلف مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ قومی پرچم گیارہ اگست 1947 کو دستور ساز اسمبلی نے دی تھی۔ اس پرچم کو لیاقت علی خان نے دستور ساز اسمبلی میں پیش کیا۔

  • قومی پھول

یاسمین

  • قومی لباس

شلوار قمیض، جناح کیپ، شروانی (سردیوں میں)

  • جانور

مارخور قومی جانور ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں پائے جانے والے منفرد جانور نیل گائے، چنکارہ، کالا ہرن، ہرن، چیتا، لومڑی، مارکوپولو بھیڑ، سبز کچھوا، نابینا ڈولفن، مگر مچھ ہیں۔

  • قومی پرندہ

شاہین کو قومی پرندے کی حیثیت حاصل ہے۔

  • قومی مشروب

گنے کا رس

  • قومی نعرہ

پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا للہ

یہ نعرہ مشہور شاعر اصغر سودائی نے 1944ء میں لگایا جو تحریک پاکستان کے دوران بہت جلد زبان زدوعام ہو گیا۔ ان کا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔

* قومی ترانے کے لیے دیکھیں مضمون قومی ترانہ

ریاستی نشان

پاکستان کا ریاستی نشان

ریاستی نشان درج ذیل نشانات پر مشتمل ہے۔

چاند اور ستارہ جو کہ روایتی طور پر اسلام سے ریاست کی عقیدت اور محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ چوکور شیلڈ جس میں ملک کی چار اہم صنعتوں کی علامت کندہ ہے۔ شیلڈ کے ارد گرد پھول اور پتیاں بنی ہوئی ہیں جو وطن عزیز کے بھر پور ثقافتی ماحول کی عکاسی کرتی ہیں۔ علامت کے چاروں طرف بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کا قول۔۔۔ اتحاد، ایمان، نظم تحریر ہے۔

زبانیں

زبان بیان
اردو قومی زبان
انگریزی سرکاری زبان
پنجابی 45٪
سندھی 12٪
سرائیکی (پنجابی سے ملتی جلتی) 10٪
اردو
پشتو 27٪
بلوچی
ہندکو
براہوی
برشاشکی، چترالی اور دیگر زبانیں

اہم شہر

مکمل مضمون کے لئے پاکستان کے شہر

کراچی، لاہور، سا ہیوال,فیصل آباد، ملتان، حیدر آباد، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، ڈیرہ اسماعیل خان، بہاولپور، سرگودھا، جھنگ، سکھر، ڈیرہ غازی خان، سیالکوٹ، گجرات، گوادر، چترال، سوات، مری، شیخوپورہ، گوجرانوالہ وغیرہ

مزید دیکھیے


قیام پاکستان

تحریک پاکستان جنگ آزادی 1857 - علی گڑھ تحریک - تقسیم بنگال - شملہ وفد - مسلم لیگ - منٹو مارلے اصلاحات 1909 - معاہدہ لکھنؤ - مانٹیگو چیمسفورڈ اصلاحات 1919 - تحریک خلافت - تجاویز دہلی - سائمن کمشن - نہرو رپورٹ - چودہ نکات - خطبہ الہ آباد - گول میز کانفرنس - دو قومی نظریہ - 1937 کے انتخابات - قرارداد پاکستان - کرپس مشن - گاندھی جناح مذاکرات 1944 -انتخابات 1945-1946-کیبنٹ مشن پلان - تقسیم ہند منصوبے کی منظوری
راہنما: سر سید احمد خان - اقبال - قائد اعظم - لیاقت علی خان - نواب بہادر یار جنگ - عبد الرب نشتر - فاطمہ جناح - چودھری رحمت علی - محمد علی جوہر - شوکت علی - فضل الحق - مولانا ظفر علی خان - حسرت موہانی - خواجہ ناظم الدین - عبدالقیوم خان - اور...
کارکن: سلہری - حمید نظامی - الطاف حسین - یوسف خٹک - اور...


موتمر عالم اسلامی
افغانستان | الجزائر | البانیا | آذربائیجان | بحرین | بنگلہ دیش | بینن | برکینا فاسو | برونائی | کیمرون | چاڈ | جزائر قمر | آئیوری کوسٹ | جبوتی | مصر | گیبون | گیمبیا | گنی | گنی بساؤ | گیانا | انڈونیشیا | ایران | عراق | اردن | کویت | قازقستان | کرغزستان | لبنان | لیبیا | مالدیپ | ملائیشیا | مالی | ماریطانیا | مراکش | موزمبیق | نائجر | نائجیریا | اومان | پاکستان | فلسطین | قطر | سعودی عرب | سینیگال | سیرالیون | صومالیہ | سوڈان | سورینام | شام | تاجکستان | ترکی | تیونس | ٹوگو | ترکمانستان | یوگینڈا | ازبکستان | متحدہ عرب امارات | یمن


اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) Flag of CIS
پاکستان | آذربائیجان | ایران | قازقستان | کرغزستان | افغانستان | تاجکستان | ترکمانستان | ترکی | ازبکستان
تصویر:Emblem Pakistan.jpeg
پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات
جغرافیائی: ایشیا | جنوبی ایشیا | برصغیر
تاریخی و ثقافتی: دولت مشترکہ | موتمر عالم اسلامی | اسلامی جمہوریہ
بین الاقوامی تنظیمیں اور تجارت: اقوام متحدہ | عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) | ایشیائی ترقیاتی بینک | سارک | غیر وابستہ ممالک کی تحریک | جنوبی ایشیائی آزاد تجارت کا معاہدہ | اقتصادی تعاون کی تنظيم (ای سی او) | D-8 | G-20 | G-77 - G-24


بحیرہ عرب کے ممالک
ایران اومان بھارت پاکستان سری لنکا

صومالیہ مالدیپ یمن


اسلامی جمہوریتیں
افغانستان | ایران | پاکستان | ماریطانیہ


سارک
افغانستان | بنگلہ دیش | بھوٹان | بھارت | پاکستان | سری لنکا | نیپال | مالدیپ

مبصرین: چین | جاپان | امریکہ | جنوبی کوریا

بیرونی روابط

دیگر زبانیں