صفحۂ اول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ویکیپیڈیا میں خوش آمدید

منتخب مضمون

لاہور (پنجابی: لہور (شاہ مکھی): ਲਹੌਰ (گرمکھی)؛ ہندی: लाहौर؛ عربی: لاهور‎؛ فارسی: لاھور‎؛ انگریزی: Lahore) صوبہ پنجاب پاکستان کا دار الحکومت اور دوسرا بڑا شہر ہے۔ اسے پاکستان کا ثقافتی، تعلیمی اور تاریخی مرکز اور پاکستان کا دل اور باغوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہ شہر دریائے راوی کے کنارے واقع ہے۔ اس شہر کی آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے اور یہ ملک کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ لاہور کا شمار دنیا کے قدیم اور اہم ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ زندہ دلان لاہور کے روایتی جوش و جذبے کے باعث اسے بجا طور پر پاکستان کا دل کہا جاتا ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کی ملکہ نورجہاں نے لاہور کے بارے میں کہا تھا۔

لاہور رابجان برابر خریدہ ایم جاں دارایم و جنت دیگر خریدہ ایم

لاہور کی انتہائی قدیم تاریخ ہزاروں سال پر پھیلی ہوئی ہے۔ پرانوں کے مطابق رام کے بیٹے راجہ لوہ نے شہر لاہور کی بنیاد رکھی اور یہاں ایک قلعہ بنوایا۔ دسویں صدی تک یہ شہر ہندو راجائوں کے زیرتسلط رہا۔ گیارہویں صدی میں سلطان محمود غزنوی نے پنجاب فتح کرکے ایاز کو لاہور کا گورنر مقرر کیا، اور لاہور کو اسلام سے روشناس کرایا۔ شہاب الدین غوری نے 1186ء میں لاہور کو فتح کیا۔ بعدازاں یہ خاندان غلاماں کے ہاتھوں میں آ گیا۔ 1290ء میں خلجی خاندان، 1320ء میں تغلق خاندان، 1414ء سید خاندان 1451ء لودھی خاندان کے تحت رہا۔

ظہیر الدین بابر نے 1526ء میں ابراہیم لودھی کو شکست دی جس کے نتیجے میں مغلیہ سلطنت وجود میں آئی۔ مغلوں نے اپنے دور میں لاہور میں عظیم الشان عمارات تعمیر کروائیں اور کئی باغات لگوائے۔ اکبر اعظم نے شاہی قلعہ کو ازسرنو تعمیر کروایا۔ شاہجہان نے شالامار باغ تعمیر کروایا جو اپنی مثال آپ ہے۔ 1646ء میں شہزادی جہاں آرا نے دریائے راوی کے کنارے چوبرجی باغ تعمیر کروایا جس کا بیرونی دروازہ آج بھی موجود ہے۔ 1673ء میںاورنگزیب عالمگیر نے شاہی قلعہ کے سامنے بادشاہی مسجد تعمیر کروائی۔

1739ء میں نادر شاہ اور 1751ء میں احمد شاہ ابدالی نے لاہور پر قبضہ جمایا۔ بعدازاں 1765ء میں سکھوں نے لاہور پر قبضہ کر لیا۔ سکھ دور میں مغلیہ دور کی کئی عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا اور ان کی بے حرمتی کی گئی۔ انگریزوں نے 1849ء میں سکھوں کو شکست دیکر پنجاب کو برطانوی سلطنت میں شامل کر لیا۔

لاہور کو ایک منفرد اعزاز حاصل ہوا کہ 23 مارچ 1940ء کو آل انڈیا مسلم لیگ نے قائداعظم کے زیر صدارت میں قرارداد پاکستان منظور کی جس کے نتیجے میں 14 اگست 1947ء کو مسلمانوں کو اپنا الگ آزاد ملک پاکستان حاصل ہوا۔ فروری 1974ء میں اس شہر نے دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کی میزبانی بھی کی۔

لاہور کے قریب شہر امرتسر، صرف 31 میل دور واقع ہے جو سکھوں کی مقدس ترین جگہ ہے۔ اسکے شمال اور مغرب میں ضلع شیخوپورہ، مشرق میں واہگہ اور جنوب میں ضلع قصور واقع ہیں۔ دریائے راوی لاہور کے شمال مغرب میں بہتا ہے۔

بہترین مضمون

Mohammad yousuf.jpg

محمد یوسف (سابقہ نام یوسف یوحنا؛ پیدائش: 27 اگست 1974ء) سابق پاکستانی کرکٹر ہیں۔ 2005ء میں قبول اسلام سے قبل، یوسف کا شمار پاکستان کرکٹ ٹیم کی طرف سے کھیلنے والے چند مسیحی کھلاڑیوں میں ہوتا تھا۔ غریب پس منظر سے تعلق رکھنے والے یوسف نے عمدہ بلے بازی کے باعث اپنی پہچان بنائی اور کرکٹ کی تاریخ میں کئی ریکارڈ اپنے نام کیے۔ یوسف نے اپنے ٹیسٹ کیریئر میں ساڑھے سات ہزار رنز، اور ایک روزہ کیریئر میں ساڑھے نو ہزار رنز بنائے۔ یوسف کو آئی سی سی کی جانب سے 2007ء کا بہترین ٹیسٹ کرکٹر بھی قرار دیا گیا۔ وہ کچھ عرصہ متنازع انڈین کرکٹ لیگ کا حصہ بھی رہے۔ 2009ء-2010ء میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے محمد یوسف کی قیادت میں آسٹریلیا کا دورہ کیا جہاں اسے شکست ہوئی۔ نتیجتاً پاکستان کرکٹ بورڈ نے تحقیقات کے بعد، 10 مارچ 2010ء کو محمد یوسف پر پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کردی۔ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ انھیں آئندہ ٹیم کے لیے منتخب نہیں کیا جائے گا کیونکہ انھوں نے ٹیم میں انضباطی مسائل اور اندرونی رسہ کشی کو جنم دیا ہے۔

