عبد اللہ بن عمرو بن العاص

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد اللہ بن عمرو بن العاص
معلومات شخصیت
پیدائشی نام عبد اللہ بن عمرو بن العاص
پیدائش سنہ 595  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 684 (88–89 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فسطاط  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کنیت ابو محمد
والد عمرو بن العاص السہمی
والدہ ریطہ بنت منبہ السہمیہ
عملی زندگی
نسب السہمی القرشی
تعداد روایات 700 حدیث
نمایاں شاگرد طاؤس بن کیسان  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سائنس دان،  محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان سریانی زبان  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل علم حدیث  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عبد اللہ بن عمرو بن العاص (وفات 63ھ) صحابی اور راوی حدیث تھے۔ صحابی عبد اللہ بن عمرو بن العاص بن وائل سہمی قرشی نے سنہ 7ھ کے بعد اسلام قبول کیا اور مدینہ ہجرت کی۔[1] انہوں نے والد صحابی عمرو بن العاص سے پہلے اسلام قبول کیا، جو قریش کے سرداروں میں سے ایک تھے۔[2] ان کی والدہ ریطہ بنت منبہ بن حجاج سہمیہ قرشیہ تھیں۔[1][3] عبد اللہ اپنے والد عَمروْ سے فقط 12 سال چھوٹے تھے۔[2][4] قبول اسلام کے بعد عبد اللہ کچھ غزوات میں شریک ہوئے۔[1] مؤرخین نے ان کی مختلف کنتیں لکھی ہیں، ابو محمد، ابو عبد الرحمن اور ابو نصیر۔[1][3] کہا جاتا ہے کہ جب پیدا ہوئے تو ان کا نام العاص رکھا گیا اور رسول اللہ Mohamed peace be upon him.svg نے تبدیل کر کے عبد اللہ رکھا۔[1][3]

عبد اللہ کے بقول رسول اللہ کی ہجرت کے بعد انہوں نے ان سے کئی احادیث[1] ایک صحیفے میں نقل کیں[2] جسے انہوں نے «صحیفہ صادقہ» کا نام دیا۔[1] یہ سلسلہ انہوں نے بیچ میں روکا مگر رسول اللہ کے حکم «لکھا کرو، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس سے حق بات کے سوا کچھ نہیں نکلتا» کے بعد دوبارہ شروع کیا۔[1][4] عبد اللہ قرآن کے قاری اور ماہر تھے اور وہ تورات پڑھ سکتے تھے اور اس کے عالم تھے۔ انہوں نے کئی احادیث منتقل کیں، یوں وہ بڑے عالم ہوگئے اور وہ عبادات میں مجتہد تھے۔[5]

رسول اللہ کی وفات کے بعد عبد اللہ نے شام کی فتح میں حصہ لیا اور جنگ یرموک میں والد کے ہمراہ بھی دیکھے گئے۔[4] عبد اللہ جنگ صفین میں اپنے والد عمرو کے حکم دینے پر معاویہ بن ابی سفیان شریک ہوئے اور وہ میمنہ پر تھے۔[1] تاہم، انہوں نے جنگ والے دن شرکت نہیں کی[1] اور بعد ازاں شرکت کرنے سے انکار کر دیا۔[4]

عبد اللہ بن عمرو کی وفات کی جگہ اور تاریخ کے متعلق مختلف روایات ہیں: کہا جاتا ہے کہ مصر میں سنہ 63ھ یا سنہ 65ھ،[4] مصر میں سنہ 69ھ میں وفات پائی مگر تدفین آبائی وطن میں ہوئی،[6] سنہ 67ھ میں مکہ، سنہ 57ھ میں طائف میں، 68ھ میں، 73ھ میں۔ کہتے ہیں کہ وہ وفات کے وقت 72 برس کے تھے بعض کہتے ہیں کہ 92 برس کے تھے۔[4] کہا جاتا ہے کہ سنہ 65ھ میں شام میں وفات پائی اور عمر 72 برس تھی۔[6] ان کا چہرہ لمبا سرخ مائل، لمبی ٹانگیں، تندرست تھے یہاں تک کہ توند نکلی تھی اور عمر کے آخری حصے میں اندھا پن ہوگیا تھا۔

مصاحبتِ رسول[ترمیم]

