حجاج بن عمرو الاسلمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حجاج بن عمرو الاسلمی
معلومات شخصیت

حجاج بن عمرو الاسلمی رسول اللہ کے صحابی اور اصحاب صفہ میں سے ہیں
حجاج بن عمرو بن غزیہ بن ثعلبہ بن خنساء بن مبذول بن عمرو بن غنم بن مازن بن نجار انصاری خزرجی پھر بنی مزن بن النجار سے بھی ملتے ہیں۔ بخاری نے کہا ہے کہ یہ صحابی ہیں ان سے عکرمہ مولی ابن عباس نے اور کثیر بن عبس وغیرہما نے روایت کی ہے۔ ہمیں اسمعیل بن عبید اللہ اور ابراہیم بن محمد اور ابوجعفر بن سمیں نے اپنی سند سے محمد بن عیسی بن سورہ تک خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کی وہ کہتے تھے ہمیں روح بن عبادہ نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں حجاج بن صواف نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں یحیی بن ابی کثیر نے عکرمہ سے نقل کر کے خبر دی وہ کہتے تھے مجھ سے حجاج بن عمرو نے بیان کیا کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا جو شخص (کسی پرند کے پر) توڑ ڈالے یا (اس کو) لنگڑا کر دے وہ احرام سے باہر ہو جاتا ہے اور اس کے اوپر دوسرا حج فرض ہوتا ہے میں نے یہ روایت ابن عباس سے اور بو ہریرہ سے بیان کی انھوں نے کہا کہ حجاج نے سچ کہا اس حدیث کو معمر نے اور معاویہ بن سلام نے یحیی بن ابی کثیر سے انھون نے عکرمہ سے انھوں نے عبداللہ بن رافع سے انھوں نے حجاج ابن عمرو سے رویت کیا ہے اور بخاری نے کہا ہے کہ یہ بہت صحیح ہے ان سے کثیربن عاص نے تہجد کی حدیث روایت کی ہے یہی ہیں جنھوں نے مروان کو حضرت عثمان کے محاصرہ کے زمانے میں مارا یہاں تک کہ وہ گر پڑا تھاان کے مولی ابو حفصہ نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا تھا یہ اس زمانہ میں زیادہ سمجھ نہ رکھتے تھے حضرت علی کے ہمراہ جنگ صفین میں شریک تھے اور لڑتے وقت لوگوں سے کہتے تھے کہ اے گروہ انصار کیا تم یہ چاہتے ہو کہ جب ہم اپنے پروردگار سے ملیں تو اس سے کہیں کہ انا اطعنا سادتنا و کبرائنا فاضلونا السبیلا۔ [1] ۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. صفہ اور اصحاب صفہ صفحہ 164،مفتی مبشر،بیت العلوم انار کلی لاہور
  2. اسد الغابہ ،مؤلف: أبو الحسن عز الدين ابن الاثير جلد دوم صفحہ 522،المیزان پبلیکیشنز لاہور