عروہ بن مسعود

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

عروہ ابن مسعود عروہ ابن مسعود صلح حدیبیہ میں کافروں کی طرف سے آئے تھے خود کافر تھے،پھر نو میں جب حضور طائف سے واپس ہوئے تو حضور کی خدمت میں حاضر ہوکر ایمان لائے آپ کے نکاح میں اسوقت بہت عورتیں تھیں حضور انور نے حکم دیا چار رکھو باقی کو علاحدہ کردو،پھر حضور سے اجازت لے کر اپنے گھر واپس گئے اپنی قوم کو دعوتِ اسلام دی انہوں نے انکار کیا آپ فجر کے وقت اپنے گھر کی چھت پر چڑھ گئے وہاں اذان دی کلمہ شہادت بلند آواز سے پڑھا،ایک ثقفی نے آپ کو وہاں ہی تیر مارا جس سے آپ شہید ہوگئے،حضور انور کو جب اس واقعہ کی خبر دی گئی تو فرمایا کہ عروہ سورۂ یٰسین والے کی مثل ہیں کہ انہوں نے اپنی قوم کو رب کی طرف بلایا تھا انہوں نے بھی انہیں اسی وجہ سے قتل کر دیا تھا۔[1] حدیث میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت عروہ ابن مسعود کے ہم شکل ہوں گے،عروہ ابن مسعود سیدنا عبداللہ ابن مسعود کے بھائی ہیں،بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ عروہ ابن مسعود ثقفی ہیں پھر اپنی قوم کو دعوتِ اسلام دی جس پر قوم نے انہیں قتل کر دیا،یہ عبداللہ ابن مسعود کے بھائی نہیں کہ وہ تو عبداللہ ابن مسعود ابن غافل ہذلی ہیں یہ ہی صحیح ہے۔(مرقات) [2] عروہ ابن مسعود ثقفی اور ہیں اور عروہ ابن مسعود ہزلی دوسرے ہیں،یہ عبدالله ابن مسعود کے بھائی ہیں اور ثقفی دوسرے ہیں،صحابی ہیں،نہایت حسین تھے۔ [3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مرأۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح، مفتی احمد یار خان، جلد 8، صفحہ631
  2. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد8صفحہ582نعیمی کتب خانہ گجرات
  3. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد8صفحہ568نعیمی کتب خانہ گجرات