آل بویہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(بنی بویہ سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
آل بویہ
Buyid Dynasty
آل بویِه
Āl-e Buye

 

 

934–1062[1]
The Buyid dynasty in 970
دارالحکومت شیراز
(بویہ فارس, 934–1062)
ری
(بویہ جبال, 943–1029)
بغداد
(بویہ عراق, 945–1055)
زبانیں فارسی (مادری زبان)[2]
عربی
مذہب اہل تشیع[3]
(اس کے علاوہ اہل سنت, عیسائی, زرتشتیت, یہودیت)
حکومت موروثی بادشاہت
امیر/شہنشاہ
 - 934-949 عماد الدولہ
 - 1048-1062 ابو منصور فولاد ستون
تاریخی دور قرون وسطی
 - قیام 934
 - عماد الدولہ "امیر" ہونے کا اعلان
 - عضد الدولہ "شہنشاہ" کا اعلان 978
 - اختتام 1062[1]
جانشین
پیشرو
دولت سامانیہ
زیاری خاندان
بنو الیاس
سلطنت غزنویہ
سلجوقی سلطنت
آل کاکویہ
عقیلی خاندان
مروانی
موجودہ ممالک
Warning: Value specified for "continent" does not comply
آل بویہ کی حکومت

خلافت عباسیہ کےعروج کےزمانے٢٤٧ھ تک اندلس اور مراکش کےچھوٹےملکوں کو چھوڑ کر باقی ساری اسلامی دنیا موجودہ پاکستان اور فرغانہ لےکر قیروان تک عباسی خلافت کےتحت تھی لیکن عباسی خلافت کے زوال کےبعد اس اتحاد اور وحدت کا خاتمہ ہوگیا اور کئی خودمختار حکومتیں قائم ہوگئیں۔ ان حکومتوں میں تین بڑی اور قابل ذکر حکومتوں میں بنی بویہ کی حکومت بھی شامل تھی۔

حکومت کا قیام[ترمیم]

اس خاندان کا مورث اعلیٰ ابو شجاع بویہ تھا چونکہ اس خاندان کا تعلق ماژندران کےعلاقےدیلم سےتھا اس لئےبنی بویہ کو دیالمہ بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ ایک ایرانی خاندان تھا۔ اس حکومت کےبانی تین بھائی علی، حسن اور احمد تھےجنہوں نےبالترتیب عماد الدولہ، رکن الدولہ اور معز الدولہ کےلقب اختیار کئےاور ایران اور عراق میں علیحدہ علیحدہ حکومتیں قائم کیں۔ عماد الدولہ ان کا مرکزی سربراہ تھا۔ اس کےبعد یہی حیثیت رکن الدولہ کو حاصل ہوئی اور اس کےبعد عضد الدولہ اور اس کی اولاد کو۔ بغداد پر اسی خاندان کےحکمران معز الدولہ نے٣٣٤ھ میں قبضہ کیا تھا۔ عراق کا پورا ملک اور خراسان چھوڑ کر باقی ایران بنی بویہ کےقبضےمیں تھا۔ بغداد، اصفہان اور شیراز بویہی سلطنت کےبڑےشہر تھی۔ دولت سامانیہ کےزوال کےبعد رے پر بھی ان کا قبضہ ہوگیا

مشہور حکمران[ترمیم]

تاریخ ایران

بنی بویہ کا سب سےمشہور عضد الدولہ ٣٦٦ھ تا ٣٧٢ھ ہے ۔ اس کےبعد بنی بویہ کی حکومت میں انتشار پیدا ہوگیا۔ عراق، رےاور فارس میں بویہی شہزادوں نےعلیحدہ علیحدہ حکومتیں قائم کرلیں ان میں رےکی حکومت اس لحاظ سےمشہور تھی اس کےاس حکمران فخر الدولہ کو ایک بڑا قابل وزیر صاحب ابن عباد مل گیا تھا۔ صاحب نے٣٧٣ھ تا ٣٨٥ھ تک ١٢ سال وزارت کی اور ایسی شہرت حاصل کی جیسی خلافت عباسیہ کےزمانےمیں برامکہ نےحاصل کی تھی۔

خاتمہ[ترمیم]

رےکی حکومت کا ٤٢٠ھ میں غزنی کےحکمران محمود غزنوی نے خاتمہ کردیا۔ اس کےبعد ٤٤٧ھ میں سلجوقیوں نے بغداد پر قبضہ کرکےبنی بویہ کی سلطنت کا ہر جگہ سےخاتمہ کردیا۔ بنی بویہ عقیدےکےلحاظ سے شیعہ تھےاور محرم کےمہینےمیں تعزیہ نکالنےاور عاشورہ کی رسوم ادا کرنےکا آغاز انہی کےحکمران معز الدولہ کے زمانے سے ہوا۔

علم و ادب کی سرپرستی[ترمیم]

بنی بویہ کےکئی حکمران اور وزیر علم وادب کےبڑے سرپرست تھے۔ عضد الدولہ اور صاحب ابن عباد خاص طور پر اس لحاظ سےمشہور تھے۔ عربی زبان کا سب سے بڑا شاعر متنبی ٩١٥ھ تا ٩٦٥ھ اسی زمانےمیں ہوا ہے ۔

