عمر بن خطاب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دیگر استعمالات کے لیے، دیکھیے عمر۔
عُمر بن الخطّاب
تخطيط لاسم عمر بن الخطّاب مسبوق بلقبہ الفاروق وملحوق بدعاء الرضا عنہ
ابو حفص، الفاروق، امير المؤمنين
فاروق اعظم
ولادت 583ء سنہ 40 ق ھ
مكہ، تہامہ، شبہ جزيرہ عرب
وفات جمعہ 29 ذوالحجہ23ھ بمطابق 5 نومبر644ء
مدينہ منورہ، حجاز، شبہ جزيرہ عرب
قابل احترام اسلام: اہل سنت و جماعت، اباضیہ، الدروز، زیدیہ شيعہ
مزار مسجد نبوی، إلى جانب النبي محمد وابو بكر الصديق، مدينہ منورہ
نسب والد: الخطّاب بن نفيل بن عبد العزى
والدہ: حنتمہ بنت ہشام بن المغيرہ
أشقاؤہ: زيد بن الخطاب، فاطمہ بنت الخطاب
ازواج: قريبہ بنت ابی اميہ، و ام كلثوم مليكہ بنت جرول، زينب بنت مظعون، جميلہ بنت ثابت، عاتكہ بنت زيد، ام حكيم بنت الحارث، ام كلثوم بنت علی بن ابی طالب(1)
ذريت: عبيد اللہ، زيد الاكبر، زيد الاصغر، عبد اللہ، حفصہ، عبد الرحمن الاكبر، ابو شحمہ عبد الرحمن الاوسط، عبد الرحمن الاصغر، عاصم، عياض، فاطمہ، رقيہ۔

عمر بن خطاب (عربی: ابو حفص عمر بن الخطاب العدوی القریشي) ملقب بہ فاروق (پیدائش: 586ء تا 590ء کے درمیان مکہ میں- وفات: 7 نومبر، 644ء مدینہ میں) ابو بکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔[1] عمر بن خطاب عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علماء و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابو بکر صدیق کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔[2] عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔

عمر بن خطاب ہجری تقویم کے بانی ہیں، ان کے دور خلافت میں عراق، مصر، لیبیا، سرزمین شام، ایران، خراسان، مشرقی اناطولیہ، جنوبی آرمینیا اور سجستان فتح ہو کر مملکت اسلامی میں شامل ہوئے اور اس کا رقبہ بائیس لاکھ اکاون ہزار اور تیس (22,51,030) مربع میل پر پھیل گیا۔ عمر بن خطاب ہی کے دور خلافت میں پہلی مرتبہ یروشلم فتح ہوا، اس طرح ساسانی سلطنت کا مکمل رقبہ اور بازنطینی سلطنت کا تقریباًً تہائی حصہ اسلامی سلطنت کے زیر نگین آ گیا۔[3] عمر بن خطاب نے جس مہارت، شجاعت اور عسکری صلاحیت سے ساسانی سلطنت کی مکمل شہنشاہیت کو دو سال سے بھی کم عرصہ میں زیر کر لیا، نیز اپنی سلطنت و حدود سلطنت کا انتظام، رعایا کی جملہ ضروریات کی نگہداشت اور دیگر امور سلطنت کو جس خوش اسلوبی اور مہارت و ذمہ داری کے ساتھ نبھایا وہ ان کی عبقریت کی دلیل ہے۔[4]

نام و‌نسب

عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزّٰی بن ریاح بن عبداللہ بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بن لوّیٰ بن فہربن مالک۔

آپ کا لقب فاروق، کنیت ابو حفص، لقب و‌ کنیت دونوں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عطا کردہ ہیں۔ آپ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر عدی کی اولاد میں سے ہیں۔[5]

ابتدائی زندگی

آپ مکہ میں پید ا ہوئے اور ان چند لوگوں میں سے تھے جو لکھ پڑھ سکتے تھے۔ علم انساب، سپہ گری، پہلوانی اور مقرری میں آپ طاق تھے۔

عمراور ان کے باپ اور ان کے دادا تینوں انساب کے بہت بڑے ماہر تھے [6]
آپعکاظ کے دنگل میں کشتی لڑا کرتے تھے۔ [7]

جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تو حضرت عمر نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سخت مخالفت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا سے حضرت عمر نے اسلام قبول کر لیا۔ اس لیے آپ کو مراد رسول بھی کہا جاتا ہے۔[8]

