صفحۂ اول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ویکیپیڈیا میں خوش آمدید

منتخب مضمون

موہن جو دڑو وادی سندھ کی قدیم تہذیب کا ایک مرکز تھا۔ یہ لاڑکانہ سے بیس کلومیٹر دور اور سکھر سے 80 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ یہ وادی،وادی سندھ کی تہذیب کے ایک اور اہم مرکز ہڑپہ صوبہ پنجاب سے 686 میل دور ہے۔ یہ شہر 2600 قبل مسیح موجود تھا اور 1700 قبل مسیح میں نامعلوم وجوہات کی بناء پر ختم ہو گیا۔ تاہم ماہرین کے خیال میں دریائے سندھ کے رخ کی تبدیلی، سیلاب، بیرونی حملہ آور یا زلزلہ اہم وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اسے قدیم مصر اور بین النہرین کی تہذیبوں کا ہم عصر سمجھا جاتا ہے۔ 1980ء میں یونیسکو نے اسے یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔

خبروں میں

کیلون کیپٹم
کیلون کیپٹم
  • میراتھن عالمی ریکارڈ ہولڈر کیلون کیپٹم (تصویر میں) 24 سال کی عمر میں کار حادثے میں انتقال کر گئے۔
  • چلی کے سابق صدر سیبسٹین پینیرا 74 سال کی عمر میں ہیلی کاپٹر کے حادثے میں انتقال کر گئے۔
  • پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو ریاستی راز افشا کرنے پر دس سال قید اور بدعنوانی کے جرم میں چودہ سال قید کی سزا دے دی گئی ہے۔
  • ایودھیا، بھارت میں ایک متنازع جگہ پر رام مندر کی تعمیر کی افتتاحی تقریب منعقد کی گئی۔
  • جاپان مون سنائپر کے ذریعے چاند پر پہنچنے والا پانچواں ملک بن گیا۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

رابرٹ وادلو
رابرٹ وادلو

 • … کہ رابرٹ وادلو (تصویر میں) دنیا کا لمبا ترین انسان تھا، جس کا قد 8 فٹ 11.1 انچ (2.72 میٹر) تھا؟
 • … کہ چین کے قومی ادارہ شماریات کے مطابق 2022ء میں ملک کی آبادی 60 سالوں میں پہلی بار کم ہو کر 1,411,800,000 لوگوں تک پہنچ جائے گی؟
 • … کہ آسمان کا سب سے روشن ستارہ کلب اکبر میں شعریٰ یمانی ہے، اس کے بعد قاعدہ برج میں سہیل ہے؟
 • … کہ عراق کے سابق صدر صدام حسین نے 2000ء میں ایک رومانوی ناول لکھا جو بعد میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب بن گئی؟

اقتباس

انگریزی سے نابلد اور اردو پڑھنے اور سمجھنے والوں کے لیے جدید معلومات کا حصول ممکن بنائیے!

آج کا لفظ

2
عموماً کہا جاتا ہے: اس لفظ کی املا غلط ہے
لیکن درست جملہ یوں ہوگا: اس لفظ کا املا غلط ہے
اس لیے کہ: اردو میں لفظ املا کو مونث نہیں، مذکر استعمال کیا جاتا ہے۔ (بحوالہ نور اللغات)


کیا آپ بھی لکھنا چاہتے ہیں؟

اردو ویکیپیڈیا پر اس وقت 201,860 مضامین موجود ہیں، اگر آپ بھی کسی موضوع پر مضمون لکھنا چاہتے ہیں تو پہلے اس صفحۂ تلاش پر جا کر عنوان لکھیے اور تلاش کرنے کی کوشش کریں، ممکن ہے آپ کا مطلوبہ مضمون پہلے سے موجود ہو۔ اگر مضمون موجود نہ ہو تو ذیل کے خانہ میں وہ عنوان درج کریں اور نیا مضمون تحریر کریں۔


