دیوالی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
دیوالی
The Rangoli of Lights.jpg
رنگولی، رنگوں کے سفوف سے نقوش نگاری کی جاتی ہے۔ دیوالی کے دور میں یہ عام ہے۔
عرفیت دیپاولی، دیوالی، تی وازی، دیوں کی عید (جسن چراغاں)
مشاہدہ ہندو، جین، سکھ
قسم مذہبی
تقاریب دیا اور چراغاں، گھروں کو سجانا، خریدّاری، آتش بازی، پوجا (دعائیں)، تحائف، دعوتیں اور مٹھائیاں
شروعات دھنتیرس، دیوالی کے دو دن پہلے
اختتام بھائی دوج، دیوالی کے دو دن بعد
تاریخ ہندو قمری-شمسی تقویم کے مطابق طئے کیا جاتا ہے۔
2014 تاریخ 22 اکتوبر (بُدھ) جنوبی بھارت [1] 23 اکتوبر (جمعرات) [2]
2015 تاریخ 11 نومبر (بُدھ)
2016 تاریخ 30 اکتوبر (اتوار)
منسلک کالی پوجا، دیوالی (جین مت)، باندی چھور دیوس

دیوالی جسے دیپاولی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جو عید چراغاں ہے، ایک قدیم ہندو تہوار ہے، (کہیں کہیں تیوہار بھی کہا جاتا ہے) ، جسے ہر سال موسم بہار میں منایا جاتاہے.[3][4] یہ تہوار یا عید، روحانی اعتبار سے کامیابی ہے اندھیرے پر روشنی کی، نادانی پر عقل کی، بُرائی پر اچھائی کی اور مایوسی پر اُمید کی۔ [5][6][7] اس تہوار کی تیاریاں 9 دن کی ہوتی ہیں اور رسم و رواج 5 دن تک چلتے ہیں۔ اہم تہوار اماوس کی رات یا نئے چاند کی رات کو منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار شمس-قمری ہندو تقویم کے مہینے کارتیکا میں منایا جاتا ہے۔ گریگورین تقویم کے مطابق یہ تہوار وسط اکتوبر اور وسط نومبر میں واقع ہوسکتا ہے۔ دیوالی کی رات کے پہلے ہندو پیروکار گھروں کو مرمت، رنگ چڑھانا، صاف ستھرا کرنا، سجانا جیسے کام کرتے ہیں.[8] دیوالی کی رات کو ہندو پیروکار، نئے کپڑے پہنتے ہیں، دیے جلاتے ہیں، کہیں روشن دان، شمع اور کہیں مختلف اشکالے کے چراغ جلاتے ہیں۔ یہ دیے گھروں کے اندر اور باہر، گلیوں میں بھی جلائے جاتے ہیں۔ اور دولت اور خوشہالی کی دیوی لکشمی کی پوجا کی جاتی ہے، پٹاخے جلاتے ہیں,[9] بعد میں سارے خاندان والے ایک جہ دعوتیں کرتے ہیں، مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں۔ دوست احباب کو مدعو کیا جاتا ہے، تحفے تحائف تقسیم کیے جاتے ہیں۔ دیوالی کو ایک بہتریں تجارتی دور کہا جاتا ہے، وہاں جہاں یہ عید منائی جاتی ہے۔[10]

دیوالی ہندوؤں کا اہم تہوار ہی نہیں بلکہ اہم رسم یا رواج بھی ہے، اور بھارت کے علاقوں کی بنیاد پر اس کا دارومدار ہے۔ بھارت کے کئی علاقوں میں,[11] یہ تہوار دھنتیراس سے شروع ہوتا ہے، ناراکا چتُردسی دوسترے دن منائی جاتی ہے، دیوالی تیسرے دن، چوتھے دن ‘‘دیوالی پاڑوا‘‘ شوہر بیوی کے رشتوں کے لیے وقف ہے، اور پانچویں دن بھاؤبیج جو کہ بھائی بہن کے رشتوں پر مبنی ہے، اس سے یہ تہوار ختم ہوجاتا ہے۔ عام طور پر دھنتیراس، دسہرا ک اٹھارہ دن بعد واقع ہوتا ہے۔

جس رات کو ہندو دیوالی مناتے ہیں، اُسی رات کو جین پیروکار مہاویر کے موکش (مغفرت) پانے کی خوشی میں “جشنِ چراغاں“ دیوالی مناتے ہیں,[12][13] سکھ پیروکار اس تہوار کو بندی چھور دیوس کے نام سے مناتے ہیں.[14]

بھارت میں، دیوالی ایک سرکاری تعطیل ہے,[15] بھارت کے ساتھ ساتھ نیپال، ماریشس، سریلنکا، میانمار، گیانا، ٹرینیڈاڈ ور ٹوباگو، سرینام، ملیشیا، سنگاپور اور فجی میں بھی دیوالی سرکاری تہوار ہے۔

وجہ تسمیہ[ترمیم]

دیوالی کی تقریباتa
Deepawali-festival.jpg
دیوالی کی رات گھروں میں دیے جلاکر روشن کرنے کا خوشنما منظر
Diya necklace Dipavali Diwali November 2013.jpg
دیوالی کی رات، آنگن میں دیے سجانے کا منظر
Aakash Kandils Diwali lighting Pune India 2013.jpg
مہاراشٹرا میں دھنتیراس سے قبل لانٹرن جلانے کا منظر۔
Glowing Swayambhu (3005358416).jpg
نیپال کا ایک مندر جو دیوالی میں سجایا گیا ہے۔
Diwali fireworks and lighting celebrations India 2012.jpg
بندی چھور دیوس تقاریب شہر امرتسر میں۔
Fireworks Diwali Chennai India November 2013 b.jpg
دیوالی کی رات اور پٹاخے پھلجھڑیاں، ایک شہر کا منظر۔
Ganga At Nibi Gaharwar.jpg
دیہاتی تقاریب میں دریائے گنگا میں دییوں کو تیرانے کا منظر۔
Sweets Mithai for Diwali and other Festivals of India.jpg
دیوالی کی مٹھائیاں، جنوبی ایشیاء کی خصوصی مٹھائی۔
دیوالی تہوار کے تقاریب میں دلکش مناظر، آواز، فنون اور ذائقے شامل ہیں۔ یہ تہوار ہر علاقے میں مختلف پایاجاتا ہے.[16][17][18]

لفظ دیپاولی سنسکرت زبان سے ماخوذ ہے۔ لفظ ‘‘دیپا‘‘ (दीप, سے اخذ ہے جس کے معنی ‘‘دیپ‘‘، ‘‘شمع‘‘، ‘‘چراغ‘‘ یا ‘‘روشنی‘‘ کے ہیں، [19][20]) اور ‘‘آولی‘‘(आवली, کے معنی ‘‘قطار‘‘ کے ہیں،[21]). دیپاولی یا دپاولی کا مطلب “دییوں کی قطار یا “چراغوں کی قطار“ کے ہیں۔ .[22] اس کی تقریب میں لاکھوں دیے گھر آنگن میں، عمارتوں میں، حلقوں میں، ممالک میں جلتے ہیں جہاں اس کو منایا جاتا ہے.[16]

