زمزم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Basmala.svg

Allah-green.svg
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین
اسلام

تاریخ اسلام

عقائد و اعمال

خدا کی وحدانیت
قبولیت اسلام
نماز · روزہ · حج · زکوٰۃ

اہم شخصیات

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
ابوبکر صدیق · عمر فاروق · عثمان غنی · علی حیدر
احباب حضور اکرم
حضور اکرم کا خاندان
حضور اکرم کی ازواج
دیگر پیغمبران

کتب و قوانین

قرآن · حدیث · شریعت
قوانین · کلام
سیرت ۔ فقہ

مسلم مکتبہ ہائے فکر

اہل سنت · اہل تشیع · صوفی

معاشرتی پہلو

اسلامیات · فلسفہ
فنون · اسلام اورسائنس
قران اور جدید سائنس
فن تعمیر · مقامات
اسلامی تقویم · تعطیلات
خواتین اور اسلام · رہنما
سیاسیات · جہاد · آزاد خواہی

اسلامی سیاسی نظام

خلافت
امامت
ولایت ،
بیعت
خلیفہ
امیرالمومنین،
الشوریٰ

اسلامی اقتصادی نظام

اسلامی اقتصادی نظام
سود کی ممانعت،
قمار کی ممانعت ،
غرر کی ممانعت،
اسلامی زر (پیسہ)،
ودیعہ (بینک کا متبادل)،
اسلامی وکالہ،
اسلامی آزاد بازار ،
اسلامی نجکاری،
اسلامی میزانیہ یا بجٹ،
اسلامی تجارت،
بیت المال،
اسلامی محصول،
زکوٰۃ، جزیہ،
نصاب، خمس،
صدقہ، وقف،
اسلامی اصول برائےبنیادی ضروریات زندگی
اسلامی بینکاری، مرابحہ،
تکافل، صکوک

مزید دیکھیئے

اسلامی اصطلاحات
اسلام پر مضامین کی فہرست


زمزم کا پانی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ علیہا السلام کےشیر خوار بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیاس بجھانے کے بہانےاللہ تعالیٰ نےتقریباً 4 ہزار سال قبل ایک معجزےکی صورت میں مکہ مکرمہ کےبےآب و گیاہ ریگستان میں جاری کیا جو آج تک جاری ہے۔

چاہ زمزم مسجد حرام میں خانہ کعبہ کےجنوب مشرق میں تقریباً 21 میٹر کےفاصلےپر تہہ خانے میں واقع ہے۔ یہ کنواں وقت کےساتھ سوکھ گیا تھا۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےدادا حضرت عبدالمطلب نےاشارہ خداوندی سےدوبارہ کھدوایا جوآج تک جاری و ساری ہے۔ آب زمزم کا سب سےبڑا دہانہ حجر اسود کےپاس ہےجبکہ اذان کی جگہ کےعلاوہ صفا و مروہ کےمختلف مقامات سےبھی نکلتا ہے۔ 1953ءتک تمام کنووں سےپانی ڈول کےذریعےنکالاجاتا تھا مگر اب مسجد حرام کےاندر اور باہر مختلف مقامات پر آب زمزم کی سبیلیں لگادی گئی ہیں۔ آب زمزم کا پانی مسجد نبوی میں بھی عام ملتا ہےاور حجاج کرام یہ پانی دنیا بھر میں اپنےساتھ لےجاتےہیں۔

گہرائی،چوڑائی لمبائی[ترمیم]

جناب عبدالمطلب کے زمانے میں چاہِ زم زم کی کھدائی کے بعد سے لے کر اب تک اس کنویں کی لمبائی، چوڑائی اور گہرائی میں تبدیلی نہیں لائی گئی ہے۔ یعنی یہ آج تک 18 فٹ لمبا، 14 فٹ چوڑا اور تقریباً 5فٹ گہرا ہے۔ مکہ کا شہر جس وادی میں ہے وہ چاروں طرف سے گرینائٹ چٹانوں والے پہاڑوں میں گھری ہوئی ہے۔ حرم شریف ( مسجد الحرام) وادی میں سب سے نچلے مقام پر ہے۔ خانہ کعبہ اور مسجد الحرام سمیت پورا شہر مکہ، ریت اور گاد کی تہ ( sand and silt formation) پر واقع ہے۔ جس کی گہرائی 50 سے 100 فٹ تک ہے اور جس کے نیچے آتشی چٹانوں کی ایک تہہ پھیلی ہوئی ہے۔ چاہِ زم زم بھی ریت / گاد کی اسی تہہ پر واقع ہے اور اس میں پانی کی سطح ، اطراف کی زمین سے 40 تا 50 فٹ کی گہرائی پر ہے[1]۔

