سانچہ:Lorem ipsum

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


This template outputs lorem ipsum filler text. It takes four parameters: the number of paragraphs to generate, paragraph prefix, paragraph suffix, and an option to link lorem ipsum. There are 10 distinct paragraphs, but it can produce up to 20.

استعمال[ترمیم]

{{Lorem ipsum|2|* "|"}} generates:

  • " کہتے ہیں ایک خاندان میں چینی کا ایک قیمتی اور قدیمی گلدان ہوا کرتا تھا۔ ایک لا ابالی نوجوان نے بوڑھے جد سے اس کی اہمیت کے بارے پوچھا، جواب ملا کہ وہ نسلوں سے خاندان میں سب سے قیمتی ورثہ کی حثیت سے محفوظ چلا آرہا ہے اور خاندان کے ہر فرد اور نسل کا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کرے۔ نوجواں نے کہا، اب اس کی حفاظت کا تردد ختم ہوا کیونکہ چینی کا وہ گلدان موجودہ نسل کے ہاتھ سے پھسل کر فرش پر گرا اور چکنا چور ہو گیا۔ بو ڑھا بولا، حفاظت کا تردد ختم ہوا ندامت کا دور کبھی ختم نہ ہو گا."
  • "اپنے وسیع تر مفہوم میں ہر وہ تحریر جو کسی شکل میں محفوظ کی گئی ہو کتاب کہلاتی ہے۔ گویا مٹی کی تختیاں، پیپرس کے رول، اور ہڈیاں جن پر تحریر محفوظ ہے کتاب ہے؛ یہ چمڑے یا جھلی پر بھی ہو سکتی ہے اور کاغذ پر بھی۔ کتاب لکھے اور چھاپے گئے کاغذوں کے مجموعہ کو کہتے ہیں ، جن کی جلد بندی کی گئی ہواور انھیں محفوظ کرنے کے لیے جلد موجود ہو۔"


Note that whitespace is important in the second and third parameters, as {{Lorem ipsum|1| * " | " }} results in:

* "  کہتے ہیں ایک خاندان میں چینی کا ایک قیمتی اور قدیمی گلدان ہوا کرتا تھا۔ ایک لا ابالی نوجوان نے بوڑھے جد سے اس کی اہمیت کے بارے پوچھا، جواب ملا کہ وہ نسلوں سے خاندان میں سب سے قیمتی ورثہ کی حثیت سے محفوظ چلا آرہا ہے اور خاندان کے ہر فرد اور نسل کا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کرے۔ نوجواں نے کہا، اب اس کی حفاظت کا تردد ختم ہوا کیونکہ چینی کا وہ گلدان موجودہ نسل کے ہاتھ سے پھسل کر فرش پر گرا اور چکنا چور ہو گیا۔ بو ڑھا بولا، حفاظت کا تردد ختم ہوا ندامت کا دور کبھی ختم نہ ہو گا. " 


All sections of text can run together by entering a space into the third parameter. <blockquote style="background: white">{{Lorem ipsum|2|| }}</blockquote> will produce:

کہتے ہیں ایک خاندان میں چینی کا ایک قیمتی اور قدیمی گلدان ہوا کرتا تھا۔ ایک لا ابالی نوجوان نے بوڑھے جد سے اس کی اہمیت کے بارے پوچھا، جواب ملا کہ وہ نسلوں سے خاندان میں سب سے قیمتی ورثہ کی حثیت سے محفوظ چلا آرہا ہے اور خاندان کے ہر فرد اور نسل کا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کرے۔ نوجواں نے کہا، اب اس کی حفاظت کا تردد ختم ہوا کیونکہ چینی کا وہ گلدان موجودہ نسل کے ہاتھ سے پھسل کر فرش پر گرا اور چکنا چور ہو گیا۔ بو ڑھا بولا، حفاظت کا تردد ختم ہوا ندامت کا دور کبھی ختم نہ ہو گا. اپنے وسیع تر مفہوم میں ہر وہ تحریر جو کسی شکل میں محفوظ کی گئی ہو کتاب کہلاتی ہے۔ گویا مٹی کی تختیاں، پیپرس کے رول، اور ہڈیاں جن پر تحریر محفوظ ہے کتاب ہے؛ یہ چمڑے یا جھلی پر بھی ہو سکتی ہے اور کاغذ پر بھی۔ کتاب لکھے اور چھاپے گئے کاغذوں کے مجموعہ کو کہتے ہیں ، جن کی جلد بندی کی گئی ہواور انھیں محفوظ کرنے کے لیے جلد موجود ہو۔

