پطرس باسلیکا
| Papal Basilica of Saint Peter Basilica Papale di San Pietro in Vaticano (اطالوی) Basilica Sancti Petri (لاطینی) |
|
|---|---|
پطرس باسلیکا کا داخلی حصہ |
|
| بنیادی معلومات | |
| محل وقوع | |
| جغرافیائی متناسقات | 41°54′8″N 12°27′12″E / 41.90222°N 12.45333°Eمتناسقات: 41°54′8″N 12°27′12″E / 41.90222°N 12.45333°E |
| الحاق | Roman Catholic |
| تاریخ وقف | 1626 |
| مذہبی یا تنظیمی حالت | Major basilica |
| موقع حبالہ | Official website (اطالوی) |
| معماری اوصاف | |
| معمار | Donato Bramante Antonio da Sangallo the Younger |
| معماری طرز | Renaissance and Baroque |
| سنگِ بنیاد | 18 اپریل 1506 |
| تکمیل | 18 نومبر 1626 |
| تفصیلات | |
| لمبائی | 730 فٹ (220 میٹر) |
| چوڑائی | 500 فٹ (150 میٹر) |
| بلندی (انتہائی) | 452 فٹ (138 میٹر) |
| چوڑائی گنبد (خارجی) | 137.7 فٹ (42.0 میٹر) |
| چوڑائی گنبد (داخلی) | 136.1 فٹ (41.5 میٹر) |
پطرس باسلیکا (انگریزی: st. peter's basilica) (لاطینی:basilica sancti petri) ویٹیکن سٹی میں واقع ایک عظیم الشان گرجا جو عیسائیت کا دل اور بابائے روم کی رہائش گاہ بھی ہے۔ اس کی تعمیر نشاۃ ثانیہ کے اواخر میں روم کے شمالی حصہ میں ہوئی۔ داخلی رقبہ کے لحاظ سے یہ سب سے بڑا گرجا گھر سمجھا جاتا ہے۔ اور چونکہ عیسی علیہ السلام کے 12 (یا 25) حواریین میں سے ایک صحابی حضرت پطرس کی قبر بھی یہیں بتائی جاتی ہے اس لیے یہ رومن کیتھولک عیسائیت کے مقدس مقامات میں سے ایک ہے۔ کیتھولک عیسائی عقیدہ کے مطابق عیسی علیہ السلام نے پطرس کو اپنے بعد کلیسا کی زمام کار سونپی تھی، جس کے بعد پطرس کیتھولک کلیسا کے اولین پوپ اور روم کے پہلے پادری بنے۔
1940ء سے 1964ء کے مابین جاری تحقیقات نے بھی اس کے مدفن پطرس ہونے کی تصدیق کردی ہے
اس عمارت میں دور نشاۃ ثانیہ کے فن تعمیر کے نمونے جابجا نظر آتے ہیں جن کی تخلیق میں مائیکل اینجلو کا قابل ذکر حصہ رہا ہے۔ قدیم کلیسا کی تعمیر 320ء میں ہوئی تھی، لیکن کافی عرصہ گذرجانے کی بنا پر عمارت خستہ ہورہی تھی۔ لہذا موجودہ باسلیکا کی تعمیر 18 اپریل 1506ء کو شروع کی گئی جو 18 نومبر 1626ء کو مکمل ہوئی۔
اس نئی تعمیر کے بعد اکثر پاپائے کلیسا پطرس کی جانشینی کی علامت کے طور پر باسلیکا کے نیچے واقع ہال میں مدفون ہوئے۔