موجود معدنیات[ترمیم]

آبِ زم زم میں موجود اہم معدنیات کا خلاصہ یہ ہے:

  1. معدن ۔۔۔ ۔ تناسبی مقدار (پی پی ایم)
  2. کیلشیم ۔۔۔ ۔ 198
  3. میگنیشیم ۔۔۔ ۔ 7.43
  4. کلورائیڈ ۔۔۔ ۔ 335
  5. گندھک ۔۔۔ ۔ 370
  6. فولاد ۔۔۔ ۔ 15.0
  7. مینگنیز ۔۔۔ ۔ 15.0
  8. تانبا (کاپر) ۔۔۔ ۔ 12.0 [2]

فضیلت[ترمیم]

ابن قیم جوزیہ رحمہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں :

زمزم سب پانیوں کا سردار اورسب سے زیادہ شرف و قدروالا ہے ، لوگوں کے نفوس کوسب سے زیادہ اچھا اورمرغوب اوربہت ہی قیمتی ہے جوکہ جبریل علیہ السلام کے کھودے ہوئے چشمہ اوراللہ تعالیٰ کی طرف سےاسماعیل علیہ السلام کی تشنگی دورکرنے والا پانی ہے ۔

صحیح مسلم میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوذررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب وہ کعبہ کے پردوں پیچھے چالیس دن رات تک مقیم رہے اوران کا کھانا صرف زمزم تھا اس وقت فرمایا :

( نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوذررضي اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا تم کب سے یہاں مقیم ہو ؟ توابوذر رضي اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں میں نے جواب دیا تیس دن رات سے یہیں مقیم ہوں ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :

تیرے کھانے کا انتظام کون کرتا تھا؟ وہ کہتے ہیں میں نے جواب میں کہا کہ میرے پاس توصرف زمزم ہی تھا اس سے میں اتنا موٹا ہوگیا کہ میرے پیٹ کے تمام کس بل نکل گئے ، اورمیری ساری بھوک اورکمزوری جاتی رہی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : بلاشبہ زمزم بابرکت اورکھانے والے کے لیے کھانے کی حیثیت رکھتا ہے ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 2473 ) ۔

اورایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ ( یہ بیمارکی بیماری کی شفا ہے ) مسندالبزار حدیث نمبر ( 1171 ) اور ( 1172 ) اورمعجم طبرانی الصغیر حدیث نمبر ( 295 ) ۔

علمائے کرام نے اس حدیث پر عمل اورتجربہ بھی کیا ہے عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ تعالیٰ عنہ نے جب حج کیا تووہ زمزم کے پاس آئے توکہنے لگے اے اللہ مجھے ابن ابی الموالی نے محمد بن منکدر سے اورانہوں نے جابررضي اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : زمزم اسی چیز کےلیے ہے جس کے لیے اسے نوش کیا جائے ، اورمیں روزقیامت کی تشنگی اورپیاس سے بچنے کےلیے اسے پی رہا ہوں ۔

ابن قیم رحمہ اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اورمیرے علاوہ دوسروں نے بھی زمزم پی کرتجربہ کیا ہے کہ اس سے عجیب وغریب قسم کی بیماریاں جاتی رہتی ہیں اورمجھے زمزم کے ساتھ کئ ایک بیماریوں سے شفانصیب ہوئی ہے اورالحمدللہ میں ان سے نجات حاصل کرچکا ہوں ۔

