قلندر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

قلندر :آزاد درویشوں کی ایک قسم جو روحانیت کی طرف مائل ہو ۔صوفیانہ فلسفہ کا ایک گروہ۔ قلندریہ ایک ایسا گروہ ہے جو تارک الدنیا اور دنیا سے لاپرواہ ہو۔

  • فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم استعمال کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے 1565ء کو "جواہر اسراراللہ" میں مستعمل ملتا ہے[1]۔
  • وہ شخص جو روحانی ترقی یہاں تک کر گیا ہو کہ اپنے وجود اور علائقِ دینوی سے بے خبر اور لاتعلق ہو کر ہمہ تن خدا کی ذات کی طرف متوجہ رہتا ہو اور تکلیفات رسمی کی قیود سے چھٹکارا پا گیا ہو، عشق حقیقی میں مست فقیر[2]۔
  • اصطلاح میں قلندر وہ شخص ہے جو دونوں جہان سے پاک اور آزاد رہے اگر ذرا بھی اسے کونین سے لگاو ہو تو وہ مذہب قلندر سے دور اور صاحبان غرور میں شامل ہےکیونکہ قلندر اس ذات سے عبارت ہے کہ نفوس و اشکال عادتی بلکہ آمال بے سعادتی سے بالکل متجردو بے تعلق ہو جاءے اور روح کےمرتبہ تک ترقی کرکے تکلیفات رسمی کی قیود و تعریفات اسمی سے چھٹکارا پائے میںاپنے دامن وجود کو تمام دنیا سے سمیٹ لے اور دست خواہش کو تمام خلائق سے کھینچ لےیہاں تک کہ بدل وجان سب سے قطع تعلق کر کے جمال و جلال کا طالب اور اس کی درگاہ کا واصل ہو جائے ۔قلندر ملامتی اور صوفی میں یہ فرق ہے کہ قلندر نہایت آزاد اور مجرد عن العلائق ہوتا ہے اور جہاں تک بنتا ہے عادت و عبادت کی تخریب میں کوشش کرتا ہے ملامتی عبادت کے چھپانے میں نہایت ساعی رہتا ہے یعنی کوئی نیکی ظاہر نہین کرتا اور کوئی بدی چھپا کر نہیں رکھتا ہے[3]
  • قلندر اور صوفی ہم معنی ہالفاظ ہیں۔قلندر وہ ہے جو حالات اور مقامات وکرامات سے تجاوز کر جائے خواجہ عبید اللہ احرار فرماتے ہیں کہ موانعات سے مجرد ہو کر اپنے آپ کو گم کر دینے کا نام قلندری ہے۔شاہ نعمت اللہ ولی فرماتے ہیں کہ صوفی منتہی جب اپنے مقصد پر جا پہنچتا ہےقلندر ہو جاتا ہے[4]۔
  • ان بندوں میں سے جو بندے قلندر ہوتے ہیں وہ زمان و مکان(Time and space) کی قید سے آزاد ہوجاتے ہیںاور سارے ذی روح اس کے ماتحت کئے جاتے ہیں کائنات کا ذرہ ذرہ ان کے تابع فرماں ہوتا ہےلیکن اللہ کے یہ نیک بندے غرض ،طمع، حرص اور لالچ سے بے نیاز ہوتے ہیں۔مخلوق جب ان کی خدمت می کوءی گذارش پیش کرتی ہے تو وہ اسکو سنتے بھی ہیںاو اس کا تدارک بھی کرتے ہیں کیونکہ قدرت نے انہیں اسی کام کیلئےمقرر کیا ہے[5]۔
  • قلندر، وہ ہوتا ہے جو کائنات کو مسخر کیے ہوتا ہے، جو ہمہ وقت ایک فاتح سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے ۔ قلندر کے لیے کائنات مثلِ غبارِ راہ ہےاُس میں مزید کی خواہش جنم نہیں لیتی، وہ دولتِ دنیا لُٹا دینا چاہتا ہے ۔ قلندر اپنے آپ میں ایک واصل ہوتا ہےقلندر کے در پر سکندر سوالی ہوتا ہے ، وہ حصول ِ دنیا میں تا وقتِ قضا ایڑھیاں رگڑتا ہے، سسکتا ہے اور خواہش کے کشکول میں حکومت کی بھیک مانگتا ہے ..قلندر دونوں ہاتھوں سے سب لُٹا ئے بے نیاز ہوتا ہے ، وہ دمِ رقص ہوتا ہے ..اسکے چہرے کی مسکان اسکی پروان کا پتا دیتی ہے ..قلندر قبولیت کا نام ہے، جبکہ سکندر مقبولیت کا!قلندر درِ عطا پہ جڑا مہرِوفا ہے …وہ سراپائے حق نما ہے ..قلندر ،حیدریم مستم ہے[6]۔
  • علامہ اقبال کا کلام ہے
  • نہ تخت و تاج نے لشکر و سپاہ میں ہے
  • جو بات مرد قلند کی بارگاہ میں ہے
  • تیری نگاہ سے دل سینوں میں کانپتے تھے
  • کھویا گیا ہے تیرا جذب قلندرانہ
  • مہر و مہ و انجم کا محاسب ہے قلندر​
  • ايام کا مرکب نہيں، راکب ہے قلندر​

تُو نے دیکھی نہیں عشق کے قلندر کی دھمال

پاؤں پتھر پہ بھی پڑ جائے تو دھول اُڑتی ہے

  1. ^ http://www.urduencyclopedia.org/urdudictionary/index.php?title=%D9%82%D9%84%D9%86%D8%AF%D8%B1
  2. ^ http://urdulughat.info/words/5426-%D9%82%D9%84%D9%86%D8%AF%D8%B1
  3. ^ فرہنگ آصفیہ از سعید احمد دہلوی اسلامیہ پریس لاہور
  4. ^ سر دلبراں ازحضرت شاہ سید محمد ذوقی صفحہ19محفل ذوقیہ کراچی
  5. ^ قلندر شُعور از خواجہ شمس الدین عظیمی صفحہ 3 طبع مکتبہ روحانی ڈائجسٹ کراچی
  6. ^ http://piyadais.wordpress.com/2011/07/10/%D8%B3%DA%A9%D9%86%D8%AF%D8%B1-%D9%88-%D9%82%D9%84%D9%86%D8%AF%D8%B1/