دیوالی (English pronunciation: /dɨˈwɑːl/)[3] الگ الگ ریاستوں میں الگ الگ زبانوں میں مختلف ناموں سے جانی جاتی ہے۔ بالخصوص تلفظ میں فرق دیکھا جاسکتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

دیوالی کی تاریخ قدیم تر ہے، موسمِ گرما کے بعد پیش آتا ہے، ہندو تقویم کے مطابق کاارتیکائی مہینے میں منایا جاتا ہے۔ اس تہوار کے بارے میں پدما پُرانا میں ذکر ہے، اسکندا پُرانا اور دیگر سنسکت ہندو کتابوں میں مذکور ہے; ‘‘دیوا (دہپا)‘‘ (دیے) کا ذکر اسکندا پُرانا میں مثالی طور پر سورج کے لیے ملتا ہے۔ یہی سورج جو نظامِ شمسی کے مخطلف سیاروں کو روشنی دیتا ہے، اور یہی سورج موسمی تبدل کارتیک مہینے میں پاتا ہے۔[17][23]

قدیم بھارت کا ایک بادشاہ “ہرشا“ ، 7ویں صدی کا سنسکرت زبان میں لکھا ایک ڈرامے میں دیوالی کے بارے میں یوں ذکر کرتا ہے دیپاپراتیپادُتساوا“ جہاں دیے جلائے جاتے ہیں، جن کی شادی کا رشتہ طئے ہوتا ہے ایسے جوڑوں کو تحفے دیے جاتے ہیں۔ [24][25] راج شیکھرا نے 9ویں صدی مین اپنی تصنیف “کااویامیمامسا میں دیوالی کو “دیپامالیکا“ لکھتے ہیں، اس میں انھوں نے لکھا ہے کہ یہ دستور گھروں کو صاف ستھرا کرنے کا،راتوں میں دیے جلانانے کا، اور گلی کوچوں اور بازاروں کو چراغاں کرنے کا ہے۔ [24] فارسی سفیر ابو ریحان البیرونی 11ویں صدی میں ہندوستان کا سفر کیا اور لکھتے ہیں کہ دیوالی ہندو پیروکار، کارتیکا مہینے کے نئے چاند کی رات کو دیوالی مناتے ہیں۔[26]

اہمیت[ترمیم]

بھارت میں “دیوالی“ نہایت ہی خوشی کے ساتھ منایا جانے والا تہوار ہے، بالخصوص اس تیاریاں کافی دلچست ہوتی ہیں۔ لوگ گھربار، دکان، کارخانے، دفاتر، صاف ستھرے کرلیتے ہیں، اور سجا بھی لیتے ہیں۔ دیوالی بھارت کا ایک بڑا، عمدہ، خاص شاپنگ سیزن ہے۔ گھر بار کی ضروری اشیاء خریدی جاتی ہے۔ سونا چاندی، زر زیور بھی اس موقع پر خریدے جاتے ہیں۔ [27] لوگ اپنے دوست و اقارب کو، نوکر چاکروں کو، تحفے خریدتے ہیں۔ کارخانوں کے اور تجارتی لوگ اپنے ہاں کام کرنے والے نوکروں کو مزدوروں کو “بونس“ کے روپ میں ایک ماہ کی تنخواہ مزید تحفتاً دیتے ہیں۔ دیوالی کا دور فصل کاٹنے کا دور مانا جاتا ہے۔ اس فصل کے فائدے میں دیگر احباب کو حصہ دار سمجھ کر اُن کے حقوق کو بھی پہچان کر ادا کرتے ہیں۔ نہایت دلجو، دلفریب تقاریب منائے جاتے ہیں۔ چند گھر ایسے بھی ہیں، جن کے تقاریب میں روحانی ماحول نظر آتا ہے۔ اپنے اپنے ایمان، ایقان اور عقاید کی بنیاد پر انحصار رکھنے والے عقیدتمند پوجا، پرستش کرتے ہیں۔ خوشی کا اظہار پٹاخے جلاکر کرتے ہیں۔[18][28]

علاقائی عقائد کی بنا پر لوگ رسم و رواج ادا کرتے ہیں۔ پوجا بھی الگ الگ دیوی دیوتاؤں کی کرتے ہیں۔ مقصود دیوی دیوتاؤں کو خوش کرنا اور اپنی زندگیوں میں خوشحالیوں کا استقبال کرنا ہوتا ہے۔ [18][28]

روحانی اہمیت[ترمیم]

دیوالی ہندو، جین اور سکھ دھرم کے پیروکار مناتے ہیں، ان کے عقاید کے مطابق، کئی قصے، کہانیاں، قیاص آرائوں پر مبنی داستانیں ہیں، جن کا اہم مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ دیوالی اندھیرے پر روشنی کا غلبہ، نادانی پر دانشوری کا غلبہ، برائی پر اچھائی کا غلبہ، اور مایوسی پر اُمید کا غلبہ ظاہر کرنا ہے۔ [5][29][30]

یوگا, ویدانتا, اور سامکھیا ہندو فلسفہ, کے مطابق مرکزی فلسفہ یہ ہے کہ کہ کچھ ایسی بات ہے جو کہ مادی اجسام اور ذہن سے بالیٰ ہے، جو کہ خالص، لامتناہی، لافانی جسے آتمن کہتے ہیں. دیوالی کا منانا گویا کہ برائی پر اچھائی کی جیت تصور کیا جاتاہے۔ اسی طرح روشنی کو تاریکی پر فتح تصور کیا جاتا ہے۔ دیولی روحانی تاریکی پر داخلی روشنی کا غلبہ تصور کیا جاتا ہے,[31][32] جہالت پر علم و فراست کی جیت، کذابت پر صداقت کی جیت، اور برائی پر اچھائی کی جیت تصور کیا جاتا ہے۔[33][34]

مذہبی اہمیت[ترمیم]

دیوالی ہندو، جین اور سکھ دھرم کے پیروکار مناتے ہیں، ان کے عقاید کے مطابق، کئی قصے، کہانیاں، قیاص آرائیوں پر مبنی داستانیں ہیں، جن کا اہم مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ دیوالی اندھیرے پر روشنی کا غلبہ، نادانی پر دانشوری کا غلبہ، برائی پر اچھائی کا غلبہ، اور مایوسی پر اُمید کا غلبہ ظاہر کرنا ہے۔ [5][29][35]

یوگا, ویدانتا, اور سامکھیا ہندو فلسفہ, کے مطابق مرکزی فلسفہ یہ ہے کہ کہ کچھ ایسی بات ہے جو کہ مادی اجسام اور ذہن سے بالیٰ تر ہے، جو کہ خالص، لامتناہی، لافانی جسے آتمن کہتے ہیں. دیوالی کا منانا گویا کہ برائی پر اچھائی کی جیت تصور کیا جاتاہے۔ اسی طرح روشنی کو تاریکی پر فتح تصور کیا جاتا ہے۔ دیولی روحانی تاریکی پر داخلی روشنی کا غلبہ تصور کیا جاتا ہے,[36][37] جہالت پر علم و فراست کی جیت، کذابت پر صداقت کی جیت، اور برائی پر اچھائی کی جیت تصور کیا جاتا ہے۔[38][39]

ہندومت میں مذہبی اہمیت[ترمیم]

