جریر بن عبداللہ البجلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

جریر بن عبد اللہ البجلیاپنی قوم کے سردار انہیں خوبصورتی کی وجہ سے اس امت کا یوسف کہا جاتا تھا۔
جریر بن عبد اللہ کی کنیت ابو عمرو تھی جس سال حضرت محمد کا انتقال ہوا رمضان 10ھ میں مسلمان ہوئے جب یہ وفد بجیلہ کے ساتھ تشریف لائے اس سے پہلے حضرت محمد خطبہ ارشاد فرما رہے تھے فرمایا تمہارے پاس یمن والوں کا بہترین شخص آ رہا ہے اس کے چہرہ پر شاہی نشان ہے جب وہ آئے تو سب نے نشان کو دیکھا حضرت محمد نے انہیں چادر بچھا کر بٹھایا اور فرمایا کہ جب کسی قوم کا سردار تمہارے پاس آئے تو اس کی عزت کیا کرو۔[1]
انہیں قبیلہ خشعم کا ذوالخلصہ نامی بت توڑنے کے لیے بھیجا اس کے بعد کوفہ جلے گئے وہاں بجیلہ نامی محلے میں رہائش اختیار کی ضحاک بن وقیس جب کوفہ میں گورنر تھا اس زمانے میں سراۃ نامی مقام پر 54ھ میں وفات ہوئی۔[2]
ابوبکر صدیق کے پاس اپنے خاندان کی نااتفاقی اور اختلاف کی شکایت لے کر آئے انہیں جواب ملا کہ اس وقت روم اور فارس کی مہمات درپیش ہیں سیدھے خالد بن ولید کے پاس جاؤجریر نے حکم کی تعمیل کی جب وہاں پہنچے تو حیرہ فتح ہو چکا تھا مرتدین کے خلاف کاروائیوں میں خالد بن ولید کی مدد کی ۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخ ابن کثیر جلد 4صفحہ 394
  2. طبقات ابن سعد جلد 3۔ صفحہ462
  3. تاریخ ابن خلدون جلد 3 صفحہ 162