وہ دربارِ نبوت میں اکثر حاضر رہتے تھے اورآنحضرت ﷺ کی زبانِ فیض ترجمان سے جو کچھ سنتے اس کو لکھ لیتے تھے،ایک مرتبہ قریش کے چند بزرگوں نے ان کو اس سے منع کیا اورکہا کہ"رسول اللہ ﷺ حالتِ غیظ و انبساط میں خدا جانے کیا کچھ فرماتے ہیں، آپ سب کو قلمبند نہ کیا کیجئے[7] حضرت عبداللہ بن عمروؓ نے جب حضورﷺ کو یہ بات بتلائی تو آپﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ان دو ہونٹوں کے درمیان سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا،سو تم لکھتے رہو۔ [8] رسول اللہ ﷺ کی مصاحبت سے جو وقت بچتا تھا وہ تمام تر یادِ حق میں صرف ہوتا تھا،دن عموما ًروزوں میں بسر ہوتا اور رات عبادت میں گذر جاتی تھی،رفتہ رفتہ یہ مشغلہ اس قدر بڑھا کہ اہل وعیال اورتمام دنیاوی تعلقات سے کنارہ کش ہوگئے،حضرت عمروبن العاص ؓ نے دربار نبوت میں ان کی اس راہبانہ زندگی کی شکایت کی تو آپﷺ نے ان کو بلا کر اپنے والد کی اطاعت کی تاکید کی اور فرمایا عبداللہ روزے رکھو اورافطار کرو،نمازیں پڑھو اورآرام کرو،نیز بیوی بچوں کا حق ادا کرو، یہی میرا طریقہ ہے اورجو میرے طریقے سے اعراض کرے گا وہ میری امت سے نہیں ہے۔ [9]

غزوات[ترمیم]

عہد نبوت کے بعد غزوات میں شریک تھے،جہادوفوج کشی کے موقع پر عموماً سواری وباربرداری کا اہتمام ان کے سپرد ہوتا تھا،ایک مرتبہ عمروبن حویش نے ان سے پوچھا" ابومحمد! ہم لوگ ایسی جگہ رہتے ہیں جہاں درہم و دینار کا چلن نہیں،مویشی اورجانور ہمارے مال و اسباب ہیں، ہم آپس میں بکریوں کے عوض اونٹ ،گائے کے بدلے گھوڑے اورگھوڑوں کے عوض اونٹ ادھار خرید و فروخت کرتے ہیں، اس میں کوئی مضائقہ تو نہیں؟ فرمایا: تم ایک واقف کار شخص کے پاس آئے، ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو شتر سواروں کی ایک فوج مرتب کرنے کا حکم دیا، چنانچہ میرے اہتمام میں جس قدر اونٹ تھے ایک ایک کرکے سب پر لوگوں کو میں نے سوار کرایا،تاہم کچھ لوگ ایسے رہ گئے جن کے پاس کوئی سواری نہ تھی، میں نے بارگاہِ نبوت میں عرض کیا"یارسول اللہ ! تمام سواریاں تقسیم ہوگئیں، لیکن پھر بھی ایک جماعت ایسی رہ گئی جس کو کوئی سواری نہ مل سکی،ارشاد ہوا"ایک اونٹ کے عوض صدقہ کے دو دو،تین تین اونٹوں کا وعدہ کرکے کچھ اونٹوں کو خرید لو" چنانچہ اس طرح میں نے حسبِ ضرورت اونٹ فراہم کرلیے۔ [10]

جنگ یرموک[ترمیم]

یرموک کی عظیم الشان جنگ میں نہایت جانبازی کے ساتھ سرگرمِ پیکار تھے ،حضرت عمروبن العاص ؓ نے اس جنگ میں اپنا علمِ قیادت ان کے ہاتھ میں دے دیا تھا۔ [11]

واقعۂ صفین[ترمیم]