مذہھی اعتبار سے ہندو مت میں دیوالی کی اہمیت علاقائی سطح پر مختلف پائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ وسیع ملک اور کثیر تعداد میں مختلف عقاید کے پیروکار۔ علاقائی داستانیں، قصے کہانیاں، ایقان و عقائد کی بنا پر مختلف رسم و رواج دیکھنے کو ملتے ہیں۔

بہت سارے لوگوں کے تصور میں رامائن کے مطابق، شری رام، سیتا اور لکشمن بن باس سے واپس ہونے کے موقع پر خوشی کا اظہار کرنا ہے۔

کئی لوگوں کے خیال میں مہابھارت کے مطابق، پانڈؤ اپنے 12 سالہ بن باس اور ایک سالہ اگیات واس سے واپس ہونے پر خوشی کا اظہار ہے۔ بہت سارے ہندو پیروکاروں کے مطابق دولت اور ثروت کی دیوی، وشنو کی بیوی لکشمی دیوی کی یاد میں منائے جانے والا تہوار “دیوالی“ ہے۔ کائناتی دودھیا سمندر میں کھنگال مے موقع پر برائی پر اچھائی غلبہ پایا اور اس وقت لکشمی دیوی کا جنم ہوا، تب لکشمی نے وشنو کو اپنا شوہر مانا اور شادی کی۔[17][40] چند ہندو پیروکار مختلفانو دیوی دیوتاؤں کی پوجا کرتے جیسے، کالی، گنیش، سرسواتی اور کُبیرا۔ ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ وشنو “ویکنٹھ“ میں دوبارہ لکشمی کے پاس پہونچے، اس موقع کو خوشی کا موقع تصور کر لکشمی کی خوشنودی کے لیے پوجا کرتے ہوئے “دیوالی“ مناتے ہیں۔ [41] بھارت کے مشرقی علاقے میں لکشمی پوجا کیے جاتے ہوئے نظر نہیں آتیں۔ یہاں پر کالی پوجا کی جاتی ہے.[42][43] بھارت کے برج اور شمالی علاقوں میں کرشن مشہور ہیں، اس لیے یہاں ان کی پوجا کی جاتی ہے۔ بھارت کے مغربی اور جنوبی علاقوں میں “ہندو نئے سال“ کے روپ میں منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر دولت کی دیوی لکشمی کی پوجا کی جاتی ہے، رُکاوٹوں کو دور کرنے والے گنیش، ادب موسیقی اور علم کی دیوی سرسواتی، خزانے اور حساب کتاب کے دیوتا “کُبیرا“ کی پوجا کی جاتی ہے۔ [17]


جین مت میں مذہبی اہمیت[ترمیم]

اصل مضمون: دیوالی (جین مت)

جین دھرم میں دیوالی کی کافی اہمیت ہے۔ جین مت کے آخری تیرتھانکر وردھمان مہاویر نے نروانا (موکش) یعنی مغفرت 15 اکتوبر 527 ق۔م۔ کو پاواپوری نامی مقام پر کارتیک چتردشی کو حاصل کیا۔ جین دھرم کی مقدس کتاب کلپاسوترا جسے آچاریہ بھدراباہو نے تیسری صدی ق۔م۔میں لکھا تھا کہ بہت سارے دیو موجود تھے، اندھیرے پر روشنی کا غلبہ حاصل ہونے کا ایک بڑا کارنامہ پیش آیا۔[29] اس طرح جین دھرم کے ماننے والے مہاویرا کی یاد میں دیوالی مناتے ہیںِ

سکھ مت میں مذہبی اہمیت[ترمیم]

سکھ پیروکاروں کے لیے دیوالی، بندی چھور دیوس ہے، جب گرو ھر گووند سنگھ اپنے ساتھیوں کو اور چند ہندو راجاؤں کو نوالدین جہانگیر کی قید سے گوالیئر قلعے سے آزاد کروایا اور امرتسر آئے، اس موقع کو سکھ قوم کے چند گروہ “بندی چھور دیوس“ کے نام سے مناتے ہیں۔
بندی = (قیدی)، چھور = (آزاد)، دیوس = (تہوار)۔

وضاحتیں اور رسم و رواج[ترمیم]

واضح رہے کہ دیوالی ایک دن کا تہوار نہیں بلکہ پانچ دن کے تہوار کا سلسلہ ہے۔ ہندو تقویم کے مہینے اشویں کے آخر میں اور کارتیک مہینے کی شروعات میں واقع ہوتا ہے۔عام تقویم کے اکتوبر اور نومبر مہینے کے درمیان پیش آتا ہے۔ دیوالی اماوس کی رات کو منائی جاتی ہے۔ اماؤس گہری سیاہ رات ہوتی ہے، اس گہری سیاہ رات میں دیے روشن کرکے عید منائی جاتی ہے۔ [44] دیوالی صرف دییوں کا تہوار ہی نہیں بلکہ آواز، پٹاخے، رنگولی، ذائقے، مٹھائیاں، جذبات، روحانیت کا بھی تہوار ہے۔ [22] جذباتی طور پر دیوالی سارے خاندان کو، دوست احباب کو ایک جگہ جوڑتا ہے.[18][28] اس تہوار کی تیاریاں ایک ہفتے پہلے سے ہوجاتی ہیں، اور دیوالی کے دو دین پہلے سے ہی تقاریب کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، اور پانچ دن تک چلتا ہے:[17][45][46]

دھنتیراس کے موقع پر ‘‘دییے‘‘ جلائے جانے کا ایک منظر - 2013.[17]
دھنتراس
اصل مضمون: Dhanteras

دیوالی کے پانچ دن کے تقاریب کا پہلا دن ہے۔ اس دن گھر، مکان، کاروباری دفاتر، دکان، گلی کوچے، آنگن، کھیت کھلیان، سبھی کو پاک و صاف کیا جاتا ہے۔ اور ان مقامات کو سجانے سنوارنے کا کام شروع ہوجاتا ہے۔ ہندوپروکاروں کے عقاید کے ماتحت، دولت، عشرت کی دیوی لکشمی کی پوجا (دعا، پرستش) کی جاتی ہے۔ اس دھنتیراس کے دوران دییوں کو لگاتار جلایا جاتا ہے۔ مانا جاتا ہے کہ یہ دن دھنونتری کا جنم دن بھی ہے، جو ایک زبردست حکیم بھی تھے، ان کی یاد میں یہ “دھنتیرس“ منایا جاتا ہے۔ [17][40] دھنتیراس کا دن خرید و فروخت کے لیے بھی کافی مشہور ہے۔ اشیاء کے خرید و فروخت، دولت کی پوجا، لکشمی دیوی کی پوجا، اسی کو “لکشمی پوجا“ بھی کہتے ہیں، کی جاتی ہے۔ دکانوں کو سجایا جاتا ہے، پوجا پاٹ کرکے مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں، ان مٹھائیوں کو “پرساد“ یعنی “تبرک“ بھی کہا جاتا ہے۔

؛ناراکا چترتھی

اصل مضمون: ناراکا چترتھی

ناراکا چتُرتھی دیوالی سلاسل کا دوسرا دن ہے، اس کو “چھوٹی دیوالی“ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی خاصیت یہ ہے کہ اس دن رنگولی سے گھر آنگن کو سجایا جاتا ہے۔ اس دن چھوٹی چھوٹی پوجائیں بھی ادا کی جاتی ہیں۔ گھروں میں خواتین ہاتھوں میں مہندی (ہنا) لگاتی ہیں، اور میٹھے پکوان پکاتی ہیں جو دیوالی کے لیے مخصوص ہوتی ہیں۔[5][17]

