قانون مجالس ہند، 1861ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
انڈین کونسلز ایکٹ 1861ء[1]
طویل عنوانAn Act to make better Provision for the Constitution of the Council of the Governor General of India, and for the Local Government of the several Presidencies and Provinces of India, and for the temporary Government of India in the event of a Vacancy in the Office of Governor General.
بابc. 67
علاقائی حد=
Other legislation
قانون منسوخگورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1915ء
حیثیت: Repealed

1857ء کی جنگ آزادی کے بعد اِس بات کا خاص طور پر خیال رکھا گیا کہ حاکم اور محکوم کے درمیان فضا کیسے برقرار رکھی جائے؟ ہندوستان میں موجود تمام غلط فہمیوں کو دور کیے جانے کی ضرورت تھی۔ سر سید احمد خان وہ پہلے مسلم مفکر تھے جنہوں نے اِس بات پر غور کیا کہ مسلمانوں سے انگریزوں کے تعلقات کس طرح بہتر بنائے جاسکتے ہیں۔ اُنہوں نے ہر ممکن طریقہ اِس کوشش میں صرف کیا کہ مسلمانوں اور انگریزوں کے مابین کشیدگی ختم کی جاسکے۔ سرسید احمد خان نے ایک تجویز پیش کی کہ گورنر جنرل اور گورنروں کی کونسلوں میں مقامی باشندوں کی شرکت لازمی بنائی جائے۔ سرسید احمد خان کی اِس تجویز کو بعد ازاں منظور کر لیا گیا اور 1861ء میں ایک نئے تنظیمی ڈھانچے کا اعلان کیا گیا جِس میں اِس امر کی گنجائش رکھی گئی کہ مقامی باشندے مجلس قانون کو مفید مشورے دے سکیں۔

قانون مجالس ہند1861ء کے اہم نکات:

1:گورنر جنرل کی کونسل کے اراکین کی تعداد 4 سے بڑھا کر5 مقرر کی گئی۔

2:گورنر جنرل کو اختیار دیا گیا کہ وہ اپنے اراکین میں شعبہ جات (محکمہ جات) کی ذمہ داریاں تقسیم کریں۔

3:گورنر جنرل کو اختیار دیا گیا کہ وہ اپنے اراکین کی کونسل میں کسی کو صدر منتخب کر سکتا ہے تاکہ وہ گورنر جنرل کی عدم موجودگی میں اپنے فرائض سر انجام دے سکے۔

4:گورنر جنرل کو اختیار دیا گیا کہ وہ ہندوستان میں نئے صوبے بناسکتا تھا پرانے صوبوں کی حدود میں ترمیم اور تبدیلی کر سکتاتھا۔ تمام صوبوں میں لیفٹیننٹ گورنر مقرر کر سکتاتھا۔

5:گورنر جنرل کو اختیار دیا گیا کہ وہ ہندوستان میں قانون سازی کے لیے 6 سے 12 افراد کو 2سال کے لیے مقرر کر سکتاتھا ان میں سے نصف اراکین سرکاری عہدے دار ہوسکتے تھے۔

6:مرکزی مجلس قانون ساز کا منظور کردہ بل اس وقت تک قانون کا درجہ حاصل نہیں کر سکتاتھا جب تک گورنر جنرل اس کی منظوری نہ دے۔ اسی طرح صوبائی کونسلوں کا منظور شدہ مسودہ بھی صوبائی گورنر اور گونر جنرل کی منظوری کے بغیر قانون کا درجہ نہیں پاسکتاتھا۔

7:گورنر جنرل کو اختیار دیا گیا کہ وہ ہندوستان میں قانون سازی کے لیے کسی مرکزی قانون یا صوبائی قانون کو رد یا مسترد کرنے کر سکتاتھا۔ آرڈیننس جاری کرنے کا حق رکھتا تھا۔ یہ آرڈیننس چھ ماہ کے لیے قانون کا درجہ رکھتے تھے ۔

8:گورنر جنرل کی پیشگی منظوری کے بغیر کوئی مسودہ مجلس قانون ساز میں پیش نہیں کیاجاسکتا تھا۔

9:صوبائی و مرکزی قانون ساز اداروں میں غیر سرکاری اراکین کو کسی مسودہ کے بارے مشورہ دینے کا حق دیا گیا مگر اس مشورہ کو قانون کا درجہ دینا ضروری نہ تھا۔ غیر سرکاری اراکین کوسوالات پوچھنے یا تنقید کرنے کا کوئی حق نہیں تھا۔

10:برطانوی اراکین پارلیمنٹ کو یہ حق دیا گیا کہ وہ کسی بھی قانون کا بغیر وجہ بتائے مسترد کرسکتے ہیں ۔

11:صوبائی گورنروں کو اختیار دیا گیا کہ وہ صوبے کی آبادی و رقبہ کے مد نظر 4 سے 8اراکین کو صوبائی کونسل کا رکن بننامزدکر سکتے ہیں۔ ان میں سے نصف اراکین سرکاری عہدے دار ہوسکتے تھے۔

12:صوبائی اور مرکزی شعبہ جات کی تشریح نہیں کی گئی۔ تاہم مالیات اور مذہبی امور کے مسائل کو مرکزی کونسل کے حوالے کیا گیا۔

تنقیدی جائزہ :

اگر تاریخ کا طالب علم ان نکات کا جائزہ لے تو وہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اس قانون سے ہندوستانیوں کو کچھ حاصل نہ ہواجو افراد کونسلوں میں نامزد کیے وہ انگریزوں کے وفادار تھے انہیں اس بات کو شدت سے احساس تھا کہ اگر انہوں نے برطانوی حکومت کی ہاں میں ہاں نہیں ملائی تو ممکن ہے کہ اگلی کونسل میں انہیں جگہ نہ ملے۔ ایسے اراکین ریاستوں کے سربراہ،جاگیرداریا حکومت کے ریٹائرڈ افسران تھے جنہیں عوام کے مسائل کا کوئی علم نہ تھاوہ انگریز کی خوشی کی خاطر خاموشی اختیار کرتے تھے۔ سرکاری اراکین بھی اپنے گورے آقاؤں کو خوش کرتے تھے انہیں عوام سے کوئی لگاؤ نہ تھا۔

قانون سازی کے اختیارات مکمل طور پر گورنر جنرل کے پاس تھے باقی سب بے بس تھے اس لیے یہ قانون ہندوستانیوں کی مکمل بے بسی کا آئینہ دار تھا۔ صوبائی گورنر بھی بااختیار تھے جبکہ کونسل کے اراکین بے بس تھے ۔ قانون ساز اداروں کے غیر سرکاری اراکین کوصرف مشورہ دینے کا حق دیا گیا یہ مشورہ اگر گورنر یا گورنرتجنرل کو پسند آجاتا تو ٹھیک ورنہ رد کر دیاجاتاتھا۔ جومقامی اراکین کے نامکمل اختیارات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مرکزی وصوبائی شعبہ جات کی تشریح نہیں کی گئی کہ کون سا محکمہ صوبائی حکومت کے ماتحت ہے اور کون سا مرکزی حکومت کے تحت،اس سے اس قانون کی ناکامی ظاہر ہوتی ہے۔

تاریخ کا طالب علم اس قانون کے لیے صرف ایک بات کہہ سکتاہے کہ یہ قانون پہلاقدم تھا جس کے بعد قدم بہ قدم صوبائی داخلی خود مختاری حاصل کی گی“

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Short title as conferred by s. 1 of the Act; the modern convention for the citation of short titles omits the initial "The", ignores the italicisation of "Indian", and omits the comma after the word "Act".