حضرت عمروبن العاص ؓ حضرت امیر معاویہ ؓ کے طرفدار تھے،اس لیے جب واقعہ صفین پیش آیا تو انہوں نے حضرت عبداللہ ؓ کو امیر معاویہ ؓ کی فوج میں شریک ہونے پر مجبور کیا؛ لیکن درحقیقت وہ اس خانہ جنگی سے سخت متنفر تھے،یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جنگ میں عملاً کوئی حصہ نہیں لیا اور بارہا اپنے والد کو اس سے کنارہ کش ہونے کا مشورہ دیا۔ [12] حضرت عمار بن یاسر ؓ حضرت علی ؓ کی طرف سے سرگرم پیکار تھے،وہ شہید ہوئے تو حضرت عبداللہ ؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی یاد آگئی اوراپنے والد سے مخاطب ہوکر کہا" کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ افسوس! ابن سمیہ کو گروہ باغی قتل کرے گا؟" حضرت عمرو بن العاص ؓ نےحضرت امیرمعاویہؓ کی طرف دیکھ کر کہا آپ نہیں سنتے ،عبداللہ کیا کہہ رہے ہیں،امیر معاویہ ؓ نے تاویل کرتےہوئے کہا، یہ ہمیشہ ایک نیا طرفہ لے کر آتے ہیں ،کیا عمار ؓ کو ہم نے قتل کیا ہے؟ درحقیقت ان کے قتل کی ذمہ داری اس پر ہے جو ان کو اپنے ساتھ لایا۔ [13] حضرت عماربن یاسرؓ پر دو آدمیوں نے ایک ساتھ حملہ کیا تھا، وہ دونوں جھگڑتے ہوئے امیر معاویہ ؓ کے دربار میں آئے؛ کیونکہ ان میں سے ہر ایک اس کارنامہ کو تنہا اپنی طرف منسوب کرتاتھا، حضرت عبداللہ بن عمروؓ حاضرِ دربار تھے، انہوں نے کہا"تم میں سے کسی کو بخوشی اپنا دعویٰ تسلیم کرلینا چاہئے، کیونکہ میں نے رسالت پناہ ﷺ سے سنا ہے عمار ؓ کو گروہ باغی قتل کرے گا،امیر معاویہ ؓ نے برہم ہوکر ان کے والد سے کہا عمرو تم اپنے اس مجنوں کو مجھ سے الگ نہیں کروگے؟ اور خود ان سے کہا "اگر ایسا ہے تو تم کیوں میرے ساتھ ہو؟ حضرت عبداللہ بن عمروؓ نے جواب دیا میں صرف اس لیے آپ کے ساتھ ہوں کہ رسول خدا ﷺ نے مجھے ہدایت فرمائی تھی کہ جب تک زندہ رہنا اپنے باپ کے مطیع وفرمان بردار رہنا۔ [14] گو اس خانہ جنگی میں حضرت عبداللہ ؓ کا دامن قتل وخونریزی سے ملوث نہیں ہوا تاہم وہ اس نام نہاد شرکت پر بھی سخت نادم وپشیمان تھے،نہایت حسرت وافسوس کے ساتھ فرمایا کرتے تھے" میں اورصفین میں،اورمسلمانوں کی خونریزی ،کاش! اس سے بیس سال پہلے میں دنیا سے اُٹھ گیا ہوتا۔ [15]

اعتذار[ترمیم]

حضرت رجاء ؓ فرماتے ہیں کہ مسجد نبوی ﷺ میں ایک مرتبہ میں ایک جماعت کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا عبداللہ بن عمروؓ اورابوسعید خدری ؓ بھی موجود تھے،عبداللہ بن عمرو ؓ نے حضرت امام حسین بن علی ؓ کو آتے ہوئے دیکھ کر کہا، کیا تمہیں اس شخص سے آگاہ نہ کروں جو آسمان والوں کے نزدیک دنیا میں سب سے زیادہ محبوب ہے؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں ؟ فرمایا وہ یہ ہے جو تمہارے سامنے ٹہل رہا ہے،واقعہ صفین کے بعد سے اس کی مجھ سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی، حالانکہ اس کی خوشنودی میرے نزدیک تمام دنیا سے زیادہ محبوب ہے، ابو سعید خدری ؓ نے کہا،کیا آپ ان سے مل کر عذر خواہی نہ کریں گے؟" بولے کیوں نہیں دوسرے روز ابو سعید خدری ؓ کو ساتھ لے کر عذر خواہی کے لیے تشریف لے گئے، حضرت امام حسین ؓ کو ان سے ملنے میں پس و پیش تھا، لیکن حضرت عبداللہ بن عمروؓ نے اصرار کے بعد اندر آنے کی اجازت حاصل کی اور واقعہ صفین میں اپنی شرکت کی عذرخواہی کرتے ہوئے کہا" رسول اللہ ﷺ کی ہدایت کے مطابق میں اپنے والد کی اطاعت پر مجبور تھا، لیکن خدا کی قسم! میں نے اس جنگ میں نہ تو اپنی تلوار برہنہ کی،نہ نیزہ سے کسی کو زخمی کیا اورنہ کوئی تیر چلایا۔ [16]

