ترک جنگ آزادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ترک جنگ آزادی
TreatyOfSevres (corrected).PNG
معاہدۂ سیورے کے تحت ترکی کا بٹوارہ
تاریخ 19 مئی 1919ء - 29 اکتوبر 1923ء
مقام ایشیائے کوچک و تراقیا
نتیجہ *ترکوں کی فیصلہ کن فتح
*معاہدۂ لوزان
*جمہوریہ ترکیہ کا قیام
متحارب
ترکی کا پرچم ترک قوم پرست Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ
Flag of Greece.svg یونان
Flag of France.svg فرانس
Flag of Italy.svg اطالیہ
Flag of Armenia.svg آرمینیا
قائدین
ترکی کا پرچم مصطفیٰ کمال
ترکی کا پرچم فوزی چقماق
ترکی کا پرچم کاظم قرہ بکر
ترکی کا پرچم عصمت انونو
برطانیہ کا پرچم جارج ملنے
فرانس کا پرچم ہنری گوراڈ
یونان کا پرچم اناستاسیوس پاپولاس
یونان کا پرچم جورجیوس ہازیانیستس
آرمینیا کا پرچم دراستمات کنایان
آرمینیا کا پرچم موسس سلیکیان


ترک جنگ آزادی پہلی جنگ عظیم میں سلطنت عثمانیہ کی شکست کے بعد ترک قوم پرستوں کی ایک سیاسی و عسکری تحریک تھی، جس کے نتیجے میں جمہوریہ ترکیہ کا قیام عمل میں آیا۔

اس تحریک کا آغاز انقرہ میں ترک قوم پرستوں کی جانب سے مصطفیٰ کمال کی زیر قیادت مجلس کبیر ملی (Grand National Assembly) کے قیام سے ہوا۔ یونان کی جارحانہ کاروائیوں کے خلاف عسکری مہمات اور ترک-ارمنی اور ترک-فرانس جنگ کے بعد ترک انقلابیوں نے اتحادیوں کو مجبور کیا کہ وہ معاہدۂ سیورے کو کالعدم قرار دیں۔ جولائی 1923ء میں معاہدۂ لوزان طے پایا جس کے تحت ترکی کی سالمیت تسلیم کی گئی اور اکتوبر 1923ء میں اناطولیہ اور مشرقی تراقیا میں جمہوریہ ترکیہ کا قیام عمل میں آیا۔

اس جنگ کے نتیجے میں عثمانی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا اور مصطفیٰ کمال، جسے اتاترک یعنی 'ترکوں کے باپ' کا خطاب دیا گیا، نے اصلاحات کے بعد خلافت کا بھی خاتمہ کر دیا اور ایک جدید لادینی ریاست تشکیل دی۔

متعلقہ مضامین[ترمیم]