عمر بن خطاب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ضد ابہام صفحات کے لیے معاونت دیگر استعمالات کے لیے عمر دیکھیے۔
عُمر بن الخطّاب
تخطيط لاسم عمر بن الخطّاب مسبوق بلقبه الفاروق وملحوق بدعاء الرضا عنه
ابو حفص، الفاروق، امير المؤمنين
فاروق اعظم
ولادت مابين عاميّ 586ء و 590ء تقريبًا، سنہ 40 ق ھ
مكہ، تہامہ، شبہ جزيرہ عرب
وفات 7 نومبر 644ء، بمطابق 26 ذوالحجہ 23ھ
مدينہ منورہ، حجاز، شبہ جزيرہ عرب
قابل احترام اسلام: اہل سنت و جماعت، اباضیہ، الدروز، زیدیہ شيعہ
المقام الرئيسي مسجد نبوی، إلى جانب النبي محمد وابو بكر الصديق، مدينہ منورہ
نسب والد: الخطّاب بن نفيل بن عبد العزى
والدہ: حنتمہ بنت ہشام بن المغيرہ
أشقاؤه: زيد بن الخطاب، فاطمہ بنت الخطاب
ازواج: قريبہ بنت ابی اميہ، و ام كلثوم مليكہ بنت جرول، زينب بنت مظعون، جميلہ بنت ثابت، عاتكہ بنت زيد، ام حكيم بنت الحارث، ام كلثوم بنت علی بن ابی طالبسانچہ:للهامش
ذريت: عبيد الله، زيد الاكبر، زيد الاصغر، عبد الله، حفصہ، عبد الرحمن الاكبر، ابو شحمہ عبد الرحمن الاوسط، عبد الرحمن الاصغر، عاصم، عياض، فاطمہ، رقيہ۔

عمر بن خطاب (عربی: ابو حفص عمر بن خطاب عدوی قریشی) ملقب بہ فاروق (پیدائش: 586ء تا 590ء کے درمیان مکہ میں- وفات: 7 نومبر 644ء مدینہ میں) ابو بکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔[1] عمر بن خطاب عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علماء و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابو بکر صدیق کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔[2] عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔

عمر بن خطاب ہجری تقویم کے بانی ہیں، ان کے دور خلافت میں عراق، مصر، لیبیا، سرزمین شام، ایران، خراسان، مشرقی اناطولیہ، جنوبی آرمینیا اور سجستان فتح ہو کر مملکت اسلامی میں شامل ہوئے اور اس کا رقبہ بائیس لاکھ اکاون ہزاراورتیس(2251030) مربع میل پر پھیل گیا۔ عمر بن خطاب ہی کے دور خلافت میں پہلی مرتبہ یروشلم فتح ہوا، اس طرح ساسانی سلطنت کا مکمل رقبہ اور بازنطینی سلطنت کا تقریباًً تہائی حصہ اسلامی سلطنت کے زیر نگین آ گیا۔[3] عمر بن خطاب نے جس مہارت، شجاعت اور عسکری صلاحیت سے ساسانی سلطنت کی مکمل شہنشاہیت کو دو سال سے بھی کم عرصہ میں زیر کر لیا، نیز اپنی سلطنت و حدود سلطنت کا انتظام، رعایا کی جملہ ضروریات کی نگہداشت اور دیگر امور سلطنت کو جس خوش اسلوبی اور مہارت و ذمہ داری کے ساتھ نبھایا وہ ان کی عبقریت کی دلیل ہے۔[4]

نام و‌نسب

عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزّٰی بن ریاح بن عبداللہ بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بن لوّیٰ بن فہربن مالک۔

آپ کا لقب فاروق، کنیت ابو حفص، لقب و‌ کنیت دونوں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عطا کردہ ہیں۔ آپ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر عدی کی اولاد میں سے ہیں۔[5]

ابتدائی زندگی

آپ مکہ میں پید ا ہوۓ اور ان چند لوگوں میں سے تھے جو لکھ پڑھ سکتے تھے۔ علم انساب، سپہ گری، پہلوانی اور مقرری میں آپ طاق تھے۔

عمراور ان کے باپ اور ان کے دادا تینوں انساب کے بہت بڑے ماہر تھے [6]
آپعکاظ کے دنگل میں کشتی لڑا کرتے تھے۔ [7]

جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تو حضرت عمر نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سخت مخالفت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا سے حضرت عمر نے اسلام قبول کر لیا۔ اس لیے آپ کو مراد رسول بھی کہا جاتا ہے۔[8]

ہجرت

ہجرت کے موقعے پر کفار مکہ کے شر سے بچنے کے لیے سب نے خاموشی سے ہجرت کی مگر آپ کی غیرت ایمانی نے چھپ کر ہجرت کرنا گوارہ نہیں کیا.آپ نے تلوار ہاتھ میں لی کعبہ کا طواف کیا اور کفار کے مجمع کو مخاطب کر کے کہا " تم میں سے اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی بیوی بیوہ ہوجائے اس کے بچے يتيم ہوجائیں تو وہ مکہ سے باہر آکر میرا راستہ روک کر دیکھ لے" مگر کسی کافر کی ہمت نہ پڑی کہ آپ کا راستہ روک سکتا۔ مواخات مدینہ میں قبیلہ بنو سالم کےسردار عتبان بن مالک کوآپ کا بھائی قراردیا گیا۔