وفات[ترمیم]

۶۵ھ میں حضرت عبداللہ بن عمروؓ نے فسطاط میں وفات پائی، لوگوں نے ان کو گھر ہی میں دفن کردیا، کیونکہ اس زمانہ میں مروان بن الحکم اورحضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کی فوجوں میں نہایت شدید جنگ ہورہی تھی، اورجنازہ کا عام قبرستان تک پہنچانا سخت دشوار تھا۔ [17]

حلیہ[ترمیم]

قدر بلند وبالا، پیٹ بھاری، رنگ سرخ، اخیر عمر میں سر اورداڑھی کے بال سفید ہو گئے تھے۔

علم وفضل[ترمیم]

حضرت عبداللہ بن عمروؓ اپنے علم وفضل کے لحاظ سے طبقہ صحابہ ؓ میں خاص امتیاز رکھتے تھے، انہوں نے اپنی مادری زبان کے علاوہ عبرانی میں بھی مخصوص دستگاہ حاصل کی تھی اور توریت وانجیل کا نہایت غور سے مطالعہ کیا تھا،احادیث نبوی ﷺ کا جس قدر ذخیرہ ان کے پاس تھا، اس کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ تک کو اعتراف تھا کہ"عبداللہ بن عمروؓ کو مجھ سے زیادہ حدیثیں یاد تھیں؛ کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ سے جو کچھ سنتے تھے لکھ لیتے تھے اور میں لکھتا نہ تھا۔ [18]

مجموعہ حدیث کے پہلے مدون[ترمیم]

انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ارشادات وملفوظات کا ایک مجموعہ جمع کیا تھا، جس کا نام صادقہ رکھا تھا،چنانچہ جب ان سے کوئی ایسا مسئلہ پوچھا جاتا جس کے متعلق انہیں زبانی کچھ یاد نہ ہوتا تو وہ اس میں دیکھ کر جواب دیتے تھے، ابو قبیل فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے پوچھا کہ قسطنطنیہ پہلے فتح کیا جائے گا یہ رومیہ؟ ان کو زبانی یاد نہ تھا، انہوں صندوق منگا کر ایک کتاب نکالی اوراس کو ایک نظر دیکھ کر فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے لکھ رہے تھے کہ کسی نے یہی سوال کیا، ارشاد ہوا کہ "ہر قل کا شہر( یعنی قسطنطنیہ) پہلے فتح کیا جائے گا" [19] حضرت عبداللہ ؓ اس مجموعہ کو نہایت عزیز رکھتے تھے، مجاہد بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اوربستر کے نیچے سے ایک کتاب نکال کر دیکھنے لگا، انہوں نے منع کیا، میں نے کہا آپ تو مجھ کو کسی چیز سے منع نہ فرماتے تھے،یہ کیا ہے؟ فرمایا"یہ وہ صحیفہ حق ہے جس کو میں نے تنہا رسول اللہ ﷺ سے سن کر جمع کیا تھا" پھر فرمایا اگر یہ صحیفہ اور قرآن اوروہظ کی جاگیر مجھ کو دے دی جائے تو پھر مجھ کو دنیا کی کچھ پرواہ نہ ہو۔ [20]

مرویات کی تعداد[ترمیم]

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کی مرویات کی تعداد سات سو(۷۰۰) ہے، جس میں ۱۷ بخاری اورمسلم دونوں میں ہیں، ان متفق علیہ حدیثوں کے علاوہ ۸ بخاری میں ہیں اور ۲۰ مسلم میں۔ [21]

حلقۂ درس[ترمیم]