ہجرت

ہجرت کے موقعے پر کفار مکہ کے شر سے بچنے کے لیے سب نے خاموشی سے ہجرت کی مگر آپ کی غیرت ایمانی نے چھپ کر ہجرت کرنا گوارا نہیں کیا۔آپ نے تلوار ہاتھ میں لی کعبہ کا طواف کیا اور کفار کے مجمع کو مخاطب کر کے کہا " تم میں سے اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی بیوی بیوہ ہوجائے اس کے بچے يتيم ہوجائیں تو وہ مکہ سے باہر آکر میرا راستہ روک کر دیکھ لے" مگر کسی کافر کی ہمت نہ پڑی کہ آپ کا راستہ روک سکتا۔ مواخات مدینہ میں قبیلہ بنو سالم کےسردار عتبان بن مالک کوآپ کا بھائی قراردیا گیا۔

غزوات نبوی میں شرکت

عمر مندرجہ ذیل غزوات و واقعات میں شریک رہے۔

واقعات

وہ ایک حاکم تھے۔ وہ ایک مرتبہ وہ مسجد میں منبر رسول پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ ایک غریب شخص کھڑا ہوگیا اور کہا کہ اے عمر ہم تیرا خطبہ اس وقت تک نہیں سنیں گے جب تک یہ نہ بتاؤ گے کہ یہ جو تم نے کپڑا پہنا ہوا ہے وہ زیادہ ہے جبکہ بیت المال سے جو کپڑا ملا تھا وہ اس سے بہت کم تھا۔تو عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ مجمع میں میرا بیٹا عبداللہ موجود ہے، عبداللہ بن عمر کھڑے ہوگئے۔ عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ بیٹا بتاؤ کہ تیرا باپ یہ کپڑا کہاں سے لایا ہے ورنہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں قیامت تک اس منبر پر نہیں چڑھوں گا۔ حضرت عبداللہ نے بتایا کہ بابا کو جو کپڑا ملا تھا وہ بہت ہی کم تھا اس سے ان کا پورا کپڑا نہیں بن سکتا تھا۔ اور ان کے پاس جو پہننے کے لباس تھا وہ بہت خستہ حال ہو چکا تھا۔ اس لیے میں نے اپنا کپڑا اپنے والد کو دے دیا۔ [حوالہ درکار]

ابن سعد فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن حضرت امیر المؤمنین کے دروازے پر بیٹھے ہوۓ تھے کہ ایک کنیز گزری ۔ بعض کہنے لگے یہ باندی حضرت کی ہے۔ آ پ (حضرت عمر) نے فرمایا کہ امیر المؤمنین کو کیا حق ہے وہ خدا کے مال میں سے باندی رکھے۔ میرے لیے صرف دو جوڑے کپڑے ایک گرمی کا اور دوسرا جاڑے کا اور اوسط درجے کا کھانا بیت المال سے لینا جائز ہے۔ باقی میری وہی حیثیت ہے جو ایک عام مسلمان کی ہے۔ جب آپ کسی بزرگ کو عامل بنا کر بھیجتے تھے تو یہ شرائط سنا دیتے تھے :

  1. گھوڑے پر کبھی مت سوار ہونا۔
  2. عمدہ کھانا نہ کھانا۔
  3. باریک کپڑا نہ پہننا۔
  4. حاجت مندوں کی داد رسی کرنا۔

اگر اس کے خلاف ہوتا تو سزائیں دیتے۔

عادات

حضرت عمر حضرت علی سے بھی دیگر صحابہ کی طرح مشورہ کرتے چنانچہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق حضرت عمر کی شہادت کے بعد جب حضرت علی آئے تو فرمایا میں اس کے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ سے ملوں۔

حدیث میں ذکر

ان 10 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا ذکر عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالٰی عنہ کی روایت کردہ حدیث میں ہے کہ:

عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عثمان رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں، علی رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، طلحہ رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، زبیر رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عبدالرحمن رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، سعد رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں ، سعید رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، ابوعبیدہ رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں[9] ۔

شہادت

ایک غلام ابو لولو فیروز نے آپ کو فجر کی نماز میں مسجد نبوی میں خنجر سے حملہ کیا اور تین جگہ وار کیے۔ آپ ان زخموں سے جانبر نہ ہوسکے اور دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ آپ کے بعد اتفاق رائے سے حضرت عثمان کو امیر المومنین منتخب کیا گیا۔[10]

فضائل

اے عمر! شیطان تم کو دیکھتے ہی راستہ کاٹ جاتا ہے۔[11]
جبرائیل و میکائیل میرے دو آسمانی وزیر ہیں جب کہ ابوبکر و عمر میرے دو زمینی وزیر ہیں۔
میری امت میں اللہ کے دین کے معاملے میں سب سے سخت عمر ہیں۔[12]

اہل بیت سے مروی فضائل

ٌ* حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ [أن عمر لیقول القول فینزل القرآن بتصدیقہ [13]}}(بیشک عمر فاروق رضی اللہ عنہ البتہ جب کوئی کہتے ہیں تو قرآن اُن کی بات کی تصدیق کے لیے نازل ہوتا ہے )

  • حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا [عمر معنی وأنا مع عمر،والحق بعدی مع عمر حیث کان ][14]}}(میں حضرت عمر(رضی اللہ عنہ) کے ساتھ ہوں اور حضرت عمر (رضی اللہ عنہ ) میرے ساتھ ہیں اور حق میرے بعد حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ ہو گا)
  • حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ[ نظر رسول اللہ -صلى اللہ عليہ وسلم- إلى عمر ذات يوم وتبسم، فقال: "يابن الخطاب، أتدري لم تبسمت إليك?" قال: اللہ ورسولہ أعلم، قال: "إن اللہ -عز وجل- نظر إليك بالشفقة والرحمة ليلة عرفة، وجعلك مفتاح الإسلام][15]}}

( رسول اکرم ﷺ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ کر تبسم فرمایا اور فرمایا اے ابن خطاب !کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے آپ کی طرف دیکھ کر تبسم کیوں فرمایا توحضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ عرض کی اللہ اور اس کے رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا :اللہ تعالی نے آپ کی طرف عرفہ کی رات رحمت اور شفقت سے نظر فرمائی اور آپ کو مفتاح اسلام (اسلام کی چابی) بنایا )

  • حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا "عمر بن الخطاب سراج أهل الجنة"(حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اہل جنت کے سردار ہیں )جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تک یہ بات پہنچی تو آپ رضی اللہ عنہ ایک جماعت کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور کہا کہ کیا آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم ﷺ سے سُنا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اہل جنت کے چراغ ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ جواب دیا جی ہاں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ مجھے یہ تحریر لکھ دیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لکھا ("بسم اللہ الرحمن الرحيم: هذا ما ضمن علي بن أبي طالب لعمر بن الخطاب عن رسول اللہ -صلى اللہ عليہ وسلم- عن جبريل عن اللہ تعالى أن عمر بن الخطاب سراج أهل الجنة"حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ تحریر لے کر اپنی اولاد میں سے ایک بیٹا کو دی اور فرمایا (إذا أنا مت وغسلتموني وكفنتموني فأدرجوا هذہ معي في كفني حتى ألقى بها ربي، فلما أصيب غسل وكفن وأدرجت معہ في كفنہ ودفن)جب میرا وصال ہو جائے تو مجھے غسل وکفن دینا اور پھر یہ تحریر میرے کفن میں ڈال دینا یہاں تک میں اپنے رب سے ملاقات کروں جب آپ وصال فرما گئے تو آپ رضی اللہ عنہ کو غسل اور کفن دیا گیا اور آپ کے کفن میں وہ تحریر رکھ کر دفن کر دیا گیا ۔[16]}}
  • حضرت کثیر ابو اسماعیل سے روایت ہے کہ میں نے نے ابو جعفر محمد بن علی سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا[ بُغْضُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ نِفَاقٌ، وَبُغْضُ الْأَنْصَارِ نِفَاقٌ۔ يَا كَثِيرُ مَنْ شَكَّ فِيهِمَا، فَقَدْ شَكَّ فِي السُّنَّةِ][17]}}(حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ،حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور انصار کا بغض نفاق ہے۔اے کثیر جس نے ان دونوں حضرات کے بارے میں شک کیا اس نے سنت میں شک کیا )
  • حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا [اللَّهمّ أعزّ الإسلام بأبي جهل بن هشام أو بعمر بن الخطّاب][18]}}(اے اللہ اسلام کو ابو جہل بن ھشام یا عمر بن خطاب کے ذریعے عزت دے)تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صبح کی اور رسول اکرم ﷺ کے پاس آگئے۔
  • حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: " وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ جِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ، وَوَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ "[19]}}
  • حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے [ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَلِيُّ، هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ، إِلا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ "، ثُمَّ قَالَ لِي: " يَا عَلِيُّ، لا تُخْبِرْهُمَا ][20]}}کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا پس حضرت ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہم تشریف لائے تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے کہا اے علی (رضی اللہ عنہ) یہ دونوں اہل جنت کے اولین وآخرین کے بوڑھی عمر والوں کے سردار ہیں انبیاومرسلین کے علاوہ پھر مجھے کہا کہ اے علی ،تم ان دونوں کو اس بات کی خبر نہ دینا۔
  • حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں [أَكْثِرُوا ذِكْرَ عُمَرَ، فَإِنَّكُمْ إِذَا ذَكَرْتُمُوهُ ذَكَرْتُمُ الْعَدْلَ، وَإِنْ ذَكَرْتُمُ الْعَدْلَ ذَكَرْتُمُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى][21]}}حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا کثرت کے ساتھ ذکر کیا کرو جب تم ان کا ذکر کرتے ہوتو تم عدل کا ذکر کرتے ہو اور جب تم عدل کا ذکر کرتے ہو تو تم اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہو۔