دیوالی
اصل مضمون: لکشمی پوجا
رنگولی یا کولم دیوالی کی سجاوٹیں، فرش پر دلکش خاکے، دہلیج اور در و دیواروں کے سامنے خوشنما رنگینیوں سے بھرے نقوش، لکشمی اور مہمانوں کے استقبال کے لیے.[47]

دیوالی سلاسل کا تیسرا دن “دیوالی“ کاہے، جو کہ اہم اور خاص تہوار کا دن ہوتا ہے۔ اس دن نئے کپڑے پہننا مخصوص ہے۔ شام میں دیے جلانا، پوجا کی تیاریاں کرنا، رات میں “لکشمی پوجا“ کا احتمام کرنا مخصوص اور مقصود ہے۔ بھارت کے الگ الگ علاقوں میں، لوگ اپنے اپنے گھرولو دیوتاؤں کی پوجا کا احتمام کرنا عام ہے۔ ان دیوی دیوتاؤں میں، سرسواتی (علم اور فراست کی دیوی)، گنیش، کبیرا (دولت کا دھنی) میں شامل ہیں۔ پوجاؤں کا مقصد نئے سال کے لیے دیوی دیوتاؤں کے ذریعے دھن دولت اور خوشحالی کو پانا اور استقبال کرنا ہے۔.[17] [48] ہندو پیورکاروں کا عقیدہ ہے کہ دولت کی دیوی دیوالی کے دن دنیا میں پرواز کرتی رہتی ہیں، لوگ دییوں کے ذریعے لکشمی کا استقبال کرتے ہیں۔ [22] چھوٹے چھوٹے مٹی کے دیے جلانا ایک رواج ہے۔ دوست احباب کو مدعو کرنا تحفے تحائف پیش کرنا، تہوار کی نیک تمنائیں پیش کرنا اس دن کی خاصیت ہے۔ مٹھائیاں تقسیم کرنا ایک نیک دستور مانا جاتا ہے۔[5][6][49]

پوجا کے بعد پٹاخے جلانا، خوشی کا اظہار کرنا، خوشی منانا، خوشیاں بانٹنا دیکھا جاسکتا ہے۔ خاص طور پر بچوں کے لیے یہ تہوار نہایت ہی دلفریب مانا جاتا اور دیکھا جاتا ہے۔ ہمہ قسم کے پٹاخے جلائے جاتے ہیں۔[50] پٹاخے اور بارودی کریکرس جلاکر بدروحوں کو بھگائے جانے کا عقیدہ عام ہے۔ [51][52] پٹاخے جلانے کے بعد لوگ گھروں میں واپس ہوتے ہیں، دعوتیں نوش کرتے ہیں، مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں۔[17] دیوالی، نئے سال کے روپ میں بھی منائی جاتی ہے۔ نئے معاشی سال کے روپ میں بھی ماناجاتا ہے، اور اپنے حساب و کتاب بھی اس موقع پر ختم اور شروع کرتے ہیں۔

پاڑوا، بالیپراتیپادا
اصل مضمون: Balipratipada

دیوالی کے دوسرے دن “پاڑوا“ منایا جاتا ہے۔ یہ دن میاں بیوی کے لیے، اُن کی خوشحالی کی دُعاؤں کے لیے مخصوص ہے۔ [17] The میاں اپنی بیوی کو تحفے تحائف پیش کرتا ہے۔ بیوی اپنے شوہر کی سلامتی کی دعائیں اور منتیں کرتی ہیں۔ اس دن کرشن کی یاد میں “گووردھن پوجا“ کی جاتی ہے۔ شادی شدہ لوگوں کے لیے یہ دن شُبھ مانا جاتا ہے۔

بھائی دُج، بھییا دوج
اصل مضمون: Bhau-beej

یہ دیوالی کے سلاسل کا آخری دن ہے، اس کو “بھائی دوج“ کہا جاتا ہے۔ یہ دن بھائی بہنوں کے لیے مخصوص ہے۔ یہ تہوار رکشا بندھن کی طرح ہی ہوتا ہے۔ اس دن بھائی اپنی بہنوں کے لیے، بہن اپنے بھائیوں کے لیے دعائیں، منتیں مانگتی ہیں۔ بھائی بہن ایک دوسرے کو تحفے پیش کرتے ہیں۔[17]

بھارت ہی میں مختلف اطوار[ترمیم]

نیے سال کے جشن و تقاریب[ترمیم]

مزید دیکھئے: New Year


  • مارواری قوم کا نیا سال دیوالی تہوار سے شروع ہوتا ہے، جو کہ کرشنا پکشا کا آخری دن اور اشوین مہینے کا بھی آخری دن ہوتا ہے۔ اور ہندو تقویم کے مطابق اشوین کا آخری دن ہوتا ہے۔
  • گجراتی لوگوں کا بھی نیا سال دیوالی سے شروع ہوتا ہے۔
  • نیپالی نیا سال : نیپال کے کھٹمنڈو وادیوں میں بسنے والے نیواری قبیلے والوں کا نیا سال دیوالی ہی سے شروع ہوتا ہے۔

میلے[ترمیم]

اصل مضمون: Mela

دیوالی تہوار کے تقاریب کے سلاسل میں کئی اجلاس انعقاد کیے جاتے ہیں اُن میں اہم “میلہ“ (en:mela)ہے۔ یہ میلے بھارت بھر میں مشہور بھی نہیں بلکہ سماج کی ضرورت اور حصہ بن گئے ہیں۔ [53] میلے خاص طور پر گاؤں، قصبوں، دیہاتوں اور چھوٹے چھوٹے شہروں میں معروف ہیں۔ عوام کا حجوم دیکھنے کو ملتا ہے۔ ثقافتی مظاہرے، تجارتیں، نئی نئی چیزوں کا تعارف ان میلوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ یوں کہیں کہ دنیا سے دنیا کو تعارف کروانے کے مراکز یا جلوس مانے جاسکتے ہیں یہ میلے۔ رنگ برنگ کپڑوں میں لوگ سج دھج کر نکلتے ہیں، نئے زیور اور مہندی سے آراستہ خواتین نظر آتی ہیں۔ .

دیوالی سے پہلے، گھر، سرکاری دفاتر مرمت کیے جاتے ہیں، نئے رنگ چڑھائے جاتے ہیں۔[54]

بھارت کے مختلف علاقوں میں[ترمیم]

بھارت کے مختلف ریاستوں میں الگ الگ طریقوں سے منائی جاتی ہے. اندھرا پردیش، گوا، مہاراشٹرا، کرناٹک، کیرلہ، تملناڈو، گجرات و دیگر ریاستوں میں یا تو اماوس کی رات یا نیے چاند کی رات کو منائی جاتی ہے. سب جگہ "نرکا چتردسی"، "نرکاسر ودھا" کے نام سے منائی جاتی ہے.

