صفحۂ اول
منتخب مضمونیہودیت میں شادی کو مرد و عورت کے درمیان کا ایک ایسا بندھن تصور کیا جاتا ہے جس میں خدا بذات خود شامل ہے۔ گوکہ ان کے یہاں شادی کا واحد مقصد افزائش نسل نہیں ہے لیکن اس عمل کو افزائش نسل کے ربانی حکم کے پورا کرنے کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ اسی مقصد کے پیش نظر جب مرد و عورت شادی کے رشتے میں منسلک ہوتے ہیں تو انھیں یک جان دو قالب سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی یہودی مرد شادی نہ کرے تو تلمود کی نگاہ میں وہ ایک ”نامکمل“ مرد ہے۔ یہودیت کے ازدواجی نظام پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے یہاں عورت کا مقام نہایت پست ہے اور اس کی وجہ یہ نظریہ ہے کہ حوا نے آدم کو ممنوعہ پھل کھانے پر اکسایا اور اسی وجہ سے وہ جنت سے نکالے گئے۔ اور اسی بنا پر عورت کو مرد کی غلامی، حیض جیسی ناپاکی اور حمل کے درد کی سزا ملی۔ بائبل میں ہے:
”تمدن عرب“ میں یہودی معاشرہ میں عورت کی حیثیت ان سخت الفاظ میں بیان کی گئی ہے:
یہودیت میں عورت کی شادی خاوند کی خدمت اور اولاد پیدا کرنے کے لیے ہے۔ اگر کسی کے یہاں کئی سال تک اولاد نہ ہو تو وہ بلا جھجک دوسری شادی کر سکتا ہے اور اس کام کے لیے اسے اپنی بیوی سے کچھ کہنے سننے کی ضرورت نہیں ہے۔ بائبل میں ہے:
|
خبروں میں
منتخب فہرستکیا آپ جانتے ہیں؟ • …کہ رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ملک قازقستان (2,717,300 مربع کلومیٹر) ہے، جو جنوب میں براعظم ایشیا سے شمال میں براعظم یورپ تک پھیلا ہوا ہے؟ کیا آپ بھی لکھنا چاہتے ہیں؟اردو ویکیپیڈیا پر اس وقت 668,667 مضامین موجود ہیں، اگر آپ بھی کسی موضوع پر مضمون لکھنا چاہتے ہیں تو پہلے اس صفحۂ تلاش پر جا کر عنوان لکھیے اور تلاش کرنے کی کوشش کریں، ممکن ہے آپ کا مطلوبہ مضمون پہلے سے موجود ہو۔ اگر مضمون موجود نہ ہو تو ذیل کے خانہ میں وہ عنوان درج کریں اور نیا مضمون تحریر کریں۔ |
تاریخآج: منگل، 4 اگست 2026 عیسوی بمطابق 19 صفر 1448 ہجری (م ع و)
| |
ویکیپیڈیا کا حصہ بنیں!ویکیپیڈیا ایک آزاد اور کثیر لسانی دائرۃ المعارف ہے جس میں ہم سب مل جل کر لکھتے ہیں اور مل جل کر اس کو سنوارتے ہیں۔ ویکیپیڈیا کا آغاز جنوری سنہ 2001ء میں ہوا، جبکہ اردو ویکیپیڈیا کا اجرا جنوری سنہ 2004ء میں عمل میں آیا۔ اس وقت اردو ویکیپیڈیا میں 668,667 مضامین موجود ہیں۔
| |
|
| مدد کی ضرورت ہے؟ ہم سے رابطہ کریں! |