To link lorem ipsum, either enter link=yes, or yes into the fourth parameter. {{Lorem ipsum|2=#|link=yes}} or {{Lorem ipsum|1|#||yes}} will generate:

  1. کہتے ہیں ایک خاندان میں چینی کا ایک قیمتی اور قدیمی گلدان ہوا کرتا تھا۔ ایک لا ابالی نوجوان نے بوڑھے جد سے اس کی اہمیت کے بارے پوچھا، جواب ملا کہ وہ نسلوں سے خاندان میں سب سے قیمتی ورثہ کی حثیت سے محفوظ چلا آرہا ہے اور خاندان کے ہر فرد اور نسل کا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کرے۔ نوجواں نے کہا، اب اس کی حفاظت کا تردد ختم ہوا کیونکہ چینی کا وہ گلدان موجودہ نسل کے ہاتھ سے پھسل کر فرش پر گرا اور چکنا چور ہو گیا۔ بو ڑھا بولا، حفاظت کا تردد ختم ہوا ندامت کا دور کبھی ختم نہ ہو گا.


If fewer than 446 characters are desired, then Template:Str left can be used. {{Str left|{{Lorem ipsum}}|123}}. will result in:

کہتے ہیں ایک خاندان میں چینی کا ایک قیمتی اور قدیمی گلدان ہوا کرتا تھا۔ ایک لا ابالی نوجوان نے بوڑھے جد سے اس کی اہمیت کے ب.

مکمل عبارت[ترمیم]

کہتے ہیں ایک خاندان میں چینی کا ایک قیمتی اور قدیمی گلدان ہوا کرتا تھا۔ ایک لا ابالی نوجوان نے بوڑھے جد سے اس کی اہمیت کے بارے پوچھا، جواب ملا کہ وہ نسلوں سے خاندان میں سب سے قیمتی ورثہ کی حثیت سے محفوظ چلا آرہا ہے اور خاندان کے ہر فرد اور نسل کا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کرے۔ نوجواں نے کہا، اب اس کی حفاظت کا تردد ختم ہوا کیونکہ چینی کا وہ گلدان موجودہ نسل کے ہاتھ سے پھسل کر فرش پر گرا اور چکنا چور ہو گیا۔ بو ڑھا بولا، حفاظت کا تردد ختم ہوا ندامت کا دور کبھی ختم نہ ہو گا.

اپنے وسیع تر مفہوم میں ہر وہ تحریر جو کسی شکل میں محفوظ کی گئی ہو کتاب کہلاتی ہے۔ گویا مٹی کی تختیاں، پیپرس کے رول، اور ہڈیاں جن پر تحریر محفوظ ہے کتاب ہے؛ یہ چمڑے یا جھلی پر بھی ہو سکتی ہے اور کاغذ پر بھی۔ کتاب لکھے اور چھاپے گئے کاغذوں کے مجموعہ کو کہتے ہیں ، جن کی جلد بندی کی گئی ہواور انھیں محفوظ کرنے کے لیے جلد موجود ہو۔

اس قوم کو علم و حکمت کی کیا قدر جو مہنگا جوتا خریدنے میں فخر اور سستی کتاب لینے میں دقت محسوس کرے۔ایسا کیوں نہ سمجھا جائے کہ اس قوم کو کتابوں سے زیادہ جوتوں کی ضرورت ہے۔ ( امر جلیل )