حضرت عبداللہ بن عمروؓ کا حلقۂ درس نہایت وسیع تھا،لوگ دوردراز ممالک سے سفر کرکے تحصیل حدیث کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے، اوروہ جہاں پہنچ جاتے تھے،شائقین علم کا ایک مجمع ان کے گرد وپیش ہوجاتا تھا،ایک نخعی شیخ کا بیان ہے کہ،ایک مرتبہ میں ایلیاء کی مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑہی رہا تھا کہ ایک شخص میرے پہلو میں آکر کھڑا ہوا،نماز کے بعد لوگ ہر طرف سے اس کے پاس سمٹ آئے، دریافت سے معلوم ہوا کہ عبداللہ بن عمروبن العاص ؓ یہی ہیں۔ [22] وہ اپنے تلامذہ کے ساتھ نہایت محبت کے ساتھ پیش آتے تھے،ایک دفعہ ان کے گرد بہت بڑا مجمع تھا،ایک شخص اس کو چیرتا ہوا آگے بڑھا،لوگوں نے روکا تو فرمایا اس کو آنے دو، غرض وہ ان کے پاس آکر بیٹھا اوربولا کہ رسول اللہ ﷺ کا کوئی فرمان یاد ہو تو بیان کیجئے، فرمایا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ مسلم وہ ہے کہ مسلمان اس کی زبان اوراس کے ہاتھ سے محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو خدا کی منع کی ہوئی باتوں کو چھوڑدے۔ [23] حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کے خرمنِ علم سے اہل بصرہ نے زیادہ خوشہ چینی کی ؛کیونکہ ان کے حلقۂ درس میں نسبۃ بصرہ والوں کا زیادہ ہجوم رہتا تھا۔ [24]

اربابِ علم کی قدرشناسی[ترمیم]

وہ اپنے ذی علم معاصرین کی نہایت عزت کرتے تھے، ایک مرتبہ ان کے سامنے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا تذکرہ کیا گیا تو بولے، تم لوگوں نے ایک ایسے شخص کا تذکرہ کیا جس کو میں اس دن سے بہت دوست رکھتا ہوں جس دن رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن چار آدمیوں سے حاصل کرو اورسب سے پہلے عبداللہ بن مسعود ؓ کا نام لیا۔ [25]

اخلاق[ترمیم]

حضرت عبداللہ بن عمروؓ اپنے زہد وتقویٰ اورکثرتِ عبادت کے لحاظ سے خاص شہرت رکھتے تھے، طبیعت فطرۃرہبا نیت کی طرف مائل تھی، دن عموماً روزوں میں بسرہوتا اوررات عبادت میں گذر جاتی تھی،آنحضرت ﷺ کو اطلاع ہوئی تو آپ نے بلا کر فرمایا، عبداللہ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے عہد کیا ہے کہ تمام عمردن کو روزے رکھو گے اوررات عبادت میں صرف کرو گے بولے ہاں، یا رسول اللہ (بابی انت وامی) فرمایا کہ"تم اس کی طاقت نہیں رکھتے،روزہ رکھو اورافطار کرو، نماز پڑھو اورآرام کرو، مہینہ میں صرف تین روزے رکھا کرو؛ کیونکہ ہر نیکی کا معاوضہ دس گناہ ہوتا ہے، لیکن اس کا ثواب تمام عمرروزہ رکھنے کے برابر ہے" عرض کیا "یا رسول اللہ! میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں" ارشاد ہوا کہ ایک دن روزہ رکھو اوردودن افطار کرو، بولے میں اس سے بھی زیادہ رکھ سکتا ہوں، حکم ہوا کہ ایک دن روزہ اورایک دن افطار، داؤد علیہ السلام کا یہی طریقہ تھا اوریہ روزوں کی بہترین صورت ہے، عرض کیا میں اس سے بھی بہتر روزے رکھ سکتا ہوں، ارشاد ہوا کہ ،اس سے بہتر کوئی روزہ نہیں۔ [26] اسلام کا مطمح نظر رہبانیت نہیں، بلکہ انسان کے تمام فطری تعلقات کو خوشگوار بنانا ہے اس بنا پر آنحضرت ﷺ بھی کبھی کبھی عبداللہ بن عمروبن العاص ؓ کے پاس تشریف لے جاتے اوران کو تاکید فرماتے کہ شوقِ عبادت میں حقوقِ عباد کو بھول نہ جائیں فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے میرے گھر پر تشریف لاکر فرمایا کہ روزے رکھو اورافطار کرو، نمازیں پڑھو اور آرام کرو، کیونکہ تمہارے جسم کا تمہاری آنکھوں کا، تمہارے اہل وعیال کا اورتمہارے دوستوں کا تم پر حق ہے، میں نے عرض کیا داؤد علیہ السلام کا روزہ کیا ہے؟ ارشاد ہوا کہ نصف عمر۔ [27] غرض انہوں نے تمام عمرروزوں میں حضرت داؤد علیہ السلام کی پیروی کی،اور رات کا اکثر حصہ عبادت میں بسرکیا، تلاوت کا اس قدر شوق تھا کہ ہر تیسرے روز قرآن ختم کرلیتے تھے، لیکن اخیر عمر میں جب کہ قوی مضمحل ہوگئے تو اس قدرسخت ریاضت دشوار گذرنے لگی فرمایا کرتے تھے،کاش! میں رسول اللہ ﷺ کی اجازت قبول کرلیتا۔ [28]

