Most favoured nation
| یہ ایک یتیم صفحہ ہے جسے دیگر صفحات سے ربط نہیں مل پارہا ہے۔ براہ کرم مقالات میں اس کا ربط داخل کرنے میں معاونت کریں۔ |
| اصطلاح | term |
|---|---|
|
نہایت رعایت ملک |
most favored nation |
بین الاقوامی اقتصادی تعلقات اور بین الاقوامی سیاست میں نہایت رعایت ملک ایسی حیثیت یا سلوک کا درجہ ہے جو ایک ملک بین الاقوامی تجارت میں ایک دوسرے کو دیتے ہیں۔ اصطلاح کا مطلب یہ ہے کہ جو ملک اس سلوک کا وصول کندہ ہو، سے نہایت رعایتی سلوک کیا جائے۔ تجارتی رعایت میں کم محصول اور بلند حصہ رسد شامل ہیں۔ جس ملک کو نہایت رعایتی حیثیت حاصل ہو اس ملک کو وعدہ کند ملک کی طرف سے کسی دوسرے ملک کی نسبت کم تجارتی فائدہ نہیں دیا جا سکتا۔
نہایت رعایت ملک کا فائدہ عموماً بڑے ممالک (جن کی پیداوار زیادہ اور لاگت کم ہو) کو ہوتا ہے۔ جبکہ چھوٹے ممالک کی اپنی صنعت تباہ ہو جاتی ہے اور وہ ان بڑے ممالک کی منڈیاں بن کر رہ جاتے ہیں۔
بھارت نے 1996ء میں پاکستان کو یہ حیثیت دینے کا اعلان کیا، جبکہ پاکستان میں زرداری حکومت نے بھارت کو یہ حیثیت 2011ء میں دینے کا عندیہ دیا۔[1] [2]
حوالہ جات [ترمیم]
- ^ "Parliament bypassed over MFN status to India: Nisar". پاک ٹریبیون. 21 اکتوبر 2011ء. http://www.paktribune.com/news/Parliament-bypassed-over-MFN-status-to-India-Nisar-244518.html. Retrieved 29 October 2011.
- ^ مبارک زیب خان (2 نومبر 2011ء). "Confusion over MFN status for India". ڈان. http://www.dawn.com/2011/11/03/confusion-over-mfn-status-for-india.html.
- ^ "Parliament bypassed over MFN status to India: Nisar". پاک ٹریبیون. 21 اکتوبر 2011ء. http://www.paktribune.com/news/Parliament-bypassed-over-MFN-status-to-India-Nisar-244518.html. Retrieved 29 October 2011.
- ^ مبارک زیب خان (2 نومبر 2011ء). "Confusion over MFN status for India". ڈان. http://www.dawn.com/2011/11/03/confusion-over-mfn-status-for-india.html.