عبد اللہ بن عمرو بن العاص

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد اللہ بن عمرو بن العاص
معلومات شخصیت
پیدائشی نام عبد اللہ بن عمرو بن العاص
پیدائش سنہ 615  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 684 (68–69 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فسطاط  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کنیت ابو محمد
والد عمرو بن العاص السہمی
والدہ ریطہ بنت منبہ السہمیہ
عملی زندگی
نسب السہمی القرشی
تعداد روایات 700 حدیث
نمایاں شاگرد طاؤس بن کیسان  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سائنس دان،  محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل علم حدیث  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عبد اللہ بن عمرو بن العاص (وفات 63ھ) صحابی اور راوی حدیث تھے۔

سیرت[ترمیم]

صحابی عبد اللہ بن عمرو بن العاص بن وائل سہمی قرشی نے سنہ 7ھ کے بعد اسلام قبول کیا اور مدینہ ہجرت کی۔[1] انہوں نے والد صحابی عمرو بن العاص سے پہلے اسلام قبول کیا، جو قریش کے سرداروں میں سے ایک تھے۔[2] ان کی والدہ ریطہ بنت منبہ بن حجاج سہمیہ قرشیہ تھیں۔[1][3] عبد اللہ اپنے والد عَمروْ سے فقط 12 سال چھوٹے تھے۔[2][4] قبول اسلام کے بعد عبد اللہ کچھ غزوات میں شریک ہوئے۔[1] مؤرخین نے ان کی مختلف کنتیں لکھی ہیں، ابو محمد، ابو عبد الرحمن اور ابو نصیر۔[1][3] کہا جاتا ہے کہ جب پیدا ہوئے تو ان کا نام العاص رکھا گیا اور رسول اللہ Mohamed peace be upon him.svg نے تبدیل کر کے عبد اللہ رکھا۔[1][3]

عبد اللہ کے بقول رسول اللہ کی ہجرت کے بعد انہوں نے ان سے کئی احادیث[1] ایک صحیفے میں نقل کیں[2] جسے انہوں نے «صحیفہ صادقہ» کا نام دیا۔[1] یہ سلسلہ انہوں نے بیچ میں روکا مگر رسول اللہ کے حکم «لکھا کرو، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس سے حق بات کے سوا کچھ نہیں نکلتا» کے بعد دوبارہ شروع کیا۔[1][4] عبد اللہ قرآن کے قاری اور ماہر تھے اور وہ تورات پڑھ سکتے تھے اور اس کے عالم تھے۔ انہوں نے کئی احادیث منتقل کیں، یوں وہ بڑے عالم ہوگئے اور وہ عبادات میں مجتہد تھے۔[5]

رسول اللہ کی وفات کے بعد عبد اللہ نے شام کی فتح میں حصہ لیا اور جنگ یرموک میں والد کے ہمراہ بھی دیکھے گئے۔[4] عبد اللہ جنگ صفین میں اپنے والد عمرو کے حکم دینے پر معاویہ بن ابی سفیان شریک ہوئے اور وہ میمنہ پر تھے۔[1] تاہم، انہوں نے جنگ والے دن شرکت نہیں کی[1] اور بعد ازاں شرکت کرنے سے انکار کر دیا۔[4]

عبد اللہ بن عمرو کی وفات کی جگہ اور تاریخ کے متعلق مختلف روایات ہیں: کہا جاتا ہے کہ مصر میں سنہ 63ھ یا سنہ 65ھ،[4] مصر میں سنہ 69ھ میں وفات پائی مگر تدفین آبائی وطن میں ہوئی،[6] سنہ 67ھ میں مکہ، سنہ 57ھ میں طائف میں، 68ھ میں، 73ھ میں۔ کہتے ہیں کہ وہ وفات کے وقت 72 برس کے تھے بعض کہتے ہیں کہ 92 برس کے تھے۔[4] کہا جاتا ہے کہ سنہ 65ھ میں شام میں وفات پائی اور عمر 72 برس تھی۔[6] ان کا چہرہ لمبا سرخ مائل، لمبی ٹانگیں، تندرست تھے یہاں تک کہ توند نکلی تھی اور عمر کے آخری حصے میں اندھا پن ہوگیا تھا۔[2]

روایت حدیث[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ سیر اعلام النبلاء » الصحابہ رضوان اللہ علیہم » عبد اللہ بن عمرو بن العاص آرکائیو شدہ 2017-12-03 بذریعہ وے بیک مشین
  2. ^ ا ب پ ت ٹ الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر العسقلانی - عبد اللَّہ بن عمرو بن العاص (2) آرکائیو شدہ 5 اکتوبر 2016 بذریعہ وے بیک مشین
  3. ^ ا ب پ
  4. ^ ا ب پ ت ٹ ث أسد الغابة في معرفة الصحابة لابن الأثير الجزري - عبد الله بن عمر بن العاص آرکائیو شدہ 2016-10-05 بذریعہ وے بیک مشین
  5. ^ ا ب پ ت تہذیب الکمال للمزی » عَبْد اللَّہِ بن عمرو بن العاص بن وائل آرکائیو شدہ 2018-02-28 بذریعہ وے بیک مشین
  6. ^ ا ب الإصابة في تمييز الصحابة لابن حجر العسقلاني - عبد اللَّه بن عمرو بن العاص (3) آرکائیو شدہ 2016-10-05 بذریعہ وے بیک مشین
  7. الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر العسقلانی - عبد اللَّہ بن عمرو بن العاص (1) آرکائیو شدہ 5 اکتوبر 2016 بذریعہ وے بیک مشین
  8. تہذیب الکمال، المزی، جـ 22، صـ 290، مؤسسہ الرسالہ، بیروت، الطبعہ الاولى، 1980م آرکائیو شدہ 20 اکتوبر 2018 بذریعہ وے بیک مشین