گجر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


گجر، گرجر یاگوجر، اصل لفظ ہے گرجر۔ گرجر سنسکرت زبان کا لفظ ہے گر+جر-گر کا مطلب ہوتا ہے تباہ کر دینے والا اور جر کا مطلب ہوتا ہے دشمن۔ اپنے دشمن کو تباہ کر دینے والا۔ اس قوم کے لوگ بھارت، پاکستان، کشمیر،جارجیا (گورجستان)،چیچنیا ، کرغستان ، ایران ،چین اورافغانستان میں بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ گجر قوم کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کے ہندوستان کی۔ گجر قوم آریا نسل سے تعلق رکھتی ہے آریا سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہوتا ہے مہذب یا مقدس۔ اسی طرح آریا قوم کے ملک کو آریا ورت بولا جاتا تھا جس کا مطلب تھامقدس سر زمین۔ آریاورت کوہِ ہمالیہ سے شروع ہو کر بحر ھند کے مغربی کناروں تک پھیلا ہوا تھا اور اس کے بعد آریا قوم نے مشرقی کناروں تک اپنی حکومت وسیع کر لی۔ گجر قوم کا ذکر مہابھارت میں بھی ملتا ہے جس میں گجر قوم نے پانڈؤں کا ساتھ دیا تھا۔اسی طرح ہندومت کی جتنی مذہبی کتابیں ہیں ان میں گجر قوم کا ذکر کثرت سے ملتا ہے اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ گجر کوئی غیر ملکی حملہ آور نہیں بلکہ اسی خطے سے جنم لینے والی ایک قوم ہے یہ تو انگریز دورِ حکومت میں ان کو غیر ملکی قوم ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ اور کئی لوگوں نے اس کو سکندرِ اعظم کی نسل میں سے ثابت کرنے کی کوشش کی اور کئی انگریز تاریخ دانوں نے ان کو روسی قبائل سے ملانے کی کوشش کی ہے اور ہندوستان میں گجر قبائل کی آمد کو چوتھی صدی میں ہن قوم کے ساتھ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جو کہ سب غلط ہے کیونکہ مہابھارت صدیوں پرانی ہے اور اس میں گجر قوم کا ذکر یا رامائن اور گیتا میں گجر قوم کا حوالہ یہ ثابت کرتا ہے کہ گجر قوم غیر ملکی نہیں بلکہ ہندوستان کی مقامی آبادی ہے۔

‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=گجر&oldid=1118569’’ مستعادہ منجانب