بھارت میں پٹاخے جلانا اور پھلچھڑیاں اُڑانا ایک گھریلو تقریب ہے۔ گھروں میں گلیوں میں دیے جلانا، خوشی کا ایک ذریعہ مانا جاتا ہے۔ سج پوچھیں تو یہ تہوار بچوں کے لیے نہایت ہی مسرت کا تہوار ہے.[55]
دیوالی کے موقع پر گھروں میں تیارکردہ، پکوان، تحفے اور کپڑے.

دنیا کے دیگر مقامات میں[ترمیم]

دنیا میں مختلف ممالک میں ہندو آبادی رہتی ہے، اُن ممالک میں تہوار دیوالی منانا بھی ایک عام بات ہے۔ ہندو ہی نہیں بلکہ جین، سکھ دھرم کے پیروکار بھی اس تہوار کو جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ ممالک مثلاً سری لنکا، پاکستان، میانمار، تھائی لینڈ، ملیشیا، سنگاپور، انڈونیشیا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، فجی ماریشس، کینیا، تانزانیا، جنوبی افریقہ، گیانا، سوری نام، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو، نیدرلینڈز، کیناڈا، امریکہ، یونائٹیڈ کنگڈم، یونائٹیڈ عرب ایمیریٹس، میں بھی ہندو پیروکار دیوالی دھوم دھام سے مناتے ہیں۔ اس تہوار سے بھارتی اور ہندو ثقافت کی پہچان کروانا بھی ایک مقصد ہے۔

اشیاء[ترمیم]

ملیشیا[ترمیم]

ملیشیا میں دیوالی تہوار پر سرکاری تعطیل رہتی ہے۔ یہاں پر ہندو پیروکار کثرت سے ملتے ہیں۔ یہاں ہندو ملیشین گروہوں میں، تیلگو، تامل، ملیالی زبان بولنے والے بھی اچھی خاصی تعداد میں ملتے ہیں۔ دیوالی یہاں ایک گُڈ-ول تقریب کی طرح مناتے ہیں۔

نیپال[ترمیم]

اصل مضمون: Tihar (festival)

نیپال میں اس تہوار کو “تہار“ یا "Swanti" کہتے ہیں. یہاں پر بھی یہ تہوار اکتوبر اور نومبر مہینے میں منایا جاتا ہے۔

سنگاپور[ترمیم]

سنگاپور میں، دیوالی تہوار مناتے ہوئے۔[56]

سنگوپور میں دیوالی ایک سرکاری تہوار ہے، اس دن سرکار تعطیل بھی ہے. سنگاپور کی سرکار اس تہوار پر کئی ثقافتی اور گُڈ-ول تقاریب بھی مناتی ہے۔ [57]

سری لنکا[ترمیم]

سری لنگا میں ہندو ) آبادی کافی ہے، اس لیے یہاں یہ تہوار دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ یہا “پوسائی“ (پوجا) کا خص طور پر احتمام کیا جاتا ہے۔ مندروں کی زیارت کرنا ایک عام بات ہے۔ مندر کو یہاں “کویل“ کہتے ہیں۔.[note 1]

اشیاء سے آگے[ترمیم]

آسٹریلیا[ترمیم]

ملبورن میں دیوالی کا تہوار۔[58]

آسٹریلیا میں رہنے والے ہندو پیروکار اس دیوالی کو بڑے ہی جوش سے مناتے ہیں شہر جیسے ملبورن میں دیوالی کی ایک اچھی خاصی پہچان ہے۔

کرببین[ترمیم]

ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو میں ہندو پیروکار اس تہوار کو مناتے ہیں۔ یہاں پر بسے ہندو، اور کئی تنظیمیں اور مذہبی جماعتیں، اس تہوار کو مناتے ہیں۔ لکشمی کو پوجا کرتے ہیں، مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں۔ [59]

فجی[ترمیم]

فجی میں دیوالی ایک سرکاری تعطیل ہے۔ یہاں کی ہندو قوم اس تہوار کو رواجی طور پر مناتی ہے۔

نیوزیلنڈ[ترمیم]

نیوزیلینڈ میں رچی بسی ہندو قوم اس تہوار کے روایتی طور پر مناتی ہے۔ اور کئی تقاریب کرتی ہے جس سے وہاں کے باشندوں کو بھارتی ثقافت اور ورثے کا پتہ چل سکے۔ نیوزیلینڈ میں سرکاری طور پر 2003 سے وہاں کے پارلیمان میں ایک سرکاری تقریب انعقاد کی جاتی ہے۔ [60]

برطانیہ[ترمیم]

دیوالی کی سجاوٹ 2006 لیسسٹر، برطانیہ میں۔[61]

برطانیہ میں برصغیر کے مختلف مذاہب کے لوگ مقیم ہیں، جن میں ہندو، جینی اور سکھ بھی شامل ہیں۔ یہاں پر دیوالی کو خیرمقدم طور پر دیکھا اور منایا جاتا ہے۔اس کی تقاریب میں غیر ہندو لوگ بھی شریک ہوکر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ [62][63] یہاں کی تقریبات کو بھارت سے باہر بہترین اور بڑی تقر یبات تصور کیا جاتا ہے.[64]

امریکہ[ترمیم]

امریکہ کے کئی شہروں میں دیوالی کی تقاریب مناتے ہیں، ایک تقریب سان انٹونیو ٹیکساس میں (2013).[65]

2003 میں دیوالی کو سرکاری تہوار کا درجہ دیا گیا۔ وائٹ ہاؤس میں اس کے تقاریب بھی سرکاری طور پر منائے گئے۔ تب سے لے کر اب تک وائٹ ہائس میں یہ تقاریب ہر سال مناتے آرہے ہیں، جس میں امریکہ سے صدر شامل ہونا ایک رواج بن گیا ہے.[66][67] بارک اوبامہ وہ پہلے صدر ہیں جو دیوالی کے تقاریب وائٹ ہاؤز میں انعقاد ہونے پر شریک رہے۔ [68] امریکہ میں ہندو تقریباً 30 لاکھ رہتے ہیں۔ [69]

امن کا تہوار[ترمیم]

اس تہوار کے موقع پر: ہندو، جین اور سکھ جماعتیں بھلائی کے کام بھی انجام دیتے ہیں، اور لوگوں سے الفت سے پیش آتے ہیں، اور امن کے خواہاں ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، بین الاقوامی سرحد پر، ہر سال دیوالی کے موقع پر، بھارتی فوج اور فوجی افسران پاکستانی فوجیوں سے ملتے ہیں، روایتی مٹھائیاں پیش کرتے ہیں، اور خوشی میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ اس خلوص بھرے کام میں پاکستانی فوجی بھی نیک تمنائیں پیش کرتے ہیں اور بھارتی فوجیوں کو پاکستانی روایتی مٹھائیاں پیش کرتے ہیں۔ [70]

دیوالی کا معاشی پہلو[ترمیم]