اس پابندی کے رد عمل میں، محمد یوسف 29 مارچ 2010ء کو بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہوگئے۔

حالیہ واقعات

حالیہ وفیات | زمرہ حالیہ وفیات: میر قاسم علی حنیف محمد شمیم آرا عبد الستار ایدھی محمد علی کلے

آج کا دن

آج: جمعرات، 1 دسمبر 2016 عیسوی بمطابق 1 ربیع الاول 1438 ہجری (UTC)

واقعات

ولادت

وفات

تعطیلات و تہوار

ویکیپیڈیا کا حصہ بنیں!

ویکیپیڈیا ایک آزاد بین اللسانی دائرۃ المعارف ہے جس میں ہم سب مل جل کر لکھتے ہیں اور مل جل کر اس کو سنوارتے ہیں۔ ویکیپیڈیا کا آغاز جنوری سنہ 2001ء میں ہوا، جبکہ اردو ویکیپیڈیا کا اجرا جنوری سنہ 2004ء میں عمل میں آیا۔ فی الوقت اردو ویکیپیڈیا میں 110,381 مضامین موجود ہیں۔

آج کا لفظ

10
عموماً کہا جاتا ہے: مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی
لیکن درست جملہ یوں ہوگا: مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آئی
اس لیے کہ: سمجھ کا مفہوم ہوتا ہے عقل و فہم، چنانچہ اگر مذکورہ غلط جملہ میں سمجھ کی بجائے عقل کا استعمال کریں تو جملہ یوں ہو جائے گا: مجھے اس بات کی عقل نہیں آئی، اور ظاہر ہے یہ جملہ درست نہیں ہے۔
نیز اردو میں سمجھ آنا محاورہ نہیں ہے، بلکہ سمجھ میں آنا محاورہ ہے اور یہی درست ہے۔

آج کی بات

انگریزی سے نابلد اردو پڑھنے وسمجھنے والوں کے لیے جدید معلومات کا حصول ممکن بنائیے!

حالیہ موضوعات

ویکیپیڈیا صارفین

ویکیپیڈیا صارفین وہ افراد ہیں جو ویکیپیڈیا میں اپنا کھاتہ بناتے ہیں، اس میں تدوین وترمیم کا کام کرتے ہیں اور دائرۃ المعارف کے مفاد کے خاطر اس کی تنسیق وترتیب، زمرہ بندی اور مقالات نویسی میں کوشاں ہیں۔ اور ویکیپیڈیا کو ہر لحاظ سے ایک آزاد دائرۃ المعارف کی شکل دینے کے لیے باہمی تعاون فراہم کرتے ہیں۔

اردو ویکیپیڈیا صارفین کی تعداد تاحال 59,283 ہوچکی ہے۔ تاہم ان میں سے ایک قلیل تعداد ہی مستقل پابندی سے اس منصوبہ میں شریک ہے۔ اور قلیل تناسب ایسے صارفین کا بھی ہے جو پابندی سے اس منصوبہ کی ترقی اور مضامین کی اصلاح پر تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف غیر اندراج شدہ ویکیپیڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد ہے جو اس منصوبہ میں وقتاً فوقتاً شریک ہوتی ہے۔

کیا آپ جانتے تھے؟

کیا آپ بھی لکھنا چاہتے ہیں؟

اردو ویکیپیڈیا پر اس وقت 110,381 مضامین موجود ہیں، اگر آپ بھی کسی موضوع پر مضمون لکھنا چاہتے ہیں تو پہلے اس صفحۂ تلاش پر جا کر عنوان لکھیے اور تلاش کرنے کی کوشش کریں، ممکن ہے آپ کا مطلوبہ مضمون پہلے سے موجود ہو۔ اگر مضمون موجود نہ ہو تو ذیل کے خانہ میں وہ عنوان درج کریں اور نیا مضمون تحریر کریں۔


ہمارے ساتھ سماجی ذرائع ابلاغ کی ویب سائٹ پر شامل ہوں: F icon.svg اور G 2014-04-24 22-48.png
(واضح رہے کہ یہ اردو ویکیپیڈیا کے غیر دفتری حلقے اور صارفین کی اپنی کوششیں ہیں)

ویکیپیڈیا صحت ومعتبریت کی کوئی ضمانت فراہم نہیں کرتا۔
ویکیمیڈیا فاؤنڈیشن ویکیپیڈیا پر موجود مواد کی صحت کا ذمہ دار نہیں ہے۔ ہر ترمیم کنندہ خود اپنی ترمیم کا ذمہ دار ہے۔
ہم سے رابطہ کریں مدد کی ضرورت ہے؟ ہم سے رابطہ کریں!