شاعری ، گلوکاری ، اور اداکاری کی طرح عشق کرنا بھی فنون لطیفہ میں سے ہے۔دنیا میں تین قسم کے عاشق ہیں۔ایک وہ جو خود کو عاشق کہتے ہیں۔دوسرے وہ جنھیں لوگ عاشق کہتے ہیں۔اور تیسرے وہ جو عاشق ہوتے ہیں۔ میرا دوست " ف " کہتا ہے عاشق در اصل " آ شک " ہے کہ وہ اتنا محبوب سے پیار نہیں کرتا جتنا شک کرتا ہے۔ ہمارے ہاں جتنے بھی اچھے عاشق ملتے ہیں وہ کتابوں میں ہیں یا قبرستانوں میں۔کامیاب عاشق وہ ہوتا ہے جو عشق میں ناکام ہو ، کیونکہ جو کامیاب ہو جائے وہ عاشق نہیں خاوند کہلاتا ہے۔ شادی سے پہلے وہ بڑھ کر محبوبہ کا ہاتھ پکڑتا ہے اپنی محبّت کے لیے۔جب کہ شادی کے بعد وہ بڑھ کر بیوی کا ہاتھ پکڑتا ہے اپنے بچاؤ کے لیے۔کہتے ہیں عاشق خوبصورت نہیں ہوتے ، اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ جو خوبصورت ہوتے ہیں وہ عاشق نہیں ہوتے ، لوگ ان پر عاشق ہوتے ہیں ۔عاشق ، شاعر اور پاگل ان تینوں پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے ، کیونکہ یہ خود کسی پر اعتبار نہیں کرتے ۔اس دنیا میں جس شخص کی بدولت عاشق کی تھوڑی بہت عزت ہے وہ رقیب ہے جب رقیب نہیں رہتا تو اچھے خاصے عاشق اور محبوب میاں بیوی بن جاتے ہیں ۔میرا دوست " ف " ایک ہی نظر میں عاشق ہوجاتا ہے کہتا ہے ۔" میرے ساتھ کوئی دوشیزہ مخلص نہیں نکلی ، جو مخلص نکلی وہ دوشیزہ نہیں نکلی ۔اس کی کلاس میں تیس لڑکیاں تھیں ، ان میں سے ایک لڑکی اس لیے ناراض رہتی کہ وہ اسے توجہ نہ دیتا ، اور باقی انتیس اس لیے کہ وہ توجہ دیتا -۔از ڈاکٹر یونس بٹ " شیطانیاں

پیسے گننے اور جمع کرنے والا غریب ہو جانے کے ڈر سے سو نہیں سکتا۔باغی لوگ حکومت سے ڈرتے ہیں۔ حکومتیں بغاوتوں سے ڈرتی ہیں اور ڈرنا بھی چاہیے۔ طلبہ اساتذہ سے ڈرتے ہیں اور اساتذہ طلبہ سے ڈرتے ہیں۔ڈرانے والا بہرحال ڈرتا ہے۔خوف ایک حد تک تو خیر جائز ہے۔ خوف احتیاط پیدا کرتا ہے اور احتیاط زندگی کے تیز سفر میں ایک موزوں اور مناسب عمل ہے۔لیکن ایک حد سے زیادہ خوف ہو تو انسان کا سارا تشخص ، اس کی ساری سائیکی psyche،اس کا باطنی وجود ، سب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔خوف خون کی رنگت اور ہڈیوں کا گودا ختم کر دیتا ہے۔.

Vivamus commodo, augue et laoreet euismod, sem sapien tempor dolor, ac egestas sem ligula quis lacus. Donec vestibulum tortor ac lacus. Sed posuere vestibulum nisl. Curabitur eleifend fermentum justo. Nullam imperdiet. Integer sit amet mauris imperdiet risus sollicitudin rutrum. Ut vitae turpis. Nulla facilisi. Quisque tortor velit, scelerisque et, facilisis vel, tempor sed, urna. Vivamus nulla elit, vestibulum eget, semper et, scelerisque eget, lacus. Pellentesque viverra purus. Quisque elit. Donec ut dolor.