بھارت میں دیوالی کو ایک بڑا خریدداری کا دن مانا جاتا ہے۔ia.[10] خرید و فروقت کے معاملے میں مغربی ممالک کے کرسمس سے کچھ کم نہیں ہوتا۔ روایتی طور پر دیوالی کا موقع گھر اور کنبے کے لیے کپڑے خریدنا، گھر کی اہم چیزیں، تحفے تحائف سونا چاندی خریدنا اور بڑے پیمانے پر جو بھی خریدنے کی چیزیں ہوتی ہیں اسی تہوار کے موقع پر خریدی جاتی ہے۔ ایسا خریدنا ایک اچھا شگن مانا جاتا ہے۔ گویا کہ دیوالی گھروں میں خوشیاں لاتا ہے۔ ہندو دھرم ماانے والوں میں روایتی عقائد کے مطابق دولت کی دیوی لکشمی ہیں اور یہ وشنو کی پتنی ہیں، ان کو گھروں میں خوشی و خرمی لانے والی دیوی سمجھا جاتا ہے۔ اس دیوی کی پوجا کرنے سے دیوی خوش ہوکر گھروں میں دولت لائے گی ایسا عقیدہ ہے۔ ہندو دھرم ماننے والے جائداد خریدنا، پونجھی لگانا، مال و ذر خریدنا اسی موقع پر کرنا باعثِ برکت سمجھتے ہیں۔[71][72] بھارت میں دیوالی کا موقع سونے چاندی، زیورات کی خریداری کا اہم ترین ہے موقع ہے۔ [73][74] اسکے علاوہ، مٹھائیاں، پٹاخوں کی خرید و فروقت کا موسم ہے۔ ریٹائل خریداری کے لحاظ سے تقریبا US$ 800 ملین ( (INR 5,000 کروڑ) زر بھارت میں صرف دیوالی کے موسم میں بھارت میں ہوتا ہے۔[75]

مسائل[ترمیم]

ماحولیات پر اس کا اثر رفتہ رفتہ بڑھتا چلا جارہا ہے، اس کے اثرات صحت پر ذہنی سکون پر بھی گہرے پڑتے ہیں۔ مطالع کے مطابق دو اہم اثرات ہیں جو دیوالی کی وجہ سے ہیں۔ ہوائی آلودگی اور حادثات۔

ہوائی آلودگی[ترمیم]

ماہرین [76] اپنی رپورٹ میں پیش کرتے ہیں کہ، پٹاخوں کے جلانے سے پہلے جتنی ہوائی یا فضائی آلودگی رہتی ہے، پٹاخے جلانے کے بعد یعنی دیوالی کے بعد ہوائی آلودگی چار گنہ بڑھ جاتی ہے اور PM2.5 تک پہنچ جاتی ہے۔ [77] اوزون آلودگی بھی دیوالی کو دوران بڑھ جاتی ہے، اس کی وجہ پٹاخے جلانا ہے۔ اسی طرح دنیا میں نئے سال کی تقریب، یومِ آزادی کے تقاریب کے دوران بھی پٹاخے جلانے کی وجہ سے فضائی آلودگی حد درجہ بڑھ جاتی ہے۔

جلنے اور زخمی ہونے کے حادثات[ترمیم]

دیوالی کے دوران بھارت میں جلنے کے حادثات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ 65٪ جلنے کے واقعات انار نامی ایک آتش بازی کے سامان سے ہوتے ہیں۔ اس کا شکار بالغ، بچے اور عام لوگ ہوتے ہیں۔اخبارات مشورے شائع کرتے ہیں کہ جلنے کے فوری بعد متاثرہ حصے پر ٹھنڈا پانی استعمال کریں۔ساتھ میں زخم کی مناسب دیکھ بھال کریں. جلنے والوں کی بڑی اکثریت کو فقط بیرونی معمولی علاج کی ضرورت پیش آتی ہے۔[78][79]

دیوالی کی مبارکبادیاں اور دعائیں[ترمیم]

دیوالی تیوہار کے موقع پر مختلف زبانوں میں مبارکبادیاں پیش کرنے کے طریقے:

  • "شبھ دیپاولی" - " शुभ दीपावली : سنسکرت، ہندی اور نیپالی زبانوں میں مبارکبادی
  • "شبھ دیوالی " / "دیوالی کی شبھکامنائیں - (दीवाली की शुभकामनाएं): ہندی زبان میں مبارکبادی
  • " دیوالی مبارک" (દીવાળી મુબારક): گجراتی زبان میں مبارکبادی
  • "شبھ دیوالی" / دیوالیچیہ ہاردک شبھچھہ - (शुभ दीवाली / दीवाळीच्या हार्दिक शुभेच्छा ): مراٹھی زبان میں مبارکبادی
  • " دیپاولی نالوزہتکل" (தீபாவளி நல்வாழ்த்துக்கள்) :تامل زبان میں مبارکبادی
  • "دیپاولی شبھاکانکشلو" (దీపావళి శుభాకా౦క్షలు) : میں مبارکبادی تیلگو
  • " دیپاولی آشام شگل" ( ദീപാവളി ആശംസകൾ): ملیالم میں مبارک بادی .
  • " دیپاولی حبدہ شبھشیگلو - (ದೀಪಾವಳಿ ಹಬ್ಬದ ಶುಭಾಶಯಗಳು): کنڈا زبان میں مبارکبادی
  • "تہانو دیوالی دیاں بہت بہت ودھاییاں - (ਤੁਹਾਨੂੰ ਦਿਵਾਲੀ ਦੀਆਂ ਬਹੁਤ ਬਹੁਤ ਵਧਾਈਆਂ ਹੋਣ ): پنجابی زبان میں مبارکبادی
  • "شبھو دیپابالر پریتی و سبیکشا (শুভ দীপাবলীর প্রীতি ও শুভেচ্ছা) : بنگالی زبان میں مبارکبادی
  • " دیپاولیرا انیک شبکشا" (ଦୀପାବଳିର ଅନେକ ଶୁଭେଛା) : اوریہ میں مبارکبادی
  • "ہیپی دیپاولی " : انگریزی میں مبارکبادی
دعائیں 

ہندو پیروکاروں میں دعائیں الگ الگا علاقوں میں الگ الگ روپ میں نظر آتی ہیں۔ مثال کے طور پر ویدک دعا جو کہ اُپانیشد براھدارنیکا سے ماخوذ ہے، دییوں کی تقاریب میں یوں ہے:[80][81]

اساتوما ست گمیا |Asato ma sat gamaya | (असतो मा सद्गमय ।)
تمسوما جیوتر گمیا |Tamaso ma jyotir gamaya | (तमसो मा ज्योतिर्गमय ।)
مرتیور ما امرتم گمیا |Mṛtyor ma amṛtam gamaya | (मृत्योर्मा अमृतं गमय ।)
 اوم شانتی شانتی شانتی |Om shanti shanti shantihi || (ॐ शान्तिः शान्तिः शान्तिः ॥)

؛ترجمہ:[82][83]

From untruth lead us to Truth. (جھوٹ سے ہمیں سچ کی طرف لے چل)
From darkness lead us to Light. (اندھیرے سے روشنی کی طرف لے چل)
From death lead us to Immortality. (موت سے زندگی کی طرف لے چل)
Om Peace, Peace, Peace. (ابدی امن ہو امن امن )

نگار خانہ[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حواشی[ترمیم]

  1. ^ In Sri Lanka, this festival is largely celebrated by the Tamil community scattered in different areas of the island but mostly concentrated in the North and in the East.