منتخب فہرست

پاکستان ریلویز کا جال تمام ملک میں پھیلا ہوا ہے۔ تقریباً سب ہی ریلوے لائن براڈ گیج ہیں۔ پاکستان ریلوے کا نیٹ ورک مین لائنوں اور برانچ لائنوں میں تقسیم ہے۔ پاکستان ریلویز کا صدر دفتر لاہور میں ہے اور یہ پورے پاکستان میں 7,791 کلومیٹر (4,650 میل) آپریشنل ٹریک کا مالک ہے۔ جس میں 7,346 کلومیٹر براڈ گیج اور 445 کلومیٹر میٹر گیج ہے اور 1,043 کلومیٹر ڈبل ٹریک اور 285 کلومیٹر برقی حصے پر مشتمل ہے۔ پاکستان ریلوے کے 625 فعال اسٹیشن ہیں۔ جو مال بردار اور مسافر دونوں کی خدمات پیش کرتا ہے۔ پاکستان ریلویز کی ٹرینوں کی رفتار زیادہ سے زیادہ 120 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔ پاکستان ریلویز جس کا سابقہ نام 1947ء سے فروری 1961ء تک شمال مغربی ریلوے اور فروری 1961ء سے مئی 1974ء تک پاکستان مغربی ریلوے تھا، حکومت پاکستان کا ایک محکمہ ہے جو پاکستان میں ریلوے خدمات فراہم کرتا ہے۔ موجودہ پاکستان میں ریلوے کا آغاز 13 مئی 1861ء میں ہوا جب کراچی سے کوٹری 169 کلومیٹر ریلوے لائن کا افتتاح ہوا۔ 24 اپریل 1865ء کو لاہور - ملتان ریلوے لائن کو ٹرینوں کی آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا۔ 6 اکتوبر 1876ء کو دریائے راوی, دریائے چناب اور دریائے جہلم پر پلوں کی تعمیر مکمل ہو گئی اور لاہور - جہلم ریلوے لائن کو کھول دیا گیا۔ 1 جولائی 1878ء کو لودهراں - پنوعاقل 334 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کا افتتاح ہوا۔ 27 اکتوبر 1878ء کو دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر کوٹری سے سکھر براستہ دادو اور لاڑکانہ ریلوے لائن کو ٹرینوں کی آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا۔ رک سے سبی تک ریلوے لائن بچھانے کا کام جنوری 1880ء میں مکمل ہوا۔ اکتوبر 1880ء میں جہلم - راولپنڈی 115 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کو ٹرینوں کی آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا۔ 1 جنوری 1881ء کو راولپنڈی - اٹک کے درمیان 73 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کو کھول دیا گیا۔ 1 مئی 1882ء کو خیرآباد کنڈ - پشاور 65 کلومیٹر طویل ریلوے لائن تعمیر مکمل ہو گئی۔ 31 مئی 1883ء کو دریائے سندھ پر اٹک پل کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد پشاور - راولپنڈی سے بذریعہ ریل منسلک ہو گیا۔

تاریخ

آج: ہفتہ، 17 فروری 2024 عیسوی بمطابق 7 شعبان 1445 ہجری (م ع و)

واقعات
ولادت
وفات

ویکیپیڈیا کا حصہ بنیں!

ویکیپیڈیا ایک آزاد اور کثیر لسانی دائرۃ المعارف ہے جس میں ہم سب مل جل کر لکھتے ہیں اور مل جل کر اس کو سنوارتے ہیں۔ ویکیپیڈیا کا آغاز جنوری سنہ 2001ء میں ہوا، جبکہ اردو ویکیپیڈیا کا اجرا جنوری سنہ 2004ء میں عمل میں آیا۔ اس وقت اردو ویکیپیڈیا میں 201,860 مضامین موجود ہیں۔

ہمارے ساتھ سماجی روابط کی ویب سائٹس پر شامل ہوں: اور

ویکیپیڈیا صحت ومعتبریت کی کوئی ضمانت فراہم نہیں کرتا۔
ویکیمیڈیا فاؤنڈیشن ویکیپیڈیا پر موجود مواد کی صحت کا ذمہ دار نہیں ہے۔ ہر ترمیم کنندہ خود اپنی ترمیم کا ذمہ دار ہے۔
ہم سے رابطہ کریں مدد کی ضرورت ہے؟ ہم سے رابطہ کریں!