صفحۂ اول
منتخب مضموننیوزی لینڈ جنوب مغربی بحر الکاہل کی ایک خود مختار ریاست ہے۔ یہ ایک جزیرہ ملک ہے۔ جغرافیائی حساب سے یہ ملک دو بڑے زمینی ٹکڑوں پر مشتمل ہے؛ شمالی جزیرہ اور جنوبی جزیرہ۔ ان دو مرکزی جزیروں کے علاوہ 600 دیگر چھوٹے جزائر ہیں۔ نیوزی لینڈ بحیرہ تسمان میں آسٹریلیا سے 2000 کلومیٹر (1200 میل) مشرق میں واقع ہے۔ اسی طرح ٹونگا، فجی اور نیو کیلیڈونیا کے بحر الکاحل کے جزائری علاقوں سے 1000 کلومیٹر (600 میل) جنوب میں ہے۔ انسانوں کے ذریعے آباد کیے جانے والے جزائر میں نیوزی لینڈ کا مقام آخری ہے۔ یعنی یہ ان جزئر میں سے ہے جسے انسانوں نے سب سے آخری میں آباد کیا ہے۔ انسانوں کی آبادی سے قبل نیوزی لینڈ ایک نا معلوم تنہا جزیرہ تھا جو مختلف جانور، پیڑ پودوں اور پھپھوندوں کا ایک خوشنما علاقہ تھا۔ ملک کی مختلف النوع زمینی ساخت اور پہاڑ کی نوکیلی چوٹیوں کی ذمہ دار وہاں موجود بین الارض زلزلہ جاتی تبدیلیاں اور متعدد جوالا مکھیاں ہیں۔ نیوزی لینڈ کا دار الحکومت ویلنگٹن ہے جبکہ سب سے زیادہ آبادی والا شہر آکلینڈ ہے۔ |
خبروں میں
منتخب فہرستپاکستان ریلویز کا جال تمام ملک میں پھیلا ہوا ہے۔ تقریباً سبھی ریلوے لائن براڈ گیج ہیں۔ پاکستان ریلوے کا نیٹ ورک مین لائنوں اور برانچ لائنوں میں تقسیم ہے۔ پاکستان ریلویز کا صدر دفتر لاہور میں ہے اور یہ پورے پاکستان میں 7,791 کلومیٹر (4,650 میل) آپریشنل ٹریک کا مالک ہے۔ جس میں 7,346 کلومیٹر براڈ گیج اور 445 کلومیٹر میٹر گیج ہے اور 1,043 کلومیٹر ڈبل ٹریک اور 285 کلومیٹر برقی حصے پر مشتمل ہے۔ پاکستان ریلوے کے 625 فعال اسٹیشن ہیں۔ جو مال بردار اور مسافر دونوں کی خدمات پیش کرتا ہے۔ پاکستان ریلویز کی ٹرینوں کی رفتار زیادہ سے زیادہ 120 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ پاکستان ریلویز جس کا سابقہ نام 1947ء سے فروری 1961ء تک شمال مغربی ریلوے اور فروری 1961ء سے مئی 1974ء تک پاکستان مغربی ریلوے تھا، حکومت پاکستان کا ایک محکمہ ہے جو پاکستان میں ریلوے خدمات فراہم کرتا ہے۔ موجودہ پاکستان میں ریلوے کا آغاز 13 مئی 1861ء میں ہوا جب کراچی سے کوٹری 169 کلومیٹر ریلوے لائن کا افتتاح ہوا۔ 24 اپریل 1865ء کو لاہور - ملتان ریلوے لائن کو ٹرینوں کی آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا۔ 6 اکتوبر 1876ء کو دریائے راوی, دریائے چناب اور دریائے جہلم پر پلوں کی تعمیر مکمل ہو گئی اور لاہور - جہلم ریلوے لائن کو کھول دیا گیا۔ 1 جولائی 1878ء کو لودهراں - پنوعاقل 334 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کا افتتاح ہوا۔ 27 اکتوبر 1878ء کو دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر کوٹری سے سکھر براستہ دادو اور لاڑکانہ ریلوے لائن کو ٹرینوں کی آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا۔ رک سے سبی تک ریلوے لائن بچھانے کا کام جنوری 1880ء میں مکمل ہوا۔ اکتوبر 1880ء میں جہلم - راولپنڈی 115 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کو ٹرینوں کی آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا۔ کیا آپ جانتے ہیں؟ • …کہ بدیا دیوی بھنڈاری (تصویر میں) نیپال کی دوسری اور ملک کی جمہوری تاریخ میں پہلی خاتون صدر تھیں؟
کیا آپ بھی لکھنا چاہتے ہیں؟اردو ویکیپیڈیا پر اس وقت 241,380 مضامین موجود ہیں، اگر آپ بھی کسی موضوع پر مضمون لکھنا چاہتے ہیں تو پہلے اس صفحۂ تلاش پر جا کر عنوان لکھیے اور تلاش کرنے کی کوشش کریں، ممکن ہے آپ کا مطلوبہ مضمون پہلے سے موجود ہو۔ اگر مضمون موجود نہ ہو تو ذیل کے خانہ میں وہ عنوان درج کریں اور نیا مضمون تحریر کریں۔ |
تاریخآج: منگل، 17 مارچ 2026 عیسوی بمطابق 28 رمضان 1447 ہجری (م ع و)
| |
ویکیپیڈیا کا حصہ بنیں!ویکیپیڈیا ایک آزاد اور کثیر لسانی دائرۃ المعارف ہے جس میں ہم سب مل جل کر لکھتے ہیں اور مل جل کر اس کو سنوارتے ہیں۔ ویکیپیڈیا کا آغاز جنوری سنہ 2001ء میں ہوا، جبکہ اردو ویکیپیڈیا کا اجرا جنوری سنہ 2004ء میں عمل میں آیا۔ اس وقت اردو ویکیپیڈیا میں 241,380 مضامین موجود ہیں۔
| |
|
| مدد کی ضرورت ہے؟ ہم سے رابطہ کریں! |