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Holiday Calendar بھارت سرکار
  2. ^ Holiday Calendar Government of India
  3. ^ 3.0 3.1 The New Oxford Dictionary of English (1998) ISBN 0-19-861263-X - p.540 "Diwali /dɪwɑːli/ (also Divali) noun a Hindu festival with lights...".
  4. ^ Diwali Encyclopedia Britannica (2009)
  5. ^ 5.0 5.1 5.2 5.3 5.4 Diwali - Celebrating the triumph of goodness Hinduism Today (2012)
  6. ^ 6.0 6.1 Jean Mead, How and why Do Hindus Celebrate Divali?, ISBN 978-0-237-534-127
  7. ^ Vera, Zak (February 2010). Invisible River: Sir Richard's Last Mission. ISBN 978-1-4389-0020-9. http://books.google.com/?id=8HhVcspIBU4C&pg=PA179&dq=lamps+kept+on+diwali+lakshmi+evil+spirit#v=fjhfgyuiuyuiyuuiyii99wtwtyeryyywruiuhyuiyy&q&f=false. Retrieved 26 October 2011. "First Diwali day called Dhanteras or wealth worship. We perform Laskshmi-Puja in evening when clay diyas lighted to drive away shadows of evil spirits." 
  8. ^ Pramodkumar (March 2008). Meri Khoj Ek Bharat Ki. ISBN 978-1-4357-1240-9. http://books.google.com/?id=6A9EZRQIT9kC&pg=PA109&dq=lamps+kept+on+diwali+lakshmi#v=onepage&q&f=false. Retrieved 26 October 2011. "It is extremely important to keep the house spotlessly clean and pure on Diwali. Goddess Lakshmi likes cleanliness, and she will visit the cleanest house first. Lamps are lit in the evening to welcome the goddess. They are believed to light up her path." 
  9. ^ Solski, Ruth (2008). Big Book of Canadian Celebrations. S&S Learning Materials. ISBN 978-1-55035-849-0. http://books.google.com/?id=ni2z5Z35htkC&pg=PA54&dq=lamps+diwali+evil+spirits#v=onepage&q=lamps%20diwali%20evil%20spirits&f=false. Retrieved 26 October 2011. "Fireworks and firecrackers are set off to chase away evil spirits, so it is a noisy holiday too." 
  10. ^ 10.0 10.1 India Journal: ‘Tis the Season to be Shopping Devita Saraf, The Wall Street Journal (August 2010)
  11. ^ Karen Bellenir (1997), Religious Holidays and Calendars: An Encyclopedic Handbook, 2nd Edition, ISBN 978-0780802582, Omnigraphics
  12. ^ Sharma, S.P.; Gupta, Seema (2006). Fairs and Festivals of India. Pustak Mahal. p. 79. ISBN 978-81-223-0951-5. http://books.google.com/?id=wPPr9HdmnHcC&pg=PA79&dq=diwali+mahavira+527. 
  13. ^ Upadhye, A. N. (Jan–Mar 1982). Cohen, Richard J.. ed. "Mahavira and His Teachings". Journal of the American Oriental Society (American Oriental Society) 102 (1): 231–232. doi:10.2307/601199. 
  14. ^ http://www.bbc.co.uk/religion/religions/sikhism/holydays/diwali.shtml
  15. ^ "Indian Government Holiday Calendar". National Portal of India. http://india.gov.in/calendar/calendar.php. Retrieved 15 March 2010. 
  16. ^ 16.0 16.1 Frank Salamone (2004), Encyclopedia of Religious Rites, Rituals and Festivals, ISBN 978-0415880916, Routledge, pp 112-113, 174, 252
  17. ^ 17.00 17.01 17.02 17.03 17.04 17.05 17.06 17.07 17.08 17.09 17.10 17.11 Pintchman, Tracy. Guests at God's Wedding: Celebrating Kartik among the Women of Benares, pp. 59–65. State University of New York Press, 2005. ISBN 0-7914-6596-9.
  18. ^ 18.0 18.1 18.2 18.3 Deborah Heiligman, Celebrate Diwali, ISBN 978-0-7922-5923-7, National Geographic Society, Washington DC
  19. ^ "{{{2}}}" in the Sanskrit-English Dictionary. Spoken Sanskrit (Germany), 2009.
  20. ^ Monier Monier-Williams. Sanskrit-English Dictionary. दीप. p. 481. 
  21. ^ "आवली" in the Sanskrit-English Dictionary. Spoken Sanskrit (Germany), 2009.
  22. ^ 22.0 22.1 22.2 Lochtefeld, James G. "Diwali" in The Illustrated Encyclopedia of Hinduism, Vol. 1: A–M, pp. 200–201. Rosen Publishing. ISBN 0-8239-3179-1.
  23. ^ Lochtefeld, James G. "Kartik" in The Illustrated Encyclopedia of Hinduism, Vol. 1: A–M, p. 355. Rosen Publishing. ISBN 0-8239-3179-1.
  24. ^ 24.0 24.1 BN Sharma, Festivals of India, South Asia Books, ISBN 978-0836402834, pp. 9-35
  25. ^ Varadpande, Manohar Laxman (1987). History of Indian Theatre, Volume 1. Abhinav Publications. p. 159. ISBN 9788170172215. 
  26. ^ R.N. Nandi (2009), in A Social History of Early India (Editor: B. Chattopadhyaya), Volume 2, Part 5, Pearson Education, ISBN 978-8131719589, pp. 183-184
  27. ^ Dianne MacMillan (1997), Diwali: Hindu Festival of Lights, Enslow Publishers, ISBN 978-0894908170
  28. ^ 28.0 28.1 28.2 Suzanne Barchers (2013), The Big Book of Holidays and Cultural Celebrations, Shell Education, ISBN 978-1425810481
  29. ^ 29.0 29.1 29.2 Jacobi, Hermann (1884). Sacred Books of the East. 22: Gaina Sutras Part I. 
  30. ^ Jean Mead, How and why Do Hindus Celebrate Divali?, ISBN 978-0-237-534-127, pages 8-12
  31. ^ Diwali, India's Festival of Light R.M. Hora, National Geographic (2011)
  32. ^ Hindu Festivals Hinduism Today (2010)
  33. ^ Thompson, Elizabeth Kelley (2013), Shouldn't Their Stories Be Told In Their Voices: International Students’ Experiences of Adjustment Following Arrival to the U.S., Master's Thesis, University of Tennessee
  34. ^ Carol Plum-Ucci (2007), Celebrate Diwali, Enslow Publishers, ISBN 978-0766027787, page 39-57
  35. ^ Jean Mead, How and why Do Hindus Celebrate Divali?, ISBN 978-0-237-534-127, pages 8-12
  36. ^ Diwali, India's Festival of Light R.M. Hora, National Geographic (2011)
  37. ^ Hindu Festivals Hinduism Today (2010)
  38. ^ Thompson, Elizabeth Kelley (2013), Shouldn't Their Stories Be Told In Their Voices: International Students’ Experiences of Adjustment Following Arrival to the U.S., Master's Thesis, University of Tennessee
  39. ^ Carol Plum-Ucci (2007), Celebrate Diwali, Enslow Publishers, ISBN 978-0766027787, page 39-57
  40. ^ 40.0 40.1 Karen Pechilis (2007), The Journal of Asian Studies, 66(1), pp 273-275
  41. ^ Diwali History Indian Express (2007)
  42. ^ BUCK, C. (2008), HINDU FESTIVALS, Festivals In Indian Society (2 Vols. Set), Vol 1, ISBN 81-8324-113-1
  43. ^ Holm, J. (1984), Growing up in Hinduism, British Journal of Religious Education, 6(3), pages 116-120