ذریعۂ معاش[ترمیم]

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کو اپنے والد سے وراثت میں بہت بڑی دولت اوربہت سے خدم و حشم ملے تھے، طائف میں وہظ کے نام سے ان کی ایک جاگیر تھی جس کی قیمت کا سرسری تخمینہ دس لاکھ درہم تھا۔ [29] حضرت عبداللہ بن عمروؓ کی طرف سے یہاں زراعت ہوتی تھی ،[30] ایک مرتبہ عنبسہ بن ابی سفیان سے اس کے متعلق کچھ جھگڑا پیدا ہوگیا تھا، یہاں تک کہ دونوں طرف سے کشت وخون کی تیاریاں ہوگئی تھیں، خالد بن العاص ؓ حضرت عبداللہ ؓ کو سمجھا نے کے لیے آئے تو انہوں نے جواب دیا"کیوں تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو اپنے مال کی حفاظت میں قتل کیا جائے وہ شہید ہے۔ [31]

روایت حدیث[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ سیر اعلام النبلاء » الصحابہ رضوان اللہ علیہم » عبد اللہ بن عمرو بن العاص آرکائیو شدہ 2017-12-03 بذریعہ وے بیک مشین
  2. ^ ا ب پ ت الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر العسقلانی - عبد اللَّہ بن عمرو بن العاص (2) آرکائیو شدہ 5 اکتوبر 2016 بذریعہ وے بیک مشین
  3. ^ ا ب پ
  4. ^ ا ب پ ت ٹ ث أسد الغابة في معرفة الصحابة لابن الأثير الجزري - عبد الله بن عمر بن العاص آرکائیو شدہ 2016-10-05 بذریعہ وے بیک مشین
  5. ^ ا ب پ تہذیب الکمال للمزی » عَبْد اللَّہِ بن عمرو بن العاص بن وائل آرکائیو شدہ 2018-02-28 بذریعہ وے بیک مشین
  6. ^ ا ب الإصابة في تمييز الصحابة لابن حجر العسقلاني - عبد اللَّه بن عمرو بن العاص (3) آرکائیو شدہ 2016-10-05 بذریعہ وے بیک مشین
  7. (مسند احمد :۴/۱۹۲)
  8. (سنن ابی داؤد ،۲،:۵۱۳)
  9. (مسند احمد :۴/۵۸)
  10. (اسد الغابہ :۳/۲۳۴)
  11. (اسد الغابہ:۳/۲۳۴)
  12. (تذکرۃ الحفاظ:۳۶)
  13. (مسند احمد:۲/۱۶۱)
  14. (مسند احمد:۲۰۶)
  15. (اسد الغابہ:۳/۲۳۴)
  16. (اسد الغابہ:۳/۲۳۴)
  17. (تذکرۃ الحفاظ:۳۶)
  18. (تذکرۃ الحفاظ:۳۶)
  19. (مسند احمد:۲/۱۷۶)
  20. (اسدالغابہ:۳/۲۳۴)
  21. (تہذیب :۲۰۸)
  22. (مسند احمد:۲/۱۹۸)
  23. (مسند احمد:۲/۱۹۲)
  24. ( تذکرۃ الحفاظ :۳۶)
  25. ( مسلم باب مناقب عبداللہ بن مسعود)
  26. (بخاری باب صوم الدہر)
  27. (بخاری باب حق الجسم فی اصوم)
  28. (بخاری باب حق الجسم فی الصوم)
  29. (تذکرۃ الحفاظ:۳۶)
  30. (اسدالغابہ :۳/۲۳۴)
  31. (مسند احمد :۱/۲۰۶)
  32. الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر العسقلانی - عبد اللَّہ بن عمرو بن العاص (1) آرکائیو شدہ 5 اکتوبر 2016 بذریعہ وے بیک مشین
  33. تہذیب الکمال، المزی، جـ 22، صـ 290، مؤسسہ الرسالہ، بیروت، الطبعہ الاولى، 1980م آرکائیو شدہ 20 اکتوبر 2018 بذریعہ وے بیک مشین