پاپائیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
پاپائیت

Papacy

پوپ رومن کیتھولک عیسائیوں کا مذہبی رہنما ہوتا ہے۔ لیکن پہلے زمانے میں وہ ان کے ہر قسم کے سیاہ و سفید کا مالک تھا۔ س کے اقتدار کی ابتدا اور انتہا ایک طویل کشمکش کی داستان ہے۔ پوپ دعوی کرتے ہیں کہ مقدس پطرس حضرت مسیح کے حواریوں میں سب سے ممتاز تھے جن کو حضرت مسیح نے بھی ممتاز کیا۔ پطرس روم میں آئے تھے اور یہاں کے لوگوں کو عیسائی بنا کر روم کے سب سے پہلے پادری بنے۔ اس عقیدے کے تحت روم کے لاٹ پادری یااسقف کو ہمیشہ سے شرع کی تاویل ، اعتقادی فتاوی اور اپیل وغیرہ کے خصوصی اختیارات حاصل ہیں اور اس پر تمام عیسائی دنیا کا اتفاقرہا ہے۔ پندرھویں صدی تک رومن شہنشاہ پوپ کے فتوے کو قانون کا درجہ دیتے تھے۔ بعد میں اس کو تمام عیسائی کلیسا کی تعمیر و تنظیم کا کام بھی سپرد ہوا۔ فرانسیسی بادشاہوں نے اس کے اقتدار میں اور بھی اضافہ کیا، کیونکہ شاہ شارلمین کی تاجپوشی پوپ کے ہاتھوں ہونے کا مطلب یہ لیا گیا کہ پوپ کی روحانی طاقت بادشاہ کی دنیاوی طاقت سے افضل ہے۔ جب شاہ لیو کی تاجپوشی روم میں پوپ کے ہاتھوں ہوئی تو اس کا اقتدار اور بھی بڑھ گیا۔ جب کوئی بادشاہ پوپ کی نافرمانی کرتا تو اس کو حلقۃ مذہب سے خارج کردیاجاتا یا اس کے خلاف عدم تعاون کا فتوی صادر کیاجاتا۔

اس وقت کے پوپ دنیاوی بادشاہوں سے زیادہ مقدس تھے۔ کیونکہ وہ تمام دنیا کی برادری اور اخوت کے لیے کارفرما تھے۔ خیال یہ تھا کہ اس جہالت کے دور میں پوپ علم و روشنی کی مشعل سے تمام دنیا میں اجالا کردیں گے ۔ اور یہ امید اور بھی قوی ہوگئی جب پوپ نے صلیبی لڑائیوں کے لیے تمام یورپ کی مدد طلب کی۔ اور تمام اطراف سے امیر و غریب جوق در جوق جمع ہونے لگے۔ لیکن یہ صلیبی جنگیں ہی پاپائیت کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں۔ سرداروں کے باہمی نزاع، لالچ اور درندگی نے صلیبی کامیابی کو کھٹائی میں ڈال دیا۔ بارھویں صدی بڑے بڑے بادشاہوں نے پوپ کا حکم ماننے سے تغافل برتنا شروع کر دیا۔ خود اٹلی میں پوپ اور حکومت میں کش مکش شروع ہوگئی۔ اور پوپ نے لوگوں پر اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لیے مظالم ، دغا بازی ، مکاری ، جاسوسی ، اذیت اورقتل و غارت کے پنجے میں آگیا۔ اور اس کی گدی بھی فرانس کے مقام اوگنان میں تبدیل ہوگئی۔ چونکہ پوپ انتخاب سے مقرر ہوئے تھے اس لیے یہاں بھی دھڑے بندی اور پارٹی بازی شروع ہوگئی اور دو یا تین پوپ علیحدہ علیحدہ مقرر ہونے لگے۔

چنانچہ کلیسا کا ایک معتدبہ حصہ علیحدہ ہو کر یونانی کلیسا میں تبدیل ہوگیا۔ مگر جس بات نے پاپائیت کو سب سے بڑھ کر نقصان پہنچایا وہ ہر ملک کا یہ قومی احساس تھا کہ ایک زبردست اور مقبول بادشاہ پوپ سے سرکشی کرسکتا تھا۔ چنانچہ انگلستان میں شاہ ہنری ہشتم نے پوپ کی غلامی کا لباس اتار پھینکا اور خود مقامی کلیسا ’’ چرچ آف انگلینڈ‘‘ کا قائد بن گیا۔ پاپائی عقائد کے خلاف بھی بہت سے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے۔ اور کالون ، لوتھر ، جان فاکس نے عیسائی عقائد میں بے شمار تبدیلیاں کیں۔ اور مروجہ مذہب کو عیوب سے پاک کیا۔


بیرونی رابطے[ترمیم]

پاپائیت کے متعلق بی بی سی اردو پر آصف جیلانی کی تحریر