  44. ^ J Gordon Melton, Religious Celebrations: An Encyclopedia of Holidays Festivals Solemn Observances and Spiritual Commemorations, ISBN 978-1598842050, see Diwali, Constance Jones (2011), ABC-CLIO, pp 252-255
  45. ^ Note: there are regional variations, which are explained in a separate section.
  46. ^ Diwali, the festival of lights Society for the Confluence of Festivals in India (2012)
  47. ^ Welcome Goddess Lakshmi with a rangoli Shivangani Dhawan, The Times of India (26 October 2011)
  48. ^ /www.indiaexpress.com/faith/festivals/dhistory.html Diwali History
  49. ^ John Bowker, ed., Oxford Concise Dictionary of World Religions (Oxford UP, 2000), See Festivals
  50. ^ Light up your day The Hindu (28 October 2013)
  51. ^ Petrillo, Valerie (28 May 2007). Asian American History. Chicago Review Press. ISBN 978-1-55652-634-3. http://books.google.com/?id=GErOyV7FBNUC&pg=PA175&dq=lamps+diwali+evil+spirits#v=onepage&q=lamps%20diwali%20evil%20spirits&f=false. Retrieved 26 October 2011. "There are firecrackers everywhere to scare off evil spirits and contribute to the festive atmosphere." 
  52. ^ DeRocco, David; Dundas, Joan (1996). The International Holiday & Festival Primer. Full Blast Productions. ISBN 978-1-895451-24-5. http://books.google.com/?id=TRyb8XqB7dEC&pg=SA9-PA1&dq=lamps+diwali+evil+spirits#v=onepage&q=lamps%20diwali%20evil%20spirits&f=false. Retrieved 26 October 2011. "But as well as delighting the spectators, the fireworks are believed to chase away evil spirits." 
  53. ^ Kadowala, Dilip (1998). Diwali. London: Evans Brothers Limited. ISBN 0-237-51801-5. 
  54. ^ Aline Dobbie, India, Chapter 3, ISBN 978-0954848026, Melrose Books
  55. ^ "Til oil bath marks Chhoti Diwali celebrations". The Times of India. 3 November 2013. http://articles.timesofindia.indiatimes.com/2013-11-03/kanpur/43627803_1_diwali-eve-celebrations-bath. 
  56. ^ Deepavali Decoration in Singapore Little India, Singapore
  57. ^ Deepavali in Singapore Little India, Singapore (2013)
  58. ^ Diwali Indian Festival of Light 2013 Federation Square, Multicultural Festivals Melbourne, Australia (October 26, 2013)
  59. ^ "Nine-day Diwali event in Trinidad & Tobago". First Post. 25 October 2013. http://www.firstpost.com/fwire/nine-day-diwali-event-in-trinidad-tobago-1192737.html. Retrieved 21 June 2014. 
  60. ^ Johnson, Henry; Figgins, Guil (2005). "Diwali Downunder: Transforming and Performing Indian Tradition in Aotearoa/New Zealand". New Zealand Journal of Media Studies 9 (1): 25–35. ISSN 1173-0811. http://www.nzetc.org/tm/scholarly/tei-Sch091JMS-t1-g1-t5.html. 
  61. ^ Leicester Diwali celebrations draw large crowds BBC News (3 November 2013)
  62. ^ Roy, Amit (25 October 2011). "Dazzle at downing, colour at commons". Mumbai Miday. http://www.mid-day.com/news/2011/oct/251011-Dazzle-at-downing-colour-at-commons.htm. Retrieved 3 November 2013. 
  63. ^ "Transcript of the Prime Minister's Diwali reception speech". Gov.UK. Government of the United Kingdom. https://www.gov.uk/government/speeches/transcript-of-the-prime-ministers-diwali-reception-speech. Retrieved 3 November 2013. 
  64. ^ "Diwali – The Festival of Light". Leicester City Council. http://www.leicester.gov.uk/diwali/. 
  65. ^ Diwali San Antonio Festival of Lights Texas, United States (2013)
  66. ^ Sanchez, Aurelio (2 November 2007). "Fest celebrates triumph of light over dark". The Albuquerque Journal: p. 10. "According to a resolution passed recently by the Foreign Affairs Committee of the House of Representatives, the festival is celebrated by almost 2 million in the United States and many millions more around the world. The bill, H.R. 747, calls for the U.S. Congress to acknowledge 'the religious and historical significance of the festival of Diwali.'" 
  67. ^ "US House passes resolution on significance of Diwali". The Hindustan Times. 30 October 2007. 
  68. ^ "Statement by the President on Diwali". 4 November 2010. http://www.whitehouse.gov/the-press-office/2010/11/04/statement-president-diwali. 
  69. ^ "New Jersey Hindus pained as no School Holiday for Diwali in 2014". news.biharprabha.com. http://news.biharprabha.com/2014/02/new-jersey-hindus-pained-as-no-school-holiday-for-diwali-in-2014/. Retrieved 10 February 2014. 
  70. ^ Diwali Lights up India India Today (3 November 2013)
  71. ^ India’s banks face pre-Diwali cash crunch James Lamont, The Financial Times (29 October 2010)
  72. ^ Diwali lights up consumer spending, festive spirit beats inflation M.G. Arun, India Today (1 November 2013)
  73. ^ Festive season to boost India gold buying Bullion Street (15 October 2013)
  74. ^ Gold, Key markets: India World Gold Council (2013)
  75. ^ Firecrackers to cost a bomb this Diwali The Times of India (24 October 2013)
  76. ^ Barman, S. C., Singh, R., Negi, M. P. S., & Bhargava, S. K. (2009). Fine particles (PM2. 5) in ambient air of Lucknow city due to fireworks on Diwali festival, Journal of Environmental Biology , 30(5), pp 625-632
  77. ^ Attri, A. K., Kumar, U., & Jain, V. K. (2001). Microclimate: Formation of ozone by fireworks. Nature, 411(6841), pp 1015
  78. ^ Mohan, D., & Varghese, M. (1990). Fireworks cast a shadow on India's festival of lights. In World Health Forum (Vol. 11, No. 3, pp. 323-6). World Health Organization
  79. ^ Ahuja, R. B., & Bhattacharya, S. (2004). ABC of burns: Burns in the developing world and burn disasters. BMJ: British Medical Journal, 329(7463), 447
  80. ^ Jha, J. C. (1976), The Hindu Festival of Divali in the Caribbean, Caribbean Quarterly, pp 53-61; Also see Brhadaranyaka Upanishad, I.iii.28
  81. ^ Diwali The Tribune, India (2013); see also Shashanka, S. (2012), Role of Spiritual Science in Leadership and Management, Purushartha: A Journal of Management Ethics and Spirituality, 5(2)
  82. ^ Ancient vedic prayer World Prayers Society (2012)
  83. ^ Derrett Duncan J. (1999), An Indian metaphor in St John's gospel, Journal of the Royal Asiatic Society (Third Series), 9(02), 271-286

بیرونی روابط[ترمیم]