ابو عسیب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حضرت ابو عسیبؓ
معلومات شخصیت

نام و نسب[ترمیم]

ابو عُسیب مولیٰ رسول اللہ علامہ ابونعیم فرماتے ہیں ’’ابوعسیب مولیٰ رسول اللّٰہﷺ کان یبیت في المسجد ویخالط أہل الصفۃ‘‘ کہ ابوعسیب مولیٰ رسول اللہ مسجدِ نبوی میں رات گذارتے تھے اور اصحاب صفہ کے ساتھ رہتے تھے ۔[1] ابوعسیب نبی اکرم کے آزادکردہ غلام ہیں ۔ یہ اپنی کنیت سے ہی جانے جاتے ہیں [2] ان کے نام میں مختلف اقوال ہیں : بعض نے احمر، بعض نے سفینہ وغیرہ بتایاہے علامہ ابنِ حجر علیہ الرحمۃ نے ان سب پرردکرتے ہوئے کہاکہ ابوعسیب کوئی اور ہیں ۔

اسلام[ترمیم]

ان کے اسلام کا زمانہ متعین نہیں، فتح مکہ سے پہلے کسی وقت مشرف باسلام ہوئے بصرہ آباد ہونے کےبعد یہاں مستقل سکونت اختیار کرلی تھی،ابن سعد نے مصری صحابہ کے زمہر میں لکھا ہے، اورغالبا اسی سرزمین آسودۂ خاک ہوئے،وفات کا زمانہ بھی متعین نہیں ہے۔

فضائل اخلاق[ترمیم]

غلامی کے شرف اورفیضِ صحبت نے مذہب کا نہایت گہرا رنگ چڑھا دیا تھا وہ اسلام کا زندہ پیکر تھے،شروع سے آخر تک ایک رنگ پر قائم رہے،آخر دم تک جب ضعف پیری نے قویٰ مضمحل کردیے تھے،مذہب کے کسی معمول میں بھی فرق نہ آیا اور چاشت کی نماز تک ناغہ نہ ہوئی، جب کھڑے ہونے کی طاقت نہ رہی تو بیٹھ کر پڑہتے تھے، تین دن کا مسلسل روزہ رکھتے تھے، ہر مہینہ کے ایام بیض میں روزہ رکھتے تھے۔ [3] جب تک پیروں میں طاقت رہی جمعہ کی نماز ناغہ نہ ہوئی ،لوگوں کو تلقین کرتے تھے کہ جب تک تندرستی قائم ہے، اورچلنے پھرنے کی طاقت باقی ہے، اس وقت تک جمعہ نہ چھوڑنا، یہ نماز فریضۂ حج کے برابر ہے۔ ہر چیز میں اسوۂ نبوی ﷺ کو پیش نظر رکھتے تھے،ہمیشہ موٹے برتن میں پانی پیتے تھے،ایک شخص نے کہا،آپ ہم لوگوں کی طرح پتلے برتن میں کیوں نہیں پیتے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی برتن میں پیتے دیکھا ہے،پھر مجھے کیا مانع ہوسکتا ہے۔ شرف صحابیت ،غلامی اور زہد و تقویٰ گونا گوں خصوصیات کی وجہ سے لوگ ان کی خدمت کرنا باعث فخر سمجھتے تھے اوراپنے ہاتھوں سے ان کے ناخن اورمونچھوں کے بال تراشتے تھے۔ [4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. حلیۃ الأولیا:2/27
  2. مسندِأحمد: 5/81۔ البدایۃ والنہایۃ : 5/323
  3. (ابن سعد،جلد7،ق1)
  4. (ابن سعد،جلد7،ق1،صفحہ:42)