اورمیں نےاس کا بھی مشاھدہ کیا ہے کہ کئی ایک نے زمزم کوپندرہ یوم سے بھی زیادہ تک بطورغذا استعمال کیا تواسے بالکل بھوک محسوس تک نہیں ہو‏ئی اوروہ لوگوں کے ساتھ مل کرطواف کرتا رہا۔ زمزم اچھی طرح ہاتھ سے کھدائی کر رہا تھا، اور تقریبا 30 میٹر (98 فٹ) ویاس میں گہری اور 1،08 2،66 میٹر (میں 3 7 انچ میں 8 9 انچ) ہے. یہ بنیاد سے وادی alluvium کے اور کچھ سے بھوجل نلکے. اصل میں اچھی طرح سے پانی رسیاں اور بالٹیوں کے ذریعے تیار کی تھی، لیکن آج ساتھ ساتھ خود کو ایک بیسمنٹ کمرے جہاں اس گلاس پینل (مہمانوں کی اجازت داخل نہیں کر رہے ہیں) کے پیچھے دیکھا جا سکتا ہے میں ہے. الیکٹرک پمپ میں پانی، جس میں پورے مسجد رحمہ اللہ تعالیٰ نے حرم میں طواف کے علاقے کے قریب پانی کے جھرنے اور ڈسپینسگ کنٹینرز کے ذریعے دستیاب ہے اپنی طرف متوجہ [1]. Hydrogeologically، اچھی طرح وادی ابراہیم (ابراہیم کی وادی) میں ہے. نصف کے اوپری ریتیلی alluvium، وادی کے سب سے اوپر 1 میٹر (3 انچ 3) ہے جس میں ایک ٹھوس "کالر" کے علاوہ پتھر کی چنائی کے ساتھ قطار میں ہے. کم نصف بنیاد میں ہے. alluvium اور بنیاد کے درمیان ایک 1/2-metre (8 فوٹ 1) بھیدی کے سیکشن راک weathered پتھر کے ساتھ اہتمام کیا ہے، اور یہ اس سیکشن ہے کیا کہ میں اہم پانی اندراج فراہم کرتا ہے. اچھی طرح سے میں پانی وادی ابراہیم میں جذب مقامی پہاڑیوں سے بارش، اسی طرح بند چلانے سے آتا ہے. چونکہ اس علاقے کو زیادہ بن گیا ہے اور زیادہ آباد، وادی ابراہیم پر جذب بارش سے پانی کی کمی واقع ہوئی ہے. سعودی جیولوجیکل سروے کے ایک "زمزم سٹڈیز اور ریسرچ سنٹر" ہے جس میں تفصیل سے اچھی طرح کی تکنیکی خصوصیات کا تجزیہ کرتا ہے. پانی کی سطح hydrograph، جو حال ہی میں زیادہ وقت میں ایک ڈیجیٹل نگرانی کا نظام ہے جو کہ پانی کی سطح، بجلی چالکتا، پییچ، اہ، اور درجہ حرارت ٹریک تبدیل کر دیا گیا ہے کی طرف سے نگرانی کر رہے تھے. اس معلومات کے تمام انٹرنیٹ کے ذریعے مسلسل دستیاب کیا جاتا ہے. وادی بھر میں دیگر کوں بھی کیا گیا ہے کچھ ڈیجیٹل ریکارڈر کے ساتھ قائم، مقامی aquifer نظام کے ردعمل کی نگرانی کے لئے [1]. پانی کی سطح سطح 3.23 کے نیچے میٹر (10.6 فٹ) ہے. فی سیکنڈ ایک 24 گھنٹے کی مدت سے زیادہ کے لئے 8،000 لیٹر (280 الاضلاع فوٹ /) پر ایک پمپنگ ٹیسٹ 3.23 سے ایک بوند پانی کی سطح میں میٹر (10.6 فٹ) سطح 12،72 میٹر (41.7 فٹ) اور تو 13،39 میٹر ذیل میں دکھایا ( 43،9 فیٹ)، جس کے بعد پانی کی سطح چلی بند کر دیا. جب بند کر دیا پمپنگ، پانی کی سطح 3.9 میٹر (13 فٹ) کی سطح کے نیچے صرف 11 منٹ کے بعد برآمد [حوالہ کی ضرورت ہے]. یہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اچھی طرح کھانا کھلانے aquifer مکہ مکرمہ کے ارد گرد کے ہمسایہ پہاڑوں میں پتھر کی تحلیل سے ریچارج کرنے لگتا ہے [حوالہ کی ضرورت ہے]. زمزم کے پانی کا رنگ یا بو نہیں ہے، لیکن یہ ایک الگ ذائقہ ہے، اور اس کی پییچ 7.9-8.0 ہے، اشارہ ہے کہ یہ کسی حد تک alkaline ہے اور سمندری پانی کے لئے اسی طرح کی ہے.

