ملالی جویا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ملالی جویا ملالی جویا موقع

ملالی جویا افغانستان کی parliament کی سب سے جواں اور مشهور ممبر هے- [1]

جویا افغان پارلیمنٹ میں 2005 میں مغربی صوبے فراه سے منتخب ہوئی-

افغانستان کی صوبائی اسمبلی نے ملالی جویا کی رکنیت منسوخ کر دی ۔ ملالی جویا نے ایک انٹرویو میں پارلیمنٹ کو اصطبل سے بدتر قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ سے بہتر تو اصطبل ہوتا ہے جس کی گائیں کم ازکم دودھ دیتی ہیں۔اور اس میں رکھے جانے والے گدھے باربرداری کے کام تو آتے ہیں۔ ساتھی ارکان نے اپنی اس ” منہ پھٹ“ رکن کو سبق سکھانے کے لیے اس کی رکنیت منسوخ کردی ہے۔

پارلیمنٹ کے ایوان زیریں نے جویا کو 2010 میں اسمبلی کی مدت کے اختتام تک معطل رکھنے کے لئے ووٹ دیا ہے۔[2]

ملالی جویا پارلیمان کی ایسی خاتون رکن ہے جو عبدالرسول سیاف اور مجاہدین کے دیگر بڑے رہنماؤں پر شدید تنقید کے لیے مشہور ہے۔

ملالی جویا افغان جنگجو سرداروں اور حکومت کی سخت ناقد رہی ہے اور وہ مسلسل افغان خانہ جنگی کے دوران جنگی جرائم میں ملوث افغان وارلارڈز اور لیڈروں کے خلاف مقدمات درج کرانے کے مطالبات کرتی چلی آرہی ہے۔

کابل میں پارلیمنٹ میں خطاب کر ہی رہی تھیں کہ سپیکر نے جہاں انہیں خاموش رہنے کی تلقین کی وہاں ارکان اسمبلی نے ان کے خلاف شور مچا مچا کر پارلیمنٹ کو ایک “مچھلی منڈی“ میں بدل دیا ۔ “ اسے چپ کرایا جائے ‘ اس کا منہ بند کیا جائے ‘ اسے ایوان سے باہر پھینک دیا جائے ‘ اسے ہرگز ایوان میں واپس نہ آنے دیا جائے ۔“ ارکان اسمبلی اُٹھ اُٹھ کر ہاتھ ہوا میں بلند کرتے ہوئے نعرے لگا رہے تھے ۔ پھر پارلیمنٹ کے محافظوں نے اس خاتون رکن مالالائی جویا کو بازؤں سے پکڑ کر پارلیمنٹ سے باہر نکال دیا ۔


کابل میں ہونے والے مظاہرہ میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی اور انہوں نے ملالی جویا کے حق میں پرزور نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے بڑے بڑے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر حکومت کے خلاف اور مذکورہ رکن پارلیمان کے حق میں نعرے درج تھے۔ اسی طرح کے چھوٹے بڑے مظاہرے افغانستان کے دیگر شہروں میں بھی منعقد ہوئے جن میں شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور انہوں نے حکومت سے خاتون رکن پارلیمان کی برطرفی کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ [3] [4]

کینیڈا میں جویا نے بیان دیا کہ نیٹو فوجوں کی موجودگی سے افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکا، قوم بندوق کے سائے میں زندگی گزار رہی ہے، اور نہ ہی افغان خواتین کی حالت بہتر ہوئی ہے۔ [5]


افغانستان کی عالمی شہرت رکھنے والی سیاستدان ‘ خاتون پارلیمانی رکن ‘ ملالی جویا نے کہا ہے کہ افغانستان کی قومی پارلیمان‘ خونی قاتلوں ‘ منشیات کے سمگلروں ‘ جنگی مجرموں اور معاشرے کے ناسور سیاستدانوں کا مجموعہ ہے اور امریکہ و یورپ اِن جنگی مجرموں کی حمایت کر رہے ہیں ۔ [6]

جیسا کہ "بیرونی روابط" فہرست سے ظاہر ہے کہ اردو اخبارات میں ان کا تذکرہ نہیں ملتا۔[6]

بیرونی روابط[ترمیم]


حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ BBC
  2. ^ Chron
  3. ^ youtube یوٹیوب پر
  4. ^ pajhwok
  5. ^ NDP موقع، 8 ستمبر 2006ء [1]
  6. ^ [2][3][4][5]