Duis volutpat elit et erat. In at nulla at nisl condimentum aliquet. Quisque elementum pharetra lacus. Nunc gravida arcu eget nunc. Nulla iaculis egestas magna. Aliquam erat volutpat. Sed pellentesque orci. Etiam lacus lorem, iaculis sit amet, pharetra quis, imperdiet sit amet, lectus. Integer quis elit ac mi aliquam pretium. Nullam mauris orci, porttitor eget, sollicitudin non, vulputate id, risus. Donec varius enim nec sem. Nam aliquam lacinia enim. Quisque eget lorem eu purus dignissim ultricies. Fusce porttitor hendrerit ante. Mauris urna diam, cursus id, mattis eget, tempus sit amet, risus. Curabitur eu felis. Sed eu mi. Nullam lectus mauris, luctus a, mattis ac, tempus non, leo. Cras mi nulla, rhoncus id, laoreet ut, ultricies id, odio.

Donec imperdiet. Vestibulum auctor tortor at orci. Integer semper, nisi eget suscipit eleifend, erat nisl hendrerit justo, eget vestibulum lorem justo ac leo. Integer sem velit, pharetra in, fringilla eu, fermentum id, felis. Vestibulum sed felis. In elit. Praesent et pede vel ante dapibus condimentum. Donec magna. Quisque id risus. Mauris vulputate pellentesque leo. Duis vulputate, ligula at venenatis tincidunt, orci nunc interdum leo, ac egestas elit sem ut lacus. Etiam non diam quis arcu egestas commodo. Curabitur nec massa ac massa gravida condimentum. Aenean id libero. Pellentesque vitae tellus. Fusce lectus est, accumsan ac, bibendum sed, porta eget, augue. Etiam faucibus. Quisque tempus purus eu ante.

Vestibulum sapien nisl, ornare auctor, consectetuer quis, posuere tristique, odio. Fusce ultrices ullamcorper odio. Ut augue nulla, interdum at, adipiscing non, tristique eget, neque. Pellentesque habitant morbi tristique senectus et netus et malesuada fames ac turpis egestas. Ut pede est, condimentum id, scelerisque ac, malesuada non, quam. Proin eu ligula ac sapien suscipit blandit. Suspendisse euismod. Ut accumsan, neque id gravida luctus, arcu pede sodales felis, vel blandit massa arcu eget ligula. Aenean sed turpis. Pellentesque habitant morbi tristique senectus et netus et malesuada fames ac turpis egestas. Donec sem eros, ornare ut, commodo eu, tempor nec, risus. Donec laoreet dapibus ligula. Praesent orci leo, bibendum nec, ornare et, nonummy in, elit. Donec interdum feugiat leo. Vestibulum ante ipsum primis in faucibus orci luctus et ultrices posuere cubilia Curae; Pellentesque feugiat ullamcorper ipsum. Donec convallis tincidunt urna.

Suspendisse et orci et arcu porttitor pellentesque. Sed lacus nunc, fermentum vel, vehicula in, imperdiet eget, urna. Nam consectetuer euismod nunc. Nulla dignissim posuere nulla. Integer iaculis lacinia massa. Nullam sapien augue, condimentum vel, venenatis id, rhoncus pellentesque, sapien. Donec sed ipsum ultrices turpis consectetuer imperdiet. Duis et ipsum ac nisl laoreet commodo. Mauris eu est. Suspendisse id turpis quis orci euismod consequat. Donec tellus mi, luctus sit amet, ultrices a, convallis eu, lorem. Proin faucibus convallis elit. Maecenas rhoncus arcu at arcu. Proin libero. Proin adipiscing. In quis lorem vitae elit consectetuer pretium. Nullam ligula urna, adipiscing nec, iaculis ut, elementum non, turpis. Fusce pulvinar.