آب زم زم ایک زندہ جاوید معجزہ[ترمیم]

حقیقت یہ ہے کہ آب زم زم اللہ کریم کا ایک زندہ جاوید معجزہ ہے اور اس پر جب بھی اور جتنی بھی تحقیق کی جائے کم ہے کیونکہ ہر مرتبہ انسان پر نئے راز آشکار ہوتے ہیں اور مزید روشن پہلو انسان کی عقل کو ذخیرہ کرتے ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:۔ ٭ آب زم زم کا کنواں آج تک خشک نہیں ہوا اور اس نے ہمیشہ لاکھوں حجاج کرام اور زائرین کی پیاس بجھائی ہے۔ ٭ اس میں موجود نمکیات کی مقدار ہمیشہ یکساں رہتی ہے۔ ٭ اس کے ذائقے میں آج تک کسی قسم کی تبدیلی واقع نہیں ہوئی بلکہ روز اول سے آج تک اس کا وہی ذائقہ ہے۔ ٭ آب زم زم کی شفا بخشی کسی سے پوشیدہ نہیں بلکہ اپنے اور غیر سبھی اس کے معترف ہیں۔ ٭ آب زم زم وسیع پیمانے پر مکہ اور گردونواح میں استعمال کیا جاتا ہے بلکہ رمضان شریف میں تو مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آب زم زم مہیا کیا جاتا ہے اس کے علاوہ دنیا بھر سے آنے والے زائرین حج اور عمرہ کے وقت اپنے ساتھ آب زم زم کے چھوٹے بڑے لاکھوں کین بھر کر لے جاتے ہیں۔ ٭ آب زم زم اپنی اصلی حالت میں فراہم کیا جاتا ہے اور اس میں کلورین سمیت کسی بھی قسم کے جراثیم کش کیمیکل کی آمیزش نہیں کی جاتی لیکن اس کے باوجود یہ پینے کیلئے سب سے بہترین مشروب ہے۔ ٭ دوسرے کنوئوں میں کائی جم جاتی ہے اور دیگر نباتاتی اور حیاتیاتی افزائش ہوتی ہے انواع واقسام کی جڑی بوٹیاں اور پودے اگ آتے ہیں یا کئی قسم کے حشرات بستے ہیں جس سے پانی کا رنگ اور ذائقہ متاثر ہوتا ہے مگر آب زم زم دنیا کا واحد پانی ہے جو کہ کسی بھی قسم کی نباتاتی یا حیاتیاتی افزائش اور آلائش سے پاک صاف ہے۔ ٭ ہزاروں برس پہلے نوزائیدہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ایڑیاں رگڑنے سے جاری ہونے والا یہ چشمہ لاکھوں کروڑوں لوگوں کی پیاس بجھانے کے باوجود آج بھی پہلے دن کی طرح پینے والوں کو حیات بخشتا ہے یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ایک ایسی نعمت ہے جس پر مکہ شریف اور اہل مکہ ہمیشہ بجا طور پر نازاں و شاداں رہیں گے۔

آب زم زم پر لیبارٹریوں میں تحقیق[ترمیم]

جدید طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ آب زمزم میں ایسے اجزاءمعدنیات اور نمکیات موجود ہیں جو انسان کی غذائی اور طبی ضروریات کو بڑے اچھے طریقے سے پورا کرتے ہیں حکومت سعودی عرب نے اس بات کا اہتمام کررکھا ہے کہ ہر چار گھنٹے بعد زم زم کے پانی کا جدید ترین لیبارٹریوں میں ہر لحاظ سے معائنہ کیا جاتا ہے۔ ان تحقیقات کے نتیجے میں آب زم زم کے بارے میں بے شمار انکشافات ہورہے ہیں۔ آب زم زم کی کیمیائی تحقیقات اور طبی مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں وہ اجزاءشامل ہیں جو معدہ جگر‘ آنتوں اور گردوں کیلئے بالخصوص مفید ہیں۔

آب زم زم اور عام پانی پر تحقیق[ترمیم]

ابن الصاحب المصری کہتے ہیں کہ میں نے آب زم زم کا وزن مکہ کے ایک چشمہ کے پانی سے کیا تو میں نے زم زم کو اس سے ایک چوتھا حصہ وزنی پایا۔ پھر میں نے میزان طب کے حساب سے دیکھا تو اس کو تمام پانیوں سے طبی اور شرعی لحاظ سے افضل پایا۔


بیرونی روابط[ترمیم]

  1. ^ علیم احمد ماہنامہ گلوبل سائنس،فروری 2003ء۔ کراچی
  2. ^ علیم احمد ماہنامہ گلوبل سائنس،فروری 2003ء۔ کراچی