اصحاب صفہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
صفہ

صفہ کے معنی ہیں چبوترا(تھڑا)مسجد نبوی سے متصل پیچھے کی جانب تھوڑا سا چبوترا بنادیا گیا تھا جہاں مہمان اترتے تھے ا ور علم سیکھنے والے فقراء صحابہ وہاں مستقل طور پر رہتے تھے۔

اصحاب صفہ[ترمیم]

یہ حضرات اصحاب صفہ کہلاتے۔ انہی کی سی صفات رکھنے والوں کو آج صوفیاء کہتے ہیں، یعنی صفائی دل اور صوف کا لباس رکھنے والی جماعت یہ حضرات کم و بیش ہوتے رہتے تھے کبھی 70 اور کبھی200سے زیادہ گویا یہ مدرسہ نبوی تھا۔ ان حضرات میں مشہور صحابہ کرام یہ ہیں ابو ذر غفاری، عمار ابن یاسر، سلمان فارسی، صہیب، بلال، ابوہریرہ، عقبہ ابن عامر، خباب ابن ارت، حذیفہ ابن یمان، ابو سعیدخدری، بشرابن خصاصہ، ابو موہبہ وغیرہم، انہی حضرات کے متعلق یہ آیت کریمہ نازل ہوئی"وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمۡ"الخ۔[1]

وجہ تسمیہ[ترمیم]

صحابہ کرام کا ایک گروہ جو محض عبادت الہٰی اور صحبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زندگی کا ماحصل سمجھتا تھا۔ یہ لوگ زیادہ تر مہاجرین مکہ تھے اور فقر و غنا کی زندگی بسر کرتے تھے۔ مسجد نبوی کے ایک کنارے پر ایک چبوترا تھا جس پر کھجور کی پتیوں سے چھت بنا دی گئی تھی۔ اسی چبوتراکا نام صفہ ہے جو صحابہ گھر بار نہیں رکھتے تھے وہ اسی چبوترا پر سوتے بیٹھتے تھے اور یہی لوگ اصحاب صفہ کہلاتے ہیں۔[2]

نبوی درسگاہ[ترمیم]

اور جہاں کہیں تبلیغ و دعوت اسلام کی ضرورت ہوتی ان میں سے بعض‌حضرات کو بھیج دیا جاتا۔ قرآن شریف میں بھی ان لوگوں کی تعریف کی گئی ہے اور احادیث میں بھی ان کا ذکر تھا۔

وَ مَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَآءِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْا اِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یَحْذَرُوْنَ۔ایمان والوں کے لیے یہ مناسب نہیں کہ سب لوگ بکھر جائیں۔ کیوں نہ ہر گروہ سے کچھ لوگ (ٹھہر جائیں) تا کہ دین میں سمجھ بوجھ حاصل کر یں اور جب واپس اپنی قوم میں جائیں تو ان کو اللہ کا خوف دلائیں، شاید وہ لوگ کفر سے پرہیز کرنے لگیں۔ (سورۃ التوبہ، آیت:۱۲۲)

صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ ابوہریرہ نے فرمایا میں نے 70 ستر اصحاب صفہ کو دیکھا جن میں سے کسی ایک کے بدن پر بھی چادر نہ تھی‘ یا لنگی (تہ بند) تھی‘ یا کمبلی‘ جس کو گلے میں انہوں نے باندھ رکھا تھا۔ کسی کے آدھی پنڈلی تک تھی‘ کسی کے ٹخنوں تک۔ اپنے ہاتھ سے وہ اس کو سمیٹے رہتا تھا تاکہ ستر نہ کھل جائے۔[3]
قتادہ کا بیان ہے کہ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ۔۔ سے اصحاب صفہ مراد ہیں جن کی تعداد سات سو تھی یہ سب نادار لوگ تھے اور رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) : کی مسجد میں فروکش تھے نہ کسی کی کھیتی تھی نہ دودھ کے جانور نہ کوئی تجارت‘ نمازیں پڑھتے رہتے تھے ایک وقت کی نماز پڑھ کر دوسری نماز کے انتظار میں رہتے تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا ستائش ہے اس اللہ کے لیے جس نے میری امت میں ایسے لوگ پیدا کر دیے جن کی معیت میں مجھے جمے رہنے کا حکم دیا۔[4]

اہمیت[ترمیم]