مشہور طبیب اور فلسفی بو علی سینا ٣٧٠ھ تا ٤٢٨ھ اسی زمانےمیں ہوا ہے ۔ رازی کےبعد ابن سینا سب سےبڑا مسلمان طبیب تھا۔ طب میں اس نےجو کتاب لکھی اس کا نام ”القانون“ ہےاور فلسفےکےموضوع پر جو سب سےبڑی کتاب لکھی اس کا نام ”الشفاء“ہے ۔ یہ دونوں کتابیں کئی جلدوں میں ہیں اور عربی زبان میں ہیں۔ بعد میں ان کتابوں کا لاطینی اور یورپ کی دوسری زبانوں میں ترجمہ ہوا اور فرانس، جرمنی اور اٹلی کےمدرسوں میں کئی سال تک پڑھائی جاتی رہیں۔

اسی زمانےکےسائنس دانوں میں ابن الہیثم ٣٤٥ھ تا ٤٣٠ ھ بمطابق ٩٦٥ءتا ١٠٣٩ءکا نام بھی قابل ذکر ہے ۔ وہ بصرہ کا رہنےوالا تھا اور ابن سینا کا ہم عصر تھا۔ اس نےعلم طبیعیات اور سائنس سےمتعلق کئی کتابیں لکھیں۔ یورپ کےمحققین کا کہناہےکہ کیمرہ جس نظریےکی بنیاد پر بنایا گیا وہ نظریہ سب سےپہلےابن الہیثم نےہی پیش کیا۔ اس کی کتاب ”کتاب المناظر“ جس میں اس نےیہ نظریہ پیش کیا تھا بارہویں صدی میں عربی سے لاطینی زبان میں ترجمہ کی گئی اور یورپ کےسائنس دانوں نےاس سےفائدہ اٹھایا۔ اس کےان کمالات کی وجہ سےپاکستان میں نومبر ١٩٦٩ءمیں ابن الہیثم کا جشن ہزار سالہ منایا گیا۔ فلسفہ کی مشہور کتاب ”رسائل اخوان الصفا“ بھی اسی زمانےمیں لکھی گئی۔

بنی بویہ کےان کارناموں کےباوجود ان کا دور حکومت مسلمانوں میں عقائد کی کمزوری اور اخلاقی خرابی کا باعث ہوا۔ مذہبی تعصب اور فرقہ بندی نےچوتھی صدی ہجری میں مسلمانوں میں مضبوطی سےجڑیں پکڑلی تھیں اور عباسی دور کےبرخلاف مختلف عقائد رکھنےوالےعلماءدست و گریباں نظر آتےتھے۔ بغداد فرقہ وارانہ فساد کا گھڑ بن گیا۔

امرائے بنی بویہ[ترمیم]

٣٢٠ھ تا ٤٤٧ھ بمطابق ٩٣٤ءتا ١٠٥٥ء

دیالمہ فارس

١۔ عماد الدولہ

٢۔ رکن الدولہ

٣۔ عضد الدولہ

٤۔ صمصام الدولہ

٥۔ شرف الدولہ

٦۔ بہاءالدولہ

٧۔ سلطان الدولہ

٨۔ مشرف الدولہ

٩۔ جلال الدولہ

١٠۔ ابو کالیجار

١١۔ ملک الرحیم (اس کے دور حکومت میں سلجوقیوں نے قبضہ کرلیا)

دیالمہ رے

١۔ رکن الدولہ

٢۔ فخر الدولہ

٣۔ موعد الدولہ

٤۔ فخر الدولہ دوبارہ

٥۔ مجد الدولہ

(اس کے دور حکومت میں محمود غزنوی نے حملہ کرکے اس حکومت کا خاتمہ کردیا)


دیالمہ عراق


١۔ معز الدولہ

٢۔ عز الدولہ

٣۔ عضد الدولہ

٤۔ صمصام الدولہ

٥۔ شرف الدولہ

٦۔ بہاء الدولہ

٧۔ سلطان الدولہ

٨۔ مشرف الدولہ

٩۔ جلال الدولہ

١٠۔ ابو کالیجار

١١۔ ملک الرحیم

(سلجوقیوں نے ہمیشہ کے لئے خاتمہ کردیا)

  1. ^ C.E. Bosworth, The New Islamic Dynasties, (Columbia University Press, 1996), 154.
  2. ^ "Persian Prose Literature." World Eras. 2002. HighBeam Research. (September 3, 2012);"Princes, although they were often tutored in Arabic and religious subjects, frequently did not feel as comfortable with the Arabic language and preferred literature in Persian, which was either their mother tongue—as in the case of dynasties such as the Saffarids (861–1003), Samanids (873–1005), and Buyids (945–1055)...". [1]
  3. ^ Abbasids, B.Lewis, The Encyclopaedia of Islam, Vol. I, Ed. H.A.R.Gibb, J.H.Kramers, E. Levi-Provencal and J. Schacht, (Brill, 1986), 19.