تاریخ افغانستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
فارس کے بادشاہ شاپور اول کا سکہ ۔ زمانہ: تیسری صدی عیسوی

افغانستان کی معلوم تاریخ 500 سال قبل مسیح سے شروع ہوتی ہے۔ افغانستان کی تاریخ کے مخلتف ادوار درج ذیل ہیں۔

تاریخ افغانستان کے ادوار[ترمیم]

اصل مضمون: تاریخ افغانستان

تاریخ افغانستان:

قبل از اسلام[ترمیم]

افغانستان میں پچاس ھزار سال پہلے بھی انسانی آبادی موجود تھی اور اس کی زراعت بھی دنیا کی اولین زراعت میں شامل ہے۔ [1] سن 2000 قبل مسیح میں آریاؤں نے افغانستان کو تاراج کیا۔ جسے ایرانیوں نے ان سے چھین لیا۔ اس کے بعد یہ عرصہ تک سلطنت فارس کا حصہ رہا۔ 329 قبل مسیح میں اس کے کئی حصے ایرانیوں سے سکندر اعظم نے چھین لیے جس میں بلخ شامل ہے مگر یونانیوں کا یہ قبضہ زیادہ دیر نہ رہا۔ 642 عیسوی تک یہ علاقہ وقتاً فوقتاً ہنوں، منگولوں، ساسانیوں اور ایرانیوں کے پاس رہا۔ جس کے بعد اس علاقے کو مسلمانوں نے فتح کر لیا۔ مسلمانوں کی اس فتح کو تاریخ میں عربوں کی فتح سمجھا جاتا ہے جو غلط ہے کیونکہ مسلمانوں میں کئی اقوام کے لوگ شامل تھے۔ اسلام سے پہلے یہاں کے لوگ بدھ مت اور کچھ قبائلی مذاہب کے پیروکار تھے۔

دیگر ادوار[ترمیم]

  • اسلامی دور احمد شاہ درانی (ابدالی) تک (642ء سے 1747ء)
  • درانی سلطنت ( 1747ء سے 1823ء)
قندھار کی ایک پینٹنگ (1848ء) جس میں احمد شاہ کا مقبرہ بھی ہے اوراحمد شاہ کا تعمیر کردہ قندھار کا قلعہ بھی
  • یورپی اثر (1823ء۔1919ء)
  • آزادی کے بعد (1919ء-1978ء)
  • روسی قبضہ اور جہاد
  • روسیوں کے بعد
  • امریکی قبضہ اور حالاتِ حاضرہ


حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ افغانستان , مائکروسوفٹ انکارٹا انسائیکلوپیڈیا 2006 بزبان انگریزی


بیرونی روابط[ترمیم]