مصطفٰی کمال اتاترک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مصطفٰی کمال اتاترک

صدر اتاترک

وزیرِ اعظم علی فتحی اوکیار
عصمت انونو
جلال بایار
جانشین عصمت انونو

پہلا ترکی وزیر اعظم
جانشین فوزی پاشا

پہلا مکلم قومی اسمبلی
جانشین علی فتحی اوکیار

جانشین عصمت انونو

پیدائش 19 مئی 1881
سالونیکا، سلطنت عثمانیہ (حال تھیسالونیکی، یونان)
وفات 10 نومبر 1938
دولماباغچہ محل
استنبول، ترکی
جائے دفن انقرہ, ترکی
قومیت ترکی
سیاسی جماعت ,جمعیت اتحاد و ترقی، ریپبلکن پیپلز پارٹی، ترکی
ازواج لطیفی اشاکی
دستخط
فوجی خدمات
نوکری/شاخ فوج
عہدہ سالار (mareşal)

یہ مضمون ترکی کے پہلے صدر مصطفیٰ کمال اتاترک کے بارے میں ہے، کراچی کے گزشتہ ناظم مصطفیٰ کمال کے بارے میں جاننے کے لیے دیکھیے سید مصطفیٰ کمال۔


مصطفٰی کمال پاشا (ترکی: Mustafa Kemal Atatürk) (پیدائش: 19 مئی 1881، وفات:10 نومبر 1938)، جنگ عظیم اول میں عثمانی دور کا فوجی سالار، جدید ترکی کا بانی اور پہلا صدر ۔

ولادت و تعلیم[ترمیم]

سالونیکا کے متوسط الحال خاندان میں پیداہوئے۔ سات برس کے تھے کہ باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ سالونیکا اور مناستیر کے کیڈٹ سکولوں میں تعلیم پائی اور 1905ء میں وہاں سے سٹاف کیپٹن بن کر نکلے۔ طالب علمی کے ایام میں ہی ایک منجھے ہوئے مقرر کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔ ابتداۓ زمانہ فوج آپ یہودیوں کی خفیہ تنظیم فری میسن سے تعلقات رکھتے تھے. آپکا انکے ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا. یہی وجہ ہے کہ آج اپنے تو کجا یہودی بھی آپکی تعریف کرتے ہیں اور آپکی اسلام کیخلاف خدمات کو سراہتے ہیں.

فوجی ملازمت[ترمیم]

استنبول کے دوران قیام میں خلیفہ عبدالحمید کی حکومت کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ لینے پر کچھ عرصہ قیدرہے۔ جیل سے رہا ہوئے تو فوجی ملازمت اختیار کی اور دمشق میں پانچویں فوج کے ہیڈکوارٹر میں متعین ہوئے۔ اس دوران میں خفیہ تنظیم جمعیت اتحاد و ترقی سے ان کا رابطہ قائم ہوا۔ اور وہ نوجوان ترک رہنماوں سے مل کر ترکی کی نشاۃ ثانیہ کے لیے کام کرنے لگے۔ 1908ء کے انقلاب ترکیہ کے بعد کچھ عرصے کے لیے سیاسیات سے علیحدگی اختیار کر لی۔ جنگ اطالیہ اور جنگ بلقان میں مختلف محاذوں پر فوجی خدمات سرانجام دیں۔ اور اپنی حاضر دماغی اور جرات کے سبب شہرت حاصل کی۔ پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تو صوفیہ میں ملٹری اتاشی کے عہدے پر فائز تھے۔ ان کی درخواست پر انھیں جنگی خدمات سپرد کی گئیں۔ انھوں نے 1915ء میں انگریزوں اور فرانسیسیوں کے خلاف آبنائے فاسفورس کی کامیاب مدافعت کی ۔ اس پر انھیں جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ 1916ء میں روسی فوج کو شکست دے کر ترکی کا مقبوضہ علاقہ آزاد کرا لیا۔ 5جولائی 1917ء کو ساتویں فوج کے کمانڈر مقرر ہوئے۔ 30 اکتوبر 1918کو معاہدہ امن پر دستخط ہوگئے جس کے بعد ساتویں فوج توڑ دی گئی اورمصطفے کمال پاشا واپس استنبول بلا لیے گئے۔

بغاوت و عارضی حکومت کی تاسیس[ترمیم]

اس وقت خلیفہ وحید الدین سریر آرائے سلطنت تھے، ملک میں طوائف الملوکی پھیلی ہوئی تھی۔ خلیفہ وحید الدین کو ان کے عزائم کا علم نہ تھا۔ انہوں نے اتاترک کو نویں فوج کا انسپکٹر جنرل مقرر کر دیا۔ جس کا کام باقی ماندہ فوج سے ہتھیار واپس لینا تھا۔ لیکن انھوں نے اس کے برعکس تحریک مقاومت کی تنظیم شروع کر دی۔ انھوں نے اس تحریک کے دوسرے رہنماوں سے رابطہ قائم کیا اور مادر وطن کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہوگئے۔ اسی دوران ان کی قیادت میں متوازی عارضی حکومت قائم ہوگئی۔

سیاسی زندگی[ترمیم]

1920ء میں اتاترک انگورہ میں ترکی کی پہلی اسمبلی کے صدر منتخب ہوئے۔ اور پھر 1921ء میں ان کی قیادت میں ترکوں نے یونانیوں کے خلاف جنگ چھیڑ دی ۔ جنھوں نے ایشیائے کوچک کے بہت بڑے حصہ پر قبضہ کر رکھا تھا۔ ایک سال کے اندر اندر یونانی فوج ترکی کی سرحدوں سے باہر نکال دی گئی۔ ترکوں اور انگریزوں کے درمیان براہ راست جنگ چھڑ جانےکا خطرہ پیدا ہوگیا۔ لیکن کمال اتاترک نے اپنی فراست سے یہ خطرہ ختم کر دیا۔

الغائے خلافت اور جمہوریہ ترکی[ترمیم]

اکتوبر 1923 میں ترکی میں خلافت ختم کرنے اور ملک کو جمہوریہ قرار دینے کا اعلان ہوا اور کمال اتاترک اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ انھوں نے زمام اقتدار سنبھالتے ہی اصلاحات نافذ کیں۔ لیکن مذہبی حلقوں میں عموماً ان اصلاحات کو اچھا نہیں سمجھا گیا، اور فی الواقع ترکی ان اصلاحات کے نتیجہ میں اپنے قدیم تہذیبی ورثہ سے محروم ہوتا چلا گیا۔ عالم اسلام کے مسلمانوں میں بھی غم و غصہ کی لہر چل پڑی، اور ترکی عالم اسلام سے کٹ کر رہ گیا۔
1934ء میں قوم کی طرف سے انھیں اتاترک (بابائے ترک/ ترکوں کا باپ) کا لقب دیا گیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]