عمر بن خطاب اور اقوالِ عالَم

میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر بن الخطاب ہوتے۔ از محمدصلی اللہ علیہ وسلم
اگر دنیا کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں اور عمر کا علم دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو عمر کا پلڑا بھاری ہوگا۔ از عبداللہ بن مسعود[22]
عمر کی زبان پر سکینہ بولتا ہے۔ وہ قوی و امین ہیں۔ از سیدنا علی
ابوبکر و عمر تاریخِ اسلام کی دوشاہکار شخصیتیں ہیں۔ ایچ جی ویلز

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. أحمد، نذير، الإسلام في التاريخ العالمي: منذ وفاة النبي محمد صلی اللہ علیہ وسلم وحتى نشوب الحرب العالمية الأولى، المعهد الأمريكي للثقافة والتاريخ الإسلامي، 2001، ص۔ 34. ISBN 0-7388-5963-X.
  2. الدولة العربية الإسلامية الأولى (1-41 هـ / 623-661 م)۔ الطبعة الثالثة 1995 م۔ دكتور عصام شبارو۔ دار النهضة العربية، بيروت - لبنان۔ صفحة: 279
  3. Hourani, p. 23.
  4. المكتبة اليهودية الرقمية: الخلافة الإسلامية الراشدة
  5. http://ebooksland.blogspot.com/2013/11/al-farooq-by-shibli-nomani.html
  6. کتاب البیان والتبین صفحہ 117
  7. علامہ بلاذری کی کتاب الاشراف
  8. طبقات ابن سعد و اسدالغابہ و ابن عساکر
  9. جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر1713
  10. شہادت
  11. صحیح البخاری و صحیح المسلم
  12. صواعق محرقہ
  13. الریاض النضرۃ الجلد الثانی الباب الثانی فی مناقب عمر الفضل السادس فی خصائصہ ،ص:298
  14. الریاض النضرۃ الجلد الثانی الباب الثانی فی مناقب عمر الفضل السادس فی خصائصہ ،ص:298
  15. الریاض النضرۃ الجلد الثانی الباب الثانی فی مناقب عمر الفضل السادس فی خصائصہ ،ص:308
  16. الریاض النضرۃ الجلد الثانی الباب الثانی فی مناقب عمر الفضل السادس فی خصائصہ ،ص:311
  17. فضائل الصحابۃ للدار قطنی ج:1،ص:68
  18. الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ،ابن حجر عسقلانی متوفی:852ھ، ذکر من اسمہ عمر،عمر بن الخطاب بن نفیل،ج:4،ص:485،
  19. اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ عزالدین ابن الاثیر متوفی:630،ج:4،عمر بن الخطاب،فضائلہ رضی اللہ عنہ،137
  20. اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ عزالدین ابن الاثیر متوفی:630،ج:4،عمر بن الخطاب،فضائلہ رضی اللہ عنہ،137
  21. اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ عزالدین ابن الاثیر متوفی:630،ج:4،عمر بن الخطاب،فضائلہ رضی اللہ عنہ،137
  22. مشکوٰۃ

کتابیات

  • الكامل في التاريخ – المجلد الثاني، ابن الأثير (1979)۔ عز الدين أبو الحسن علي بن محمد بن أبي الكرم الشيباني۔ دار صادر۔
  • الكامل في التاريخ – المجلد الثالث، ابن الأثير (1979)۔ عز الدين أبو الحسن علي بن محمد بن أبي الكرم الشيباني۔ دار صادر۔
  • الوجيز في الخلافة الراشدة (الطبعة الأولى سنة 2006)۔ محمد قباني۔ دار الفاتح - دار وحي القلم۔
  • عمر بن الخطاب: الفاروق القائد (الطبعة الثانية سنة 1966)۔ محمود شیث خطاب۔ دار مكتبة الحياة۔
  • عصر الصّدِّيق (الطبعة الأولى سنة 1983)۔ شبير أحم محمد علي الباكستاني۔ الدار السعودية۔
  • فصل الخطاب في سيرة عمر بن الخطاب (الطبعة الأولى سنة 2002)۔ علي محمد محمد الصلابي۔ مكتبة الصحابة، مكتبة التابعين۔

الطريق إلى دمشق (الطبعة الثالثة سنة 1985)۔ أحمد عادل كمال۔ دار النفائس۔

بیرونی روابط

عمر بن خطاب
مناصب سنت
پیشرو 
ابو بکر
خلیفہ راشد
634ء644ء
جانشین 
عثمان بن عفان