آنحضرت اپنے اہل بیت کے مقابلے میں ان کا حق مقدم سمجھتے تھے اور ان کو اپنے ساتھ کھانے میں شریک فرمایا کرتے تھے۔ ان میں سے بعض لوگ جنگل سے لکڑیاں کاٹ لاتے اور بیچ کر اپنی اور اپنے ساتھیوں کی ضرورت پوری کرتے۔ جولوگ شادی کر لیتے تھے وہ اس زمرے سے نکل جاتے تھے۔ حضرت بلال، ابوذرغفاری، زید بن خطاب اسی گروہ سے تھے اور ہر وقت رسول اللہ کی خدمت میں حاضری کے باعث زیادہ تر احادیث انہی سے مروی ہیں۔

آپﷺ کی صاحبزادی حضرت سیدہ فاطمہؓ کو گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانے کے لئے ایک خادمہ کی ضرورت تھی، وہ اپنے والد گرامی کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا ابّا جان! مجھے ایک خادمہ کی ضرورت ہے، مجھے معلوم ہوا ہے کہ کچھ قیدی آپ کے پاس لائے گئے ہیں اگر ان میں سے ایک کو مجھے عنایت فرمادیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیٹی! خدا کی قسم! میں تمہیں نہیں دے پاؤں گا، کیا میں اہل صفہ کو بھوکا رہنے دوں، ان پر نہ خرچ کروں، میں ان غلاموں کو فروخت کرکے ان کی قیمت اہل صفہ پر خرچ کروں گا۔ (صحیح البخاری: ۱۰/۳۵۳، رقم الحدیث: ۳۵۳)

ان کی تعداد[ترمیم]

علامہ سیوطی نے اصحاب صفہ کے ایک سو ایک نام گنائے ہیں (جو ان کو معلوم ہو سکے) اور ایک مستقل رسالہ میں ان حضرات کے اسماء گرامی تحریر فرمائے ہیں، محدث حاکم نے اپنی مشہور کتاب مستدرک میں چونتیس نام تحریر فرمائے ہیں، حافظ ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں 43 نام لکھے ہیں، حافظ ابن حجر کی تحریر کے موافق ابن عربی اور سلمی نے بھی ان حضرات کے اسماء گرامی جمع کیے ہیں اصحاب صفہ کے اسمائے گرامی محمد حاکم نے مستدرک میں جن حضرات اصحاب صفہ کے اسمائے گرامی درج کیے ہیں، وہ یہ حضرات ہیں :

حافظ ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں جن حضرات کو اصحاب صفہ میں سے تسلیم کیا ہے یا جن کے اصحاب صفہ میں سے ہونے کی تغلیط نہیں کی وہ یہ ہیں

اسماء بن حارثہ، اغر المزنی، بلال بن رباح، البراء بن مالک، ثوبان مولیٰ رسول ﷺ، ثقیف بن عمرو، ابو ذر غفاری، جرہد بن خویلد، جعیل بن سراقہ الضمری، جاریہ بن جمیل، حذیفہ بن اسید، حارثہ بن النعمان، حازم بن حرملہ، حنظلہ بن ابی عامر غسیل الملائکہ، الحکم بن عمیر، حرملہ بن ایاس، خباب بن الارت، خنیس بن حذافۃ السہمی، خریم بن فاتک، خریم بن اوس الطائی، خبیب بن یساف، دکین بن سعید، عبد اللہ ذو البجادین، ابو لبابہ الانصاری، ابو رزین، زید بن الخطاب، سلمان فارسی، سعد بن ابی وقاص، سعید بن عامر، سفینہ مولی رسول اللہ، سالم مولی ابی حذیفہ، سالم بن عبید الاشجعی، سالم بن عمیر، سائب بن خلاد، شقران مولی رسول اللہ ﷺ، شداد بن اسید، صہیب بن سنان، صفوان بن بیضاء، طخفہ بن قیس، طلحہ بن عمرو، طفاوی دوسی، عبد اللہ بن مسعود، ابو ہریرہ[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یا رخان نعیمی)
  2. مدارج النبوت، قسم سوم، با ب اول، ج2،ص 68از شاہ عبد الحق
  3. تفسیر مظہری قاضی ثناء اللہ پانی پتی زیر آیت نمبر 20 سورۃ الاحقاف
  4. تفسیر مظہری قاضی ثناء اللہ پانی پتی زیر آیت نمبر 58 سورۃ الکہف
  5. صفہ اور اصحاب صفہ مفتی محمد عاشق الہٰی بلند شہری