غیبت صغرٰی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

غَیبَتِ صغرٰی (minor occultation) ، اہل تشیع میں پایا جانے والے امامت کے نظریے سے تعلق رکھنے والا ایک تصور ہے جسے بارھویں امام حضرت مہدیALAYHE.PNG کے لیۓ اختیار کیا جاتا ہے اور اس کی مدت عرصہ 874ء تا 891ء تک بیان کی جاتی ہے۔ 874ء میں اپنے والد یعنی گیارھویں امام حضرت عسکریALAYHE.PNG کے انتقال کے بعد ، امام مہدیALAYHE.PNG کو بارھواں امام تسلیم کیا گیا جن کی عمر اس وقت پانچ سال بتائی جاتی ہے۔ اس وقت کے عباسی خلیفہ بنام المعتمد (870ء تا 892ء) کی جانب سے کسی خطرے (و دیگر مصلحتوں) کے پیش نظر بارھویں امام کو پوشیدہ رہتے ہوۓ کام کرنا پڑا اور شیعوں سے رابطے کے لیۓ انکے والد کے چند قریبی ساتھی بطور سفیر کام کرتے رہے ، ان سفیروں کے لیۓ الابواب الاربعۃ (Four Gates) کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے[1]۔ جب عوام کو کوئی مسئلہ درپیش آتا تو وہ اسے امام کے سفیر کو پیش کردیتے اور سفیر پھر امام سے اس مسئلہ پر وضاحت حاصل کر کہ عوام تک پہنچادیتے تھے۔ شیعوں کے مطابق غیبی امام اور عوام کے درمیان رابطہ قائم رکھنے والے ان سفیروں یا ابواب کی تعداد چار بیان کی جاتی ہے، چوتھے باب (حضرت محمد السمری) نے 891ء میں اپنی وفات سے چند روز قبل ، غیبی امام (حضرت مہدی) کی جانب سے یہ پیغام سنایا کہ اب کوئی جانشین باب یا سفیر مقرر نہیں کیا جاۓ گا اور یوں ان کی وفات کے بعد سے اہل تشیع میں حضرت امام مہدی کے دوبارہ منظرعام پر آنے کا انتظار شروع ہوا ، غیبت (حالت غیب) میں ہونے کی اس مدت کو ، کہ جب امام اور عوام کے درمیان رابطے کا کوئی باب یا دروازہ بھی نا رہا ، غَیبَتِ کبرٰی (major occultation) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ غیبتِ صغرٰی میں رہتے ہوئے، عوام سے رابطہ اختیاری ہوتا ہے جبکہ غیبتِ کُبرٰی میں یہ تعلق بھی ختم ہوجاتا ہے۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام بھی غیبتِ کُبرٰی میں ہیں اور قیامت سے پہلے دوبارہ ظہور پذیر ہونگے جبکہ حضرت خضر علیہ السلام غیبتِ صغرٰی میں ہیں۔ اس کے علاوہ حضرت الیاس علیہ السلام، حضرت ادریس علیہ السلام غیبتِ کُبرٰی میں ہیں۔ جب امام مہدی علیہ السلام تشریف لائیں گے تو یہ مندرجہ بالا چاروں انبیاء اُن کے ہمراہ جلوہ افروز ہونگے[حوالہ درکار]۔

مزید دیکھیۓ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ چار سفیروں کے لیۓ الابواب الاربعۃ کی اصطلاح؛ (عربی موقع)۔