غزوات نبوی ﷺ میں شرکت

حضرت عمر (ر) مندرجہ ذیل غزوات و واقعات میں شریک رہے۔

واقعات

وہ ایک حاکم تھے۔ وہ ایک مرتبہ وہ مسجد میں منبر رسول پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ ایک غریب شخص کھڑا ہوگیا اور کہا کہ اے عمر ہم تیرا خطبہ اس وقت تک نہیں سنیں گے جب تک یہ نہ بتاؤ گے کہ یہ جو تم نے کپڑا پہنا ہوا ہے وہ زیادہ ہے جبکہ بیت المال سے جو کپڑا ملا تھا وہ اس سے بہت کم تھا۔تو عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ مجمع میں میرا بیٹا عبداللہ موجود ہے، عبداللہ بن عمر کھڑے ہوگئے۔ عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ بیٹا بتاؤ کہ تیرا باپ یہ کپڑا کہاں سے لایا ہے ورنہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں قیامت تک اس منبر پر نہیں چڑھوں گا۔ حضرت عبداللہ نے بتایا کہ بابا کو جو کپڑا ملا تھا وہ بہت ہی کم تھا اس سے ان کا پورا کپڑا نہیں بن سکتا تھا۔ اور ان کے پاس جو پہننے کے لباس تھا وہ بہت خستہ حال ہو چکا تھا۔ اس لئے میں نے اپنا کپڑا اپنے والد کو دے دیا۔حوالہ درکار؟

ابن سعد فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن حضرت امیر المؤمنین کے دروازے پر بیٹھے ہوۓ تھے کہ ایک کنیز گزری ۔ بعض کہنے لگے یہ باندی حضرت کی ہے۔ آ پ (حضرت عمر) نے فرمایا کہ امیر المؤمنین کو کیا حق ہے وہ خدا کے مال میں سے باندی رکھے۔ میرے لیے صرف دو جوڑے کپڑے ایک گرمی کا اور دوسرا جاڑے کا اور اوسط درجے کا کھانا بیت المال سے لینا جائز ہے۔ باقی میری وہی حیثیت ہے جو ایک عام مسلمان کی ہے۔ جب آپ کسی بزرگ کو عامل بنا کر بھیجتے تھے تو یہ شرائط سنا دیتے تھے :

  1. گھوڑے پر کبھی مت سوار ہونا۔
  2. عمدہ کھانا نہ کھانا۔
  3. باریک کپڑا نہ پہننا۔
  4. حاجت مندوں کی داد رسی کرنا۔

اگر اس کے خلاف ہوتا تو سزائیں دیتے۔

عادات

حضرت عمر حضرت علی سے بھی دیگر صحابہ کی طرح مشورہ کرتے چنانچہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق حضرت عمر کی شہادت کے بعد جب حضرت علی آئے تو فرمایا میں اس کے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ سے ملوں۔

شہادت

ایک غلام ابو لولو فیروز نے آپ کو فجر کی نماز میں مسجد نبوی میں خنجر سے حملہ کیا اور تین جگہ وار کیے۔ آپ ان زخموں سے جانبر نہ ہوسکے اور دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ آپ کے بعد اتفاق رائے سے حضرت عثمان کو امیر المومنین منتخب کیا گیا۔

فضائل

اے عمر! شیطان تم کو دیکھتے ہی راستہ کاٹ جاتا ہے۔[9]
جبرائیل و میکائیل میرے دو آسمانی وزیر ہیں جب کہ ابوبکر و عمر میرے دو زمینی وزیر ہیں۔
میری امت میں اللہ کے دین کے معاملے میں سب سے سخت عمر ہیں۔[10]

عمر بن خطاب اور اقوالِ عالَم

میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر بن الخطاب ہوتے۔ از محمدصلی اللہ علیہ وسلم
اگر دنیا کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں اور عمر کا علم دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو عمر کا پلڑا بھاری ہوگا۔ از عبداللہ بن مسعود[11]
عمر کی زبان پر سکینہ بولتا ہے۔ وہ قوی و امین ہیں۔ از سیدنا علی
ابوبکر و عمر تاریخِ اسلام کی دوشاہکار شخصیتیں ہیں۔ ایچ جی ویلز

حوالہ جات

  1. ^ أحمد، نذير، الإسلام في التاريخ العالمي: منذ وفاة النبي محمد صلی اللہ علیہ وسلم وحتى نشوب الحرب العالمية الأولى، المعهد الأمريكي للثقافة والتاريخ الإسلامي، 2001، ص. 34. ISBN 0-7388-5963-X.
  2. ^ الدولة العربية الإسلامية الأولى (1-41 هـ / 623-661 م). الطبعة الثالثة 1995 م. دكتور عصام شبارو. دار النهضة العربية، بيروت - لبنان. صفحة: 279
  3. ^ Hourani, p. 23.
  4. ^ المكتبة اليهودية الرقمية: الخلافة الإسلامية الراشدة
  5. ^ http://ebooksland.blogspot.com/2013/11/al-farooq-by-shibli-nomani.html
  6. ^ کتاب البیان والتبین صفحہ 117
  7. ^ علامہ بلاذری کی کتاب الاشراف
  8. ^ طبقات ابن سعد و اسدالغابہ و ابن عساکر
  9. ^ صحیح البخاری و صحیح المسلم
  10. ^ صواعق محرقہ
  11. ^ مشکوٰۃ

بیرونی روابط

عمر بن خطاب
مناصبِ اہل سنت
پیشتر
ابو بکر
خلیفہ راشد
634ء644ء
اگلا
عثمان بن عفان